والدین کا انکار نہیں ورکرز کا جنسی استحصال، پولیو فری پاکستان کی راہ میں بڑی رکاوٹ

تحریر:محمد عثمان

اگر اعلی حکام ورکرز کو ہراساں کرنے کی بجائے یہ انرجی کام میں ضائع کریں تو جلد ہی ہم اپنے وطن کو پولیو فری ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ عابدہ خالد

عابدہ خالد مہینے میں سات دن صبح سویرے اٹھ کر اپنا بیگ اٹھاتی ہیں اور ننھے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی غرض سے گھر سے نکلتی ہیں۔ وہ گزشتہ چھ برس سے پشاور کے پوش علاقہ حیات آباد میں بطور پولیو ورکر اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں اور در در اور گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا عابدہ بی بی ڈیوٹی کے ساتھ عبادت سمجھ کر کرتی ہیں اور کہتی ہے کہ پولیو جیسے مہلک بیماری کے خاتمے تک اپنی خدمات جاری رکھیں گی۔


موسم کوئی بھی ہو، راستے کتنے ہی دشوار ہوں پولیو کے خلاف لڑنے والے پولیو ورکر فرنٹ لائن سپاہی کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ عابدہ کہتی ہیں ”ہم کافی دشواریوں سے گزرتے ہیں تاکہ آپ کے دروازے پر دستک دیں اورآپ مہربانی کر کے دروازہ کھول دیں کیوں یہ دو بوند آپ کے بچوں کی زندگی خاطر ہے، یہ دو بوند پاکستان کی خاطر ہیں۔ عابدہ مزید کہتی ہیں کہ پولیو ورکرز انتہائی مشکل انداز میں اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیتی ہیں تاہم ان کو وہ عزت اور مقام نہیں ملتا جو ان کا حق ہے۔ وہ الزام لگاتی ہیں کہ زیادہ تر یونین کونسل پولیو آفسرز جن کو ucpo کہتے ہیں پولیو ورکرز کو ہراساں کرنے کا کوئی موقع نہیں گنوانے دیتے، مجبوری اور مالی مشکلات کی وجہ سے بھی پولیو مہم میں کام کرنے والی بیشتر خواتین عام لوگوں کی سخت رویوں کا شکار ہوتی ہیں تو وہیں دوسری جانب اپنے ہی اعلی افسران بھی ان کو ذہنی اذیت دینے میں کوئی قصر نہیں چھوڑتے۔ جبکہ بات نا مانے پر کئی خواتین کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے۔


کمیونٹی ہیلتھ ورکر عابدہ خالد پچھلے چھ سالوں سے پشاور کے پوش علاقہ حیات آباد میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ ان کا الزام اپنے ہی یوسی پی او کے خلاف ہے، وہ کہتی ہیں کہ دوران مہم میری کوئی ویڈیو بنائی گئی ہے جس کی بنا پر انھیں بار بار بلیک میل کیا جا رہا ہے اور ان سے غیراخلاقی ڈیمانڈ ز کی جا رہی ہیں۔ عابدہ نے بذریعہ ویڈیو یہ پیغام جاری کیا تھا جس کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہوئی اور محکمہ صحت نے کمیٹی بنا کر تحقیات شروع کیں جو ابھی تک جاری ہیں۔
پولیو ورکرز کو ایسا ماحول فراہم کرنے کے بعد ہم پولیو فری ملک کے لئے کیسے پر عزم ہو سکتے ہیں؟ پولیو فری پاکستان کا خواب حقیقت کے قریب تر تھا جو شاید دوبارہ خواب کی شکل اختیار کرنے لگا ہے، پوری دنیا میں دو ایسے ممالک ہیں جو اب بھی اس موذی مرض سے ناپاک ہیں، ایک افغانستان اور دوسرا بدقسمتی سے پاکستان ہے۔ اس لسٹ میں نائجیریا جیسا تھرڈ ورلڈ ملک بھی تھا لیکن اب نہیں رہا کیوں کہ نائجیریا بھی اب پولیو فری بن چکا ہے۔


پاکستان کی بات کریں تو سال 2018 میں صرف8 کیس رہ چکے تھے جو یقیناً پولیو کے خلاف جنگ جیتنے کے قریب تھا لیکن بدقسمتی سے اگلے سال یعنی 2019 میں یہ تعداد کئی گناہ بڑھ کر 94 تک جاپہنچی جس کے بعد پولیو کمپین کو مزید مستحکم بنانے کے لئے مزید اقدامات اٹھائے گئے۔ ای پی آئی، ایمرجنسی ہیلتھ سینڑ کی جانب سے علماء کرام کو بھی جمع کیا گیا اور ان سے اپیل کی گئی کہ آپ مساجد میں اعلانات کے ذریعے لوگوں کو پولیو ویکسین کی اہمیت کے بارے میں آگاہی دیں۔ سال 2020 میں دوبارہ ان کیسز کی تعداد میں کمی دیکھنے کو ملی اور اس سال پورے پاکستان سے ٹوٹل 38 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سب زیادہ بلوچستان اور سندھ سے12,12 جبکہ پنجاب سے 8 اور خیبر پختونخوا سے 6 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ بنوں، کرک، لکی مروت، ٹانک، وزیرستان اور پشاور یعنی 6 اضلاع سے ایک ایک کیس سامنے آیا لیکن اس سال کورونا وباء کی وجہ سے بھی پولیو مہم کئی بار تعطل کا شکار ہوئی تو دوسری جانب کورونا کے پیش نظر کافی کیسز رپورٹ بھی نہیں ہوئے۔

کیسز میں اتار چڑھاؤ آنا باعث تشویش ہے کیوں کہ تب تک کوئی بھی ملک پولیو فری نہیں کہلاتا جب تک تین سال مسلسل کوئی بھی کیس رپورٹ نہ ہو۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں پولیو کا مسئلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا کیوں کہ پولیو پروگرام میں رکاوٹیں اعلی افسران کی جانب سے ڈالی جاتی ہیں۔ گزشتہ روز کی بات ہے جب ای او سی کوآرڈینیٹر عبدالباسط کی آڈیو لیک ہوگئی تھی جس میں وہ پولیو کے ایک سینئر افسر سے سات لیڈی ہیلتھ کونسلر بھرتی کرنے کی ڈیمانڈ کر رہے تھے، پھر ساتھ ہی روزانہ کی بنیاد پر قبائلی اضلاع میں پولیو ٹیموں پر حملے بھی پولیومہم کے لئے نقصان کا باعث بن رہے ہیں جبکہ کئی ورکرز اور پولیس کے جوانوں کی شہادتیں بھی ہو رہی ہیں۔


عابدہ خالد جیسی کئی ورکرز مسائل کے نہ ختم ہونے والے سلسلے سے پریشان ہیں، وہ کہتی ہیں کہ اگر اعلی حکام ورکرز کو ہراساں کرنے کی بجائے یہ انرجی کام میں ضائع کریں تو جلد ہی ہم اپنے وطن کو پولیو فری ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان سپر لیگ 6، میدان میں یا سڑکوں پر؟

تحریر: شیخ خالد زاہد ایک ایسا بھی وقت گزرا ہے جب پاکستان میں بین الاقوامی …