رحمت شاہ سائل،”قامی” اور”انقلابی”شاعر

تحریر: روخان یوسفزئی

انقلاب کا گیت ہو، پشاور کا تذکرہ ہو، بہار کی بات ہو، اونچے پہاڑوں، بہتے دریاؤں، تاریخی گزرگاہوں کی تعریف ہو، قدرتی مناظر کی عکاسی ہو، سائل کی شاعری اپنی مٹی کے رنگ و بو میں اٹی ہوئی ہے
سائل کے ساتھ بحث مباحثہ کے دوران یا ان کی شاعری اور نثر پڑھتے وقت ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ دانشور کے ساتھ مصروف گفتگو ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ غربت اور ناداری کے باعث وہ چوتھی جماعت سے آگے تعلیم حاصل نہ کر سکے
سائل نے ہمیشہ اپنے نظریے کی روشنائی میں ڈبوئے قلم کے ذریعے اپنے زنگ آلود معاشرے کو تبدیلی کا راستہ بتایا ہے، اپنے شوخ تلازم، انقلاب سے مچلتے ہوئے اوزان، بحور، تغزل، بے ساختگی اور ذخیرہ الفاظ کی مدد سے رحمت شاہ سائل نے پشتو شاعری میں اپنے لئے ایک الگ راستہ متعین کیا ہے
اس صاحب طرز اور صاحب فکر شاعر کی غزلیں، گیت اور نظمیں کھیتوں کھلیانوں سے گونجتی ہوئی حجروں، قہوہ خانوں، بڑے بڑے ہوٹلوں، بسوں سے لے کر ملک کے بڑے بڑے پختون سیاستدانوں ، بیورو کریٹ اور معززین کے گھروں اور ڈرائنگ روم تک بڑے شوق سے سنی جاتی ہیں


اساطیری ہستیوں میں ”ارفیس” سب سے زیادہ مشہور اور بہترین موسیقار مانے جاتے ہیں، ان کے بارے میں یونانیوں کا عقیدہ ہے کہ ”ارفیس” کے نغموں اور گیتوں میں ایسا جادو اور طاقت ہے جس کے ذریعے بے جان اشیاء بھی حرکت میں آ جاتی ہیں یعنی سنگ دل سے سنگ دل انسان بھی ارفیس کی نغمگی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ارفیس کے بارے میں کہی گئی اس بات کا اطلاق اگر پشتو زبان کے مشہور و معروف اور ہردلعزیز شاعر رحمت شاہ سائل پر کیا جائے تو بے جا ہرگز نا ہو گا کہ جنہوں نے شہر سے دور ایک پسماندہ دیہاتی ماحول اور ایک نہایت غریب گھرانے میں جنم لینے کے باوجود اور رسمی تعلیم حاصل کئے بغیر اپنے مطالعے، مشاہدے اور احساس کی آنکھ سے ایسے فن پارے تخلیق کئے جن کی بدولت انہیں پختون پیار سے ”قامی” اور ”انقلابی” شاعر کہتے ہیں۔


انقلاب کا گیت ہو، پشاور کا تذکرہ ہو، بہار کی بات ہو، اونچے پہاڑوں، بہتے دریاؤں، تاریخی گزرگاہوں کی تعریف ہو، قدرتی مناظر کی عکاسی ہو، سائل کی شاعری اپنی مٹی کے رنگ و بو میں اٹی ہوئی ہے۔ ان کی شاعری پختونوں کی معاشرتی سیاسی رومانوی اور نفسیاتی زندگی کی عکاس ہے۔ سائل اپنے منفرد طرز بیان، لب و لہجے اور اپنے مخصوص ڈکشن کے لحاظ سے عام و خاص میں یکساں مقبول اور پسندیدہ شاعر ہیں۔ پاکستان کے علاوہ افغانستان اور دیگر ممالک میں آباد کوئی بھی ایسا گلوکار اور گلوکارہ نہیں ہو گی جس نے سائل کی غنائیت سے لبریز کلام کو موسیقی کی زبان نہ دی ہو۔ سائل نے ہمیشہ اپنے نظریے کی روشنائی میں ڈبوئے قلم کے ذریعے اپنے زنگ آلود معاشرے کو تبدیلی کا راستہ بتایا ہے۔ اپنے شوخ تلازم، انقلاب سے مچلتے ہوئے اوزان، بحور، تغزل، بے ساختگی اور ذخیرہ الفاظ کی مدد سے رحمت شاہ سائل نے پشتو شاعری میں اپنے لئے ایک الگ راستہ متعین کیا ہے۔ اس صاحب طرز اور صاحب فکر شاعر کی غزلیں، گیت اور نظمیں کھیتوں کھلیانوں سے گونجتی ہوئی حجروں، قہوہ خانوں، بڑے بڑے ہوٹلوں اور بسوں سے لے کر ملک کے بڑے بڑے پختون سیاستدانوں ، بیوروکریٹ اور معززین کے گھروں اور ڈرائنگ روم تک بڑے شوق سے سنی جاتی ہیں۔


رحمت شاہ سائل 1950ء میں ملاکنڈ ایجنسی کے ایک پسماندہ گاؤں ”ورتیر” میں ایک غریب محنت کش امین گل کے ہاں پیدا ہوئے۔ امین گل کی پہلی بیوی سے ان کے پانچ بیٹے جبکہ دوسری بیوی سے رحمت شاہ سائل اور چھ بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ بھائیوں میں رحمت شاہ سب سے چھوٹے ہیں۔ سائل کے ساتھ بحث مباحثہ کے دوران یا ان کی شاعری اور نثر پڑھتے وقت ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ دانشور کے ساتھ مصروف گفتگو ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ غربت اور ناداری کے باعث وہ چوتھی جماعت سے آگے تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ سائل نے بچپن میں وہ تمام روایتی کھیل کھیلے ہیں جو اس زمانے میں بہت عام ہوا کرتے تھے۔ اپنی فطرت اور ماحول نے ان کی شاعری اور موسیقی کو مہمیز بخشی۔ گاؤں میں شادی بیاہ کے موقع پر خواتین کی دف کے ساتھ گائیکی، جبکہ حجروں میں روایتی موسیقی رباب، ستار اور گڑھے کی تھاپ پر مجالس کے انعقاد نے سائل کے دل و دماغ پر گہرے اثرات نقش کئے۔ انہیں بچپن سے قدرتی حسین مناظر سے خاص رغبت رہی ہے۔ بٹیر، تیتر اور دیگر پرندوں کا نہ صرف خوب شکار کیا بلکہ اپنا شکار پکا کر کھانے سے زیادہ لذت کسی دوسری چیز میں محسوس نہیں کی۔ شاعری کی طرف میلان اس وقت بڑھا جب ایک چرواہے کو سریلی آواز میں پشتو کی مشہور رومانوی داستاں یوسف خان شیر بانو گاتے ہوئے سنا۔ اس منظوم داستان (جسے علی حیدر جوشی نے لکھا تھا) کی وجہ سے سائل نے اپنے اندر کے تخلیق کار کو دریافت کیا، وہ اپنے لئے یہ کتاب خرید کر لائے۔ بعد میں ان کے گاؤں کے ایک سوداگر کاکا نامی باذوق شخص نے انہیں حافظ الپوری کی شاعری کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا اور یوں بات خوشحال خان خٹک، رحمان بابا، حمید بابا اور علی خان کی شاعری کے مطالعے تک پہنچ گئی۔


سائل نے اپنی شاعری کا آغاز صنف ”چاربیتہ” سے کیا کیونکہ اس دور میں چاربیتہ لکھنے والے شاعروں اور چاربیتہ گانے والے گلوکاروں کا سکہ چلتا تھا۔ سائل کو اپنے والد نے گاؤں میں ایک چھوٹی سی کریانہ دکان کھول کر دی۔ اس دکان میں سائل نے روزانہ پشتو اخبار پڑھنا اپنا مشغلہ بنا لیا جس کی بدولت انہوں نے پشتو لکھنے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اردو لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا اور آہستہ آہستہ خود بھی شعر کہنا شروع کیا۔ جب کبھی اخبار یا رسالے میں ان کی غزل یا نظم چھپتی تو پڑھنے والے اسے بہت زیادہ پسند کیا کرتے۔ چونکہ وہ کسی دوسرے فرضی نام سے لکھتے تھے اس لئے نہ تو ان کے گھر اور نہ ہی گاؤں والوں کو معلوم تھا کہ یہ رحمت شاہ سائل کا کلام ہے۔ اپنی آزاد طبیعت کی وجہ سے انہوں نے سوچا کہ کوئی ایسا کاروبار اختیار کرنا چاہئے جس میں آزادی اور خود مختاری ہو۔ سو درزی بننے کی سوجھی اور اپنے لئے الگ دکان کھول لی اور شعر پرونے کے ساتھ ساتھ سینے کا کام بھی شروع کر دیا۔

اس زمانے میں ہر سال تخت بھائی (مردان) میں صوبائی سطح کا پشتو مشاعرہ ہوا کرتا تھا چونکہ اب رحمت شاہ سائل کی شاعری کے چرچے بھی عام ہو چکے تھے اس لیے انہیں بھی اس مشاعرے میں شرکت کی دعوت ملی۔ یہ پہلا موقع تھا جب انہوں نے اپنی مترنم آواز میں اپنا کلام سنایا تھا۔ اس مشاعرے میں عبدالخالق خلیق، سمندر خان سمندر، امیر حمزہ خان شنواری، اجمل خٹک اور محمد نواز خٹک جسے مشہور سینئر شعراء موجود تھے۔ جوں ہی سائل نے اپنی میٹھی آواز اور ترنم میں غزل کا مطلع پیش کیا
چہ ئے د سترگو پہ بنڑو ذرے ذرے شی غزل
ژوند مے سکونڈی لشے لشے ازغے ازغے شی غزل
تو پورا پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا اور غزل کے ہر شعر پر انہیں بے تحاشہ داد ملی۔ عبدالخالق خلیق نے بطور انعام پانچ روپے جبکہ نواز خٹک نے سائل کو اپنا قلم تحفے میں دے دیا۔ اجمل خٹک نے ہر شعر پر اپنی جگہ سے اٹھ کر انہیں داد دی، جس سے سائل کو بہت زیادہ حوصلہ ملا۔ سیاست کا پہلا چسکا انہیں اپنے گاؤں میں بننے والی تنظیم ”عوامی خیل” سے پڑا جسے محمود خان نامی ایک انقلابی نے بنایا تھا۔ وہ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے غریبوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہے۔ ملاکنڈ ایجنسی کے عوام کو سب سے پہلے ووٹ استعمال کرنے کا حق دیا گیا تو سائل نے اسی دن رات کو اپنے ساتھیوں سمیت ملاکنڈ کی پہاڑیوں پر جشن چراغاں کیا تھا۔ والد کی وفات کے بعد گھر کی تمام ذمہ داریاں سائل کے کندھوں پر آن پڑی تھیں اس لئے وہ اپنی غربت اور گھر کے حالات کو دیکھتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں سے اپنا دامن بچا کر چلتے رہے لیکن اپنی شاعری کی مقبولیت انہیں خار زار سیاست میں لے آتی اور جب صوابی میں ایک بڑے مشاعرے میں اپنی ایک انقلابی نظم سنائی تو اس نظم نے صور اسرائیل کا کام کر دیا۔ اب ہر جگہ جہاں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کا جلسہ منعقد ہوتا، لوگ رحمت شاہ سائل کی پرزور ڈیمانڈ کرتے۔ ان دعوتوں اور جلسوں سے تنگ آ کر وہ اپنے شاعر دوست سرور خٹک کے ہمراہ سوات چلے گئے اور وہاں کپڑے کا کاروبار شروع کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد واپس آئے تو وہی صورتحال بن گئی۔


سائل تقریباً 20 سال تک خان عبدالولی خان کے ساتھ عوامی جلسوںمیں ان کی تقریر سے پہلے نظم سنانے کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ ایک بار سخاکوٹ میں باچا خان کے جلسہ میں جب سائل نے اپنی نظم ”باچا خان تہ یو خط” کے عنوان سے پڑھی تو نظم ختم ہونے کے بعد باچا خان مائیک پر آئے اور یہ کہہ کر تقریر کرنے سے انکار کر دیا کہ سائل نے اپنی نظم میں جو سوالات اٹھائے ہیں اور جن باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے بس اسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ معروف قوم پرستوں اور ترقی پسندوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے سائل ترقی پسندی کی جانب بھی مائل ہو گئے۔ ملاکنڈ سازش کیس میں گرفتار ہو کر ایک سال تک جیل کی ہوا بھی کھائی۔ فوجی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران ان کی اپنی انقلابی شاعری ان کے خلاف گواہی دیتی رہی اور شہادت کے طور پر سائل کی نظمیں اور غزلیں پیش کی جاتیں۔ ان کی شاعری کا مجموعہ ”د ویر پہ چم کے وار د نغمو دے” شائع ہو چکا تھا، اس کتاب کا مسودہ پولیس نے اپنی تحویل میں لیا تھا اور فوجی عدالت میں اسی سے نظمیں پیش ہوتی رہیں۔


ایک سال کے بعد رحمت شاہ سائل تو ملاکنڈ سازش کیس میں بری ہو گئے لیکن ان کی کتاب کا کتابت شدہ مسودہ اب بھی ”قید” ہے۔ الذوالفقار طیارہ سازش کیس میں بھی سائل کو گرفتار کیا گیا تھا اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں پانچ مہینے تک قید رہے۔ سائل کی پہلی کتاب کا نام ”ریبار” تھا۔ اس کے بیس سال بعد انقلابی شاعری پر مبنی مشہور کتاب ”د ویر پہ چم کے وار د نغمو دے” چھپی۔ ان کی اب تک کل گیارہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں ایک کتاب ”آخری سندرہ” افسانوں پر مشتمل ہے۔ سائل نے شادی والدین کی مرضی سے کی کیونکہ وہ اپنے عشق میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے تاہم اب وہ خوش و خرم ازدواجی زندگی گذار رہے ہیں۔ البتہ شادی والے دن کے ذکر پر اب بھی ان کی آنکھوں میں آنسو امڈ آتے ہیں اور آواز ڈبڈبا جاتی ہے، کیونکہ شادی کیلئے انہوں نے گھر کا سارا سامان ادھار لیا تھا۔ اپنے لیے صرف ایک جوڑا، جوتے اور بیوی کیلئے صرف تین جوڑے ادھار خریدے تھے۔
سائل نے 17 سال کی عمر میں شادی کی، دس بچوں کے باپ ہیں جن میں سات بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں۔ سب پڑھ رہے ہیں۔ ان میں کوئی ایف اے کر کے بی اے تو کوئی بی اے کر کے کوئی ایم اے کر چکا ہے، مطلب اولاد ساری تعلیم یافتہ ہے۔ دو بیٹوں کی شادی بھی کرا چکے ہیں اور اب سائل دادا بھی بن چکے ہیں۔ سب آج بھی ایک ہی گھر میں رہ رہے ہیں، ایک ہی ہانڈی اور ایک ہی پلیٹ میں کھاتے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایک وفا شعار اور صابر بیگم سے نوازا ہے جس نے گذشتہ آٹھ سالوں میں آج تک اپنی بہو کو صبح ناشتہ تیار کرنے کیلئے نہیں اٹھایا۔ سائل کو پھولوں سے جنون کی حد تک پیار ہے۔ وہ خود بھی پھولوں کی طرح تر و تازہ آزاد فضاء میں زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں۔ شہر کے ہنگاموں اور شور سے انہیں سخت نفرت ہے۔ پشاور شہر ان کا پسندیدہ شہر ہے اور جس وقت ضیاء الحق کے دور میں یہاں بم دھماکوں نے زور پکڑا تھا تو اس کے خلاف سائل نے ایک ایسی نظم لکھی جو آج بھی مقبول ہے۔
کلاسک شعراء میں خوشحال خان خٹک، رحمان بابا، عبدالحمید ماشوخیل، علی خان جبکہ جدید شعراء میں اجمل خٹک، اندیش شمس القمر، اکرام اللہ گران، خاطر آفریدی جبکہ اردو میں ساحر لدھیانوی ان کے پسندیدہ شاعر ہیں۔

حریت پسند شخصیات میں وہ بایزید انصاری، خوشحال خان خٹک اور باچا خان کے معتقد ہیں۔ سیاست دانوں میں ولی خان کے کردار سے بے حد متاثر ہیں۔ سائل نے مارکسزم، لینن ازم، سٹالن ازم کے علاوہ روسی، چینی ادبیات کا اردو ترجمہ خوب پڑھا ہے۔ مرحوم حبیب جالب کے ساتھ کئی عوامی جلسوں میں نظمیں پڑھی ہیں۔ جالب اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے کہا کرتے تھے کہ مجھے سائل کی نظم کا ترجمہ کر کے سمجھایا کرو۔ ایک بار جلسہ میں سائل نے حبیب جالب کی مشہور نظم ”خطرہ ہے زرداروں کو” اپنی سریلی آواز میں پڑھی تو حبیب جالب نے بھی سائل کو بہت زیادہ داد دی۔ تمام عمر جمہوریت، بشر دوستی، امن، انصاف، مساوات اور مظلوموں کے حقوق کیلئے اپنی شاعری کے ذریعے بھرپور آواز اٹھانے والے رحمت شاہ سائل کو حکومت نے1996 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ اس کے علاوہ باچا خان امن ایوارڈ، اباسین آرٹس کونسل اور اکادمی ادبیات نے بھی سائل کو اعزازات سے نوازا ہے۔ سیاحت کے بہت زیادہ شوقین ہیں۔ قدرتی نظارے اور حسین مناظر ان کی بہت بڑی کمزوری ہے اور جس انسان کا محبت، حسن اور موسیقی کے ساتھ لگاؤ نہ ہو، سائل کی نظر میں وہ انسان نہیں پتھر ہے۔ اچھی شاعری، بولتی تصویر، مدھر آواز اور دلکش چہرے کے دیوانے ہیں۔ آج تک اپنی بیوی اور بچوں کو اپنی شاعری نہیں سنائی لیکن ان کی غیرموجودگی میں ان کے گھر والے ان کی شاعری پر مبنی میوزک البمز شوق سے سنتے ہیں۔


سائل طبیعت کے خلاف بات پر سخت برہم ہو جاتے ہیں۔ اپنے گاؤں سے کئی میل دور دراز علاقوں میں سخت محنت مزدوری کی ہے۔ بچپن میں ایک بانسری خریدی تھی اور ستار بجانے کا ہنر بھی سیکھا ہے۔ سائل کو درگاہیں اور میلے دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ آج سے کافی عرصہ پہلے جب بیشتر علاقوں میں رسم تھی کہ شادی کے موقع پر کسی گھر سے ڈولی اٹھانے سے پہلے لڑکے والوں کی جانب سے نشانہ بازی ضروری تھی ورنہ ڈولی اٹھانے کی اجازت نہ ملتی، اس فن میں سائل ماہر تھے، وہ ٹھیک نشانہ مار کر بارات میں شریک تمام لوگوں کا سر فخر سے بلند کرتے۔ سائل لطائف پسند بھی ہیں اور ہنسانے کا فن بھی جانتے ہیں۔ غصے کی حالت میں مزے دار اور مصالحہ دار قسم کی گالیاں بھی دیتے ہیں، ان کے خیال میں گدھے کے ساتھ آپ بغیر گالی کے کوئی دوسری زبان استعمال ہی نہیں کر سکتے۔ صحافت کے میدان میں ان کا پہلا تجربہ ماہنامہ ”لیکوال” کے چیف ایڈیٹر کے طور پر رہا۔ وہ باچا خان ٹرسٹ کے زیر انتظام نکلنے والے مشہور پشتو مجلہ ”پختون” کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔ سائل ایک آزاد ذہن اور خودمختار طبیعت کے مالک ہیں اس لئے وہ باچا خان ٹرسٹ میں اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کی پابندی میں کچھ زیادہ خوش نظر نہیں آتے تھے بلکہ یوں لگتا تھا کہ ان کے ذہن پر ایک بہت بھاری بوجھ ڈال دیا گیا ہو۔ ایک طرف جب وہ اپنی ٹیلرنگ کی دکان، گھر، گاؤں کے دوستوں، بیوی بچوں اور آزاد ماحول کو دیکھتے اور دوسری طرف اپنی ان نئی ذمہ داریوں کو تو وہ یہ شعر گنگنانے میں حق بجانب نظر آتے، ع
یہاں ہونا ضروری ہے وہاں ہونا ضروری ہے
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہاں ہونا ضروری ہے


ان کی ہر کتاب کے کئی کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ تاہم اگر سائل کسی دوسری زبان کے شاعر ہوتے اور اتنی مقبولیت حاصل کرتے جتنی ان کو پختونوں میں حاصل ہے تو پھر ان کے لیے اپنی ایک کتاب بھی کافی ہوتی کیونکہ اس کتاب سے انہیں پبلشر اتنی رائلٹی دیتا کہ سائل کو کسی اور مزدوری یا نوکری کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ سائل خواب بہت کم دیکھتے ہیں۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دل تو بہت چاہتا ہے کہ کسی کی زلفوں سے جھولوں، پر دوستو! کہاں ہے میری قسمت میں اس قسم کا خواب؟ ملکی اور عالمی سیاسی صورتحال سے وہ ہر وقت اپنے آپ کو باخبر رکھتے ہیں اور اس پر تبصرہ اور تجزیہ بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں کمیونزم ناکام نہیں ہوا بلکہ اس کے چلانے والے ناکام ہوئے ہیں۔ روس میں جمہوریت نہیں لائی گئی وہاں پرولتاریہ کے نام سے انقلاب لانے والے درمیانے طبقے کے لوگ تھے۔ ہمارے ہاں لوگوں نے کمیونزم کیلئے بہت کچھ کیا ہے، ان میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے روس کی اندھی تقلید بھی کی ہے اور لوگوں کو اندھیرے میں رکھنے کیلئے دروغ گوئی اور پروپیگنڈہ سے بھی کام لیا ہے اس لیے سرمایہ دار دنیا کے دانشوروں نے سوشلسٹ دانشوروں کو مات دیدی۔ حالانکہ کمیونزم کی آج بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور آئندہ بھی ہوتی رہے گی، اس کے بغیر کوئی دوسرا چارہ نہیں۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کمیونزم کو شکست دی ہے دراصل یہ اپنے آپ کو شکست دینے والی بات ہے کیونکہ آج پوری دنیا میں امریکہ نے اپنی بدمعاشی شروع کر رکھی ہے، طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے اور کوئی بھی امریکہ سے پوچھنے والا نہیں۔ کل تک روس کے خلاف سینہ تان کر بولنے والے آج افسوس کر رہے ہیں کہ یہ ہم نے کیا حماقت کی تھی۔
رحمت شاہ سائل کی نظر میں قوم پرستی تو اب پہاڑوں کی چوٹیوں تک بھی پہنچ چکی ہے اور اس بات کا کریڈٹ ہمارے قوم پرستوں کو جاتا ہے۔

وہ شاکی ہیں کہ ہمارے ہاں آج تک شاعر و ادیب کو کسی نے اپنا کردار ادا کرنے کا موقع نہیں دیا تاہم شاعر ادیب اپنی قوم کی آنکھ اور دماغ ہوتے ہیں اس لئے عالمی سطح پر جو نظریاتی سیاسی اور تہذیبی پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں انہیں ختم کرنے کیلئے اور اپنی عوام کو اپنی اپنی زبان میں سمجھانے کیلئے ہمارے شاعر، ادیب اور دانشور کو آگے آنا ہو گا۔ سائل نے خود کبھی اکیلے فلم نہیں دیکھی بلکہ یار دوستوں سے مل کر فلم دیکھنے کا بہت شوق رکھتے ہیں۔ ایک زمانے میں فلم دیکھنے کیلئے ملاکنڈ سے مردان آیا کرتے تھے۔ ان کو اپنی والدہ بہت یاد آتی ہیں، جو انہیں دیر سے گھر آنے پر خوب ڈانٹ پلاتیں اور گھر میں جس جگہ بیٹھ کر اپنے آوارہ گرد اور شاعر بیٹے کی راہ تکتیں اس جگہ کو ایک مقدس مقام کی طرح اسی حالت میں رکھا ہوا ہے۔ خوراک میں سبزی بڑے شوق سے کھاتے ہیں، ہر اتوار کو گھر کی بنی سوئیاں پکا کر تمام افراد مل کر کھاتے ہیں اور اس دن ان کے گھر میں میلے کا سا سماں ہوتا ہے۔ 65 سالہ رحمت شاہ سائل روزانہ شیو اور باقاعدگی کے ساتھ سر کے سفید بالوں پر خضاب لگاتے ہیں۔ وہ دور تک دیکھ سکتے ہیں لیکن ان کی نزدیک کی نظر بڑی کم زور ہو چکی ہے اس لئے وہ جب کمین گاہ پر نظر ڈالتے ہیں تو دوستوں اور دشمنوں کی پہچان نہیں کر پاتے۔

یہ بھی پڑھیں

سانحہ12 مئی تب سے اب تک

12 مئی2007 کو انسانی خون کی ہولی اس وقت کھیلی گئی جب اس وقت کے …