بابا عبدالرحمان، ایک آفاقی شاعر

تحریر: نورالامین یوسفزے

ہمارے بابا نے سینکڑوں سال پہلے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ہمہ گیر پیغام دیا تھا، دیوان رحمان انسان دوستی کے آفاقی پیغام سے بھرا ہوا ہے

دیوان رحمان (1042ھ تا 1122ھ) کا ایک ایک لفظ اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا شاعر ہر طرح کے ہوس، لالچ، بغض، حسد، کینہ پروری اور ریاکاری سے پاک، محبت، صداقت ، عرفان اور حق پرستی کے اعلیٰ انسانی اور آفاقی اقدار کا مجسم پیکر تھا

آج ہم انسانی تاریخ کے ایک ایسے کردار پر بات کرنے کی جرات کر رہے ہیں جو کہ نہ صرف اس وقت تک پشتون قوم میں سب سے مقبول شاعر ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے تمام ہم عصر شعرائ، صلحاء سمیت دور جدید کے تمام محققین اُ ن کو اپنے دور کا ایک صوفی باعمل قرار دے چکے ہیں۔ دیوان رحمان (1042ھ تا 1122ھ) کا ایک ایک لفظ اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا شاعر ہر طرح کے ہوس، لالچ، بغض، حسد، کینہ پروری اور ریاکاری سے پاک، محبت، صداقت ، عرفان اور حق پرستی کے اعلیٰ انسانی اور آفاقی اقدار کا مجسم پیکر تھا۔


بابا کا کلام پشتون سماج کے دو بنیادی سماجی اداروں، حجرہ اور مسجد میں یکساں مقبول ہے۔ اگر ایک طرف حجرہ میں پشتون نوجوان بابا کے جذبہ عشق سے لبریز گیت گھڑے اور ستارے کے ساتھ گا کر اپنی محافل کو عشق کی گرمی اور حرارت دیتے ہیں تو دوسری طرف ہمارے علماء اور خطباء جب ممبر پر اپنی کسی بات پر صداقت کا جانانہ مہر لگاتے ہیں تو حوالے کے طور پر دیوان رحمان سے کسی نہ کسی بیت کا حوالہ دے دیتے ہیں، یہاں تک کہ سوات کی ایک روحانی شخصیت ”سوات بابا جی” نے ایک بار کہا تھا کہ اگر نماز میں قرآن پاک کے علاوہ کوئی اور کتاب پڑھنے کی اجازت ہوتی تو میں دیوان رحمان سے رحمان بابا کے اشعار پڑھا کرتا۔ بابا کی شاعری کی اس عالمگیر مقبولیت کی ایک وجہ تو وہ سلاست، سادگی اور شیرینی ہے جو اپنے دامن میں رنگینی اور لطافت سمیٹ کر سہل ممتنع کی حدوں کو چھو چکی ہے اور اس کی دوسری وجہ اعلیٰ انسانی اقدار کا وہ پرچار ہے جن کی بنیاد پر نقادان فن نے بابا کو شاعر انسانیت قرار دیا ہے کیونکہ بابا کا پیغام محبت اور انسان دوستی کا پیغام ہے اس لئے ہم اُن کو آفاقی شاعر کہتے ہیں۔
لکہ زان دے ھسے و بل وتہ نظر کا
لکہ ستا دے ھسے زان دے د ہر چا (١)
ترجمہ: اپنے آپ کو دیکھ کر دوسروں کے بارے میں اندازہ لگایا کر و کیونکہ جیسا تم ہو ویسے ہی دوسرے بھی لگیں گے۔


بابا نے ایک بار اپنے خدا سے اس کے حبیب ۖ کے صدقے ایک دعا مانگی تھے۔
الہی د خپل حبیب لہ برکتہ
دا سادہ انشاء رنگینہ د رحمان کڑے (٢)
ترجمہ: اے میرے پروردگار اپنے حبیب کے صدقے رحمان کی یہ سادہ تخلیق رنگین بنا دے۔
خدا نے اپنے اس درویش کی معصوم صدا سنی تو فوراً قبول فرمائی اور بابا کو اپنے وجدان نے اس کی خبر بھی دی۔ ایک صدائے رندانہ بلند کرتے ہوئے کہا کہ:
چی منکر پرے اعتراض کولے نشی
دا دے شعر دے رحمان کہ اعجاز
ترجمہ: اے رحمان یہ تمھارا شعر ہے یا کوئی معجزہ ہے۔ اس پر کوئی منکر بھی اعتراض کی انگلی نہیں اُٹھا سکتا۔


بابا کے کلام میں موجودہ یہ شیرینی سلاست، سادگی دراصل ایک عطیہ خداوندی ہے۔ جس میں بابا نے مشکل سے مشکل مضمون کو نہایت آسان ، دلکش، پرجوش اور لطیف پیرائے میں بیان کیا ہے۔
حق پرستی، انسان دوستی اور عشق و محبت کے علمبردار اس عظیم صوفی شاعر کا تعلق صوفیاء کے اُس قبیلے سے تھا جنہوںنے اپنی ذاتی حیثیت میں تو کبھی بھی دنیاوی جاہ و جلال اور ہوس مال وزر سے کوئی تعلق نہیں رکھا مگر اپنے دور کے معرکہ حق و باطل میں کبھی بھی غیر جانبدار نہیں رہے اور ایک حق پرست انسان کی طرح اپنے دور کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی زندگی پر بھی گہری نظر رکھی ۔ بابا نے بھی پنجابی کے عظیم صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کی طرح اپنے دور کے آمرانہ اور ظالمانہ نظام کو فکری طور پر رد کیا ہے۔


پہ سبب د ظالمانو حاکمانو
گور او اور او پیخور درے واڑہ یو دی
ترجمہ: ظالم حکمرانوں کے سبب ہمارے لئے لحد کی تپش، آگ اور پشاور تینوں برابر ہیں”
اور اس کے مقابلے میں اپنے ہم مشرب اور ہم عقیدہ ننداق کو دنیا بھر کے حق پرستوں کی علامت کو طور اپناتے ہوئے کہا ہے:
اورنگزیب او شاہجان غوندے اشراف
صدقہ شہ د منصور غوندے ننداف (٤)
ترجمہ: اورنگزیب اور شاہجہان جیسے اشراف، منصور جیسے ”ننداف” کے جذبہ عشق پر قربان ہو”
آپ جانتے ہیں کہ تصوف بذات خود کائناتی تکون کے حوالے سے ایک ہمہ گیر اور عالمگیر تصور اور ایک آفاقی روحانی اپروچ کا نام ہے جو انسان یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ خالق ارضی و سماعی کائنات کا نور ہے اور یہ کائنات وجود حق کے اعتباری اجزاء ہیں تو وہ ان اجزاء پر ظلم و زیادتی کا کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی دوسرے انسان سے رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر نفرت کر سکتا ہے، اس لئے تو ہمارے صوفی بابا فرماتے ہیں
واڑہ د خپل زان پہ نظر گورہ کہ دانا ئی
اے عبدالرحمانہ جہان درست عبدالرحمان دے (٥)
ترجمہ: اے عبدالرحمان دنیا بھر کے انسانوں کو اپنے جیسے سمجھ کیونکہ سارا جہان بھی عبدالرحمان ہے۔
جلال الدین رومی نے حضرت شمس التبریز کی صحبت میں یہ سبق سیکھا کہ:
I am not from the east or the west. I belong to the kingdom of love i am selfless and raceless (6)
اور ہمارے بابا نے اپنے وجدان اور جذبہ عشق کی بنیاد پر اعلان کیا کہ:
زہ عاشق یم سروکار مے دے لہ عشقہ
نہ خلیل نہ داودزے یم نہ مومند (٧)
ترجمہ: میں تو ایک عاشق ہوں میرا نسبت اور میرا تعلق تو بس عشق ہی سے ہے میں نہ خلیل ہوں نہ داودزے اور نہ مومند” اور پھر ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا
دا جہان دے خدائے لہ عشقہ پیدا کڑے
د جملہ و مخلوقاتو پلار دے دا (٨)
ترجمہ: جہان رنگ و بو میرے خالق نے عشق کے طفیل پیدا کیا ہے اس لئے یہ (عشق) تمام مخلوقات کا باپ ہے۔


آج ہمارا معاشرہ مذہبی رواداری اور صبر و برداشت سے کوسوں دور ہے۔ غیر مسلم تو کیا خود مسلمان بھی عقیدے اور نقطہ نظر کے اختلافات پر دوسرے مسلمان کا دشمن بن چکا ہے اور ہمارے بابا نے آج سے سینکڑوں سال پہلے اس تاریخی شہر کے ایک کونے میں بیٹھ کر یہ اعلان کیا تھا کہ:
دا زما د یار جلوہ دہ چی لیدہ شی
لکہ نمر پہ صومعہ پہ سومنات (٩)
ترجمہ: یہ میرے ہی محبوب کا جلوہ ہے جو کہ سورج کی کرنوں کی طرح صومعہ اور سومنات میں جلوہ گر ہے”
بابا نے اپنے اس شعر میں نہایت خوبصورت انداز میں دنیا بھر کے عبادت گزاروں کو own کیا ہے۔ یہ وسعت قلبی اور یہ گداز و گریبان مذہبی پیشواؤں کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔ کہ دیکھو وہ جو سورج طلوع ہو رہا ہے اس کی روشنی تم سب کی عبادت گاہوں میں پڑ رہی ہے تو خدا تو نور ہے۔ نور پر لڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ اپنے اپنے حصے کی روشنی پر اکتفا کرو اور لڑنا چھوڑ دو۔ اور ہمارے بابا نے سینکڑوں سال پہلے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ہمہ گیر پیغام دیا تھا۔ دیوان رحمان انسان دوستی کے آفاقی پیغام سے بھرا ہوا ہے ۔ اس حوالے سے چند اشعار ۔
آدم زاد پہ معنی واڑہ یو صورت دے
ہر چی بل ازاروی ہغہ ازار شی
ہغہ زڑہ بہ لہ طوفانہ پہ امان وی
چی کشتئی غوندے د خلقو بار بردار شی (١٠)
ترجمہ: آدم کی اولاد ساری ایک جیسی ہے، جو بھی دوسروں کو تکلیف دیتا ہے کسی دن خود تکالیف میں مبتلا ہو جاتا ہے، وہ دل ہمیشہ طوفانوں سے محفوظ ہوگا ا جو سفینے کی طرح مخلوق خدا کا باربردار بن جائے۔
آدمیت سہ پہ دولت نہ دے رحمانہ
بت کہ جوڑ دے د سرو زرو انسان نہ دے
ترجمہ:آدمیت کا معیار دولت نہیں اگر ایسا ہوتا تو سونے کا بنا ہوا بت انسان کہلاتا”
اور اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں ایک انسان کی حیثیت سے کیسا ہونا چاہیے۔


کر د گلو کڑہ چی سیمہ دی گلزار شی
ازغی مہ کرہ پہ پخو کے بہ دے خار شی (١٢)
ترجمہ: اپنے آس پاس پھولوں کی کاشت کیا کرو تاکہ تمھارا ماحول گلزار بن جائے۔ کانٹے مت بویا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ خود تمھارے پیروں میں چھب جائیں”
انسان کو حق اور حق پرستی کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں۔
دا بہ نہ شی چی ستا سٹ وی د حق مخ وی
کہ حق غواڑے تہ ھم مخ پہ حقیقت کڑہ
ترجمہ: یہ تو ممکن ہی نہیں کہ تم حق سے منہ پھیرلو اور حق حاصل بھی کر سکو، اگر حصول حق کے آرزو مند ہو تو حقیقت کا سامنا کرو۔ ہم جانتے ہیں کہ حضرت انسان سبحانی قوتوں اور حیوانی جبلتوں کا مرکب ہے۔ انسان کی عظمت اس جدوجہد میں پنہاں ہے کہ وہ اپنی حیوانی جبلتوں کو اس طرح قابومیں رکھے جیسے ایک شہسوار ایک منہ زور گھوڑے کو رام کرتا ہے اور پھر ان جبلتوں کو عقل سلیم کی گود میں دے کر اسے انسان اور انسانیت کے لئے کارآمد اور سودمند بنا دے یوں یہ حیوانی جبلتیں تعمیری اور مثبت رخ اختیار کر لیتی ہیں۔

بابا انسان اور حیات انسانی کے حوالے سے اس ابدی حقیقت پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:
پہ آدم کے د حیوان خویونہ شتہ دے
بیا ھلہ ئی آدم بولہ چی آدم شی (١٤)
ترجمہ: آدم میں حیوانی عادتیں بھی ہیں وہ تب انسان کہلانے کا اہل ہوتا ہے جب وہ ان حیوانی عادتوں کو مسخر کر کے حقیقی معنوں میں انسان بن جاتا ہے۔
جب وہ انسان کے سامنے یہ آفاقی کلیہ رکھتا ہے تو پھر اپنی زندگی کے آفاقی اُصولوں اور اعلیٰ انسانی اقدار کی تلقین یوں کرتا ہے۔
کم خوراک سڑے فرشتو تہ نژدی کا
ہر سڑے چی بسیار خور شی بسیار خوار شی (١٥)
ترجمہ: کم خوری کی عادت انسان کو فرشتوں کے مقام پر لا کھڑا کر دیتی ہے اور جو کوئی بھی بسیار خور بن جائے وہ بسیار خوار بھی ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک قدم اور آگے بڑھا کر انسان کے سامنے ”انسانوں میں بہترین انسان وہ ہے جو دوسرے انسانوں کے کام آئے” کے زرین اور آفاقی اُصول رکھ کر اُسے ایک مثالی معاشرہ تشکیل دینے پر آمادہ کرتا ہے۔
خہ خواڑہ چی یو ئی خوری بل ورتہ گوری
خواڑی نہ دی ہغہ زہر دی گویا (١٦)
ترجمہ: اچھی خوراک جسے ایک کھائے اور دوسرا بے بسی سے تکتا رہے۔ دراصل خوراک نہیں حقیقت میں زہر ہے۔ دنیا اور دنیاداری کے حوالے سے ہمارے مذہبی لوگوں کا رویہ بھی عجیب ہے۔ منہ سے تو اُسے برا بھلا کہتے رہتے ہیں مگر ان کا عمل بالکل اپنے قول کے برعکس ہوتا ہے مگر ہمارے بابا اس حوالے سے ہمارے سامنے ایک آفاقی صداقت رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ
خہ دہ خہ دہ دا دنیا
چی توخہ دہ د عقبیٰ
د دنیا پہ بازار کیگی
د ہغہ جہان سودا (١٧)
ترجمہ: دنیا بری نہیں ہے کیونکہ اسی دنیوی حیات میں ہم اخروی زندگی کے لئے نیک عمل اور اچھے کردار میں کسی صورت میں بندوبست کرتے ہیں گویا اس بازار میں اُس ابدی حیات سودا بازی ہوتی ہے”
گاہ پہ غارمہ سوزے گھے ریگدی پہ ساڑہ
کلہ مری د لوگی کلہ مری پہ ڈیر خواڑہ
واڑہ پہ غوغا دی چی راغلی پہ دنیا دی
نہ ئی ہغہ وگی پہ قرار دی نہ ماڑہ (١٨)
ترجمہ: ابن آدم بھی عجیب شے ہے کبھی سورج کی گرمی اور تپش کا رونا روتا ہے تو کبھی شدید سردی سے کپکپا کر فریاد کرتا ہے۔ کبھی مارے بھوک کے مر جاتا ہے تو کبھی بسیار خوری کے ہاتھوں راہی ملک عدم ہو جاتا ہے۔ جب سے یہ حضرت انسان اس دنیا میں آیا ہے۔ سر بہ فریاد ہے۔ نہ تو اس دنیا کے بھوکے مطمئن ہیں اور نہ اس کے مالدار۔


حاصل کلام یہ ہے کہ بابا عبدالرحمان ہماری قومی تاریخ کا وہ منور اور بڑا نام ہے جو کہ نہ صرف اپنے دور اور زمانے میں مقبول خاص و عام تھے بلکہ آج بھی ان کے افکار اور خیالات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں کیونکہ ان کا پیغام محبت، صداقت اور عشق کا پیغام ہے اور محبت ایک لازوال آفاقی سچ اور جذبہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ٹرک آرٹ سے گھریلو اشیاء کی پینٹنگ تک کا سفر – تحریر: فیاض الدین

پشاور میں ٹرکوں پر اپنے برش سے رنگ بکھیرنے والے سیار خان کو جب کورونا …

%d bloggers like this: