شہنشاہ الفتفات اور مزاح کے بادشاہ، منور ظریف کی یاد میں

تحریر: مدثر زیب

اپنی اداکاری سے لوگوں کو ہنسانا ایک مشکل کام ہے۔ اکثر مزاحیہ فنکار اپنی جسمانی حرکات سے عوام کو ہنساتے یا ہنسانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض منہ بگاڑ کر متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی اس کوشش میں ناکام تو کہیں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ بسا اوقات قدرت بھی بعض انسانوں کو ایسی صلاحیتیں عطا کرتی ہے جو ان کے ساتھ ہی خاک نشین ہو جاتی ہیں اور دنیا ان سے ہمیشہ کیلئے محروم ہو جاتی ہے۔ منور ظریف بھی ایسی ہی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ان کی بے ساختہ باتیں ایسے قہقہے بکھیرتی تھیں جس طرح خوشبو فضا میں بکھر جاتی ہے۔ اگرچہ ان کا خاندان فلمی دنیا سے وابستہ رہا مگر جو مقام منور ظریف کو حاصل ہوا ان کے خاندان کے دوسرے لوگ اُس تک کیا اس کے قریب بھی نہ پہنچ سکے۔

Advertisements

نامور مزاحیہ اداکار منور ظریف 5 2 دسمبر 1940 ء کو برٹش انڈیا پنجاب (موجودہ پاکستان)کے شہر گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ”محمد منور“ تھا۔ وہ 1950 ء کے عظیم مزاح نگار اداکار ظریف (محمد صدیق)کے چھوٹے بھائی تھے۔ دیگر مشہور اداکار منیر ظریف، رشید ظریف اور مجید ظریف منور ظریف کے بھائی تھے۔

منور ظریف نے تحصیل کامونکی میں بلقیس نامی خاتون سے شادی کی۔ ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہیں۔ ان کے بیٹے فیاضل منور ظریف کو 1990 ء کی دہائی میں ”پتر منور ظریف دا“ اور”پتر جیری بلیڈ دا“ کے ساتھ دو فلموں میں بطور ہیرو متعارف کرایا گیا تھا لیکن وہ ناکام رہے۔

منور ظریف جنوبی ایشیاء کے مشہور مزاح نگاروں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنے کریئر کے دوران پاکستانی سنیما پر وہ جوہر دکھائے ہیں جن سے آنے والی صدیوں میں بھی لوگ یکساں دلچسپی سے محظوظ ہوتے رہیں گے۔ مکالموں کی منفرد ادائیگی اور بے ساختہ پن ان کے فن کا کمال تھا۔ ان کی حس ظرافت کبھی رائٹر کی محتاج نہیں رہی۔ ان کے مداحوں نے ان کا نام ”شہنشاہ الفتفات“ یا ”مزاح کا بادشاہ“رکھا۔ 1961ء سے 1976ء کے دوران صرف 16 سال کے عرصہ میں وہ 321 فلموں میں نظر آئے۔ ان میں 70 اردو،250 پنجابی اور ایک پشتو فلم بھی شامل ہے۔

منور ظریف نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز 1961ء میں پنجابی فلم ”ڈنڈیاں“ سے کیا اور 1964ء میں فلم ”ہتھ جوڑی“ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ”ہتھ جوڑی“ نے کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑے اور منور ظریف کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ مزاحیہ اداکار کے طور پر فلمی کرئیر کے بعد وہ ایک اداکار بن گئے۔ انہوں نے اپنے کرئیر میں تین سو سے زائد فلموں میں بطور اداکار، صدا کار، ہیرو اور کامیڈین کے کردار ادا کر کے پاکستانی فلمی تاریخ پر گہرے نقوش ثبت کیے۔

منور ظریف 1968ء میں بننے والی فلم ”پردے میں رہنے دو“ میں بطور سائیڈ ہیرو آئے تھے۔ 1973ء میں ایورنیو سٹوڈیو میں بننے والی بلاک بسٹر فلم ”بنارسی ٹھگ“ میں منور ظریف نے الیاس کاشمیری، فردوس، زمرد، افضال، ممتاز، سلطان راہی اور اعجاز جیسے منجھے ہوئے اداکاروں کے ساتھ لیڈنگ رول ادا کیا۔

منور ظریف نے ایک اداکار،کامیڈین اور ہیرو کے ساتھ ساتھ بطور فلمی ڈانسر کے لاجواب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مزاحیہ اداکاری میں منور ظریف کا کوئی ثانی نہیں تھا، خصوصاً فلم میں نسوانی روپ دھارنے میں انہیں ملکہ حاصل تھا۔ 19 جون 1970ء کو فلم”ہیر رانجھا“ ریلیز ہوئی جس کے ڈائریکٹر مسعود پرویز تھے۔ فلم میں منور ظریف نے فن کی بلندیوں کو چھوا اور اپنی لاجواب اداکاری کے ذریعے شائقین کے دل موہ لئے۔ فلم کے گانے اس دور میں ہر نوجوان کے لبوں پر تھے اور ہر دوسرا فرد منور ظریف کی کاپی کرنے کی کوشش میں لگا تھا۔

26 جولائی 1974 کو آنے والی فلم ”نوکر ووہٹی دا“ میں مزاحیہ کردار ادا کیا اور اس دور میں تمام نامور کامیڈین اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔فلم ”حکم دا غلام“ میں ننھا اور آسیہ کے ساتھ کام کیا۔ جس وقت منور ظریف نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا تو یہ روایت تھی کہ کامیڈین جوڑی کی صورت میں فلموں میں جلوہ گر ہوتے تھے۔ اس وقت مرزا اشرف اور یعقوب، چارلی اور غوری کی جوڑی بہت مقبول تھی۔ منور ظریف نے رنگیلا کے ساتھ جوڑی بنائی اور پرستاروں کے دلوں میں گھر کر لیا۔ رنگیلا اور منور ظریف کی جوڑی فلموں میں کامیابی کی ضمانت بن گئی۔

منور ظریف کو کامیڈین ہیروکا خطاب بھی ملا۔ اپنی عمدہ کارکردگی پر انہیں 3 بار نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 29 اپریل 1976 کو دل کا دورہ پڑنے سے یہ عظیم اداکار صرف36 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔منور ظریف کو بی بی پاک دامان قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

”منور ظریف جیسا فی البدیہہ آرٹسٹ پیدا ہی نہیں ہوا“
اداکار علی اعجاز نے ایک انٹرویو میں منور ظریف کے بارے میں کہا تھا کہ منورظریف کی بے ساختہ باتیں ایسے قہقہے بکھیرتی تھیں کہ لوگ سن کر لوٹ پوٹ ہو جاتے تھے۔ جب ہیروئن کے سامنے آتے تھے تو ہیروئن سدھ بدھ کھو دیتی تھی۔ علی اعجاز نے اکٹھے گزرے دور کو یاد کرتے ہوئے مزید کہا کہ میرا اور منور ظریف کا ساتھ پرانا ہے۔ ہم پانچ پانچ سال کے تھے، ایک ہی محلے میں رہتے تھے، ان کے بڑے بھائی کو دیکھ کر مجھے بھی فلموں میں جانے کا شوق ہوا۔ منور فلم میں چلا گیا، میں ریڈیو پاکستان لاہور آ گیا۔ ایک دن شوٹنگ سے آ کر کہنے لگا۔ ”جاجی! یار کمال ہو گیا، سیٹ پر اتنی پذیرائی ہوئی کہ بتا نہیں سکتا۔“

ٹاپ فلمز
ڈنڈیاں (پنجابی) 1961
ہتھ جوڑی (پنجابی) 1964
”ملنگی“ (پنجابی)1965
بھاریہ میلہ (پنجابی) 1966
امام دین گویہ(پنجابی) 1967
پردے میں روہنے دو (اردو) 1968
دیا اور طوفان(اردو) 1969
ہیر رانجھا (پنجابی) 1970
دل اور دنیا (اردو) 1971
بہارو پھول برساؤ (اردو) 1972
بنارسی ٹھگ (پنجابی) 1973
جیرا بلیڈ (پنجابی) 1973
خوشیہ (پنجابی) 1973

رنگیلا اور منور ظریف کی جوڑی کی کامیاب فلمیں (پنجابی / اردو) 1973
اج دا مہینوال (پنجابی) 1973
ضدی (پنجابی) 1973
منجھی کتھے ڈانواں (پنجابی) 1974
نوکر ووہٹی دا (پنجابی) 1974
ہسدے آؤ ہسدے جاؤ (پنجابی) 1974
زینت (اردو) 1975
شیڈاپسٹل (پنجابی) 1975
شوکاں میلے دی (پنجابی) 1975
شریف بدمعاش (پنجابی) 1975
حکم دا غلام (پنجابی) 1976
چترا تے شیرا (پنجابی) 1976
جانو کپاتی (پنجابی) 1976

یہ بھی پڑھیں

اے این پی، قومی تحریک کا تسلسل

تحریر:مولانا خانزیب دنیا کی معلوم تاریخ میں پختونوں کی پہلی قومی تحریک جس نے اس …

%d bloggers like this: