خدائی خدمتگار شیر زمان خان کاکا آج کس حال میں ہیں؟

محمد شہزاد خان

اپنی ساری زندگی، سرمایہ، مال و جائیداد اپنے نظریے باچا خانی اور پشتون ولی کی نذر کرنے والے، اپنی پارٹی اور پشتون ولی، مزدور دوستی کی ساکھ کو برقرار رکھنے والے شیر زمان خان کاکا دل کے عارضی میں مبتلا ہیں اور انتہائی کسمپرسی، لاچارگی، غریبی اور گمنامی میں زندگی کے آخری ایام گزار رہے ہیں

شیرزمان خان کاکا 1942ء میں گاؤں کوٹ منزرے بابا اتمانخیل میں ایک خدائی خدمتگار خاندان کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقے کے سکول سے حاصل کی اور بچپن ہی سے اُس وقت کی نیپ اور خدائی خدمتگار تحریک سے جڑ گئے۔ جب کمانے کے قابل ہو گئے تو فکر معاش کے سلسلے میں شہر کراچی کا رخ کیا۔ کراچی میں، جو ان دنوں خلیج کی حیثیت رکھتا تھا،  کاکا بحیثیت ایک ادنیٰ مزدور رشید ٹیکسٹائل مل میں بھرتی ہوئے اور اس طرح عملی زندگی میں قدم رکھا۔

شہر کراچی معاشی مرکز ہونے کی وجہ سے پشتون کمیونٹی (آبادی) کا مرکز رہا اور آج بھی  ہے۔ کاکا نے دوسری طرف باچا خان بابا کے حقیقی پیروکار ہونے کے ناطے شہر کراچی میں پشتون کمیونٹی سے عملی سیاسی، سماجی اور فلاحی خدمت شرو ع کی اور کافی متحرک رہے جس کی وجہ سے پشتون مزدور برادری نے کاکا کو کراچی ٹیکسٹائل ملز کے انجمن مزدور کے پلیٹ فارم سے جنرل سیکرٹری کے عہدے کیلئے ٹریڈ یونین کے میدان میں اُتارا اور وہ اسی عہدے پر چار مرتبہ منتخب ہوئے۔ جنرل ایوب خان کے دور حکومت کے دوران نومبر 1968ء میں جب پاکستان کے ساری ٹریڈ یونینز نے ملک گیر تحریک کا آغاز کیا تو کاکا نے پشتون برادری کی طرف سے مثالی فعال کردار ادا کیا۔ کاکا ان 68 ٹریڈ یونینز کے قائدین میں سے تھے جنہیں قید و بند کی اذیتیں، ریاستی ظلم و جبر اور تشدد برداشت کرنا پڑا۔ یہاں تک ان ٹریڈ یونین کے قائدین کا ملنا جلنا، ہجوم والی جگہ، بازار، پارک، سنیما، تھیٹر اور شاہراہ یا عام سڑک پر آنا جانا بند کیا لیکن کاکا اور دوسری ٹریڈ یونین کے قائدین اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے۔

ان ہنگاموں، احتجاجی تحریکوں اور نامناسب حالات کی وجہ سے مارچ 1969ء میں جنرل یحییٰ خان بھی مزدور دشمن ثابت ہوئے اور اس کے تین سالہ اقتدار میں شہر کراچی میں تقریباً 45 ہزار مزدور بے روزگار ہوئے۔ ان حالات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو سیاست میں آئے اور ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور اقتدار میں آتے ہی مزدور دشمن پالیسیاں شروع کیں۔ پہلے پہل مزدور ٹریڈ یونین کے اثر اور طاقت کم کرنے کیلئے پیپلز لیبر فیڈریشن قائم کیا اور تمام ٹریڈ یونین کے قائدین کو ڈرا دھمکا کر، بلیک میل کر کے یا مختلف آفر دے کر ساتھ ملانے کی بھرپور کوشش کی لیکن کاکا تو سچے اور حقیقی خدائی خدمتگار اور قوم پرست تھے۔ انہوں نے اپنے ضمیر اور پشتون ولی کا سودا نہ کیا بلکہ اپنی پشتون ولی پر ڈٹے رہے۔

کاکا اور ان کی تنظیم نے مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے بے مثال کام کیا۔ کئی بار مزدور وں کے حقوق کے لئے احتجاجی تحریک کے علاوہ کئی بار اعلیٰ عدالتوں کا دروازہ  بھی کھٹکٹایا۔ اسی دوران ملز مالکان اور حکومت وقت نے دوران کیس ڈرایا دھمکایا۔ ڈیل کرنے کی کئی بار ناکام کوشش کی لیکن کاکا اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے۔ ایک موقع پر جب کاکا اور اُس تنظیم نے مزدوروں کی ماہانہ چھٹیوں کے بار ے میں عدالت سے رجوع کیا تو اُسی دوران ملز مالکان نے پورے 63 ہزار روپے دیگر مراعات بمعہ ہوائی ٹکٹ کراچی ٹو پشاور دینے کی آفر کی لیکن کاکا نے یہ آفر بھی ٹھکرا دی۔ اور ماہانہ تین دن چھٹیوں کا عدالت سے قانون پروانہ حاصل کیا۔ اس کی پاداش میں صوبائی حکومت اور ملز مالکان کی ملی بھگت سے کاکا کو جبری طور پر اپنے تنظیمی اور سپروائزری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ تین مہینے کے قانونی جنگ کے بعد مجبوراً کاکا کو دونوں عہدوں پر بحال کیا۔ لیکن کچھ مزدور رہنماؤںکی خفیہ ڈیل کی وجہ سے کاکا یونین اور اپنی پشتون برادری کے کردار سے دل برداشتہ ہوکر پورے 19 سال بعد اپنے علاقے واپس آ گئے۔

گاؤں آکر گھر کا چولہا جلائے رکھنے کی خاطر کھیتی باڑی شروع کی۔ اسی دوران وہ عملی طور پر عوامی نیشنل پارٹی سے جڑے رہے۔ اُن دنوں عوامی نیشنل پارٹی تپہ اتمانخیل کوٹ اگرہ سیلئی پٹے کی باگ ڈور اُن کے چچا ذاد بھائی امین محمد عرف چاچا کے پاس تھی۔ جب امین محمد چاچا وفات پا گئے تو شیر زمین خان کاکا نے آگے بڑھ کر پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی اور مسلسل 25 سال تک عوامی نیشنل پارٹی کی خدمت کرتے رہے۔ اُن دنوں پارٹی چلانا مشکل نہیں بلکہ ناممکن تھا کیونکہ ایک طرف ریاستی دباؤ، قیدوبند کی اذیتیں تو دوسری طرف پارٹی اور کارکنان کی خدمت (تھانہ، تحصیل، کچہری، غمی خوشی، مریض وغیرہ) جلسے جلوس، ساتھی کارکنان کی فکر، ساتھیوں کو متحرک کرنا، الیکشن کے دوران گاڑیوں، خوراک، پوسٹر، بینرز کے اخراجات کا بوجھ، شیر زمان خان کاکا کے پاس صرف اور صرف ایک ہی راستہ تھا کہ وہ ان اخراجات کا بوجھ اور اپنے خاندان کی کفالت کی خاطر اپنی پدری جائیداد، قیمتی زرعی زمین بھیج دیں تاکہ وہ پارٹی کو چلا سکیں۔ بس کاکا نے اپنے نظریے اور پارٹی کی خاطر رفتہ رفتہ تقریباً 28 جریب زرعی زمین واقع موضع منی شاہ، جئے وغیرہ بھیج ڈالی، جس کی قیمت آج کل کروڑوں میں بنتی ہے۔

جب جنرل ضیاء الحق کا دور حکومت ختم ہوا اور ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہوا تو اتمانخیل قبائل نے مقامی قومی سطح پر متفقہ امیدوار محمد اکبر کو صوبائی اسمبلی کیلئے کھڑا کیا اور ساتھ باہمی قبائلی برادری کے ذریعے معاہدہ طے پایا کہ قوم اتمانخیل صرف اور صرف محمد اکبر چیئرمین کو سپورٹ کریں گے، اگر کسی نے دوسرے امیدوار کو سپورٹ کیا تو اُس کے ساتھ تمام قبیلے کا سوشل بائیکاٹ ہو گا، نہ اُس کی غمی خوشی میں کوئی شریک ہو گا اور نہ اُن کو آنے دیا جائے گا۔ محمد اکبر چیئرمین، شیر زمان کاکا کا سگا بہنوئی، قریبی رشتہ دار اور پڑوسی تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اعلان کیا اور کر دکھایا کہ وہ اپنی پارٹی کو ہی سپورٹ کریں گے۔ کاکا نے اپنی قبائلی برادری، رشتہ داری، دھمکیوں، سوشل بائیکاٹ اور قبائلی روایات کی پرواہ کئے بغیر عملی طور پر اپنی پارٹی ANP کیلئے بھر پور انتخابی مہم چلائی۔ یہ سب کچھ کرنا ایک قبائلی برادری میں ممکن نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ عین اُسی دن جب صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہو رہے تھے توکاکا پورے علاقے میں کسی بھی پارٹی کے واحد پولنگ ایجنٹ تھے۔ دوران پولنگ ایک بوگس ووٹ کاسٹ ہو رہا تھا تو کاکا نے مداخلت کر کے اُس شخص کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکا تو ڈیوٹی پر مامور ایک ماسٹر جی نے کاکا سے کہا کہ کاکا آپ کی پارٹی ANP کیلئے بھی چند بوگس ووٹ ڈالتے ہیں تو کاکا نے نہ صرف روکا بلکہ یہ کہا کہ اگر اس پولنگ اسٹیشن بلکہ پورے تین یونین کونسلوں سے ANP کے صرف تین ووٹ کاسٹ ہوئے نکل آتے ہیں جو کہ میرا، میری بیوی اور بہن کے ہیں، تو میں اور میرا نظریہ جیت جائے گا اور مجھے اس سے دلی خوشی ہو گی اور بعد میں نتیجہ بھی کچھ اسی طرح کا تھا۔

شیر زمان خان کاکا کی سیاسی جدوجہد، قربانیاں اور زندگی بہت طویل اور کٹھن ہے۔ کاکا نے اپنی ساری زندگی، سرمایہ، مال و جائیداد کو اپنے نظریے باچا خانی اور پشتون ولی کی نذر کیا اور اپنی پارٹی اور پشتون ولی، مزدور دوستی کی ساکھ کو برقرار رکھا۔ آج کل شیر زمان خان کاکا دل کے عارضی میں مبتلا ہیں اور انتہائی کسمپرسی، لاچارگی، غریبی اور گمنامی میں زندگی کے آخری ایام گزار رہے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے تمام قائدین اور کارکنان سے گزارش کریں گے کہ شیر زمان کاکا جیسے لوگ ہر سیاسی جماعت کا اثاثہ ہوتے ہیں جو ایک نظریے، سوچ اور فکر کی خاطر جان تک کی قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں، جو اپنا مال حال سب کچھ اپنے نظریے پر قربان کر دیتے ہیں۔ زندگی کے آخری ایام میں شاید وہ کچھ نہیں مانگیں گے بس ان جیسے تمام خدائی خدمتگاروں کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آخری سانس لیتے وقت پرسکون رہیں اور انہیں یہ احساس نہ ہو کہ اپنے مقصد کیلئے انہوں نے ساری زندگی جو جدوجہد کی وہ رائیگاں گئی ہے۔ ان جیسے لوگ اگر زندگی کو خدا حافظ کہتے ہوئے اس امید کے ساتھ جائیں کہ ان کا ادھورا مشن ادھورا نہیں رہے گا بلکہ اب بھی کچھ لوگ زندہ ہیں جو اس مشن کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو وہ سکون کے ساتھ اس دنیا کو اللہ حافظ کہہ سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

شہنشاہ الفتفات اور مزاح کے بادشاہ، منور ظریف کی یاد میں

تحریر: مدثر زیب اپنی اداکاری سے لوگوں کو ہنسانا ایک مشکل کام ہے۔ اکثر مزاحیہ …