پختونخوا کے نئے اضلاع اور افغانستان کے ساتھ تجارت

تحریر:مولانا خانزیب

تجارت اور رزق کا حصول انسان کی مجبوری ہے اس لئے ضم اضلاع کے عوام جہاں مقامی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کیے جانے کی امید رکھے ہوئے ہیں وہیں وہ افغانستان کے ساتھ واقع تجارتی راہداریوں کی بحالی کا بھی شدت سے مطالبہ کر رہے ہیں

پختونخوا صوبے کے نئے اضلاع میں جہاں ماضی کی پالیسیوں کے سبب بیشمار سماجی مسائل نے جنم لیا ہے، ان میں ایک بڑا مسئلہ ان علاقوں میں غربت اور بے روزگاری کی شرح میں خطرناک اضافہ ہے، وہیں ان علاقوں میں بدامنی کی مخدوش تر ہوتی صورتحال میں انضمام کے عمل پر سوالات بھی اٹھائے جانے لگے ہیں اور عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں کہ قومی دھارے میں شمولیت کے باوجود انہیں دوسرے درجے کے شہری سمجھا جا رہا ہے۔


ماضی قریب میں افغان وار اور پھر بیس سال کے جنگی ماحول کی وجہ سے یہاں کے بازار اور کاروبار انتہائی متاثر ہوئے ہیں حالانکہ اس خطے کے باسی انتہائی جفاکش ہیں اور ان تمام تر مشکلات کے باوجود اپنے علاقوں میں موجود ہیں مگر چونکہ تجارت اور رزق کا حصول انسان کی مجبوری ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں اس لئے وہ جہاں مقامی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے کی امید رکھے ہوئے ہیں وہیں وہ افغانستان کے ساتھ واقع تجارتی راہداریوں کی بحالی کا بھی شدت سے مطالبہ کر رہے ہیں۔
اسلام میں تجارت اور رزق حلال کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے اور خود پیغمبر خداۖ کئی بار تجارتی قافلوں کے ساتھ شام گئے ہیں۔ حلال رزق کے حصول کو فرض نماز کے بعد سب سے بڑا فریضہ کہا گیا ہے اور ایک مسلمان تاجر جو ہر طرح کے جھوٹ اور ملاوٹ سے پاک تجارت کرتا ہے اس کا درجہ قیامت میں انبیاء کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔


خیبر پختونخوا میں ضم شدہ ان نئے اضلاع میں زمانوں سے یہاں کے باسی افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور یہاں کے باسیوں کا افغانستان کے ساتھ تجارت ہی رزق کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہوتا تھا۔ پختون بیلٹ میں افغانستان کے ساتھ پاکستان سے پہلے آنے جانے کے سیکڑوں راستے تھے جن میں بڑے پیمانے پر تجارت بھی ہوتی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد سولہ ایسے بڑے راستے ہیں جن پر ماضی قریب تک دوطرفہ تجارت ہوتی تھی اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کے لوگ بڑے پیمانے پر اس تجارت کے ساتھ منسلک ہوتے تھے۔ چونکہ جدید دنیا تجارت کی دنیا ہے اور جتنا کسی ملک کی جی ڈی پی زیادہ ہو گی اتنا ہی اس کے ترقی کا پہیہ زیادہ گھومے گا اور اس کی اقتصادی شرح نمو میں زیادہ اضافے کا سبب بنے گا۔


موجودہ دنیا میں دو ممالک کے درمیان قومی سرحدات کے آر پار تجارت کو بین الاقوامی یا عالمی تجارت کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں یہ کل قومی پیداوار (GDP) کا ایک اہم حصہ ظاہر کرتا ہے۔ گو کہ بین الاقوامی تجارت کی تاریخ بہت پرانی ہے تاہم اِس کی اِقتصادی، معاشرتی و سماجی اور سیاسی اہمیت حالیہ صدیوں میں بہت زیادہ بڑھی ہے خصوصاً صنعت کاری وکارخانہ داری نقل و حمل و باربرداری، عالمگیریت، کثیر ملکی ادارے اور بیرونی ماخذیت کی بدولت حقیقتاً یہ شاید عالمی تجارت کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ ہے جسے عموما عالمگیریت کہا جاتا ہے۔


افغانستان کے ساتھ ان سولہ تجارتی راستوں میں2005 کے بعد آدھے سے زیادہ مکمل طور پر بند کئے گئے ہیں جبکہ جن محدود راستوں سے تجارت یا جہاں کاروباری سرگرمیاں ہوتی ہیں وہ بھی روبہ زوال ہیں۔ ان بند راستوں میں، انگور اڈہ جنوبی وزیرستان، غلام خان سرحد شمالی وزیرستان، خرلاچی کرم، ناواپاس باجوڑ، گوسھڑئی، جس کو گھورسل بھی کہا جاتا ہے مکمل طور پر بند ہیں (ان میں سے بعض راہداریوں انگور اڈہ اور غلام خان سرحد وغیرہ کھولی گئی ہیں تاہم مقامی تاجروں کی جانب سے اس پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور وقتاً فوقتاً احتجاج و مطاہروں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے) جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کا کاروبار ختم ہوا ہے خصوصیت کے ساتھ ناواپاس کے ذریعے ملاکنڈ اور سوات تک بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی تھی جبکہ باجوڑ ہی کے دو اور راستوں غاخی پاس اور لیٹئی پاس کے ذریعے قیمتی لکڑی کی بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی تھی مگر ان راستوں کی بندش سے اس پورے علاقے کی تجارت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔


افغانستان کے ساتھ تجارت کی زبوں حالی کی اب حالت یہ ہے کہ وہ تجارت جس کو دونوں ممالک کے کرتا دھرتا باہمی اعتماد کے ذریعے اربوں ڈالر تک لے جا سکتے تھے اب چند ملین تک آ گئی ہے۔ ان بند تجارتی راستوں میں دونوں ممالک کے حکمران برابر کے مجرم ہیں جو سیاسی تناؤ کو تجارتی راستوں کی بندش کے ذریعے پالتے ہیں۔ افغانستان وسطی ایشیاء کے ساتھ نئے تجارتی راستے ڈھونڈ رہا ہے مگر پاکستان کی طرف پختون بیلٹ اور یہاں کے باسیوں کو اس نے بھی مکمل نظر انداز کیا ہے۔ اسی طرح پاکستانی حکمران ہندوستان کے ساتھ تو نئے راستے کھول رہے ہیں مگر افغانستان کے ساتھ پختونوں کے علاقوں میں ہزاروں سالہ تاریخی تجارتی راستوں کو سیاسی تناؤ کی نذر کر کے بند رکھ گیا ہے یا رکاوٹیں و مشکلات اتنی ہے کہ جن کی وجہ سے روزگار اور کاروبار اس طرح سے نہیں ہو رہا جس طرح سے ہونا چاہئے تھا یا پھر جس طرح سے یہاں تجارت ہو سکتی ہے۔


دونوں ممالک کے حکمران اپنی پالیسیوں کی سزا یہاں کے پختونوں کودے رہے ہیں جو کہ نہیں ہونا چاہئے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق بینک آف پاکستان، اسٹیٹ بینک، کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے پہلے11 ماہ میں افغانستان کو پاکستانی برآمدات میں33.40 فیصد کمی ریکارڈکی گئی ہے۔ اس عرصہ میں افغانستان کو پاکستانی برآمدات کا حجم 825.63 ملین ڈالر رہا جو مالی سال 2018-19 کے اسی عرصہ کے مقابلے میں33.40 فیصد کم ہے، مالی سال 2018-19 کے پہلے11 ماہ میں افغانستان کو پاکستانی برآمدات کا حجم1.101 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اعدادوشمارکے مطابق رواں سال مئی میں افغانستان کو17.01 ملین ڈالر مالیت کی برآمدات کی گئیں۔

اس کے مقابلے میں گزشتہ سال مئی میں افغانستان کو پاکستانی برآمدات کا حجم 115.88 ملین ڈالرریکارڈکیا گیا تھا۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق اسی طرح افغانستان سے درآمدات میں 36.79 فیصد کی کمی آئی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے11 ماہ میں افغانستان سے درآمدات کا حجم119.32 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2018-19 کی اسی مدت میں افغانستان سے163.13 ملین ڈالر کی درآمدات ہوئی تھیں اور مستقبل میں خدشہ ہے کہ یہ تجارتی مقدار مزید گراوٹ کا شکار ہو گا۔


ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے اعدادوشمارکے مطابق پاکستان افغانستان کے لئے سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ملک اور منڈی ہے جہاں افغانستان میں پیدا ہونے والی اشیاء برآمد کی جا رہی ہیں جن کی مالیت کئی سو ملین ڈالر ہے۔ اسی طرح افغانستان پاکستان کی اشیاء کے لئے چوتھی بڑی برآمدی منڈی ہے، سال 2014 سے قبل افغانستان کے لئے پاکستان سب سے بڑا برآمدی ملک تھا تاہم بعدازاں پاکستان سے یہ پوزیشن ایران جیسے دیگر ممالک نے حاصل کر لی۔ افغانستان کو پاکستان کی اہم برآمدات میں گندم، سیمینٹ، چینی اور چاول شامل ہیں جبکہ معدنیات کے حوالے سے بھی تجارت کے بڑے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ افغانستان کو زیادہ پاکستانی برآمدات کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں اشیاء کی ترسیل میں دیگرممالک کے مقابلہ میں وقت اور اخراجات میں نمایاں بچت ہو جاتی ہے کیونکہ دونوں ممالک کی سرحدیں آپس میں بہت قریب ملی ہیں جس کا فائدہ افغانستان اور پاکستان کی حکومت اورعوام کو پہنچے گا۔


صوبہ پختونخوا کے ایک بڑے بزنس مین محمد افضل کا کہنا ہے کہ پاک افغان تجارت میں جو مسائل ہیں ان میں آئے روز سرحدوں کی بندش اور بدامنی کے واقعات سے اجافہ ہو رہا ہے۔ محدود پیمانے پر ٹرکوں کو برآمد کی اجازت بھی ایک اہم مسئلہ ہے، یہ وہ حالات ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا مستقل حل ضروری ہے، تاجروں کے لئے آسانیاں فراہم کرنا ہوں گی، چیکنگ کا نظام خودکار بنانا ہو گا، سکریننگ کے ذریعے چیکنگ کا نظام اتناشفاف بنانا ہو گا کہ نہ صرف بڑی تعدادمیں درآمد و برآمد ہوں بلکہ ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت دیگر امور بھی آسان بنائے جا سکیں۔ اس سے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کی اقتصادی حالت میں بہتری آئے گی بلکہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان غلط فہمیاں بھی ختم ہوں گی۔


”شہباز کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورت حال بھی اس صورت میں بہتر ہو سکتی ہے اگر سرحدکے دونوں اطراف میں رہنے والے لوگ خوشحال ہوں اور کاروبار کے ذریعے آمدنی کا حصول ہو تو لوگ دیگر سرگرمیوں پر پھر توجہ نہیں دیتے۔
اس حوالے سے شہباز کے ستھ خصوصی گفتگو کے دوران خیبر پختونخوا کے ایک اور کاروباری شخصیت زاہد اللہ شنواری کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تجارتی پالیسیوں کا پچانوے فیصد نقصان قبائلی اور خیبر پختونخوا کے عوام کو ہو رہا ہے۔ طورخم سرحد پر کسٹم، وزارت تجارت، اور دیگر سرکاری اہلکاروں نے کئی مشکلات پیدا کی ہیں جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین تجارت کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کے لیے پانچ مختلف راستے ہیں تاہم ضلع خیبر میں طورخم کے راستے سب سے زیادہ تجارت ہوا کرتی تھی۔ تاہم گزشتہ ایک عرصے سے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی، ٹیکسوں میں اضافے اور سہولیات کے فقدان کی وجہ سے اس راستے سے تجارت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ہمیں ان معاملات کو گہری نظر سے دیکھنا اوراس بارے سوچنا ہے۔ چونکہ یہ سرحدات اب کھول دینے چاہئیں، مزید اس خطے کے پختون ان بندشوں سے تنگ آ گئے ہیں، چند دن پہلے باجوڑ کے تمام سیاسی و قومی مشران کا ایک جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں دونوں جانب کی حکومتوں سے باجوڑ کے افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مومند میں بھی اسی طرح کے ایک قومی جرگہ میں اسی طرح کا مطالبہ کیا گیا جبکہ باقی اضلاع سے بھی اسی طرح کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اب مزید ان بڑے تجارتی راستوں کی بندش مناسب نہیں ہے، اسی قومی آواز کو عوامی نیشنل پارٹی نے محسوس کیا اور چند دن پہلے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک قرارداد ضلع مومند سے ان کے ایک رکن صوبائی اسمبلی نثار موممند نے جمع کرائی جس میں افغانستان کے ساتھ بند تجارتی راستوں کے کھولنے اور معاشی آمدورفت کی بحالی کے لئے خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی سے ان سرحدات کو وفاق سے کھولنے کی سفارش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ضلع مومند سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی نثار مومند کی جانب سے جمع کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ افغانستان ہمارا قریبی ہمسایہ ملک ہے اور ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے۔ ہمارے بہت سے بارڈرز اور علاقے افغانستان کے ساتھ منسلک ہیں اور زیادہ آمد ورفت و تجارت انہی علاقوں اور سرحدات کے ذریعے ہوتی ہے۔


قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ناوا پاس باجوڑ ، انگور اڈہ جنوبی وزیرستان اور گورسل ضلع مومند کو بھی کھولنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ہمارے ملک اور ان علاقوں کا معاشی پہیہ انہی سرحدات کی وجہ سے چلتا ہے۔ قرارداد میں صوبائی اسمبلی کے ذریعے وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ مذکورہ راستوں کو جلد از جلد کھولنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں، بدامنی اور دوطرفہ تعلقات کی صورت میں پیدا شدہ کشیدگی ان راستوں کی بندش میں مزید رکاوٹ نہیں بننی چاہئے کیونکہ ان راستوں کی بندش یہاں کے لاکھوں باسیوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔

پاک افغان سرحد طورخم کو ہفتے میں ایک دن پیدل آمد ورفت کیلئے کھولا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر پاک افغان سرحد کو بند کیا گیا تھا تاہم6 اپریل کو افغان حکومت کی درخواست پر پاکستان نے طورخم اور چمن بارڈر افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے کھول دیا تھا۔ وفاقی حکومت کے احکامات پر سرحد کو بحال کیا گیا، حکام کے مطابق طورخم سرحد ہفتہ میں پانچ دن ٹرانزٹ اور ایک دن پیدل آمدورفت کیلئے کھلی رہے گی۔ ہزاروں کی تعداد میں چمن باڈر پر محصور افغان شہریوں نے واپسی کا رخ کیا تھا تاہم افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ضلع خیبر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پاک افغان بارڈر طورخم کو پیدل آمد و رفت کیلئے کھول دیا جاتا ہے، بارڈر کھلنے سے افغانستان میں پھنسے پاکستانی واپس آ سکیں گے۔ انتظامیہ کے مطابق پاکستان سے افغانستان جانے والوں کیلئے بھی سرحد بحال ہو گی۔

انگور اڈہ پر مقامی تاجروں کے اعتراضات
جنوبی وزیرستان میں واقع پاک افغان سرحد انگور اڈہ پر دوبارہ کھلنے کے ساتھ ہی مقامی تاجروں اور عوامی حلقوں کی جانب سے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے آٹا ڈیلرز کے عہدیداروں حاجی مقرب خان وزیر، عطا اللہ، حاجی رحم شاہ، حاجی پیر ملاخان، کیر اعظم خان اور امیر حمزہ نے کہا کہ وانا ایف سی ساتھ نے احمدزئی وزیر قبائل کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ انگور اڈہ گیٹ کو طورخم، چمن اور غلام خان گیٹ کی طرز پر کھولا جائے گا لیکن بدقسمتی سے گیٹ کو غیرقانونی سامان کے لئے کھول دیا گیا ہے جس پر لکڑی، کوئلہ و دیگر غیرقانونی سامان کی ترسیل جاری ہے جو علاقے کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ وانا پریس کلب میں انگور اڈہ گیٹ کھولنے کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے حاجی مقرب خان نے کہا کہ حکومت عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے کو عملی جامہ پہنائے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ایکسپورٹ میں شامل چاول کو انگور اڈہ گیٹ پر نہیں چھوڑا جا رہا، حکومت کو چاہئے کہ انگور اڈہ گیٹ پر بھی طورخم، چمن اور غلام خان گیٹ کے طرز پر چاول کو بھی آزاد کیا جائے اور غیرقانونی ترسیلات کو فوری طور پر بند کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

بابا عبدالرحمان، ایک آفاقی شاعر

تحریر: نورالامین یوسفزے ہمارے بابا نے سینکڑوں سال پہلے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم …

%d bloggers like this: