مینگورہ کی سڑکیں اور فٹ پاتھ پارکنگ سٹینڈز میں تبدیل – تحریر:عصمت علی اخون

سوات انتظامیہ اور حکومت وقت کو چاہئے کہ اس حوالے سے کوئی جامع منصوبہ بندی کریں اور خصوساً پیدل رستوں کو تو قبضہ مافیا سے آزاد کرائیں تاکہ اس سنگین مسئلے کا خاتمہ ہو اور شہری سکون کا سانس لے سکیں

سڑکیں گاڑیوں کے لئے اور فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لئے بنے ہوتے ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے شہر میں پیدل چلنے والوں کیلئے فٹ پاتھ کا انتظام کیا جاتا ہے لیکن کچھ شہر ایسے بھی ہیں جہاں فٹ پاتھ کو کار پارکنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یعنی صبح ڈیوٹی کیلئے آئے ہوئے یا ان سے ملنے آئے ہوئے لوگ گاڑی رستے پر کھڑے کر کے آرام سے سہ پہر تک ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں یا دوران ملاقات اپنی خوش گپیوں میں مصروف ہوتے ہیں، نہ کوئی پوچھنے والا ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی عام شہریوں کی تکلیف یا مشکلات کو سمجھنے والا ہوتا ہے۔

انہی شہروں میں ملاکنڈ ڈویژن کا دل اور صوبے کا دوسرا بڑا شہر مینگورہ سر فہرست ہے جہاں کی تنگ سڑکیں مسئلہ بنی ہوئی ہیں لیکن ان سے زیادہ پیدل چلنے والوں کے لئے بنے فٹ پاتھ کا غلط استعمال سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔

مینگورہ شہر کے یہ فٹ پاتھ یا تو کاروبار کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور یا کار پارکنگ کے لئے، شہر بھر کے انہی راستوں پر دکاندار، ریسٹورنٹس اور ریڑھی بانوں کا قبضہ ہے یا دکانداروں نے کرایہ پر دیئے ہیں لیکن بچے کھچے رستے کار پارکنگ یا ادارے کے جنریٹر کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے قانون کے مطابق شہر کے ہر پلازہ کے لئے کار پارکنگ ضروری ہے لیکن اس پر تاحال مکمل عمل درآمد نہیں ہوا کیونکہ ہر شاپنگ مال یا کاروباری مرکز کے سامنے گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں۔ اس مسئلے کا پتہ عام شخص سے لے کر خواص تک کو ہے لیکن کسی کو پھر بھی پتہ نہیں، انتظامیہ کو بھی شکایت کی گئی لیکن مسئلہ جوں کا توں پڑا ہے خاص کر سیدو شریف سڑک پر مکان باغ چوک سے لے کر ضلعی کچہری تک کا فٹ پاتھ گاڑیوں سے بھرا رہتا ہے اور لوگ پیدل سڑک پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ضلعی کچہری کے قریب فٹ پاتھ تو ایسے لگتا ہے کہ یہ کوئی موٹرسائیکلوں کا شو روم ہو، ہر طرف موٹر سائیکل ہی موٹر سائیکل دیکھنے کو ملیں گی۔

اس حوالے سے ایک دفعہ ٹریفک وارڈن کو شکایت کی کہ یہ فٹ پاتھ تو پیدل چلنے والوں کے لئے ہے، یہاں اتنی موٹر سائیکلیں کیا کر رہی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کام ٹریفک کو رواں دواں رکھنا ہے اس بارے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ سہراب خان چوک، حاجی بابا چوک، گرین چوک، پیپلز چوک اور دیگر چوراہوں پر تو رکشوں نے قبضہ کر رکھا ہے جنہیں ہٹانا نہ ٹریفک کا کام ہے اور نہ ہی کسی اور کی ذمہ داری ہے بس سڑک سے لے کر پیدل رستے بھی بند کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہی مسائل سے تنگ شہری جب گلیوں کا رخ کرتے ہیں تو وہ سڑکوں اور فٹ پاتھ سے زیادہ مصروف ملتے ہیں۔ وہاں بھی موٹر سائیکل سواروں اور ریڑھی بانوں کی بادشاہت ہوتی ہے، پیدل چلنے والے وہاں بھی اذیت کے شکار رہتے ہیں۔

ایک دوست سے اس حوالے سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ روزانہ کے حساب سے موٹر سائیکل اور رکشے سوات آتے ہیں اور یہاں آ کر شہر میں کھو جاتے ہیں یعنی کینٹینرز آ کر شہر میں کھو جاتے ہیں۔ ریاستی دور کی تنگ سڑکیں اور ٹریفک کا اتنا بوجھ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ایک ذمہ دار سے اس حوالے سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ اس سال ہزاروں رکشے سوات آئے ہیں، ایک طرف کٹ گاڑیاں، اس کے ساتھ نان کسٹم پیڈ اور اب تو موٹر سائیکل اور رکشوں نے حد کر دی، نئی نئی کمپنیاں بنتی ہیں اور سوات موٹر سائیکل بھیج دیتی ہیں جو یہاں فروخت بھی ہوتی ہیں، کوئی اپنے بچے کو منع بھی نہیں کرتا، ہر گھر میں دو دو اور تین تین موٹر سائیکلیں ہوتی ہیں اور جب ہم کارروائی کرتے ہیں تو ذمہ دار منع کرتے ہیں۔

سوات انتظامیہ اور حکومت وقت کو چاہئے کہ اس حوالے سے کوئی جامع منصوبہ بندی کریں اور خصوساً پیدل رستوں کو تو قبضہ مافیا سے آزاد کرائیں تاکہ اس سنگین مسئلے کا خاتمہ ہو اور شہری سکون کا سانس لے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں

”انجمن اصلاح الافاغنہ“ پہلی پختون اصلاحی اور تعلیمی تحریک

باچاخان ریسرچ سنٹر خان عبدالغفار خان یعنی باچا خان جس دور میں پیدا ہوئے اْس …