قاضی سلطان محمود، قد تین فٹ مگر حوصلہ پہاڑ سے بلند- انصار یوسفزئی

جب ضیاء جیسے آمر نے اپنی انا کی آڑ میں بھٹو صاحب جیسی طلسماتی و کرشماتی شخصیت کو پھانسی دی تو اس کے بعد قاضی صاحب ضیاء آمریت کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے آئے

”میجر صاحب! آپ لوگوں کا کام اس ملک کی سرحدوں اور اس کی عوام کی حفاظت کرنا ہے، آپ کیسے لوگ ہیں؟ آپ نے ایک ایسے شخص کو پھانسی دے دی جو آپ کے نوے ہزار فوجی بھارتی جیلوں سے واپس لے آیا تھا۔” یہ تاریخی اور یادگار الفاظ کسی یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، رحمان ملک، فیصل صالح حیات، مخدوم امین فہیم، آفتاب احمد خان شیرپاؤ، جہانگیر بدر، فاروق لغاری، اعتزاز احسن، نصر اللہ خٹک، خورشید حسن میر، شفقت محمود، شاہ محمود قریشی یا کسی اور دبنگ جیالے کے نہیں بلکہ یہ تاریخی، یادگار اور غصے سے بھرے الفاظ صرف تین فٹ قد کے مالک ایک بہادر صفت پیپلز پارٹی کے ورکر جناب قاضی سلطان محمود کے تھے۔

یہ تاریخی الفاظ قاضی صاحب نے ایک فوجی عدالت (جو ضیاء کی آمریت میں اس وقت  قائم کی گئی تھی جب بھٹو صاحب ضیاء کی انا کی وجہ سے پھانسی کے پھندے کے مہمان ہو چکے تھے) میں اس وقت کہے جب قاضی صاحب ضیاء کو جان سے مارنے کی سازش کیس میں ایک میجر، جو کہ اس وقت جج کی کرسی پر براجمان تھے، کے سامنے پیش کیے گئے۔ ان الفاظ سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ قاضی صاحب جو کہ قد کاٹھ میں بمشکل صرف3  فٹ کے تھے لیکن ہمت اور حوصلہ ان کا پہاڑ سے بھی بڑا اور بلند تھا۔ تب ہی جب ضیاء جیسے آمر نے اپنی انا کی آڑ میں بھٹو صاحب جیسی طلسماتی و کرشماتی شخصیت کو پھانسی دی تو اس کے بعد قاضی صاحب ضیاء آمریت کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے آئے۔

ان کو5  سال (1980سے1985  تک) صرف اس لیے لاہور کے شاہی قلعے میں قید رکھا گیا کہ ان پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے ڈکٹیٹر ضیاء کو جان سے مارنے کی قسم کھائی ہے۔ ہم اس تین فٹ قد کے مالک انسان کی بہادری اور شجاعت کی کہانی یہاں روکتے ہیں اور ان کا مختصر سا تعارف آپ سے کراتے ہیں۔

قاضی سلطان محمود 1949 کو راولپنڈی کے نواح میں پیدا ہوئے۔ قاضی صاحب ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد زمیندار اور ساتھ میں قریبی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ قاضی صاحب نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ مختلف ہوٹلز میں بطورِ ویٹر، دربان، ڈپٹی منیجر اور منیجر کی خدمات انجام دیتے رہے۔ بھٹو کی شخصیت سے متاثر ہو کر ملازمت کے ساتھ ساتھ  سیاست میں قدم رکھا اور پیپلز پارٹی جیسی جماعت کے ایک عام سیاسی ورکر کی حیثیت سے سیاست کا آغاز کیا۔ اپنے چھوٹے قد کاٹھ اور اپنی شجاعت کی وجہ سے قاضی صاحب نے بہت جلد بھٹو صاحب کا دل جیت لیا اور بھٹو صاحب کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں ان کا شمار ہونے لگا۔

آپ کو یہ جان کر شائد حیرانگی ہو گی کہ بھٹو صاحب نے صدر بنتے ہی جو پہلا حکم جاری کیا تھا وہ اسی تین فٹ انسان کے PTDC  ہوٹل میں بطور ڈپٹی منیجر تعیناتی کا حکم تھا۔ قاضی صاحب پیپلز پارٹی جیسی اعلی پائے کی جماعت میں مختلف اوقات میں مختلف عہدوں پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہے۔ وہ پیپلز پارٹی سیٹلائٹ ٹاؤن وارڈ راولپنڈی کے صدر، پارٹی کے راولپنڈی چیپٹر کے جنرل سیکرٹری اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دینے کا اعزاز رکھتے ہیں۔

2008 میں جب آصف علی زرداری صدرِ پاکستان بنے تو انہوں نے قاضی صاحب کو پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا ممبر بنا دیا جہاں یوسف رضا گیلانی، مخدوم امین فہیم اور راجہ پرویز اشرف جیسی شخصیات بیٹھی ہوتی تھیں۔ انہی میں قاضی صاحب بھی تشریف فرما ہوتے تھے۔ قاضی صاحب پیپلز پارٹی کی واحد شخصیت تھے اور ہیں جنہوں نے پارٹی کے پانچوں صدور بھٹو سے بلاول تک کے ساتھ کام کیا ہے۔ یہ عظیم اور ناقابل فراموش باب66  سال کی عمر میں10  دسمبر 2015 کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔

اب قاضی سلطان محمود کی بہادری کی طرف واپس آتے ہیں لیکن اس سے پہلے ہم اس غلاظت سے بھر پور اور بد بودار معاشرے کی حقیقی تصویر آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ موصوف کی پیدائش کے وقت سے وہ ایک نارمل انسان نہیں تھے اور ان کا قد عام انسانوں سے انتہائی کم تھا۔ ان کے نسبتاً چھوٹے قد کو لے کر ان کی فیملی والے بہت مغموم رہتے کہ آگے سلطان محمود کا کیا بنے گا؟ ان کی فیملی کو، خاص کر ان کی ماں کو ہر وقت یہ اندیشہ ہوتا کہ کیا اس چھوٹے قد کاٹھ کے ساتھ ہمارا یہ معاشرہ اس کے سلطان محمود کو قبول کرے گا یا نہیں؟ وہی ہوا جس کا ان کی ماں اور کی فیملی کو اندیشہ تھا، ہمارے اس غلیظ اور تعفن زدہ معاشرے نے قاضی صاحب کو ان کے تین فٹ قد کے ساتھ قبول کرنے سے  انکار کر دیا۔

ان کے رشتہ داروں اور گلی کوچوں کے لوگوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ لوگ ان کے قد کو لے کر قہقہے لگاتے اور بات بات پر جگت بازی کرتے۔ اسکول میں داخل ہوئے تو ان پر جگت بازی اور قہقہوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ جس طرح عام طور پر ہمارے تعلیمی اداروں میں معذور طالب علموں کے ساتھ شروع سے ہوتا آرہا ہے۔ آپ ویسٹ اور ایسٹ کے لوگوں کی ذہنی سطح میں تفاوت ملاحظہ کیجئے کہ نوکری کیلے قاضی سلطان محمود پاکستان میں جس پاکستانی مالک کے ہوٹل میں بھی گئے وہاں کے عملہ کے ساتھ ساتھ مالک نے بھی قاضی صاحب کو دیکھ کر ان پر قہقہے لگا کر ان کو وہاں سے نکال باہر کر دیا۔ لیکن بقول قاضی صاحب، وہ ایک ایسے ہوٹل میں بھی گئے جس کا مالک ایک اٹالین تھا، انہوں نے جب قاضی صاحب کو دیکھا تو احتراماً ان کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور جھک کر سلام کیا۔

یہ صرف اس لیے کہ قاضی صاحب معذور تھے اور ویسٹ کے باشندے معذور افراد کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں نہ کہ ہماری جیسی غلیظ نظروں سے۔ لب و لباب یہ کہ اس بے انصاف، منافقت، غلیظ، دو نمبر اور تعفن زدہ اور برائے نام معاشرے نے قاضی صاحب کے چھوٹے قد کی وجہ سے ان کی خوب درگت بنا کر رکھ دی تھی لیکن قاضی صاحب تھے کہ انہوں نے اس نام نہاد معاشرے کے نامراد لوگوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر رکھا اور اپنی بہادری اور شجاعت سے ان کو خوب جواب دیئے۔

قاضی صاحب کتنے بہادر انسان تھے اس کا اندازہ آپ آصف علی زرداری کے ان الفاظ سے لگا سکتے ہیں۔ ”ایک دفعہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے کسی نے آصف علی زرداری سے پوچھا کہ آپ جیل کی یہ سختیاں کیسے برداشت کرتے ہیں؟ جس کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ میں آج اگر جیل کی یہ سختیاں برداشت کر رہا ہوں تو اس کے پیچھے صرف اور صرف قاضی سلطان محمود ہیں، کیوں کہ انہوں نے3  فٹ قد کے ساتھ جیل کی سختی برداشت کر کے مجھے وہ توانائی فراہم کی ہے کہ آج میں یہ سختی برداشت کرنے کے قابل بنا ہوں۔” پارٹی کے ایک اعلی رہنماء کی جانب سے ایک عام سیاسی ورکر کے لئے یہ الفاظ کوئی عام سی بات نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قاضی صاحب نے تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پارٹی میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی تھی جو ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ہوتا۔ آج کی سیاست کا ماتم یہ ہے کہ یہ قاضی سلطان محمود جیسے سیاسی ورکر پیدا کرنے میں ناکام ہے۔

آج کے سیاسی ورکر صرف ذاتی مفادات کے تحفظ کے خواستگار ہوتے ہیں۔ آج ایک پارٹی میں تو کل دوسری پارٹی میں اپنے ذاتی مفاد تلاش کرتے نظر آئیں گے تو ایسے میں کوئی خاک قاضی سلطان محمود بن سکے گا؟ قاضی سلطان بننے کے لئے وفاداری کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ ایک ہی پارٹی میں رہ کر صعوبتیں برداشت کرنا ہوں گی۔ آج تک قاضی سلطان ایک ہی ہے اور وہ بہادر قاضی سلطان محمود ہی ہیں، سلام سلام، قاضی سلطان آپ کی بہادری اور شجاعت کو سلام! آج کل ہمیں آپ جیسے سیاسی ورکر کی ضرورت ہے جو، افسوس صد افسوس، ڈھونڈ ڈھونڈ کر بھی نہیں ملتے۔ آپ قبر کی مٹی بن چکے ہیں لیکن قاضی سلطان محمود! آپ اپنی بہادری اور شجاعت کی وجہ سے ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور رہیں گے۔ زندہ باد قاضی سلطان محمود کی جدوجہد زندہ باد

یہ بھی پڑھیں

شہنشاہ الفتفات اور مزاح کے بادشاہ، منور ظریف کی یاد میں

تحریر: مدثر زیب اپنی اداکاری سے لوگوں کو ہنسانا ایک مشکل کام ہے۔ اکثر مزاحیہ …