خدائی خدمتگار میر مہدی شاہ باچا

تحریر: روخان یوسفزئی

خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی قیادت میں ’’انجمن اصلاح الافاغنہ‘‘ اور بعد میں خدائی خدمتگار تحریک میں، جو ہندوستان کی کانگریس جماعت کے ساتھ مشترکہ طور پر آزادی کی جنگ لڑ رہی تھی، شامل ہوئے، مہدی شاہ باچا اس تحریک کے پکے نظریاتی اور سرگرم کارکن تھے اور زندگی کی آخری سانس تک باچا خان کے فکر و فلسفہ اور نظریات پرکاربند رہے

1961ء کو ایوب خان کے دور میں جب باچا خان اور ان کے بے شمار خدائی خدمتگاروںکوگرفتار کیا گیا تو ان میں مہدی شاہ باچا بھی شامل تھے۔ انہیں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے بہت سمجھایا کہ باچا خان کا ساتھ چھوڑ دو میں آپ کو ابھی رہا کر دیتا ہوں مگر انہوں نے جواب دیا کہ مجھے موت قبول ہے پر باچا خان کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑ سکتا جس کی پاداش میں تین سال قید کر دیے گئے


پشتو ادب میں ان کے مضامین، مقالے اور افسانے خدائی خدمتگار تحریک سے جڑے سچے واقعات پر مبنی ہیں، ان کے افسانوں کو ہم حقیقی معنوں میں قومی افسانے کہہ سکتے ہیں

’’میں بنیادی طور پر ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں، میرے والد کی خواہش تھی کہ میں عالم بن جاؤں ملا نہیں۔ میرے والد کی زندگی بھی انقلابی تھی اور کچھ حالات ایسے پیش آئے کہ ہم اس قابل نہ رہے۔ میں نے اپنے کھیتوں میں ہل چلایا ہے، گوڈی آتی ہے اور مویشی بھی پال رکھے ہیں۔ فصلوں کی دیکھ بھال کی ہے، زندگی ایسی گزر رہی تھی کہ نہ ہمارے پاس پیسہ فالتو ہوتا اور نہ بغیر پیسوں کے کبھی رہے۔ یہی ہماری زندگی تھی۔ میرے والد محنت کے عادی تھے، اچھے عالم تھے، شاگردوں کو سبق پڑھاتے تھے۔ ایسا وقت بھی آیا ہے کہ خود ہل چلایا کرتے تھے اور طالبان پگڈنڈی پر بیٹھ کر اپنا سبق یاد کیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی جب بیل یا سانڈ نہیں ہوتا تھا تو گھاس اور لکڑیاں اپنے سر پر رکھ کرلایا کرتے تھے۔ وہ مجھے بھی محنت کے عادی بنانا چاہتے تھے۔ ہرچند کہ وہ خود محنتی انسان تھے مگر میں لاڈلا بن گیا۔ میرے پہلے استاد میرے والد تھے اور پھر دارالعلوم جو دیوبند قسم کی ایک شاخ تھی وہاں مروجہ علوم حاصل کیے، جب سبق سے فارغ ہوئے تو اس وقت یہاں جمعیت علماء ہند ایک انقلابی جماعت تھی جس میں میرے اساتذہ، جن میں زیادہ تر دیوبند کے علماء تھے، شامل تھے۔

ایک طرف باچاخان اور دوسری طرف ان لوگوں سے، جو تحریک آزادی میں شریک تھے، متاثر تھا مگر والد کی تابعداری میں، میں جمعیت علماء کے دفتر آیا جایا کرتا تھا۔خدائی خدمتگار تحریک سے تو بچپن ہی سے شناسائی ہوئی تھی اور لڑکپن میں سرخ پوشوں کا کپتان تھا اور میرے والد جمعیت علمائے ہند کے نائب صدر تھے۔ میں ہر جلسے میں سرخ لباس زیب تن کر کے جایا کرتا تھا مگر بات یہ تھی کہ مولانا حسین احمد مدنی کا گروپ سرخ پوشوں کے ساتھ تھا۔ مولانا حسین احمد مدنی جس وقت 1946ء میں الیکشن کے سلسلے میں آ رہے تھے تو ہم نے ان کے استقبال اور حفاظت کے لیے بڈھ بیر سے بالا مانڑی تک سرخ پوش مامور کیے تھے۔‘‘یہ اقتباس ہم نے پشتو زبان کے معروف خدائی خدمتگار، شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور صحافی میرمہدی شاہ مہدی کے اس انٹرویو سے نقل کیا جو مئی 1993ء کو ماہنامہ ’’خکلا‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ خدائی خدمتگار تحریک ایک ایسی تحریک تھی جس نے اگر ایک جانب بڑے بڑے قوم پرست اور وطن دوست سیاست دان پیدا کیے تو دوسری جانب زبان و ادب اور صحافت کے میدان میں بھی بہت نامور قوم پرست اور ترقی پسند شعراء و ادبائ، دانشور اور صحافیوں کو بھی جنم دیا جن میں سے ایک بہت بڑا نام مرحوم میرمہدی شاہ مہدی کا بھی ہے۔

میر مہدی شاہ ان کا اپنا اصل نام اور مہدی تخلص تھا اور ادبی دنیا میں مہدی شاہ باچا کے نام سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ ہمارے یہ معروف شاعر، ادیب، افسانہ نگار، صحافی اور خدائی خدمتگار 6 جنوری 1926ء کو پشاور سے دس میل کے فاصلے پر علاقہ داؤدزئی گاؤں کانکولہ میں سید گھرانے عبدالتواب شاہ کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ مہدی شاہ باچا نے سیاست کے راستے سے صحافت اختیار کی تھی اور صحافت کے راستے سے سیاست کرتے رہے۔ ان کا گھرانا ایک مذہبی اور سیاسی گھرانا تھا۔ ان کے والد اپنے علاقے داؤدزئی میں بڑے مشہور عالم دین تھے جبکہ ان کے چچا رحیم شاہ برق بھی ایک عالم فاضل شاعر ادیب تھے۔ مہدی شاہ کی والدہ ماجدہ اپنے محلے کے بچوں اور بچیوں کو قرآن مجید پڑھایا کرتی تھیں۔ مہدی شاہ باچا ایسے حالات میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے جس وقت پورے متحدہ ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریکیں زوروں پر تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں پختون خوا میں خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی قیادت میں ’’انجمن اصلاح الافاغنہ‘‘ اور بعد میں خدائی خدمتگار تحریک میں، جو ہندوستان کی کانگریس جماعت کے ساتھ مشترکہ طور پر آزادی کی جنگ لڑ رہی تھی، شامل ہوئے۔

مہدی شاہ باچا اس تحریک کے پکے نظریاتی اور سرگرم کارکن تھے اور زندگی کی آخری سانس تک باچا خان کے فکر و فلسفہ اور نظریات پرکاربند رہے۔ ایک کل وقتی سیاسی کارکن کی حیثیت سے اور اپنے گھریلو مالی مسائل اور مشکلات کی وجہ سے انہوں نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑی، آپ باقاعدہ طور پر کسی کالج یا یونیورسٹی سے سندیافتہ اور ڈگری یافتہ نہیں تھے تاہم اپنے بے پناہ مطالعے اور اپنی خداداد ذہنی صلاحیتوںکی بدولت اتنا علم حاصل کیا تھا جس کے ذریعے وہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکتے تھے۔ مہدی شاہ باچا کی باقاعدہ رسمی تعلیم نہ تھی جس کی وجہ سے سرکار کی نوکری حاصل نہیں کر سکے اور تمام عمر قلم کی مزدروی کرتے رہے۔ مختلف اخبارات اور رسائل میں ایک کامیاب لکھاری اور صحافی کے طور پر اپنے لیے ایک الگ نام اور مقام حاصل کیا اور ایک بہت مشہور لکھاری اور صحافی کے طور پر سامنے آئے۔ وہ صحافت کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست میں بھی فعال کردار ادا کر رہے تھے۔

وہ باچا خان اور ولی خان کے ساتھ عملی سیاست میں اپنے دیگر ساتھیوں اجمل خٹک اور قلندرمومند کی طرح حصہ لیتے رہے۔ 1961ء کو ایوب خان کے دور میں جب باچا خان اور ان کے بے شمار خدائی خدمتگاروںکوگرفتار کیا گیا تو ان میں مہدی شاہ باچا بھی شامل تھے۔ انہیں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے بہت سمجھایا کہ باچا خان کا ساتھ چھوڑ دو میں آپ کو ابھی رہا کر دیتا ہوں مگر انہوں نے جواب دیا کہ مجھے موت قبول ہے پر باچا خان کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑ سکتا جس کی پاداش میں تین سال قید کر دیے گئے۔ ایک معروف صحافی اور سیاسی کارکن کی حیثیت سے انہیں جیل میں بی کلاس کی بجائے سی کلاس میں رکھا گیا اور ان کے ساتھ سخت ناروا سلوک کیا جاتا تھا۔ اس وقت وہ بلوچستان کی مشہور مچ جیل میں تھے۔ ان کے ساتھ پشتو کے معروف شاعر، ادیب اور محقق ہمیش خلیل بھی قید تھے۔

مہدی شاہ باچا کو ایک سال تک وہاں سخت سردی کے موسم میں رکھا گیا۔ بعد میں جب گرمی کا موسم آیا تو مچ جیل سے جہلم جیل چالان کر دیا گیا تاہم جس وقت اسمبلی میں ارباب سیف الرحمان کی وساطت سے بل پاس ہوا کہ تمام سیاسی قیدیوں کو اپنے اپنے صوبے کی جیلوں میں منتقل کیا جائے تو مہدی شاہ باچا کو بھی پہلے ڈیرہ اسماعیل خان اور بعد میں ہری پور جیل چالان کر دیاگیا۔ ملک کی مختلف جیلوں میں دوران اسیری انہوں نے جو ادب تخلیق کیا اور جو شاعری کی وہ ان کے آخری شعری مجموعے ’’رونڑ سحر‘‘ میں شامل ہیں۔ جیل کی زندگی میں سخت اذیتوں اور تکالیف نے انہیں کندن بنا کر رکھ دیا تھا اور انہی اذیتوں اور تکالیف نے انہیں ذہنی، جسمانی اور نظریاتی طور پر اس قدر مضبوط کیا ہوا تھا کہ زندگی کی آخری سانس تک اپنی قوم پرستانہ تبلیغ اور نظریے کا پرچار ادب اور صحافت کے ذریعے کرتے رہے۔ مردان کے مولانا محمد شعیب کی ادارت میں چلنے والا رسالہ ’’قیادت‘‘ ان کے بیٹے لطف اللہ لطف سے خرید کر پشاور لے آئے اور اسے باچا خان کے فکر و فلسفہ کے لیے وقف کر دیا۔پشتو ادب میں ان کے مضامین، مقالے اور افسانے خدائی خدمتگار تحریک سے جڑے سچے واقعات پر مبنی ہیں۔ ان کے افسانوں کو ہم حقیقی معنوں میں قومی افسانے کہہ سکتے ہیں۔

مہدی شاہ باچا1964ء میں جب جیل سے رہا ہوئے تو نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے ایک فعال اور نظریاتی کارکن کی حیثیت سے مختلف اخبارات و جرائد میں اپنی صحافتی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے رہے۔ وہ پشتو کی مشہور ترقی پسند ادبی تنظیم ’’اولسی ادبی جرگہ‘‘ کے بھی ایک فعال اور متحرک کارکن تھے۔ انہوں نے باقاعدہ اپنی صحافتی زندگی کا آغاز 1953ء میں ’’ترجمان افغان‘‘ پشاور سے کیا تھا۔ اس اخبار میں آٹھ سال تک پشتو صحفہ کے انچارج رہے۔1955ء میں روزنامہ ’’انجام‘‘ میں (جو بعد میں روزنامہ ’’مشرق ‘‘ میں بدل دیا گیا) چند ماہ پشتو صحفہ کے انچارج رہے مگر اخبار کی پالیسی سے اختلاف کے باعث بہت جلد الگ ہو گئے۔ 1965ء میں حفیظ قریشی سے اردو ہفت روزہ ’’غنچہ‘‘ نامی میگزین کی ڈیکلریشن لے لی جس کے پشتو کے ایڈیٹر ولی محمد طوفان تھے۔ اس کی ادارت مہدی شاہ باچا نے سنبھالی مگر جس وقت 1972ء میں ’’غنچہ‘‘ بند ہو گیا تو اس دوران روزنامہ ’’شھباز‘‘ میں، جو پارٹی کا اخبار تھا، خان عبدالولی خان کے کہنے پر پشتو صحفہ کے انچارج مقرر کر دیے گئے۔ بعد میں ہفت روزہ ’’پختون‘‘ کے مدیر مقرر کر دیے گئے۔ ان کے ساتھ مرتضیٰ خان شاہین نائب مدیر تھے۔ ہفت روزہ ’’پختون‘‘ میں وہ د یو قیدی کے فرضی نام سے ’’د غٹو مجرمانو ڈائری‘‘ لکھتے رہے جس میں خدائی خدمتگار تحریک کے قیدیوں کا تذکرہ کیا جاتا تھا۔ مہدی شاہ باچا کے افسانوں کے پانچ مجموعے ’’نشان‘‘، د بوڈئی ٹال، پت، لالا گلونہ اور تور داغونہ طباعت کے زیور سے آراستہ ہو چکے ہیں۔ ہمارے یہ معروف درویش صفت انسان26 ستمبر 1996ء کو ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس کے اثرات: شادیوں سے متعلق کاروبار بھی سخت مندی سے دوچار – تحریر: انیس ٹکر

شادی بیاہ سے متعلقہ کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ باقی کاروباروں کی نسبت ان …