پختون صوفی، امیرحمزہ خان شنواری

تل بہ پہ لار د میڑنو سرہ زم
یمہ پختون د پختنو سرہ زم

تحریر: روخان یوسف زئی

ادب میں سب سے بڑی بات کسی لکھاری پر پڑھنے والوں کا ”اعتبار“ہوتا ہے اورجس طرح پڑھنے والے ہرکسی شاعر،ادیب پراعتبارنہیں کرتااسی طرح اپنے آپ پر یہ اعتبارپیدا کرنا بھی ہرلکھاری کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس ”اعتبار“کا تعلق کسی لکھاری کی ظاہری قدوقامت سے نہیں بل کہ ان کی علمیت اوراخلاص سے ہوتا ہے جس لکھاری میں جتنی زیادہ علمیت اوراخلاص ہواس قدران کے پڑھنے والے بھی ان سے اپنے اعتبارکا رشتہ استوارکرتے ہیں اسے ہم کسی شاعر،ادیب کا اپنی زبان،قوم،مٹی اور انسانی معاشرے سے ان کی ”کومٹ منٹ“ کا نام بھی دے سکتے ہیں، پشتوادب کی تاریخ میں شاعر انسانیت رحمان بابا کے بعد امیر حمزہ خان شنواری وہ واحد شاعر ہیں جنہوں نے پوری پختون قوم میں اپنے لیے ایک ادبی اورصوفیانہ اعتبار حاصل کیا ہے اور جس طرح پختونوں کے چھوٹے بڑے رحمان بابا کے اشعار پر آنکھیں بند کرکے بھروسہ کرتے ہیں اسی طرح امیر حمزہ خان شنواری کے بارے میں بھی ان کا ایقان ہے کہ جو بات حمزہ بابا نے کہی ہے وہ ہمارے لیے قابل عمل اور مشعل راہ ہے، انہیں اپنی زندگی میں اپنے چاہنے والوں اور پشتو کے نامی گرامی ادیبوں اور نقادوں نے ادبی قلمرو کا بے تاج بادشاہ، بابائے جدید پشتو غزل، رئیس المتغزلین، پشتو کا ارسطو اور فخر خیبر جیسے القابات سے نوازا ہے، وہ پاکستان اور افغانستان میں آباد پختونوں اوردیگرقوموں میں ایک نام ور شاعر، ادیب، صوفی، مفکر، فلسفی، ناول نگار، ڈرامہ نگار، سفرنامہ نگار،مترجم اور افسانہ نگار کے طور پر جانے اور مانے جاتے ہیں اور انہیں پشتو ادب میں قدیم اور جدید ادب کے درمیان پُل کی حیثیت حاصل ہے کیوں کہ ان کی شاعری اپنی قدیم روایات اور جدید رجحانات کا ایک حسین امتزاج ہے۔

امیر حمزہ خان شینواری 1907ء کو ستمبر کے مہینے میں درہ خیبر کے ایک پس ماندہ علاقے لنڈی کوتل میں ملک باز میر خان کے ہاں پیدا ہوئے اور18فروی1994ء کواس دارفانی سے کوُچ کرگئے انہوں نے اگرایک جانب پشتوغزل کو موضوع اورمضمون کے لحاظ سے تغزل کے ساتھ جدیدپختون قوم پرستی کاایک نیا لب ولہجہ عطاکیا تودوسری جانب اسے نئی نئی علامتوں،استعاروں،تشبیہات اورتراکیب سے بھی روشناس کروایا جس کے باعث انہیں زندگی میں ”بابائے غزل“ جیسے خطاب سے نوازا گیا ویسے توتصوف کا موضوع ہماری پوری مشرقی شاعری اورادب میں پایا جاتا ہے اورپشتوکی عوامی اورکلاسیکی شاعری میں بھی تصوف کے موضوع پربہت کچھ لکھا گیا ملتا ہے تاہم اس موضوع کو اپنی قومیت اورمٹی کے ساتھ کچھ اس اندازمیں پیش کرنا کہ تصوف میں ”پختون ولی“ اور”پختون ولی“ میں تصوف“ نظرآئے،امیرحمزہ شنواری کا کمال ہے یعنی اپنی قومیت کے لبوں کوتصوف کی سُرخی دینا اورتصوف کے رخساروں میں پختونیت کے رنگ بھرناامیرحمزہ شنواری نے بڑے شاعرانہ اسلوب اورسلیقے سے کیا ہے ان کے کلام میں جوچیزسب سے زیادہ نمایاں طورپرمحسوس کی جاتی ہے وہ ہے انسانیت،قومیت اورمظلوم انسانیت سے پیارکرنا،اپنے ایک شعرمیں کہتے ہیں کہ”حمزہ دنیا میں بہت سے مسلم اورکافرموجودہیں پرمیں ان کا ساتھی اوردوست ہوں جن میں انسانیت پائی جاتی ہو“ فرقہ پرستی اورنسل پرستی کے سخت مخالف تھے ایک بارہم چنددوست جب ان کی عیادت کرنے ان کے گھر گئے تو ایک دوست غالباً گل محمدبیتاب نے حمزہ بابا سے ازراء مذاق کہا کہ بابا آپ پرتوبڑا تنازعہ کھڑا ہوا ہے اہل سُنی کہتے ہیں کہ بابا ہمارا ہے اورشعیہ کہتے ہیں کہ بابا ہمارا ہے یہ سن کر حمزہ بابا زورسے ہنس پڑے اورکہا کہ”بیٹے میں گورونانک ہوں نا پھرکہا کہ دیکھومیری ایک بات غورسے سنواوراس پرعمل بھی کرو کہ اچھی بات جس کسی کے پاس بھی ہواسے حاصل کیا کریں اوراس پرعمل بھی کیا کریں اورہراس بات اورعمل سے اجتناب کرنا چاہیئے، جس سے تفرقہ بازی کوتقویت ملتی ہوانسانوں میں دوری پیدا ہوتی ہو، شاعرادیب کا کام انسانیت کوپیار ومحبت کے رشتوں میں باندھنا، پوری دنیا کے مظلوم ومحکوم انسانوں کے حقوق کے لیے آوازبلندکرنا اورظلم وجبرکے خلاف لکھنا سچھے شاعرادیب کا نصب العین ہونا چاہیئے“ امیرحمزہ شنواری معیاری نظم ونثر کے لحاظ سے پشتوادب کے ان شاعروں ادیبوں میں شمارہوتے ہیں جوتاریخ کے ہردورمیں ایک نئی شکل اورنئی تازگی کے ساتھ ابھرکرسامنے آئیں گے۔

امیرحمزہ خان کو 1913ء میں اپنے گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کردیا گیا۔ سکول میں جب وہ اپنی تختی پر پٹی لکھنے بیٹھ گئے تو پٹی کے بجائے تختی پر انسانوں کے مختلف خاکے کھینچے۔ یہ دیکھ کر وہ خوشی سے جھوم اٹھے کہ میرا یہ کارنامہ دیکھ کر استاد مجھے شاباش اور انعام دیں گے مگر وہ حمزہ شنواری کی خوش فہمی ثابت ہوئی اور استاد نے انہیں شاباش دینے کی بجائے ڈنڈے سے ایسی مرمت کی جو حمزہ بابا مرتے دم تک نہیں بھول پائے۔

حمزہ شنواری کو پشتو ادب میں قدیم اور جدید ادب کے درمیان پُل کی حیثیت حاصل ہے، وہ 35 کتابوں کے مصنف تھے, جن میں تصوف، شاعری، نفسیات اور ادب کے موضوع پر لکھی گئی کتابیں شامل ہیں

اس واقعے کے بعد ان کا سکول سے دل بھر گیا۔ چناں چہ وہ پڑھائی سے جی چرانے لگے اور اکثر اوقات سکول سے غیر حاضر رہنے لگے۔ گھر سے تختی اور بستہ لے کر قلعہ لنڈی کوتل کے قریب قبرستان میں یا تو مزار امیر بادشاہ یا اپنی والدہ کی قبر کے پاس ٹیک لگا کر سوجایا کرتے تھے۔ ان کی عمر تین برس سے بھی کم تھی جب ان کی والدہ انتقال کرگئیں۔ والدہ کی وفات کے بعد ان کی تربیت ان کی سوتیلی ماں نے اس انداز میں کی کہ حمزہ کو کبھی بھی یتیم ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا۔ سکول سے مسلسل غیر حاضر رہنے کی وجہ سے انہیں والد اسلامیہ کالجیٹ سکول پشاور لے آئے تاکہ یہاں بورڈنگ میں رہنے کی وجہ سے وہ سکول سے بھاگ نہ سکے۔

1918ء میں وہ دوسری جماعت میں داخل کردیے گئے اور وہاں تھرڈ ہاسٹل میں رہنے لگے مگر یہاں بھی وہ پڑھائی میں دل چسپی نہیں لیتے تھے۔ ہاسٹل میں ان کے برابر والے کمرے میں شہزادہ جہان زیب(سابق والئی سوات) اور ان کے چچیرے بھائی شاہ روم بھی رہتے تھے۔ شاہ روم ان کے ہم جماعت تھے، صفائی کے معاملے میں ان کی حالت یہ تھی کہ کپڑوں اور بسترے میں جوئیں پڑگئیں جس کی وجہ سے انہیں معروف پختون قوم پرست رہنماء میاں جعفر شاہ، ”سپگن“ یعنی جوؤں سے بھرا ہوا لڑکا کہا کرتے تھے۔ حمزہ شنواری نے پانچویں جماعت سے اردو زبان میں شاعری کا ابتدا کیا۔ انہیں بچپن سے ہی اردو زبان پر اتنا عبور حاصل تھا کہ ہر سال امتحان میں اردو کے مضمون میں اول پوزیشن حاصل کرتے تھے جس کی وجہ سے انہیں اپنے استاد مرزا عباس بیگ ڈبل اور ٹرپل ”اے“ دیا کرتے تھے مگر ایک دن وہ کسی بات پر ناراض ہوگئے اور ”اے“ کو ”ڈی“ میں بدل کر کہا کہ کس منحوس کے بچے نے تجھے”اے“دیا ہے، حمزہ کے منہ سے بے اختیار نکلا ”آپ نے“ جس کی پاداش میں انہیں ایک گھنٹہ تک بینچ پر کھڑا رہنا پڑا۔

اس زمانے میں علامہ عنایت اللہ خان المشرقی (خاکسار تحریک کے بانی) اسلامیہ کالجیٹ سکول کے پرنسپل ہوا کرتے تھے جن سے حمزہ شنواری کی کچھ زیادہ جان پہچان نہ تھی۔ بعد میں جس وقت وہ 1938ء میں ریکارڈنگ کے سلسلے میں دہلی گئے اور خاکسارہوٹل میں رہائش کے دوران علامہ مشرقی سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے حمزہ شیواری کو کہا ”دیکھو جی یہ عبدالغفار خان(باچا خان) آپ لوگوں کو ہندو بنانا چاہتے ہیں اور تم لوگ اندھوں کی طرح ان کے اشاروں پر چل رہے ہو“ حمزہ شنواری نے جواب میں کہا، ”جناب اگر ہندوستان کے دوسرے رہنماء ہمیں کچھ اور بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں ہے۔ عبدالغفار خان تو پانچ وقت کے نمازی اور ایک کھرے پختون اور مسلمان ہیں“۔ علامہ مشرقی نے جب ان سے پشاور میں مضبوط سیاسی پارٹی کے بارے میں پوچھا تو حمزہ شنواری نے کہا پشاور میں تو ایک ہی پارٹی ہے جس کا نام ہے انڈین نیشنل کانگرس، اس کے سوا دوسری پارٹیوں کی حیثیت برساتی مینڈکوں کی ہے۔

ادبی قلمرو کا بے تاج بادشاہ، بابائے غزل، رئیس المتغزلین، پشتو کا ارسطو اور فخر خیبر امیر حمزہ خان شنواری کو ہم سے بچھڑے 27 سال بیت گئے

دوران تعلیم ان کے ہاسٹل کے سپرنٹنڈنٹ سید قمر علی شاہ ہوا کرتے تھے جو اردو اور فارسی زبان کے بہترین شاعر تھے، انہوں نے حمزہ شنواری کے متعلق کہا تھا ”یہ خبیث ضرور شاعر بنے گا“ بعد میں جب افغانستان میں اگست 1948ء میں کابل ریڈیو کے ایک مشاعرے میں ان کی حمزہ شنبواری سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے ”دیکھا میری پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی ناں“ ہاسٹل میں رہائش کے دوران ایک شب پیٹ خراب ہونے کی وجہ سے اپنے بستر سے اٹھ کر بیت الخلا چلے گئے، چوں کہ سخت نیند سے جاگے تھے اس لیے جوں ہی بیت الخلا میں بیٹھے تو سوگئے جس کی وجہ سے ہاسٹل کے اندر اور باہر ان کی تلاش شروع ہوگئی، ساتھیوں نے سمجھا کہ وہ سکول سے بھاگ گئے ہیں مگر رات کی تاریکی میں کہیں بھاگ کر جانا انہیں ناممکن سا لگ رہا تھا، پھر سوچا کہ شائد انہیں کوئی اغواء کرکے لے گیا ہے۔ اس دوران ایک ساتھی نے بیت الخلا کا دروازہ اندر سے بند دیکھا۔ کئی بار دروازہ کھٹکٹایا، آوازیں دیں مگر حمزہ شنواری تھے کہ نیند سے بیدار ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ بیت الخلا کے دروازے پر چڑھ کر اس لڑکے نے دیکھا کہ حمزہ ٹیک لگا کر سو ئے ہیں تو اس نے حمزہ کو آوازیں دیں اور جب وہ پھر بھی بیدار نہ ہوئے تو اپنی چپل اتار کر ان کے سر دے ماری، تب حمزہ شنواری نیند سے بیدار ہوئے۔ دیگر ساتھیوں نے بھی ان کی خوب خبر لی۔

حمزہ شنواری کو سکول سے اتنی نفرت پیدا ہوگئی تھی کہ جب صبح سکول کی گھنٹی بجتی تو انہیں وہ صور اسرافیل لگتی تھی بعد میں بھی جب وہ اسلامیہ کالجیٹ کے سامنے گزرتے تو ان پر کپکی طاری ہوجاتی۔ حمزہ کو موسیقی سننے کا بہت شوق تھا یہاں تک کہ خود بھی ایک اچھے اور مانے ہوئے رباب نواز تھے۔ وہ اردو، تاریخ اور انگریزی میں اچھے نمبر لیا کرتے تھے تاہم حساب اور جغرافیہ میں سخت نالائق واقع ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ ایک بار مڈل کے امتحان میں فیل بھی ہوئے تھے۔ نویں جماعت پاس کرنے کے بعد سکول کو خیرباد کہہ گئے اور 1924ء میں طورخم کے مقام پر پاسپورٹ کلرک بھرتی ہوئے۔ اس کے علاوہ قبائلی پولٹیکل نظام میں بھی بطور کلرک رہ چکے ہیں۔ اس دوران ان کی شادی بھی کرادی گئی۔

1926ء میں جب خیبر ریلوے پر کام شروع ہوا اور ان کے والد کو بھی اس میں ٹھیکہ ملا تو اپنے والد کے منشیوں کے ساتھ حساب کتاب میں معاونت کیا کرتے تھے۔ بعد میں ریلوے میں ملازمت بھی اختیار کی، چھ ماہ تک بطور گارڈ ڈیوٹی دی مگر کچھ دنوں کے بعد ارباب محمد ذکریا خان کی سفارش پر ٹی ٹی اے مقرر کردیے گئے۔ حمزہ شینواری اپنی سیمابی فطرت کی وجہ سے دیر تک ایک جگہ ملازمت نہیں کرسکتے تھے۔ محکمہ ریلوے سے مستعفی ہوکر اپنے ایک دوست میر عالم کے ہمراہ فلموں میں کام کرنے کی غرض سے بمبئی اور دہلی تک گئے، وہاں ایک مہینے تک رہے مگر کسی فلم کمپنی میں کام نہیں ملا۔ بعد میں انہیں اپنے بھائی احمد آباد کے راستے اجمیر شریف لے گئے اور خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر حاضری دی جہاں ان پر ایک عجیب قسم کی کیفیت طاری ہوگئی یہیں سے ان کے اندر کے صوفی نے انگڑائی لی، آنسو تھے کہ دریا کی مانند امڈے چلے آرہے تھے۔

1930ء کو فلمی دنیا میں داخل ہونے کے لیے راولپنڈی بھی گئے تھے اور وہاں پنجاب فلم کمپنی کے ڈائریکٹر ہری رام سیٹھی سے ملے۔ اس نے لاہور آنے کی دعوت دی اور لاہور جاکر انہیں ایک خاموش فلم میں قافلے کے محافظ کا کردار دیا گیا جس وقت واپس گاؤں آئے تو ان کے والد وفات پاچکے تھے۔ ان کے والد کی فاتحہ کے لیے آئی ایک روحانی شخصیت سید عبدالستار شاہ عرف بادشاہ جان سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان کے مرید بن گئے اور 1938ء میں ان کے ہاتھ بیعت کی اور اپنے اس مرشد کی ہدایت پر اپنی مادری زبان پشتو میں لکھنا شروع کردیا۔

1937ء میں تصوف کے موضوع پر پہلی کتاب ”تجلیات محمدیہ“ لکھی 1938ء میں ان پر الحاد کا دورہ آیا جو پانچ سال تک رہا۔ دسمبر 1941ء میں دوبارہ بمبئی چلے گئے اور رفیق غزنوی کے کہنے پر پہلی پشتو فلم”لیلیٰ مجنوں“ کے لیے گیت اور مکالمے لکھے۔ حمزہ اس وقت ہفت روزہ اخبارات میں اکثر ”پارس“ کا مطالعہ کرتے تھے جس کے ایڈیٹر کرم چند اور نائب مدیر سیوک رام باقر ہوا کرتے تھے اور دونوں حمزہ شنواری کا بڑا احترام کرتے تھے۔ اس اخبار میں ان کے افسانے اور مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔

1939ء میں بننے والی ادبی تنظیم بزم ادب پشتو کے نائب صدر جب کہ 1951ء میں پشتو کی معروف ترقی پسند ادبی تنظیم ”اولسی ادبی جرگہ“ کے صدر بھی رہے ہیں۔ وہ پاکستان رائٹرز گلڈ صوبہ سرحد کے اولین سیکرٹری جنرل بھی رہ چکے ہیں۔1946ء کو وہ آخری بار اجمیر شریف گئے وہاں سے واپس آئے تو تحریک پاکستان شروع ہوچکی تھی اپنے مرشد کے کہنے پر تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور امین الحسنات المعروف پیر مانکی شریف کے ساتھ تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس مقصد کے لیے اپنے گاؤں لنڈی کوتل میں ہر جمعہ کے روز تقریر کیا کرتے تھے انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کے دورہ خیبر کو ناکام بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ بحثیت مترجم انہوں نے رحمان بابا کی 204 غزلوں کا منظوم اردو ترجمہ اور علامہ اقبال کے جاوید نامہ اور ارمغان حجازکا بھی پشتو میں منظوم ترجمہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے والد کی ناراضگی کی باوجود اس لڑکی سے شادی کی جس سے وہ بے پناہ محبت کرتے تھے ان کی وہ بیوی پندرہ سال کے بعد انہیں داغ مفارقت دے گئی۔ حمزہ شنواری نے اپنی شاعری کی کتاب”غزونے“ (انگڑائیاں)کی بیشتر غزلیں اپنی اس بیوی کی فراق میں لکھی ہیں اور جس کی وجہ سے وہ دو سال تک گم صم رہے۔

1935ء میں جب پشاور سیکرٹریٹ کے اندر آل انڈیا ریڈیو کی شاخ قائم ہوئی اور جس کے انچارج محمد اسلم خٹک مقرر ہوئے تو اس کے لیے حمزہ شنواری نے پہلی بار ”زمیندار“کے نام سے ایک ڈرامہ لکھا، اس کے بعد قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں انہوں نے پشاور ریڈیو کے لیے سینکڑوں ڈرامے، فیچر اور تقریریں لکھیں، انہیں 1940ء میں منقعدہ ایک مشاعرے میں پشتو زبان کے معروف شاعر اور ادیب سمندر خان سمندر نے پشتو غزل کے بادشاہ کے خطاب سے نوازا۔ سکول کے زمانے میں وہ ہاکی کے بہت شوقین رہے، اس کے علاوہ وہ ایک مانے ہوئے بٹیر باز بھی تھے۔ ایک دفعہ کسی سے بٹیر چراکر اکھاڑے میں لے آئے جو لڑائی میں ہار کر بھاگ گیا، تماشیوں میں سے کسی نے باآواز بلند کہا کہ پرائے چرائے ہوئے بٹیر پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے، جس پر حمزہ شنواری کے ساتھ ساتھ وہاں موجود ہر شخص محظوظ ہوا۔ حمزہ شنواری روزانہ تین سیگرٹ پیا کرتے تھے۔ وہ نسوار بھی استعمال کیا کرتے تھے۔ حمزہ شنواری کی ایک انفرادیت یہ بھی رہی کہ ساری عمر اپنے قومی اور سادہ قبائلی لباس میں ملبوس رہے۔ وہ 35 کتابوں کے مصنف تھے, جن میں تصوف، شاعری، نفسیات اور ادب کے موضوع پر لکھی گئی کتابیں شامل ہیں۔

ان کا لکھا ہوا ناول ”نوے چپے“ (نئی موجیں) چودہ ابواب پر مشتمل مشہور ناول ہے جس کا مرکزی خیال پختون اتحاد پر مبنی ہے۔ ناول کا خاکہ 1947ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا لیکن ایوب خان کے دور حکومت میں اس پر پابندی عائد کردی گئی۔ ناول میں مذہب، سیاست، قومیت اور ادب جیسے بین الاقوامی مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے ریڈیائی ڈراموں میں ژرندہ گڑے (پن چکی چلانے والا) بے حد مشہور ڈرامہ ہے جس کی متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے ہیں۔”ژرندے گڑے“ کے قصے میں پختون معاشرے کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے اس ڈرامے کا قصہ پن چکی سے شروع ہوتا ہے اور پن چکی پر اختتام کو پہنچتا ہے۔ انہوں نے پہلا افسانہ خارغلی مورچہ (محاذ خارغلی) لکھا ہے جس میں افغانستان کے 1919ء کے واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ سیاسی شخصیات میں وہ خان عبدالغفار خان کو ایک بہترین مصلح، محب وطن اور عظیم قومی رہنماء کے طور پر پسند کرتے تھے اور ان پر لگائے گئے الزامات کی پر زور الفاظ میں مخالفت کرتے تھے۔ انہوں نے باچا خان کی وفات پر ایک فکر انگیز اور تاریخی مرثیہ بھی لکھاہے۔ ان کے فن اور شخصیت پر پروفیسر ڈاکٹر قابل خان آفریدی کا انگریزی زبان میں لکھا ہوا پی ایچ ڈی کا مقالہ ”حمزہ، لائف اینڈ ورکس“ حال ہی میں کتابی صورت میں شائع ہوچکا ہے۔اس کے علاوہ امیرحمزہ خان شنواری کی شاعری میں پختون قومیت کے موضوع پر پروفیسرڈاکٹراباسین یوسف زئی نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی ہے۔اسی طرح ان کی شاعری اور نثر پر پشتو،اردو اور انگریزی زبان میں سینکڑوں تحقیقی مقالے مختلف رسالوں میں شائع ہوچکے ہیں جس کا سلسلہ ہنوز بھی جاری ہے۔

امیرحمزہ شنواری کے خطوط پر مبنی ایک اور نیا غیرمطبوعہ مسودہ بھی ابھی ابھی دریافت ہوا ہے جس کی ایک کاپی پشتو کے معروف شاعر،ادیب اور صحافی گل محمد بیتاب کے پاس موجود ہے جسے راقم نے خود بھی دیکھا اور پڑھا ہے۔ان خطوط میں چند خطوط ایسے بھی لکھے گئے ہیں کہ جو باچاخان اور خان عبدالولی خان کی بھرپور سیاسی اور نظریاتی حمایت پر مبنی ہیں۔شاعری اور بیشتر تحقیقی وتنقیدی تحریروں کے علاوہ امیر حمزہ خان شنواری نے پشتو میں مکتوب نگاری کی صنف میں بھی گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ ان کی زندگی میں اور بعد از وفات بھی ان کے ہزاروں خطوط مختلف ناموں سے شائع ہوچکے ہیں۔ ان کے بیشتر اشعار ضرب المثل کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ وہ انگریزی روزنامہ ”خیبر میل“ کے پشتو صحفے کے انچارج بھی رہے اور اس کے لیے روزانہ مختلف معاشرتی اور ادبی موضوعات پر”ژور فکرونہ“ (گہری سوچیں) کے نام سے کالم بھی لکھتے رہے۔ پشتو زبان کے ارسطو اور جدید پشتو غزل کے بابا امیر حمزہ خان شنواری 87 سال کی عمر میں 18 فروری 1994ء کو خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کے یہ مشہور اشعار پختونوں میں زبان زد عام ہیں

وائی اغیار چہ د دوزخ ژبہ دہ
زہ بہ جنت تہ د پختو سرہ زم
ترجمہ۔ اغیار کہتے ہیں کہ دوزخ کی زبان ہے مگر میں جنت میں پشتو کے ساتھ جاؤں گا
سو چہ راغونڈ پہ یو مرکز ئے نہ کڑم
ھرے تپے تہ د جرگو سرہ زم
اپنی قوم کو ایک اجتماعی مرکز پر جمع کرنے کے لیے ہر تپہ اور علاقے میں جرگہ لے کرجارہا ہوں
پہ پردئی ژبہ خبرے پختون نہ کا
بے لیلا بلہ سودا خو مجنون نہ کا
اول خپلہ ژبہ پستہ نورے ژبے
بے بنیادہ عمارت خو سمون نہ کا
غیروں کی زبان میں پختون باتیں نہیں کرتا،کہ لیلیٰ کے بغیر مجنون اور کوئی فکر نہیں کرتا۔پہلے اپنی مادری زبان پس دیگر زبانیں کہ بنیاد کے بغیر کوئی عمارت تعمیر نہیں ہوسکتی۔
دا سرکوزی پختونہ عشقہ ولے
ستا د زلمیو ھغہ پگڑئی سہ شوے
اے پختون عشق یہ سر تسلیم خم کیوں؟آپ کے جوانوں کی پگڑیاں کہاں گئیں؟
چہ بیلتون می استحصال کوی د مینے
پہ ھر گام بہ ورتہ جوڑہ تاترہ کڑم
اگرفراق میری محبت کا استحصال کررہاہے تو میں اس کے مقابل قدم قدم پر تاترہ(پہاڑ) کھڑا کردوں گا
ماحمزہ تہ یثربی بادہ خاوندہ
پہ خاغلے پیمانہ کے د افغان را
یارب مجھے یثرب کی شراب بھی افغانی پیمانے میں دے
نمونے کے طور پر ان کی اردو غزلوں کے چند اشعار بھی پیش خدمت ہیں
ہر لحظہ کائنات پر یوں چھا رہا ہوں میں
جیسے کہ اپنے آپ کو اب پا رہا ہوں میں
کیا مرحلہ ہے عشق میں یہ کیا مقام ہے
آئے اکیلے آپ ہیں شرمارہا ہوں میں
حوادث کے تسلسل میں اتر کر
خود اپنے سامنے آتا رہا ہوں
تخیل میرا پختون ہے نظامی
کہ اب اردو کو بھی اپنا رہا ہوں
تری برہمی سے گلے میں جو اٹکی
وہ ہچکی مری مرض جاں ہوگئی ہے
ارے کیا ستم ہے کہ بیداری دل
ملی بھی تو خواب گراں ہوگئی ہے
محبت میں یہ کیا نیا موڑ آیا
کہ اس کی نظر بے زباں ہوگئی ہے
”حمزہ بابا کے چند پشتو اشعارکا اردو ترجمہ“
داغ دل! ناراض مت ہونا، مجبوری ہے، خون کہاں سے لاؤں کہ آپ کا چراغ روشن کرسکوں۔
خبردار رہو ایشیاء! آپ کی خیر نہیں اگر آپ کی جمعیت سے افغان قوم نکل گئی۔
دریائے سندھ اور دریائے کابل کے پانی پر پلنے اور جوان ہونے والے اس بات کا خیال رکھو کہیں کراچی کا پانی آپ کو بدل نہ ڈالے۔
بخدا تمہاری مہربانی بھی استحصال سے خالی نہیں، پر اے بہار! سمجھ لو کہ تمہاری نوابی اور سرداری کے دن بھی تھوڑے رہ گئے ہیں۔
شائد مسلسل خدائی سے ان کے دل بھر چکے ہیں اس لیے بتوں کے دل خانہ کعبہ میں تنگ ہوگئے۔
یہ جو ٹپک رہی ہے، روشنی نہیں بل کہ چاند کے آنسو ہیں، لگتا ہے پھر کسی مزدور اور دہقان کا پسینہ تپتی ہوئی دھوپ میں نکل رہا ہے۔
ان سے انسانیت کی حرمت محال ہے جو اپنا دل تاج اور محل پر رکھتا ہے۔
آپ کے عاشق کا خون جب اتنا ارزاں ہے پھر میرے معشوق! مہنگائی کی باتیں مت کیا کریں۔
اے ارمان! دل کو ان کی یادوں کا جنازہ مت لے کر آؤ، لوگ مقبرے اپنے گھروں سے دور بناتے ہیں۔
ہستی کی زندگی کی نبضیں اس لیے جنگلی بن گئے کہ انسانیت کے سبز چمن پر استعمار نے قبضہ کررکھا ہے۔
حمزہ اس دنیا میں مسلم اور غیر مسلم لاتعداد ہیں پر میں ان کا دوست ہوں جس میں انسانیت ہو۔
رقیب کی آنکھوں میں آج صلح اور آشتی کا پیغام اس لیے نظر آرہا ہے کیوں کہ کل اس نے ہماری آنکھوں کی لڑائی دیکھی ہے۔
میں نے انسان کے نفس سے جتنے بھی پردے اٹھائے، جان چکا ہوں کہ ایک ہوس کے اندر دوسری ہوس چھپی ہوئی ہے۔
چاہے زمانہ آپ کو پرکار کی طرح گھمائے مگر اپنے اصولوں اور نظریات کے نقطے پر قائم رہو۔
داغ دل! ناراض مت ہونا، مجبوری ہے، خون کہاں سے لاؤں کہ آپ کا چراغ روشن کرسکوں۔
خبردار رہو ایشیاء! آپ کی خیر نہیں اگر آپ کی جمعیت سے افغان قوم نکل گئی۔
بخدا تمہاری مہربانی بھی استحصال سے خالی نہیں، پر اے بہار! سمجھ لو کہ تمہاری نوابی اور سرداری کے دن بھی تھوڑے رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بونیر۔۔ پاکستان کی معاشی ترقی میں حصہ ڈال سکتا ہے

تحریر: شوکت حیات بونیری بونیر سنسکرت کے لفظ ”بن“ کی ایک شکل ہے جس کا …