خدائی خدمتگار تحریک اور پشتون خواتین

sadar Jamal
تحریر:ڈاکٹر سردار جمال

جب یہاں انگریزوں نے لوگوں کو غلام بنا کر ان پر ہر قسم کا ظلم روا رکھا تو اس مٹی کے غیور عوام انگریز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے ظالم اور جابر آقاؤں کی نیندیں اڑا دیں

فخر کی بات یہ ہے کہ پشتون عورتیں بھی اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی تھیں اور دشمن کو وہ سبق سکھایا جو کبھی وہ بھولے گا نہیں، اس حوالے سے تو پشتون تاریخ بھری پڑی ہے مگر یہاں میں صرف دو زندہ مثالیں دوں گا اور اپنی قوم کو وہ مائیں اور بہنیں یاد دلاؤں گا جن کے ننگ اور ”پت” نے ہمارے سروں کو فخر سے اونچا کر رکھا ہے اور یہ وہ مائیں اور بہنیں ہیں جو کہ ہمارے بزرگوں کے ساتھ تحریک آزادی کے میدانِ جنگ میں شانہ بشانہ کھڑی تھیں

دنیا کے تمام دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ عورت کے بغیر دنیا کے تمام کام ادھورے ہیں مگر پشتون قوم نے یہ سب کر کے دکھایا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ اول سے لے کر اب تک پشتون معاشرے میں عورت کو نظر انداز دکھایا گیا ہے اور یہ تاثر دیا گیا ہے کہ پشتون کلچر میں عورت کو ادنی سمجھا جاتا ہے جو کہ سراسر نسلی، لسانی اور علاقائی تعصب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ جب یہاں انگریزوں نے لوگوں کو غلام بنا کر ان پر ہر قسم کا ظلم روا رکھا تو اس مٹی کے غیور عوام انگریز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے ظالم اور جابر آقاؤں کی نیندیں اڑا دیں۔


مگر فخر کی بات یہ ہے کہ پشتون عورتیں بھی اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی تھیں اور دشمن کو وہ سبق سکھایا جو کبھی وہ بھولے گا نہیں۔ اس حوالے سے تو پشتون تاریخ بھری پڑی ہے مگر یہاں میں صرف دو زندہ مثالیں دوں گا اور اپنی قوم کو وہ مائیں اور بہنیں یاد دلاؤں گا جن کے ننگ اور ”پت” نے ہمارے سروں کو فخر سے اونچا کر رکھا ہے اور یہ وہ مائیں اور بہنیں ہیں جو کہ ہمارے بزرگوں کے ساتھ تحریک آزادی کے میدانِ جنگ میں شانہ بشانہ کھڑی تھیں۔


قجیرئی اور ان کی پشتو:


جب فرنگیوں نے یہاں حد سے بڑھ کر مظالم کئے اور لوگوں کو مارتے پیٹتے، ٹھنڈے پانی کے جوہڑوں میں ڈبوتے تھے، مرچوں کے دھوئیں سے اذیتیں دی جاتی تھیں، گھوڑوں کے سموں سے بندوں کو ریزہ ریزہ کر دیتے تھے، حریت پسندوں کے پیچھے کتے چھوڑتے تھے اور آزادی کے نعرے بلند کرنے والوں کو تپتی مٹی پر لٹا دیتے تھے۔ ان مظلوموں میں سے ایک مظلوم جمال خان بھی تھا۔ وہ کئی دنوں سے انگریز کے ٹارچر سلز میں قید تھا۔ طرح طرح کی سزائیں دینے کے بعد جب اس کو آزاد کیا گیا تو اس وقت جمال خان کا پھول جیسا جسم بہت کمزور ہو چکا تھا ۔ وہ اپنے کمزور وجود کے ساتھ گھر کی طرف گِرتا پڑتا جا رہا تھا۔ آخر کار بہت تکلیف کے ساتھ گھر کو پہنچ گیا ۔ جب وہ گھر میں داخل ہو گیا تو اس کی ماں غصے کی حالت میں ان کی طرف بڑھ گئی اور بیٹے سے مخاطب ہو کر بولی، ”جمال خان تم زندہ حالت میں گھر کیسے آئے؟ تمہارا دشمن اب تک زندہ ہے! ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اب تک تم اپنے دشمن کو نیست و نابود کر چکے ہوتے یا خود اب تک مرے گئے ہوتے؟ ماں نے مزید کہا جمال خان واپس ہو جاؤ ورنہ اپنی چھاتیوں سے پلایا گیا دودھ تم پر حرام کر دیتی ہوں۔”


جمال خان یہ سن کر اپنے چور چور بدن کے ساتھ اپنے کمزور پیر اٹھاتا چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ دشمن کی طرف لوٹا۔ اس کی ماں اس کے پیچھے پیچھے جا رہی تھی اور جب جمال خان تحصیل مردان کی عدالت میں گھس گیا تو یک دم ایک سپاہی پر جھپٹ پڑا۔ اس سے بندوق چھین لی اور چند فرنگیوں کو مار ڈالا مگر جب اس کی بندوق کی گولیاں ختم ہوئیں تو پھر دوسری طرف سے اس پر گولیوں کی بارش کر دی گئی اور اس کے سینے کو چھلنی کر دیا گیا۔ وہ زمیں پر گر گیا۔ اسی اثنا میں اس مٹی کی ماں قجیرئی بیٹے کے سینے پر گر پڑی اور کہا ” بیٹے جمال خان اب تم معاف ہو اور میری چھاتیوں سے پیا دودھ میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔”
بلہ چارہ د پختون تر مغل نہ شی
یا مغل تر مینزہ ورک یا پختون خوار


خوشحال بابا بی بی جان اور اس کی پشتو:


یہ 1930 کی بات ہے۔ آزادی کے جیالے انگریز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ پشتونوں کی عورتیں فخر کیا کرتی تھیں کہ ہمارے مرد ”سنگر” میں دشمن کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ماں بولتی تھی کہ میرا بیٹا مٹی کی خاطر لڑ رہا ہے۔ بہن فخر کرتی تھی کہ میرا بھائی دشمن کے خلاف لڑ رہا ہے۔ ”چنغلہ” (منگیتر) تو خوشی سے ہوا میں اڑتی رہتی تھی کہ میرا منگیتر دشمن پر گولیاں برسا رہا ہے۔ یہ ارمان صوابی سے تعلق رکھنے والی مرغز گاؤں کی بی بی جان کے بھی تھے کہ اس کا شوہر وطن کی خاطر دشمن کے خلاف میدان میں کود پڑے مگر وہ ایک سیدھا سادہ زمیندار آدمی تھا۔ وہ صبح کھیت جاتا اور سارا دن ہل چلاتا تھا اور شام کو واپس گھر لوٹتا تھا۔


ایک دن جب اس کا شوہر کھیتوں سے گھر لوٹا تو چارپائی پر بیٹھنے سے پہلے بولا، ”بی بی جان آج میں بہت بھوکا ہوں” مگر بی بی جان نے اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دی۔ اس کے شوہر فردوس خان نے بار بار اپنی بھوک کا ذکر کیا مگر بی بی جان بیلوں کو چارہ دینے میں مصروف تھی۔ فردوس خان نے غصے میں آ کر کہا، ”کیا یہ جانور مجھ سے زیادہ اہم اور اچھے ہیں؟” بی بی جان نے جواب دیا، ”ہاں! اچھے ہیں۔” بی بی جان نے مزید کہا، ”اچھے شوہر دشمن کے خلاف میدان میں لڑ رہے ہیں۔”


یہ سن کر فردوس خان بھوکا پیاسا چارپائی سے اٹھا اور پشاور کی طرف پیدل روانہ ہوا۔ تمام رات سفر کرنے کے بعد شہر پہنچ گیا اور ”چپانہ” کے دستے میں شامل ہوا جس کا کمانڈر عبدالعزیز خان کاکا تھا۔ ایک دن فردوس خان گرفتار ہوا اور ہری پوری جیل میں ڈالا گیا۔ اور جب کئی سال بعد فردوس خان کا خط جیل سے آیا تو بی بی جان خوشی سے اچھل پڑی اور تمام محلے میں یہ خبر سنا دی کہ فردوس خان اپنی قوم اور اپنی مٹی کی خاطر جیل میں ہے اور اب میں کسی سے کسی بھی طرح سے کم نہیں ہوں ۔

یہ بھی پڑھیں

sardar jamal

اپنے اندر کی آواز سنو!

ایک عظیم سائنسدان کو نوبل انعام سے نوازا گیا لیکن جب ان سے پوچھا گیا …