ژوب: احباب جو ہم میں نہیں رہے

تحریر: محمد حسین ہنرمل

پچھلے کئی ہفتوں سے اعزہ واقارب، اساتذہ اور یاراں مجلس کی موت کی خبریں سن سن کر خود کو مسلسل رنجیدہ اور فگار محسوس کرتا ہوں، یوں پشتو زبان کا یہ ٹپہ تواتر کے ساتھ یاد آ رہا ہے،
یارانو! یو تر بل زاریژی
ما د مجلس یاران لیدل چی خاورے شو نہ…
”دوستو! ایک دوسرے سے پیار و ایثار سے پیش آیا کروکیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے مجلس کے احباب کو خاک ہوتے دیکھا ہے۔“ چند ہفتے پیغام موصول ہو اکہ ”اے این پی ژوب کا مخلص رہنماء جناب عبدالرشید سیال کاکڑ اس دنیا میں نہیں رہے۔“ اس خبر نے حد درجے رنجیدہ کر دیا تاہم چند لمحے بعد دل کو تسلی دی کہ موت نے ایک دن ضرور آنا ہے، چلیں اُن کی عیادت پھر بھی تو نصیب ہوئی۔ مرحوم عبدالرشید سیال پچھلے پانچ چھ مہینوں سے علیل اور صاحب فراش تھے۔ وفات سے عین تین دن قبل سوشل میڈیا پر ان کی حالتِ مرض کی ایک تصویر نظروں سے گزری تو اگلے دن اپنے دوست شہیم صاحب کے ہمراہ ان کی بیمار پرسی کیلئے حاضر ہوئے۔ بولنے اور ہاتھ ملانے سے عاجز آ چکے تھے، خوراک پہنچانے کیلئے ناک میں نلکی لگی ہوئی تھی یوں صرف آنکھوں ہی آنکھوں میں ان سے بات ہوئی۔ اور پھر دو دن بعد ان کے ارتحال کی خبر سنی۔ مرحوم عبدالرشید سیال گورنمنٹ اسکول نیو ٹاؤن میں ہمارے استاد رہ چکے تھے، نہایت مشفق اور پیار کرنے والے استاد۔ مرحوم سیال عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے قومی سیاست میں کافی متحرک تھے اور باچا خان کے بڑے عقیدت مند تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اس پیارے نیک سیرت استاد کے سفرِ آخرت میں آسانیاں پیدا کرے اور ان کے سبھی لواحقین اوراحباب کو صبر کی توفیق نصیب فرمائے۔ ابھی اپنے استاد کی رحلت کا غم تازہ تھا کہ آج صبح ایک اور خبر نے دل پر بجلیاں گرا دیں۔ یہ خبر ہمارے بڑے اورمشفق دوست جناب عبیداللہ مندوخیل کے اچانک ارتحال کی تھی، اناللہ واناالیہ راجعون۔ عبیداللہ مندوخیل ژوب کے بزرگ اور طویل جدوجہد کرنے والے سیاستدان مرحوم میراخان لالاکے بڑے فرزند تھے اور قومی وطن پارٹی بلوچستان چیپٹر کے سیکرٹری جنرل تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت کم ایسے لوگ دیکھے ہیں جوسدا بہار اور جانانہ طبعیت کے مالک ہوتے ہیں جن میں عبیداللہ خان مندوخیل کا شمار بھی ہوتا ہے۔ مرحوم عبیداللہ خان مندوخیل عمر میں ہم سے کافی بڑے تھے تاہم انہوں نے کبھی بھی اس فاصلے کو تعلقات اور دوستی میں حائل ہونے نہیں دیا۔ غالباً آج سے پندرہ برس قبل پہلی دفعہ میں نے ان کو زیارت میں پشتو عالمی ادبی سمینار کے موقع پر شناسائی ہوئی۔ اس تین روزہ سمینار کی آخری رات منتظمین نے ایک موسیقی پروگرام کا اہتمام کیا ہوا تھا اور معروف موسیقار گلزار عالم ادیبوں اور شعراء کے ایک بڑے مجمع میں غزل سرا تھے۔ رات کے آخری پہر میں پنڈال سے بالکل متصل پیچھے سے فائرنگ کی آواز سنائی دی جس پر موسیقی کے لطف میں ڈوبا ہوا پورا مجمع اناً فاناً بکھر گیا۔ پنڈال میں ہُو کا عالم تھا اور خوف کے مارے ہر ایک کی دوڑیں لگ گئیں۔ اس دوران ایک شخص دوڑتے ہو ئے اسٹیج پر گیا، مائیک اٹھایا اور سہمے ہوئے لوگوں کی ڈھارس بندھائی۔ یہ بندہ وہی عبیداللہ مندوخیل تھا جو آج ہم کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے الوداع کہہ گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ فائرنگ کرنے والا عوامی نیشنل پارٹی کے ایک اوباش نوجوان تھے اور شاید ہوائی فائرنگ کے ذریعے محفل کو مزید چار چاند لگانے کی سعی فرما رہے تھے۔ معاشرتی مسائل کو ہموار کرنے، عوامی مطالبات کو سرکار سے منوانے کیلئے جو بھی احتجاجی مظاہرہ شہر میں ہوا کرتا تھا، مرحوم عبیداللہ خان اس میں پیش پیش رہتے تھے۔ سیاست اور سوشل ورکر کے ساتھ ساتھ مرحوم عبیداللہ خان کو ادب سے بھی گہرا لگاؤ تھا اور تقریباً ہماری ہر ادبی محفل میں وہ حاضری دیا کرتے تھے۔ مرحوم عبیداللہ خان مندوخیل کی موت سے نہ صرف ان کے خاندان میں ایک خلا پیدا ہوا بلکہ اس نیک سیرت اور مخلص دوست کی کمی سیاسی، سما جی، قبائلی اور ادبی حلقوں میں بھی شدت کے ساتھ محسوس کی جائے گی۔ اللہ تعالی ان کو اپنے جوار میں جگہ نصیب فرمائے اور ان کے جملہ لواحقین کو صبر عطا کرے۔ حالیہ دنوں میں دو اور ایسے سانحات بھی رونما ہوئے جن کے اثر سے ابھی تک خود کو نکل نہیں پا رہا۔ ان میں ایک ٹریفک حادثہ تھا جس کے نتیجے میں ہمارے ایک عزیز کے دو جواں سال بیٹے شہید ہوئے تھے۔ جبکہ دوسرا سانحہ ایک قتل کا واقعہ تھا جس کے نتیجے میں ایک خوبرو نوجوان سمیت ایک خاتون شہید ہوئی تھی۔ ایسے اندوہناک سانحے ایک حساس طبع انسان کیلئے نہایت تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔ اللہ نہ کرے کہ یہ سال بھی پچھلے سال کی طرح عام ُالحزن ثابت ہو۔ دعا ہے کہ رختِ سفر باندھنے والے سب مسلمانوں کی منزلیں آسان ہوں۔ آمین!

یہ بھی پڑھیں

بونیر۔۔ پاکستان کی معاشی ترقی میں حصہ ڈال سکتا ہے

تحریر: شوکت حیات بونیری بونیر سنسکرت کے لفظ ”بن“ کی ایک شکل ہے جس کا …