پختونخوا کے نئے اضلاع اور قبائلی تنازعات

وزیرستان میں بھی قبائلی تنازعات کو ہوا دی جا رہی ہے جبکہ کچھ دنوں سے ضلع کرم میں قبائل کے درمیان لڑائی چھڑ گئی ہے جس میں  بھاری اسلحے کا آزادانہ استعمال ہو رہا ہے مگر حکومت نام کی کوئی چیز نہیں

جنگوں اور قبائلی دشمنیوں نے اس علاقے کو کئی صدیاں پیچھے دھکیل دیا ہے، اب یہاں کا نوجوان ملک کے دیگر ترقی یافتہ شہروں کی طرح اپنے جنت نظیر وطن میں امن اور خوشحالی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں

سابقہ فاٹا جہاں زمانوں سے قبائلی دشمنیاں چلی آ رہی ہیں یہ دشمنیاں خاندانوں کے درمیان اور کہیں پر قبیلوں کے درمیان رہی ہیں۔ سن اسی کی دھائی سے پہلے بھی یہ دشمنیاں ہوتی تھیں مگر اس وقت چونکہ جدید آتشی اسلحے کا دور نہیں تھا تو قبائل یہ دشمنیاں اپنی روایتی بندوق سے پالتے تھے جو مختلف سائز کی ہوتی تھیں۔ عرف عام میں ان کو ”پینز ڈزے” یعنی پانچ گولیاں فائر کرنے والی بندوق کہا جاتا تھا۔ دشمنیوں کو پالنے کیلئے قلعوں کی دیواروں کے ساتھ بڑے بڑے برج بنائے جاتے تھے جہاں ہر وقت کچھ بندے چوکس بیٹھے ہوتے تھے جو دشمن کو نظر آتے ہی گولی مار دیتے تھے۔ اگر دشمنی کسی قبیلے کے ساتھ ہوتی تو پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں پر خندقیں کھود کر مورچے بنائے جاتے تھے اور قبیلے کے افراد نمبر واری کے حساب سے اس میں پہرہ دیتے جبکہ عام جنگ کی حالت میں قبیلے کا ہر بالغ جوان مورچہ زن ہو کر لڑتا۔

Advertisements

 اس روایتی دشمنی میں اتنا زیادہ جانی نقصان نہیں ہوتا تھا۔ زیادہ جانی نقصان اس صورت میں ہوتا جب کوئی قبیلہ دوسرے قبیلے پر رات کی تاریکی میں شب خون مارکر چڑھ دوڑتا، اس میں دوبدو لڑائی ہوتی اور شکست کی صورت میں املاک کی لوٹ مار بھی ہوتی تھی مگر بڑے حملے بہت کم ہوتے تھے۔ یہ لڑائیاں اکثر روایات کی پابند ہوتی تھیں جن میں بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور مہمانوں کو کچھ نہیں کہا جاتا تھا۔ میت کے دفنانے کے وقت جرگہ کے ذریعے عارضی صلح نامہ بھی ہوتا تھا مگر جب سن اسی کا دور آیا، افغان وار کی وجہ سے جدید آتشی اسلحہ قبائلی علاقوں میں پہنچا اور وہ بڑے سستے نرخ پر کھلے عام ملنے لگا تو بہت جلد اس کا استعمال ان قبائلی دشمنیوں میں بھی ہونے لگا، روایات کی جگہ جدید آتشیں اسلحہ نے لے لی، جس کے پاس یہ اسلحہ زیادہ ہوتا اس کا بول بالا ہوتا۔

ہم نے بہت قریب سے دیکھا ہے کہ ان دشمنیوں میں بڑے ہتھیاروں جن میں راکٹ لانچرز، مارٹرز اور بڑی بڑی توپیں شامل ہوتی تھیں کھلے عام ان کا استعمال ہونے لگا، بھاری اسلحے کو مہارت سے چلانے کیلئے اکثر ان افغان جنگجوؤں کو بلایا جاتا جو سوویت یونین کے خلاف ان ہتھیاروں کے چلانے میں مہارت رکھتے تھے۔ ان دشمنیوں کو پالنے کیلئے قبیلے کی سطح پر بڑے بڑے چندے ہوتے تھے اور ان بڑے ہتھیاروں کو بڑے پیمانے پر ذخیرہ کر کے رکھا جاتا تھا جو بدقسمتی سے آج تک بعض قبائل کے ساتھ موجود ہے۔

دہشت گردی کے نام پر پچھلے بیس سال کے دوران جب سارا علاقہ کھنڈرات میں تبدیل ہوا تو بڑے اسلحہ کے ساتھ چھوٹے اسلحے کا رواج بھی ماند پڑ گیا مگر کچھ علاقوں میں پھر بھی یہ روایات اب بھی باقی ہیں۔ ایک طرف اگر ان بے نتیجہ اور بے مقصد قبائلی دشمنیوں میں بڑے پیمانے پر مالی اور جانی نقصانات ہوتے تھے تو دوسری طرف پورا قبائلی معاشرہ ایک جنگجویانہ ذہنیت میں بدل جاتا، ایک طرف جہالت اور غربت اس سوسائٹی کا بڑا مسئلہ تھا تو دوسری طرف یہ دشمنیاں پورے معاشرے کیلئے ناسور ہوتی تھیں۔ اپنے ہلاک شدگان کا انتقام لیا جاتا تھا اور قبائل کے درمیان آپس کے تمام سماجی و معاشرتی تعلقات قطع ہو جاتے تھے۔

اب آتے ہیں اس طرف کہ یہ علاقے تو آئین کی رو سے پاکستان کا حصہ تھے تو حکومت اور اس کی رٹ اس جنگجویانہ ماحول میں کہاں تھی؟ حکومتی رٹ ان علاقوں میں صرف نام کی حد تک ہوتی تھی کیونکہ ان علاقوں کو ہمیشہ ریاست نے اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کی خاطر نظر انداز کیا تھا اور ان تمام بدحالیوں کی ذمہ دار بھی وہ تھی، وہ کبھی بھی ان المیوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی بلکہ ان بربادیوں میں اسے شریک جرم مانا جائے گا کہ پاکستان کا حصہ ہوتے ہوئے کیونکر ان علاقوں کو ستر سال تک لاقانونیت اور طوائف الملوکی کے حوالے کیا گیا۔

جب ایف سی آر کا خاتمہ ہوا اور یہ علاقے آئینی و انتظامی طور پر صوبہ پختونخوا کا حصہ بن گئے تو امید یہ ہو چلی تھی کہ اب ان پسماندہ علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کیلئے ھنگامی بنیادوں پر کام ہوگا اور صوبہ کے اعلی حکام انتہائی باریک بینی سے انضمام کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے موثر اقدامات اٹھائیں گے مگر بدقسمتی سے پختونخوا صوبہ کے حکمرانوں نے پچھلے دو سال سے عملاً یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی نظر میں اب بھی یہ علاقہ غیر اور فرنگی کے دور کا یاغستان ہے۔ صوبہ کے حکمران ان علاقوں کو اپنے آپ پر ایک بوجھ تصور کر رہے ہیں اور اس کی واضح مثال حالیہ بجٹ میں ان علاقوں کو مستقبل کے حوالے سے مکمل نظر انداز کرنا ہے جبکہ بدامنی کی فضاء تمام نئے اضلاع میں ایک بار پھر بن رہی ہے، دہشت گردی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، یہاں کی مقامی امن وامان کی فورس جس کو لیوی کہا جاتا تھا اس کو ابھی تک پولیس میں باقاعدہ طور پر ضم نہیں کیا گیا ہے اور ان کے سروں پر مستقبل کے حوالے سے ایک انجانا خوف طاری ہے۔

ان علاقوں میں امن وامان کی ذمہ داری اب کوئی نہیں لے رہا، امن و امان کی دگرگوں حالت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ باجوڑ سے چند دن پہلے تبدیل ہونے والا ایک ڈی پی او صاحب دو سال کے عرصے میں باجوڑ میں ڈر کے مارے اپنے دفتر سے باھر نہیں نکلتا تھا۔ اس تمام تر مایوس کن صورتحال میں ایک اور خطرناک ایشو جو ان علاقوں میں مسلسل سر اٹھا رہا ہے اور جس کو قابو کرنے میں یہاں پر موجود سیکیورٹی فورسز اور پولیس مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہیں وہ ہے قبائلی تنازعات اور دشمنیوں کا ایک بار پھر سر اٹھانا۔

دو ماہ پہلے باجوڑ اور مومند کے قبائل کے درمیان سرحدی تنازعہ پیدا ہوا۔ کئی روز تک دونوں جانب سے ہزاروں لوگوں کے لشکر ایک دوسرے کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھے تھے اور قریب تھا کہ یہ سب کچھ ایک بہت بڑے خونی صورتحال پر منتج ہوتا علاقے کے سیاسی اور قبائلی مشران کی کوششوں سے کچھ عارضی تصفیہ اس میں ہوا مگر دونوں ضلعوں کی انتظامیہ اس دوران صرف تماش بین کا کردار ادا کرتی رہی۔ اسی طرح وزیرستان میں بھی قبائلی تنازعات کو ہوا دی جا رہی ہے جبکہ کچھ دنوں سے ضلع کرم میں قبائل کے درمیان لڑائی چھڑ گئی ہے جس میں  بھاری اسلحے کا آزادانہ استعمال ہو رہا ہے مگر حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔

آخر ان علاقوں میں حکومت اپنی رٹ کی بحالی میں کیوں مخلص اور مستعد نہیں ہے؟ قانون کی دسترس میں آنے کے بعد اب اور مزید کون سے المیوں کو جنم دینے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اگر ان علاقوں کو سن اسی کے دور کی طرح لاقانونیت کے حوالے کرنا ہے تو ان بلند بانگ دعوؤں کی کیا ضرورت تھی جو دو سال پہلے کئے گئے۔

خدا را! ان جنگ زدہ تباہ حال معاشرے پر اب رحم کیا جائے، ان کو مزید استحصالی پالیسیوں کے حوالے کرنے کے بجائے ان کو امن ترقی اور خوشحالی اور قانون کی حاکمیت دیں۔ اگر یہ سب کچھ دینے پر آپ راضی نہیں تو پھر شائد حالات کو سنوارنے میں بہت دیر ہو جائے گی اور اس کے تباہ کن اثرات پھر سب پر پڑیں گے۔ اب اس خطے کے پشتون نوجوان شعوری طور بیدار ہیں، وہ ریاست سے آئین کے تحت پرامن طور پر اپنے قومی، سیاسی اور معاشی حقوق ہر حال میں لینا چاہتے ہیں۔ یہاں کا باشعور طبقہ جہالت کے دور کی دشمنیوں سے تنگ آچکا ہے۔

اسحلہ کے بجائے اب یہاں قانون کی عملداری سے مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے کی روایات اپنانا ہوں گی۔ جنگوں اور قبائلی دشمنیوں نے اس علاقے کو کئی صدیاں پیچھے دھکیل دیا ہے، اب یہاں کا نوجوان ملک کے دیگر ترقی یافتہ شہروں کی طرح اپنے جنت نظیر وطن میں امن اور خوشحالی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں جو ریاست نے ان کے ماضی کی محرومیوں کے ازالے کے ساتھ ہر حال میں دینی ہے اور اسی میں سب کا بھلا ہے۔ پختونوں کی لیڈر شپ کو اب ان علاقوں کے مسائل کے حوالے سے جاندار کردار ادا کرنا چاہئے، کھل کر بولنا چاہئے تاکہ یہ علاقے مزید تاریک ماضی میں جانے کے بجائے اپنے روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیں

اسلام کا تصور جمالیات ۔۔۔ مولانا خانزیب

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس ذات مطلق نے جو چیز بھی بنائی …

%d bloggers like this: