موجودہ حالات اور عوامی نیشنل پارٹی کے مطالبات – تحریر: شہباز ڈیسک

عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس10 اکتوبر 2020 کو کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں ملک، خطے اور عالمی سطح پر جاری حالات خصوصاً ملک کے اندرونی معاملات کا تفصیلاً جائزہ لیا گیا، ملک کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر اس جائزے کی روشنی میں پارٹی نے جو مطالبات پیش کئے ہیں انہیں ملک کو مسائل سے نکالنے اور ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کی ایک اور پیشکش قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ مطالبات کیا ہیں، ملاحظہ کیجیے۔

عوامی نیشنل پارٹی ملک میں آئین و پارلیمان کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور آئین و پارلیمان کی بالادستی کو یقینی بنانے کیلئے ایک تاریخ ساز جدوجہد کی حامل سیاسی تحریک ہے لہذا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ملک میں ماورائے آئین اقدامات اور پارلیمان کے وقار کو مجروح کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ اجلاس یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ ملک کے اندر مختلف ادارے آئین میں درج دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اپنا کردار جار ی رکھیں، دائرہ اختیار سے تجاوز نے ملک کو بین الاقوامی سطح پر بدنام اور کمزور کر دیا ہے، آئین سے روگردانی سے گریز کیا جائے۔اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں پاک افغان آمد ورفت اور تجارت کے تمام راستوں کو فی الفور اور مستقل طور پر کھول دیا جائے۔

اس اقدام سے نہ صرف پاکستان کے تجارتی حجم میں اضافہ ہو گا بلکہ لاکھوں لوگوں کو تجارت اور روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے، دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے گی خصوصاً پشتون بیلٹ وسطی ایشیاء اور باقی دنیا کے ساتھ سڑکوں کے ذریعے منسلک ہو جائے گا، پشتون بیلٹ تجارت کا عالمی مرکز بن جائے گا اور یوں معاشی اور سماجی طور پر ملک ترقی کرے گا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ دسویں این ایف سی ایوارڈ کے اجرا میں تاخیری حربے آئین کی پامالی، صوبوں کے مالی حصوں سے انکار کے مترادف ہے۔اے این پی یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ ضم اضلاع کیلئے این ایف سی ایوارڈ میں3 فیصد اضافی حصہ میں مزید تاخیر پشتون دشمنی پر مبنی ہے۔

نئے ضم اضلاع کیلئے اعلان کردہ سالانہ پیکج میں تاخیری حربوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ عمل ضم اضلاع کے پشتونوں کے ساتھ زیادتی ہے اور یہ عمل حکومت کی جانب سے پشتون دشمنی پر مبنی ہے۔ اے این پی اس عمل کی پرزور مذمت کرتی ہے اور ہر فورم پر اس کیلئے آواز اٹھاتی رہے گی۔عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم ملک کی مضبوطی، سلامتی اور صوبوں کے حقوق کی ضامن ہے لہٰذا اسے چھیڑنا ریاست پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ صدارتی نظام کی افواہیں پھیلانے والے تاریخ سے سبق سیکھیں۔ ایک صدارتی نظام میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی شکل میں نظر آ رہا ہے۔ اس ملک کا وفاقی پارلیمانی نظام مملکت پاکستان کی سالمیت اور مضبوطی کا ضامن ہے۔ اے این پی صدارتی نظام کیلئے راہ ہموار کرنے والی سلیکٹڈ حکومت کے اس عمل کی بھرپور مزاحمت کرے گی۔اے این پی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ ملک میں بالعموم اور پشتون خطے میں بالخصوص ابھرتی ہوئی دہشتگردی، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، دہشتگرد تنظیموں کے دوبارہ منظم ہونے اور بدامنی کو روکنے کیلئے زمینی حقائق کے مطابق سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ عوامی نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ اے این پی بلوچستان کے ترجمان اسد اچکزئی گذشتہ10 دنوں سے لاپتہ ہے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کیلئے جلدازجلد سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں۔ ہر شہری کے سر و مال کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اس قسم کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے عوام کا ریاست پر اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ ملک میں لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ملک کے طول و عرض میں لاپتہ افراد کے لواحقین صبح و شام احتجاجوں پر مجبور ہیں اور صاحب اقتدار خاموش تماشائی بن بیٹھے ہیں اور اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر فوری عمل کیا جائے۔ کئی سالوں سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے عوام کو نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔اے این پی اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ حکومت کی جانب سے صوبوں کو آئینی حقوق اور مرکز کے ذمہ واجبات کی ادائیگی میں تاخیر دشمنی کے مترادف اور آئین کی خلاف ورزی ہے اور اس عمل سے چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے جس سے ملک کمزور ہونے کا خدشہ ہے لہٰذا اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ ملک کی مضبوطی کیلئے تمام صوبوں کو آئینی حقوق اور واجبات کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا مغربی روٹ ملک کی ترقی کیلئے گیم چینجر کے مترادف ہے لیکن مغربی روٹ کو نظرانداز کر کے اس عمل سے پاکستان کے وسائل سے مالا مال تین صوبوں کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مغربی روٹ پر فوری اور ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے۔اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا کے نئے ضم اضلاع کے مالی اور انتظامی اختیارات فوری طور پر سول انتطامیہ کے سپرد کئے جائیں تاکہ انضمام کے ثمرات وہاں کے غیور پشتونوں کو ملنا شروع ہو جائیں اور یہ علاقے بھی ملک کے باقی ترقی یافتہ علاقوں کے برابر آ سکیں۔

اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ پختونخوا اور بلوچستان میں تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کے املاک کو محصور رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ان شعبہ جات اور بالخصوص تعلیم و صحت کی سرگرمیاں معطل ہیں جس سے عوام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ اجلاس مطالبہ کرتی ہے کہ انہیں فوری طور پر واگذار کر کے متعلقہ شعبہ جات/محکموں کے حوالے کیا جائے۔اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ ملک میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر فوری طور پر کرائے جائیں۔ پارٹی یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ یہ ایک آئینی تقاضا ہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے بعد سیاسی ،مالی اور انتظامی اختیارات منتقل کئے جائیں۔اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ ملک و قوم کے عظیم تر مفاد میں پڑوسی ممالک کے ساتھ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو بحال و مضبوط کئے جائیں۔ خارجہ پالیسی آزاد، خودمختار اور ملکی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے بنائی جائے اور خصوصاً پڑوسی ممالک کے ساتھ حکومتی، سفارتی، ریاستی، تجارتی اور عوامی روابط کو استوار و مضبوط کیا جائے۔

عوامی نیشنل پارٹی2017 کی مردم شماری کو مسترد کر چکی ہے، اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ پورے پاکستان اور بالخصوص پشتون علاقوں میں جعلی مردم شماری پر اے این پی کو تحفظات ہیں اور رہیں گے، شفاف اور حقائق پر مبنی مردم شماری کرائی جائے تاکہ تمام صوبوں میں کسی کی بھی حق تلفی نہ ہو۔اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق اظہار رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ملک میں ایک عرصے سے دوسرے شعبوں کی طرح آزاد صحافت کا راستہ روکنا، صحافیوں کو گرفتار کرنا، اغوا کرنا، دھمکیاں دینا، مقدمے بنانا اور اظہار رائے کی آزادی کو قید کرنے کا عمل جاری ہے جو کہ ملک کی بدنامی اور کمزوری کا سبب بن رہا ہے۔

مزید یہ کہ سوشل میڈیا پر پابندی لگانے پر بھی قومی خزانہ خرچ کیا جا رہا ہے جو کہ آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ ان مذموم عزائم اور اقدامات کو فوری طور پر بند کیا جائے، موجودہ سلیکٹڈ حکومت ان اوچھے ہتھکنڈوں سے اظہار رائے پر پابندی لگانے میں بری طرح ناکام رہے گی۔عرصہ دراز سے پنجاب سے شکایتیں آ رہی ہیں، وہاں پشتونوں کے ساتھ جو رویہ روا رکھا جا رہا ہے وہ قابل مذمت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ عمل ملک کیلئے تباہ کن حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ ہم پنجاب حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ پشتونوں کے ساتھ یہ ناروا سلوک بند کیا جائے۔ عوامی نیشنل پارٹی اس کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی و صوبائی شاہراہوں اور ان شاہراہوں پر چیک پوسٹوں پر شہریوں کے ساتھ ذلت آمیز رویہ ختم کیا جائے اور ان شاہراہوں سے یہ چیک پوسٹیں فوری طور پر ختم کی جائیں۔ اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں کا غیرپنجابی قومیتوں کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ناروا سلوک قابل افسوس ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ عمل فوری طور پر روک دیا جائے۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سابقہ فاٹا کے طلبہ و طالبات کیلئے مختص تعلیمی نشستیں بھی برقرار رکھی جائیں۔اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ نیب کا قانون ایک آمر کا بنایا ہوا قانون ہے جو سیاسی انتقام اور سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئے استعمال ہوتا چلا آ رہا ہے لہٰذا ملک میں بلاامتیاز احتساب کو یقینی بنانے کیلئے قوانین کو انصاف پر مبنی اور نیب کو غیرجانبدار ادارے کی شکل دے دی جائے۔ملک میں جاری مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ یوٹیلیٹی بلز، دوائیاں اور حتی کہ انسانی ضرورت کی ہر چیز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، آج عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔ اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے عوام کو جینے کا حق دیا جائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عوام کی قوت خرید کے برابر لائی جائیں۔ریٹائرمنٹ کے بعد افسران کی دوبارہ تعیناتی دراصل نوجوانوں کے حق روزگار پر ڈاکہ ڈالنا ہے۔ تبدیلی سرکار نے نوجوانوں کو روزگار دینے کا جھانسہ دیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد نوجوانوں کو روزگار دینے کے سارے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔

یہ اجلاس مطالبہ کرتی ہے کہ ریٹائرڈ افراد کی دوبارہ تعیناتی کالعدم قرار دی جائے اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ان کی اہلیت کی بنیاد پر روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔عوامی نیشنل پارٹی یکساں نصاب تعلیم کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ آئین پاکستان اور بالخصوص اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ بن چکا ہے، مرکزی حکومت کی جانب سے مرکز میں تعلیم کے محکمے کا وجود اور فیصلے آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے لہذا آئین کے مطابق صوبوں کو اپنے اختیار استعمال کرنے کے حق سے روکنا ملک کی کمزوری کا باعث بنے گا۔پی ڈی ایم کے وجود میں آنے کے بعد سلیکٹڈ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ وزیراعظم اور وزراء کے میڈیا پر آئے روز دھمکی آمیز بیانات نے ان کی اصلیت اور اس بوکھلاہٹ کو ظاہر کر دیا ہے اور ملک کے طول و عرض میں حکومت سرکاری مشینری کے ذریعے ہارس ٹریڈنگ کی ناکام کوشش میں مصروف ہے۔

اے این پی سلیکٹڈ حکومت کی ان غیرجمہوری، غیرمہذب اور غیراخلاقی حرکتوں کی مذمت کرتی ہے اور حکومت کو تنبیہ کرتی ہے کہ ان اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آجائے۔ ان مہروں کے مذموم عزائم اور طریقہ واردات سے پی ڈی ایم کو دبایا اور کمزور نہیں کیا جا سکتا۔بلوچستان میں ڈی ایچ اے کے نام پر عوامی کی آبائی زمینوں کو چھیننا اور قبضہ کرنا آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ لہذا عوامی نیشنل پارٹی پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ ان اقدامات سے گریز کیا جائے۔ اے این پی اس عمل کی پرزور مذمت کرتی ہے اور ہر فورم پر اس غیرآئینی اور غیرقانونی اقدام کے خلاف آواز اٹھائے گی۔ملک بھر بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی معدنیات پر اداروں کا قبضہ اور عوام کو بے دخل کرنا غیرآئینی و غیرقانونی اقدام ہے جس کی عوامی نیشنل پارٹی پرزور مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس عمل کو فوری طور پر ترک کیا جائے۔ملک بھر کے اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیمی بحران شدید ترین ہوتا جا رہا ہے۔ اعلی تعلیمی اداروں کو مالی طور پر دیوالیہ بنانے، انتظامی مسائل پیدا کرنے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی اس تعلیمی دہشتگردی، غیرآئینی اور غیرانسانی اقدامات کی مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ان مسائل کو جنگی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

روایتی مزدہ بسوں سے جدید ہائبرڈ بسوں تک کا سفر

تحریر: طارق اللہ ٹرک آرٹ ، گھونگھروں اور پھولوں سے سجھی لگ بھگ 50 سال …

%d bloggers like this: