تصویری آلودگی ۔ تحریر:عظمیٰ دیان

مخلوق خدا کی خدمت کسی بھی شکل میں ہو تصویر کے بغیر ممکن نہیں، اس عظیم شخصیت، جو فرماتے ہیں ”صدقہ اس طرح کرو کہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے” کے پیروکاروں کا کوئی عمل تشہیر سے خالی نہیں رہا

ریاکاری اور خودپسندی۔ دو ایسی منفی صفات جو آج کل ہمارے معاشرے کا خاصہ بنتی جا رہی ہیں۔ دنیاوی معاملات ہوں یا دینی ہر کام ہر عمل سے دوسروں کو باخبر رکھا جاتا ہے، دوسروں کو بتایا جاتا ہے ہم کیا کر رہے ہیں۔ آج کے معاشرے کو تشہیر کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی وجہ سے لوگ تشہیر کی زد میں آگئے ہیں۔ مخلوق خدا کی خدمت کسی بھی شکل میں ہو، تصویر کے بغیر ممکن نہیں۔ اس عظیم شخصیت، جو فرماتے ہیں ”صدقہ اس طرح کرو کہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو” کے پیروکاروں کا کوئی عمل تشہیر سے خالی نہیں رہا۔


وزیراعظم اور صدر صاحب سے لے کر گاؤں کے کونسلر، سرکاری افسران سے لے کر سماجی کارکن تک صدقہ وخیرات یا کوئی اور کار خیر کرتے ہوئے فوٹوسیشن ضرور کراتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ یہ تصاویر ملک کے تمام اخبارات کی زینت بھی بنتی ہیں تاکہ غریب مگر خوددار محنت کش کا جھکا ہوا سر مزید جھک جائے۔ بڑے بڑے عہدوں پر فائز لوگ، بڑے بڑے مخیر حضرات کسی کی محنت اور خودداری کو نہیں سراہتے بلکہ اپنی تشہیری تسکین کے لئے انہیں جھکاتے ضرور ہیں۔ روزانہ اخبارات میں اور سوشل میڈیا پر ایسی بہت سی ضرورت مند خواتین کو راشن کی قطار میں کسی غیر شخص کے گھر کے سامنے کھڑا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ خواتین کو یہ فائدہ رہتا ہے کہ وہ پردے میں ہوتی ہیں مگر مرد بیچارے تو پردہ بھی نہیں کر سکتے۔ ایسا لگتا ہے گر مخیر حضرات اور سماجی کارکنان کا لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور مدد کرنے کا رویہ اسی طرح رہا تو ہو سکتا ہے مرد بھی بہت جلد پردہ کرنے لگیں۔

ویسے کوویڈ ۔19 کے دوران ماسک کے استعمال نے لوگوں کا پردہ رکھا ہوا ہے۔ صرف سماجی کارکنان اور مخیر حضرات کی محفلوں میں نہیں پڑے بلکہ بڑے دفاتر سے لے کر چھوٹی سطح پر ہر جگہ یہی سلسلہ چل رہا ہے۔ ہم تصویرزدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے نفس کی تسکین کے لئے صرف ایک تصویر ہی کافی ہے۔ کسی دفتر یا تعلیمی ادارے میں میٹنگ ہوں، کوئی ٹریننگ ہو حتی کہ معمولات کے کام ہی کیوں نہ ہوں سب کچھ آخر میں گروپ فوٹو پر آ کر ختم ہو جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ سارا عمل، سارا سلسلہ اسی ایک فوٹو کے لئے ہی تھا جسے بعد میں اخبارات میں چھپوایا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر شیئر کیا جاتا ہے۔ کمنٹس حاصل کر کے خوش ہوا جاتا ہے۔ ان گروپ تصاویر میں کھڑے لوگوں میں سے یقیناً بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جو اس عمل کو ناپسند کرتے ہوں گے مگر ان کو بادل ناخواستہ کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہ بھی آلودگی کی قسم ہے جس کو Pictorial Pollution یا تصویری آلودگی کہا جا سکتا ہے۔ جس طرح فضائی آلودگی اور آلودگی کی مختلف اقسام انسان کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں اسی طرح یہ بھی انسان کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ جیسے بعض لوگ اس قسم کی تصاویر کو دیکھتے ہی بیزار ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ ذہن پر بوجھ کا باعث بنتی ہیں اور ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں ۔ تصویر بنوانے والا شخص ہی اس سے خوش ہوتا ہو گا باقیوں کے لئے یہ شاید ایک ذہنی بوجھ ہی ہو۔


کیا پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا اس لئے ہے کہ اس کے ذریعے لوگوں کی تضحیک کی جائے وہ بھی صدقات اور عطیات کے نام پر۔ کیا اس کا استعمال اس لئے عروج پر ہے کہ دوسروں کے ذہنوں پر بوجھ ڈالیں۔ وہ ذہن جو پہلے ہی بے روزگاری، غربت، مہنگائی اور اقرباپروری جیسے مسائل سے چور ہیں۔
اپنے آپ کی اس طرح کی تشہیر جس میں کسی نادار کی تضحیک ہو رہی ہو ریاکاری کی اعلی ترین قسم ہے جو ذہنی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے ہماری آدھی سے زیادہ آبادی اسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے۔


ریاکاری کی بنیاد اصل میں خود پسندی ہے۔ خود پسندی کے لئے نرگسیت اور Narcissism جیسے استعارے استعما ل ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انسان نے اپنی ایک قبیح عادت کو ایک بہت ہی خوبصورت پھول کا نام دیا ہے۔ ایک خوشبودار پھول سے تشبیہہ دی ہے۔ اپنی ایک بری عادت کے لئے ایک پھول کو بدنام کیا جاتا ہے۔ اس پھول کی خاصیت یہ ہے کہ نیچے کی جانب جھکا ہوا ہوتا ہے۔ اس جھکے ہوئے اندازکو انسان نے اس کی خودپسندی قرار دیا ہے۔ نیچے کے طرف جھکنا عاجزی کی علامت بھی تو ہے یوں اس پھول کو عاجزی سے بھی تعبیر کیا جا سکتا تھا۔ لیکن افسوس! انسان نے اس کو خود پسندی کیا اور خود پسند انسان کو Narcssist۔


میرے خیال میں خود پسندی کے لئے لفظ نرگسیت کا استعمال کرنا اس پھول کی توہین ہے۔ وہ پھول جو دنیا کو حسین بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے نہ کہ اس کو بگاڑنے میں۔ ریاکاری کی بنیاد تو خود پسندی ہے۔ سوال یہ ہے کہ خود پسندی کیسے پیدا ہوتی ہے؟ دیکھا جائے تو آج کل والدین ہی بچوں کو خود پسند بنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔اس سلسلے کی کڑی بھی تصویر کشی سے جا ملتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی کیمروں اور تصویروں کی زد میں آ جاتا ہے۔ کھانا کھانا شروع کر دیتا ہے تو تصویر، پانی پیتا ہے تو تصویر، کہیں جاتا ہے تصویر، غرض بچہ بیچارا اپنی فطرت پر جو بھی کام کرتا ہے، جو وہ کرے گا اس کو مشتہر کیا جاتا ہے۔

داد وصول کی جاتی ہے۔ یوں بچہ آہستہ آہستہ احساس کی دہلیز پر خود پسندی سے لبریز قدم رکھنے لگتا ہے۔ اس معصوم کو کیا پتہ کہ وہ جو کر رہا ہے، دو ہزار لوگوں کے لئے کر رہا ہے نہ کہ اپنے آپ کے لئے۔ مائیں یہ فریضہ سرانجام دینے میں خصوصی طور پر آگے ہوتی ہیں۔ بچے کے کپڑے، کھلونے حتی کہ خوراک کو مقابلہ بازی کی صورت میں مشتہر کیا جاتا ہے اور یوں بچہ ابتدا ہی سے مقابلہ بازی کی صفت لے کر معاشرے کا حصہ بننے لگتا ہے۔ اسی مقابلہ بازی جیسی منصفی صفت کے ساتھ بچہ سکول میں قدم رکھتا ہے جہاں اس کا مقصد سیکھنا نہیں بلکہ دوسروں سے آگے جانا ہوتا ہے۔ دوسروں سے زیادہ نمبر لینا ہوتا ہے، جہاں مقابلہ بازی ہو گی وہاں حسد، کینہ اور بغض بھی ہو گا۔ وہاں تکبر بھی ہو گا۔ یہ سارے منفی روحانی امراض کسی بھی معاشرے کے لئے زہر قاتل ہیں۔


بنیاد کیا تھی؟ ریاکاری اور خود پسندی جس سے مقابلہ بازی، حسد اور غرور جیسی منفی صفات نے جنم لیا۔ اسی لئے اللہ تعالی نے ریاکاری سے منع فرمایا ہے اور خود پسندی کو ایک قبیح عمل قرار دیا ہے۔ حدیث پاک ہے ”اللہ تعالی کو متقی اور گمنام لوگ پسند ہیں” اللہ کو شہرت کی خواہش والے لوگ پسند نہیں، اس لئے فرماتے ہیں، ”جو لوگ دنیا میں شہرت کا لباس پہنیں گے، قیامت کے دن ان کو ذلت کا لباس پہنایا جائے گا۔”
دوسروں کی مد د کریں مگر دل دے کر، یہ مدد ان کے لئے ہو نہ کہ دنیا کے لئے، ان کی خودداری میں اضافے کا باعث بنیں نہ کہ گردن جھکانے میں، اس کا صلہ آپ کو ضرور ملے گا سکون اور اطمینان کی صورت میں اور سکون اور اطمینان عظیم نعمتیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بابا عبدالرحمان، ایک آفاقی شاعر

تحریر: نورالامین یوسفزے ہمارے بابا نے سینکڑوں سال پہلے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم …

%d bloggers like this: