تور غر میں گرلز ہائر سیکنڈری سکول نہ کالج‘طالبات تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور – تحریر: انورزیب

تحریر: انورزیب

تعلیمی ایمرجنسی کا دعویٰ کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی علاقے میں لڑکیوں کیلئے سکولز اور کالجز بنانے میں ناکام رہی

خیبر پختونخوا کے پسماندہ اور دورافتادہ ضلع تورغر میں لڑکیوں کیلئے ہائر سیکنڈری سکول ہے نہ کالج‘ تعلیمی ایمرجنسی کا دعویٰ کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی علاقے میں لڑکیوں کیلئے سکولز اور کالجز بنانے میں ناکام رہی‘مشکل سے میٹرک تک پڑھنے کے بعد طالبات تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہیں ‘ گزشتہ 7سالہ دور میں پی ٹی آئی کی حکومت اس پسماندہ ضلع میں مشکل سے لڑکیوں کیلئے ایک ہائی سکول بناسکی لیکن خواتین کیلئے کالج یا ہائیر سیکنڈری سکول تاحال حکومت کے منصوبوں میں شامل نہیں‘بائسو حسن زئی سے تعلق رکھنے والے طالبعلم اور نوجوان سماجی کارکن طارق لطیف کا کہنا ہے کہ کالج تو درکنار پورے ضلع میں لڑکیوں کیلئے صرف دو مڈل سکولز اور ایک ہائی سکول ہے جہاں پر سہولیات کا فقدان ہے‘ پہاڑی علاقے ہونے کے باعث اکثر والدین اپنی بچیوں کو دراز علاقوں میں پڑھنے کیلئے نہیں بھجواتے

ان کا کہنا ہے کہ تورغر میں خواتین کیلئے تعلیم کے مواقع انتہائی کم ہونے کی وجوہات میں ایک یہاں کے قبائلی روایات بھی ہیں زیادہ تر لوگ بچیوں کی تعلیم کو قبائلی روایات کے خلاف سمجھتے ہیں اگر ایسا نہ تو علاقے کے لوگ اپنے منتخب نمائندوں اور حکومت سے لڑکیوں کیلئے سکولز بنانے کا مطالبہ ضرور کرتے ‘ 2011 میں ضلع کی حیثیت حاصل کرنیوالا علاقہ تور غر کی آبادی تقریبا ًایک لاکھ 70 ہزار نفوس پر مشتمل ہے جس میں86 ہزار مرد اور 85 ہزار خواتین شامل ہیں لیکن خواتین کیلئے پورے ضلع میں میٹرک کے بعد پڑھنے کی سہولت میسر نہیں جبکہ پسماندہ ضلع میں لڑکیوں کیلئے مڈل اور پرائمری سکولوں کی بھی شدید کمی ہے ‘گھر سے دوری اور دشوار گزار راستوں کے باعث زیادہ تر طالبات پرائمری کے بعد تعلیم چھوڑنے کو ترجیح دیتی ہیں

محکمہ تعلیم خیبر پختونخواکی سنسز رپورٹ 2018 کے مطابق تورغر کے مڈل سکولوں میں مجموعی طور پر 262طالبات زیر تعلیم تھیں جن میں 159سرکاری اور تین نجی سکولوں کی طالبات شامل تھیں ‘رپورٹ کے مطابق تور غر میں لڑکیوں کے 61 پرائمری گرلز پرائمری اسکولز ہیںتاہم ان میں بھی سات سکول ایسے ہیں جنکی عمارتیں نہیں ہیں‘ایک سکول کرایہ کی عمارت میں اور چھ سکول عطیہ کی گئیں عمارتوں میں قائم ہیں‘تورغر سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی لائق محمد خان کہتے ہیں کہ حکومت نے نو سال پہلے علاقے کو باقاعدہ ضلع کا درجہ تو دیدیا لیکن تعلیم کیلئے کچھ بھی نہیں کیا

ضلع میں لڑکیوں کیلئے تو درکنار لڑکوں کیلئے بھی کوئی کالج نہیں سب لڑکے ثانوی تعلیم سیکنڈری سکولوں میں حاصل کرنے پر مجبور ہیں ‘ انکا مزید کہنا کہ انہوں مشکل سے ضلع میں لڑکوں کیلئے کالج کی تعمیر کیلئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے منظوری لی ہے جس پر جلدکام شروع ہوجائے گا‘لائق محمد کہتے کہ یہ تو وزیر اعلیٰ کی مہربانی تھی کہ انہوں نے ایک کالج اور چار سکولوں کی منظوری دی ورنہ وزیر تعلیم تو ان مسائل کو مسائل ہی نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی بات کرتے ہیں ‘تورغر میں لڑکیوں کی تعلیم کی انتہائی خراب صورتحال کے بارے میں کوششوں کے باوجود وزیر تعلیم شہرام ترکئی نے کوئی موقف نہیں دیا ‘سماجی کارکن طارق کہتے ہیں کہ تورغر جیسے قبائلی علاقے میں مخلوط تعلیم کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اسلئے حکومت کو یہاں ایمرجنسی بنیادوں پر سکولز اور کالجز کی تعمیر پر توجہ دینی چاہئے کیونکہ کہ لڑکیوں کی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے یہاں زیادہ تر آسامیوں پر باہر سے لوگ بھرتی ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

باچا خان، ایک سوچ اور تحریک

تحریر:روخان یوسف زئی باچا خان ایک تصوراتی رہبر اور فلسفی نہیں تھے جو اپنے پیچھے …