قوم پرست افغان نجیب جان زندہ رہے گا

تحریر: عبدالرؤف یوسفزئی

آج افغان قوم نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ نجیب جان کبھی مرا نہیں بلکہ ان کی تعلیمات، سیاست اور پشتون ملت کے لئے ان کی خدمات، کام اور قربانی تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ محفوظ رہیں گے

بادشاہ ظاہر شاہ کے بعد افغان قوم اگر کسی ایک شخصیت پر متفق ہوئی تھی تو وہ صرف ڈاکٹر نجیب اللہ ہی تھے۔ ڈاکٹر نجیب کو افغان طالبان نے ستائیس ستمبر انیس سو چھیانوے کو کابل کے اقوام متحدہ کے کمپاونڈ میں قتل کر دیا تھا۔ ڈاکٹر نجیب نے اقوام متحدہ کے کمپاونڈ میں اس لئے پناہ لے رکھی تھی کیونکہ ان کو علم تھا کہ امن کی نشانی سمجھی جانے والی اس عمارت کے اندر کوئی انسان ان کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
افغان طالبان جن کو روز اول سے باہر کی اقوام کی تائید حاصل تھی اور ان کے لئے یہ بات ان کی سمجھ سے بالاتر تھی کہ ان کو مذہب کے نام پر چند قوتیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف اکسار رہی ہیں۔


سابق جنگجو گلبدین حکمتیار، جن پر افغان وطن کو ملیامیٹ کرنے کے شدید قسم کے الزامات ہیں، نے کل سوشل میڈیا پر وائرل اپنے ایک پغام میں اپنے پیروکاروں کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ نجیب کی برسی منانے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جائے گی اور اپنے ہم جماعتوں کو کہا کہ اس علاقے اور ارگ کا محاصرہ کر کے اپنا احتجاج رجسٹر کریں۔ دوسری طرف آج وہ لوگ جو ڈاکٹر نجیب کو دھرتی کا بیٹا اور ہیرو مانتے ہیں کابل کی سڑکو ں پر ڈنڈوں سمیت نکل آئے اور ویڈیو پیغامات میں حکمتیار کو للکارتے ہوئے کہا کہ کہاں ہیں تیرے وہ پیروکار؟


ڈاکٹر نجیب کی شہادت کو دو دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن کابل کو اجاڑنے والے گلبدین کا کلیجہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے کے بعد مقامی امن پسند عوام یہی سمجھے تھے کہ اب تو ملک ترقی اور خوشحالی کے سفر پر گامزن ہو گا کیوںکہ جمہوری عمل ہی میں عدم تشدد اور محبت پوشیدہ ہے۔


ڈاکٹر نجیب نے کابل سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کی تھی مگر حالات نے ان کو ایک دن بھی پریکٹس کرنے نہیں دیا۔ ان دنوں میں پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی آف افغانستان کے دو دھڑوں پرچم اور خلق کے مابین نظریاتی تصادم تھا جو بعد میں خون ریزی میں تبدیل ہوگیا۔ ڈاکٹر نجیب پرچم جماعت کے کرتا دھرتاؤں میں سے تھے۔ ان کو دو دفعہ جیل بھی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر نجیب کو ایران میں افغان سفیر بھی مقرر کیا گیا تھا مگر چند ہی ماہ میں ان کو دوبارہ اس بہانے فارغ کیا گیا کہ نجیب کابل حکومت کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں۔ اس کے بعد وہ یورپ میں جلاوطن ہوگئے اور جب دوبارہ پرچم کی حکومت آ گئی تو نجیب واپس کابل پہنچ گئے۔
اس دوران وہ مختلف عہدوں پر فائز رہے کیونکہ ان کی حب الوطنی اور وطن پر مرمٹنے پر تو کسی کو بھی شک نہیں تھا۔ اگر تھا بھی تو صرف طالبان اور گلبدین کو تھا، ان دونوں گروہوں کو تو ان کی مسلمانی پر بھی شک تھا۔ اگرچہ ڈاکٹر نجیب نے کئی دفعہ حالات کو بگاڑنے والے لوگوں کو امن کے پیغامات بھی بھیج دیئے تھے مگر اصل مسئلہ تو جنگجو کے لئے امن کے دنوں میں زندگی گزارنا ہوتا ہے اور یہی ہوا آج یہ جنگ پسند جن شرائط پر راضی ہو رہے ہیں اگر ڈاکٹر نجیب کے ساتھ بیٹھتے تو آج پچیس سال بعد افغانستان بھی بنگلہ دیش کی طرح ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہوتا۔ لیکن غیروں کی بے جا مداخلت اور اپنوں ہی کی بے وفائیوں کی وجہ سے افغانستان آج بھی امن کے لئے تگ و دو کر رہا ہے اور افغان عوام امن و آشتی کے لئے ترس رہے ہیں۔


اشتراکی افواج کے انخلاء کے بعد سے ڈاکٹر نجیب کی پناہ تک انھوں نے زور صرف اور صرف باعزت، خودمختار اور اپنی پالیسیز خود بنانے والے افغانستان پر دیا تھا۔ ان کی کوشش یہی تھی کہ ایک پرامن افغانستان اس خطہ کی تجارت، اکانومی میں اپنا کلیدی کردار بخوبی ادا کر سکے۔
ستم گر ستمبر میں جب طالبان نے ڈاکٹر نجیب اللہ اور اس کے بھائی کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی اس دن کے بعد بندوق کے زور پر قبضہ گروپ نہ تو افغانستان میں امن لا سکے اور نہ خوشحالی۔ بشردوست، قوم پرست اور امن پسند افراد اور جماعتیں پچیس سال بعد بھی نجیب جان کی برسی کو زور و شور سے مناتے ہیں۔


خان عبدالولی خان اپنی تقاریر میں ڈاکٹر نجیب کو نجیب جان کہہ کر پکارتے تھے۔ ان دنوں میں خان عبدالولی خان پر ڈاکٹر نجیب کی شہادت کا گہرا اثر ہوا تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے پشاور کے سپین جماعت میں تین روز کے لئے فاتحہ خوانی کا انتظام بھی کیا تھا۔ چونکہ ڈاکٹر نجیب اللہ ایک خوددار پشتون تھے اس لئے اے این پی نے ان کو بعد از مرگ بھی اپنا لیا تھا اور ان کی شہادت پر شدید احتجاج بھی کیا تھا۔
زندہ قومیں اپنے ہیروز کے دنوں کو بھر پور انداز میں مناتیں ہیں اور یہی افغانستان کے عام عوام نے بھی کیا۔ آج انھوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ نجیب جان کبھی مرا نہیں بلکہ ان کی تعلیمات، سیاست اور پشتون ملت کے لئے ان کی خدمات، کام اور قربانی تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ محفوظ رہیں گے۔ باقی تاریکیوں سے محبت کرنے والوں کی قبریں بھی پھر کسی کو معلوم نہیں ہوتیں اور حتٰی کہ اپنے رشتہ دار بھی ان کی نشانیوں کو سمندر میں پھینکنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ نجیب حق تھے باقی باطل!

یہ بھی پڑھیں

تاریخی اور ثقافتی شہر تخت بھائی میں مسائل کے انبار‘منتخب نمائندے غائب – تحریر: مسلم صابر

تخت بھائی ایک تاریخی اور ثقافتی شہر ہے لیکن بدقسمتی سے وہ ترقی نہیں کی …

%d bloggers like this: