ناز و انا،تبدیلی سرکار اور خیبرپختونخوا کا محکمہ آرکیالوجی – شہباز ڈیسک

نازو انا کون ہے؟میرے بہت سے قارئین شاید یہ نہیں جانتے اور یہ سوچتے ہونگے کہ کالم نگار کو کیوں نازو انا کے نام کا استعمال کرنا پڑا۔ اس سے پہلے کہ ہم خیبر پختونخوا کی نازو انا کی بات کریں،اُس کی زندگی پر آئیں،ضروری ہے کہ اُس سے پہلے اصل نازو انا کے حوالے سے بات کی جائے۔
قریبا 1700 ء میں سلطان ملخی توخی کی بیٹی نازو انا جو اپنے والد کی شہادت کے بعد افغانستان میں ریاست کے انتظامی امور کی نگہبان ہوئی،وہ بہادر رکن پارلیمنٹ تھی،اُس نے عورتوں کی حقوق،معاشرہ میں مساوی حیثیت اور تعلیم کی بات کی۔ناز وانا افغانستان کی سیاست میں حصہ لینے والی واحد خاتون تھی،جس نے 1700 میں کرپشن اور لا قانونیت کے خلاف جنگ لڑی۔افغانستان کی نازو انا نے پارلیمنٹ /جرگہ میں بنیادی انسانی حقوق کی وکالت کی اور بد عنوانی و لاقانونیت کے خلاف آواز اُٹھائی ،یہ وہ زمانہ تھا جب مغرب میں بھی خواتین کو جنسی حد تک اہمیت دی جاتی تھی ۔بدقسمتی سے ناز وانا کی شاعری پر کتابیں لکھی گئی لیکن اُس کی انسان دوستی اور بہادری کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ۔


خیبر پختونخوا کی ناز و انا نہ تو رکن پارلیمنٹ ہیں اور نہ ہی سیاستدان،لیکن یہ صنف نازک معصو م سا چہرہ خیبر پختونخوا کی آثار قدیمہ کیلئے جسطرح مضطرب اور سرگرداں تھی شاید ہی کوئی کڑیل نوجوان پریشان ہوا ہو۔نازو نے نہ صرف جذباتی انداز اپنایا بلکہ تمام باتوں اور اعتراضات کے مدلل ثبوت بھی فراہم کئے۔خیبرپختونخوا کے آثار قدیمہ کا درد رکھنے والی اس بے مثال دختر نے تمام اداروں کے سربراہوں اور مطلق العنان افراد کو تگنی کا ناچ نچایا۔ اس تنہا دوشیزہ نے یہ بات منا کر ہی دم لیا کہ آثار قدیمہ کی دیکھ بال بہت ضروری ہے۔یہ ہمارا سرمایہ ہے۔ہماری عزت ہے۔ اس خطے کی تاریخ ہے۔ناز وانا صرف ایک دوشیزہ کا نام نہیں بلکہ یہ آثار قدیمہ کی ایک ماہر ہے۔ اس فیلڈ میں اکثریت مردوں کی ہے اور ایک خاتون ہونے کے ناطے اس کی بات کون سنتا ؟ بلکہ اس کی ہر بات اور دلیل کو رد کیا گیا۔پختونخوا کی اس دختر کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا اور مختلف انداز میں ڈرایا اور دھمکایابھی گیا۔ سلام ہے اس نڈر نازو کو جس نے ہر بات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔بلکہ مخالفین اورموقع پرستوں کی چالوں سے اس کی سوچ اور ہمت میں مزید پختگی آئی۔پھر کیا تھا۔ ہر طرف افرا تفری پھیلی اور مفاد پرستوں کی تمام تر تعمیری سوچ بھی نازو کے خلاف استعمال ہونے لگی کہ کسی طرح آثار قدیمہ کی محبت کے سونامی کو روکا جائے۔میرٹ پر نازو نے محکمہ آثار قدیمہ میں ملازمت حاصل کی ۔

اپنی ڈھائی سالہ ملازمت کے دوران اُسے پشاور کے عجائب گھر میں بد عنوانی کے آثار نظر آئے۔آثار قدیمہ کی تلاش اور تاریخ کے ورق پڑھنے والی اس دوشیزہ نے اس بد عنوانی کی ابتداء کے بارے میں جاننے کی کوشش کی اور بلآخر اُسے اس گورکھ دھندے کا سرا مل ہی گیا ،پھر کیا تھا بد عنوان عناصر نے سر جھوڑ لئے اور اس دوشیزہ کی چنگل سے نکلنے کی تدبیریں کرنے لگے ۔دوسری جانب نازو کہاں خاموش بیٹھنے والی تھی اگر اُسے خاموش ہونا ہی تھا تو وہ اس خطرناک صحرا میں طبع آزمائی ہی کیوں کرتی۔اس نے قانون کا سہارا لیتے ہوئے اس بد عنوانی کی اطلاع اینٹی کرپشن کو دی۔عشق اور مشک چپھائے نہیں چھپتے ،نازو کو اپنے خطے کی آثار قدیمہ سے عشق تھا لہذا یہ خبر پاکستان کی سرحدوں سے نکل کر دیار غیر جا پہنچی ۔اس دنیا میں سچے لوگوں کی بھی کمی نہیں ،اسی لئے نازو کے بھی ہمدرد میدان میں کھود پڑے ،موقع کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے اینٹی کرپشن یونٹ کو اس بد عنوانی میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرنی پڑی ۔بات دو چار لاکھ روپوں کی نہیں ،پشاور کے تاریخی عجائب گھر سے چوری ہونے والے قیمتی نوادرات اور پرانے راجا مہا راجوں اور بدھ مت کے دور کے سکوں کی تھی۔تحقیقات کا آغاز ہوتے ہی محکمہ میں موجود بد عنوان عناصر نے نازو کو ملازمت سے رخصت کر دیا ۔اس کا نتیجہ بھی نازو کے مفاد میں نکلا اور وہ رکاوٹ اور مجبوری کی قید سے آزاد ہوگئی اب اُس کا سارا وقت اور توانائی اپنے مقصد پر مرکوز ہوگئی ۔اینٹی کرپشن یونٹ کی تحقیقا ت میں بڑے بڑے پردہ نشینوں اور شرفاء کے نام سامنے آئے تو مصلحتاً کچھ لوگوں کو بچانے کیلئے اینٹی کرپشن کے صوبائی ڈائیریکٹر ضیاء طورو کو ایک اور معاملے میں الجھا دیاگیا اور پشاور کے عجائب گھر سے چوری ہونے والے قیمتی نوادرات اور سکوں کا معاملہ سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔

نازو نے اس قسم کے پیش آنے والے تمام واقعات اور رکاوٹوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب تیز رفتاری کا مظاہرہ شروع کر دیا ۔حفظ ما تقدم کے تحت اُس نے پشاور کے عجائب گھر کی چوری سے لیکر اینٹی کرپشن کی تمام کاروائی کے بارے میں ہم خیال صحافیوں کو باخبر رکھا ۔پشاور کے عجائب گھر کے چوری کے معاملے کو بلا دیا گیا اور ضیاء طورو جس کو تحقیقات کا سامناتھا آج اُس کو کوئی نام لینے والا بھی نہیں ہے ۔اسی ناز وانا نے جب صوابی عزیز ڈھیرے کے مقام پر جاری غیر قانونی کھدائی کے عمل کے حوالے سے میڈیا کے کچھ لوگوں کو آگاہ کیا تو اُسی دن ہی اُس مقام پر کھدائی کا عمل روک دیا گیا،ناز وانا کو اگر نگہبان آرکیالوجی کا خطاب دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا،اسی طرح وال سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے صحافیوں کو اصل صورت حال واضح کرنے کا سہرہ بھی اسی ناز وانا کے سر پر ہے،لیکن دوسری طرف ہمارے بیوروکریٹس کے رویئے اگر ہم دیکھیں تو یہ سرکاری افسران جو عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والی رقم پر عیاشیاں کرتے ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک و قوم کی حفاظت کا حلف اُٹھایا ہوتا ہے ،نازوانا کو اینٹی کرپشن سے اپنی شکایت واپس لینے کی صورت میں بڑی بڑی پیشکشیں کی گئیں ۔لیکن نازوانا بھکنے اور جھکنے والی پختونخوا کی بیٹی تھی۔

نازوانا صرف ایک کردار کا نام ہے،اسی طرح ہزاروں کردارہیں جو کرپشن کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے قومی ادارے اس حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے جو کرپشن کی نشاندہی کرنے والوں کی سرپرستی کریں۔ویسے خیبر پختونخوا میں اس قسم کا ایک بل بھی پاس ہوچکا ہے جو کرپشن کی نشاندہی کرنے والوں کو نقد انعامات سے بھی نوازتی ہے لیکن ناز وانا نے جہاں جہاں کرپشن کی نشاندہی کی ہے کیا وہاں پر کوئی ایکشن لیا گیا ہے؟اگرخیبر پختونخوا سرکار واقعی ہی کرپشن کی روک تھام کیلئے سنجیدہ ہو تو پھر تو ضروری ہے کہ کرپشن کی نشاندہی پر ناز وانا کو بلاتی اور ثبوت طلب کرتی لیکن ایسا نہیں ہے،بلکہ جس ڈائریکٹر آرکیالوجی کے حوالے سے ناز وانا نے ثبوت فراہم کیے وہ نیب زدہ ہونے کے باوجود بھی آج تک اپنے عہدے پر براجمان ہے اور اس مہربانی کی کڑی اگر تلاش کی جائے تو موصوف وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے چہیتے ہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا کا محکمہ آثارقدیمہ اس بڑے بد عنوانی کے واقعے کے سامنے آنے کے بعد کسی وقت بھی زمیں بوس ہوسکتی ہے ۔ لیکن بات عجیب سی ہے کہ تمام ثبوت اور حقائق کا علم ہوتے بھی صوبائی حکومت خاموش ہے جس کی وجہ سے نازو انا نا امید اور بد عنوان عناصر کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ۔آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی ناز وانا کی کرپشن کے خلاف جرات مندانہ فیصلے میں جب ضیاء طورو کا نام آیا تو پانچ نام ایک ساتھ سوال بن کر کھڑے ہوئے ،خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا،کرپشن ،نیب زدہ ڈائریکٹر آرکیالوجی اور ضیاء طورو۔۔اب بات سوچنے کی یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔


نوٹ: محکمہ آرکیالوجی میں کام کرنے والی ناز وانا کا نام فرضی ہے،اسی ناز وانا کی درخواستوں کی وجہ سے چھ سال سے خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر آرکیالوجی کے عہدے پر بیٹھا ایکٹنگ ڈائریکٹر آرکیالوجی نیب کے شکنجے میں ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

صحت مند معاشرے کے قیام میں شجرکاری کی اہمیت

تحریر: ڈاکٹر وقار ربانی اگر درختوں کو کٹنے سے روکا جائے اور نئے درخت لگائے …