بے شرم انسان کے شرم کو ڈھانپنے والے مسیحا کا پیغام

تحریر: محمد عثمان

پوری دنیا میں جہاں ہمیں انسانیت سے محبت کے جذبے کے تحت کم قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے وہیں پاکستان میں ہمیں ناجائز منافع خوری کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔۔۔ افسوس۔۔!


باریک کپڑے سے بنا، دو تسموں پر میرا نرم و ملائم وجود ٹکا ہوا ہے لیکن مجھے آج کل بڑے کام کی چیز سمجھا جاتا ہے۔ میری پیدائش تب ہوئی جب انسان نے منہ چھپانے کی ضرورت محسوس کی لیکن اس وقت میری کوئی اصل شکل نہیں تھی۔ شرم کے کام کر کے بے شرم انسان جب اپنی شناخت کو عریاں کرنے سے کتراتا یا بدبو سے بچنے کی کوشش کرتا تو کسی کپڑے سے منہ کو ڈھانپ کر کام چلاتا۔ لیکن وقت بدلتا گیا اور صنعتی انقلاب برپا ہوا تو منہ چھپانے کے عمل میں بھی جدیدیت پیدا ہو گئی اور1960 کی دہائی میں میرا جنم ہوا۔


بے شرم انسان کو شرم سے بچانے یا بیماریوں سے محفوظ رہنے کا ٹھیکہ میں نے اپنے سر پر لیا۔ہاہاہاہاہاہا! کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں کون ہوں؟ چلو میں اپنا تعارف کرواتا ہوں۔ مجھے لوگ ماسک کے نام سے جانتے ہیں۔ہاہاہاہا۔ تقریباً ستر سال تک میں ردی سمجا جاتا رہا۔ میری قیمت بے شرم انسان نے صرف دو سے تین روپے رکھی تھی۔ میں نے بھی قسم کھا لی تھی کہ جس انسان کے شرم کو چھپاتا ہوں اس پہ اپنا آپ کسی نہ کسی دن منواوں گا ضرور۔ تو سال دو ہزار انیس میں اسی بے شرم انسان نے ایک نیا کارنامہ سر انجام دیا تو میرے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ باقی نہیں رہا۔


دنیا میں پہلا کورونا کیس نومبر دو ہزار انیس کو چائنہ میں سامنے آیا اور ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے احتیاطی تدابیر پر انسان کی زندگی منحصر ہونے لگی۔ احتیاطی تدابیر والے خاندان میں مجھے بھی شامل کر دیا گیا۔ جب انسان نے مجھے اپنا محسن سمجھا تو میں نے بھی عہد کیا کہ جس انسان کے منہ پر رہوں گا کسی حال میں اسے کورونا وائرس کے حوالے نہیں کروں گا۔ ایک فرنٹ لائن سپاہی کا کردار ادا کرتے ہوئے دنیا بھر کے انسانوں سے دوستی کی تو انسان نے میرے وجود کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ میں مہنگا اور انوکھا بھی ہو گیا۔۔ فروری دو ہزار انیس کے آخر میں پاکستان میں پہلا کورونا کیس رجسٹرڈ ہوا تو بے شرم انسان جس کا شرم میں چھپاتا ہوں مجھ سے الجھنے لگا اور میرے وجود کو غائب کرنے پر اتر آیا۔ بعد میں وباء بڑھ گئی تو میں ایک اور تشویش میں مبتلا ہونے لگا۔ اب لوگوں کو مجھے اپنی اہمیت سمجھانا مشکل تھا۔ یہاں پر لوگ کورونا کو مذاق سمجھ رہے تھے تو ببلا مجھے کیوں تسلیم کرتے۔۔۔۔ ہاہاہاہاہا۔۔


پاکستان کے لوگوں نے مجھے اس وقت نراش کیا جب میری وجہ سے وہ ڈبل سے بھی زیادہ منافع خوری میں مبتلا ہونے لگے۔ میرا وجود اب اتنا خاص ہوا کہ100 روپے میں ملنے والا میرا ڈبہ اب1500 میں فروخت ہونے لگا۔ یہ کہانی صرف میری نہیں این 95 ماسک کی بھی ہے جو عام طور پر 500 روپے میں فی دانہ مل جاتا تھا اب 1500سے بھی تجاوز کر گیا۔۔۔ افسوس! ریٹ کی زیادتی تو ایک طرف اسی بے شرم انسان نے میری ذات سے بھی دغا بازی شروع کی اور مجھے لوکل سطح پر بنا کر مہنگا فروخت کرنے میں جھجک محسوس نہیں کی۔ اور تو اور میری ساخت کو بھی چھیڑا گیا اور مجھے اتنے رنگ دیئے گئے کہ میں خود بھی تشویش میں مبتلا ہونے لگا کہ میں ہوں بھی یا نہیں۔ اب میں تحفظ کی بجائے فیشن کی چیز بننے لگا۔ بچوں کے لئے میرا قد بھی چھوٹا کیا گیا اور مجھے کوئی گلہ نہیں لیکن وہاں بھی میرا فائدہ اٹھا کر میرے اپنی قیمت سے کئی گنا زیادہ میں فروخت کیا جانے لگا۔۔۔ افسوس! خیر جو لوگ کورونا کو مان رہے تھے انھوں نے میری ضرورت محسوس کی اور مجھ سے دوستی کرنے لگے۔ آہستہ آہستہ میرا خاص وجود اتنا عام ہوا کہ میں ہر جگہ میسر ہونے لگا۔ پہلے میں صرف میڈیکل سٹورز تک محدود تھا مگر اب مجھ میں وسعت آنے لگی اور یوں میں گلی کے نکڑ پر کریانہ سٹور تک پہنچا۔ خود کو سٹورز تک قید نہیں رکھا بلکہ سڑکوں تک نکل آیا، اور جو لاک ڈاؤن سے بے روزگار ہو چکے تھے ان کی روزی روٹی کا بندوبست بھی مجھ سے ہوتا رہا۔ یعنی میں محافظ بھی اور ذریعہ معاش بھی۔۔۔ ہاہاہاہاہاہا۔

کورونا کی پہلی لہر میں کمی آئی تو میں بھی پرانے نرخوں پر فروخت ہونے لگا تو میں نے سکھ کا سانس لیا اور شکر کیا کہ چلو کسی مجبور کی مجبوری کا فائدہ اب میری وجہ سے نہیں اٹھایا جائے گا۔ لیکن اب دوسری لہر کا سن کر وہی تاجر دوبارہ اپنی اوقات پر آنے لگے اور ایک بار پھر میری نرخوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہونے لگا ہے۔ مجھے دکھ ہے کہ انسان کے پاس دل و دماغ ہونے کے باوجود بھی احساس نہیں ہے۔۔۔ افسوس! زندگی کا باب کب اور کہاں ختم ہو اس سے شاید کوئی انسان نا واقف ہو۔۔ مگر کب تک؟ صرف میں ہی نہیں سب شکایت کرنے لگے ہیں اسی انسان سے۔۔ میرا اور احتیاطی تدابیر میں استمعال ہونے والوں کا قصور کیا ہے؟ پوری دنیا میں جہاں ہمیں انسانیت سے محبت کے جذبے کے تحت کم قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے وہیں پاکستان میں ہمیں ناجائز منافع خوری کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔۔۔ افسوس۔۔! معافی چاہتا ہوں میں ذرا تلخ ہوگیا۔


تحریر کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے لیکن یقین کریں اگر یہ بے زباں ماسک گویا ہو جائے تو یہی کہے گا کہ میں تو آپ سب کا قریبی ساتھی ہوں، کم از کم میرے نام پر تو ایک دوسرے کو نہ لوٹو۔۔۔۔۔ لیکن جب بے شرم کے شرم کو ڈھانپنے والے کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جاتا ہو تو سمجھ جانا کہ انسان کتنی پستی میں جا گرا ہے۔ اس پر صرف قہقہا لگایا جا سکتا ہے ہاہاہاہا، یا رویا جا سکتا ہے۔ افسوس!

یہ بھی پڑھیں

باچا خان، ایک سوچ اور تحریک

تحریر:روخان یوسف زئی باچا خان ایک تصوراتی رہبر اور فلسفی نہیں تھے جو اپنے پیچھے …