خدائی خدمتگارہ، محبوبہ ترور

جب خدائی خدمت گار تحریک زوروں پر تھی تو یہ دلیر اور نڈر خاتوِن اپنے گاؤں کے مردوں کے ساتھ ساتھ اس طرح شریک تھیں کہ مرد تو کبھی کبھار پیچھے رہ جاتے تھے پر یہ خاتون کبھی پیچھے نہیں رہیں بلکہ آگے آگے اور پیش پیش رہیں

یہ ان دنوں کی بات ہے جب اجمل خٹک افغانستان سے تازہ تازہ جلاوطنی کاٹ کر آئے ہوئے تھے اور پھر جب اس کے بعد عام انتخابات کے عروج اور جلسے جلوسوں اور گاؤں گاؤں انتخابی دوروں کا دور دورہ تھا، تو اجمل خٹک پہلی بار نوشہرہ کی سیٹ سے قومی اسمبلی کے انتخابات میں بھرپور حصہ لے رہے تھے۔ بھر پور اس لئے کہ ان کے حلقے میں خصوصاً جوان خون اس طرح انتخابی عمل میں شریک تھا جیسے وہ خود انتخاب لڑ رہے ہوں، کوئی خود سے بینر لگوا رہا ہے تو کوئی خود سے ان کے اشعار کے ذریعے ان کے انتخابی عمل کو بڑھاوا دے رہا ہے، کوئی ان کی ”د غیرت چغہ” کے راگ الاپ رہے تھے تو کوئی ”دا زہ پاگل یم” کی قصہ گوئی کو دہرانے میں مصروف عمل، کوئی ان کی جلاوطنی کو انتخابی عمل کے لئے بروئے کار لا رہے تھے تو کوئی ان کی دانشورانہ سوچ اور اپروچ کو پروان چڑھا رہے تھے۔


ان انتخابات میں جان محمد خٹک ان کے ساتھ اے این پی سے صوبائی نشست کے لئے کھڑے تھے جو صوبائی حلقہ پی کے پندرہ کہلاتا تھا۔ اس انتخابی عمل کے دوران اجمل خٹک ہمارے گاؤں کمر میلہ جو علاقہ نظاپور میں واقع ہے، آئے ہوئے تھے اور خوش قسمتی سے یہ انتخابی جلسے ہمارے ہی حجرے میں ہوا کرتے تھے۔ اس انتخابی عمل کے دوران جب اجمل خٹک ہمارے گاؤں میں ایک کارنر میٹنگ یا ایک انتخابی دعوت میں جب بات کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ہمارے گاؤں کے ان تمام خدائی خدمت گاروں کے ایک ایک کر کے نام لے کر ، ذکر کے ساتھ ساتھ ان کی خدمات اور خدائی خدمت گار تحریک میں ان کی سرگرمیوں پر بھی بڑی شان سے لب کشائی کی لیکن میرے لئے اس دوران اچھنبے اور حیران کرنے والی جو نئی اور معلوماتی بات تھی وہ محبوبہ ترور کی تھی۔


جب اجمل خٹک ان کا نام لے کر بار بارجذباتی انداز میں بول رہے تھے کہ اس گاؤں کے صرف مردوں نے ہی نہیں بلکہ خواتین نے بھی خدائی خدمت گار تحریک میں خان عبدالغفار خان کا ساتھ دیا تھا جن میں محبوبہ ترور کا کردار سب سے زیادہ نمایاں تھا اور وہ اس تحریک کے دوران سرخ لباس زیب تن کئے ہوئے ہر اول دستے کے ہراول سپاہی کے طور پر نہ صرف سیاسی سلوگن کو ببانگ دہل گونج دار آواز سے دہراتی رہتی تھیں بلکہ بنفس نفیس باچا خان کے رفقائے کاروں کے ساتھ موجود رہتی تھیں۔ جب جلسہ ختم ہوا تو میں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا کہ یہ محبوبہ ترور کون تھی تو میرے والد صاحب نے بولا بیٹا یہ ہمارے فلاں خیل یا ٹبر کی فلاں کی ماں اور فلاں کی دادی یا نانی تھی اور جب خدائی خدمت گار تحریک زوروں پر تھی تو یہ دلیر اور نڈر خاتوِن ہمارے گاؤں کے مردوں کے ساتھ ساتھ اس طرح شریک تھیں کہ مرد تو کبھی کبھار پیچھے رہ جاتے تھے پر یہ خاتون کبھی پیچھے نہیں رہیں بلکہ آگے آگے اور پیش پیش رہیں۔ لیکن بدقسمتی سے آج تک کسی نے اس بہادر خاتون کا نام تک نہیں لیا لیکن میں آج بہت خوش ہوں اور بہت فخر محسوس کر رہا یوں کہ اجمل خٹک نے آج ایک ایسے کردار کو زندہ کیا ہے جو کبھی مر نہیں سکتا اور آج ہمارے گاؤں کے مرودں کے ساتھ ساتھ ہمارے ہی گاؤں کی ایک خاتون کا بھی خدائی خدمت گار تحریک میں نام بڑی شان اور آن سے لیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

”انجمن اصلاح الافاغنہ“ پہلی پختون اصلاحی اور تعلیمی تحریک

باچاخان ریسرچ سنٹر خان عبدالغفار خان یعنی باچا خان جس دور میں پیدا ہوئے اْس …