سردار حسین بابک، خیبر پختونخوا کا ہیرا

تحریر: مولانا خانزیب

سردار بابک جیسے متحرک سیاسی کارکن کی وجہ سے پوری پختون سوسائٹی کے حوالے سے دنیا کو ایک عملی مثال دی جا سکتی ہے کہ پختون صرف متشددین نہیں ہیں، ان میں سوچ، فکر اور دلیل کی بنیاد پر بات کرنے والے باشعور سیاستدان، جوان اور نوجوانان بھی ہیں

مستجاب مومند کہ چرگہ د مغل دہ
زہ خوشال خٹک خو باز یم زائے می غر دی
قوم کی خیر کی خاطر سیاست اور سماج کا رشتہ ناگزیر ہوتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی کارکن اپنے سوسائٹی سے تعلق کی بنیاد پر لازماً ایک سماجی کارکن بھی ہوتا ہے۔ جو شخص سماجی خدمات کے ساتھ سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو صرف سماجی کارکن کے خول میں بند کر دیتا ہے تو وہ درحقیقت اپنی ذات کی نفی کا مرتکب ہوتا ہے کیونکہ جب بھی کوئی فرد یا معاشرہ غیر سیاسی بن جاتا ہے یا اسے غیر سیاسی کرنے کی دیدہ دانستہ کوشش کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں وہ معاشرہ روحانی طور پر مردہ ہو جاتا ہے اور مردہ معاشروں میں پھر سردار حسین بابک جیسے شاہینوں کیلئے زندگی ایک بے کیف سرور بن جاتی ہے۔


کسی بھی معاشرے کی حقیقی سیاست اس کی معاشی حقیقتوں اور سماجی ڈھانچے کا عکس ہوتی ہے۔ لہذا ظاہری طور پر سیاسی نظام کا نام اور ڈھانچہ چاہے کچھ بھی بنا لیا جائے سیاست کا جوہر وہی رہتا ہے جو معیشت اور معاشرت طے کر دیتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی اکثر سیاسی جماعتوں میں بھی جاگیر دارانہ اور سرمایہ دارانہ سوچ کی بالادستی کی وجہ سے اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون کتنا پارٹی فنڈ دے رہا ہے، کون سیٹ نکال سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ پارٹی کے اہم عہدے کے خواہشمند شخص کی کیا سماجی خدمات ہیں، اس کا ماضی کیا ہے، کردار کیسا ہے۔


یہاں بڑے فخر سے سیاست اور سماجی خدمت کو الگ الگ مضمون تصور کیا جاتا ہے۔ باچا خان اور ان کی جماعت، انجمن اصلاح افاعنہ سے لے کر خدائی خدمت گار تنظیم تک، دونوں کی سماجی اور سیاسی خدمات مثالی تھیں۔ سماجی خدمت کے جذبے سے نابلد شخص سیاسی میدان میں بھی عوام کی کوئی خدمت نہیں کر سکتا۔ سماجی خدمت کا مضمون ہر سیاسی کارکن کیلئے لازمی ہونا چاہیے۔ سماجی خدمات کیلئے ڈونیشنز کی ضرورت ہوتی ہے اور ڈونیشنز لوگ کسی قابل اعتبار سماجی کارکن کو ہی دیتے ہیں۔ لو گوں کی نفسیات یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی بھکاری کو بھی تب چار آنے دیتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ بھکاری صحیح معنوں میں حقدار ہے ورنہ معذرت کر لیتے ہیں۔ سیاسی کارکن کا سماجی خدمات کے ساتھ معاشرے میں قدکاٹھ مزید بڑھتا ہے۔ سماجی کارکن جس قدر زیادہ قابل اعتبار ہو گا اسی تناسب سے وہ خدمات سرانجام دینے کی پوزیشن میں ہوگا۔


ہمارے ہاں بھی اگر سیاسی جماعت کا رکن بننے کیلئے اچھے کردار کے سرٹیفیکیٹ کے علاوہ سماجی خدمات کا معقول ریکارڈ پیشگی شرط ہو تو نہ صرف سیاسی کلچر میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ کرپشن میں کمی آنے کی بنا پر معیشت کے حوالے سے اصلاح احوال کی امید بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ کچھ عرصہ سے پی ٹی آئی جیسی مصنوعی جماعت کے بل بوتے پر اسٹیبلشمنٹ نے کئی سالوں سے سیاست اور سیاسی جماعتوں کو بدنام کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، پاکستان کی ہر برائی کی ذمہ داری ان پر ڈال دی مگر ڈرامے کے ہدایت کاروں سے غلطی اس فلاپ ڈرامے میں یہ ہوئی کہ خود ان بیچاروں کے سر اقتدار کا ہما بٹھا دیا جو وزیراعظم سے لے کر اس کے وزرا تک ریاستی مشینری چلانے کے ھنر سے بیگانے ہیں اور وہ بزرجمہر حیران و پریشاں ہیں کہ ملک کیسے چلایا جاتا ہے۔ انتظامیہ کس عنقا کا نام ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے یہ بھی کوشش کی کہ یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ ملک سیاسی طور پر بانجھ پن کا شکار ہے، تمام سیاسی لیڈرز اور کارکن کرپٹ ہیں تاکہ اس ”جھوٹے ڈسکورس” کی بنیاد پر وہ غیر جمہوری قوتوں کے لئے راہ ہموار کر سکے۔ لیکن پی ٹی آئی کی ناکامی نے خود ملک کی حقیقی سیاسی جماعتوں کی صفائی پیش کر دی ہے اور اب لوگ برملا کہہ رہے ہیں کہ یہ ڈرامہ کیا تھا اور اس کا ڈراپ سین کیا تھا۔


ملک کی سیاسی جماعتوں میں نئے خون کی آمیزش اور سردار حسین بابک جیسے مڈل کلاس طبقے سے زبردست کردار نے لوگوں کے ذہنوں میں1970 کے دور کے سیاسی کارکنوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ سردار حسین بابک جیسے متحرک سیاسی کارکن کی وجہ سے پوری پختون سوسائٹی کے حوالے سے دنیا کو ایک عملی مثال دی جا سکتی ہے کہ پختون صرف متشددین نہیں ہیں، ان میں سوچ، فکر اور دلیل کی بنیاد پر بات کرنے والے باشعور سیاستدان، جوان اور نوجوانان بھی ہیں۔


سردار بابک اے این پی کی2008 کی صوبائی حکومت میں تعلیم کے وزیر تھے۔ اس وقت کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ عام سا کارکن نما بندہ خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں کون سے انقلابی اقدامات اٹھانے جا رہا ہے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جس کے کام اور سیاسی وژن کے اثرات دس سال بعد بھی چمک دمک کے ساتھ آشکارا ہوں۔ تعلیم ہی کسی قوم کی بنیاد کو اٹھانے کی اولین بنیادی شرط ہے۔ یہی سوچ انجمن اصلاح افاعنہ سے لے کر سردار حسین بابک اور ان کے ساتھ ساتھ اے این پی کی لیڈر شپ، ڈاکٹر احسان علی، ڈاکٹر خادم حسین اور ڈاکٹر سہیل جیسے نابغہ روزگاروں کی بھی ہے اور بلاشنہ جو ایک درست گائیڈ لائن بھی ہے۔ سردار حسین بابک جیسے سینکڑوں کردار کے حامل لوگ اے این پی میں اور بھی ہیں۔ سردار حسین بابک کی فعال اور متحرک سیاسی جدوجہد کی یہ نشانی کافی ہے کہ پختونوں کے وطن میں دوسری بار اسمبلی کی سیٹ جیتنا بھی مشکل ہوتا ہے مگر وہ تیسری بار مسلسل اپنے حلقے سے الیکٹ ہوکے آ رہے ہیں۔ اسمبلی کا فلور کسی بھی سیاسی کارکن کے لئے کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا سردار بابک تسلسل کے ساتھ اس اھم فورم پر طوطے کی طرح بولتے آ رہے ہیں۔ سردار بابک کا ہر قومی ایشو پر بہادری کے ساتھ بات کرنا ان لوگوں کیلئے قابلِ شرم ہے جو اپنے علاقے کے نمائندہ گان ہو کے بھی ڈر کے مارے اپنی مصیبتوں پر صم بکم ہوتے ہیں۔


سردار حسین بابک کی بات میں انتہائی معقولیت، قومی سیاست کا پختہ شعور اور پختونوں کا دکھ درد جھلکتا ہے۔ وہ جب بھی بات کرتے ہیں تو ان کے وزنی دلائل کے سامنے حکومتی پارٹی کے وزرا بولنے سے کتراتے ہیں۔ ہر بات کیلئے دلیل اور ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ میرے خیال میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں صرف پیسہ چلتا ہے ان کو سردار بابک کو مثال اور آئیڈیل بنا کر دلیری کے ساتھ سیاست میں آنا چاہیے۔ نہ کسی خان نواب کا بیٹا اور نہ ہی کوئی روایتی سرمایہ دار! اگر آپ میں سردار بابک کی طرح صلاحیتیں ہوں تو کوئی آپ کو سیاست میں نہیں روک سکتا۔


خطے کا امن، افغانستان کے ساتھ تعلقات، پختونوں کی قومی محرومیاں اور ریاستی اداروں کی ملکی معاملات میں غیرضروری مداخلت وہ ایشوز ہیں جن پر بات کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں مگر سردار بابک ان تمام موضوعات پر پورے ایک عشرے سے اپنی قومی تاریخ کے ساتھ درست کمٹمنٹ کی وجہ سے بلاخوف وخطر بولتے آ رہے ہیں اسی لئے تو ان پر کئی قاتلانہ حملے بھی ہوئے ہیں۔ یہ مضمون سردار بابک کی صوبائی اسمبلی کی ایک تقریر پر لکھنا مقصود تھی مگر بات کسی اور طرف نکل گئی۔


سردار بابک شمالی وزیرستان کے علاقے شکتوئی میں پیش آنے والے واقعہ پر پچھلے روز کھل کر بات کر رہے تھے کہ یہ ملک اس طرح نہیں چلے گا جس طرح کے واقعات اور رویے پختون وطن میں روزانہ پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیرستان کے علاقہ شکتوئی میں بزرگوں پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ وزیرستان سمیت دیگر علاقوں میں پختونوں کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ صوبائی اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے سوالات اٹھائے، اب فیصلہ عوام کریں کہ وزیرستان کے عوام کے اصل نمائندے کون ہیں، سردار بابک کے جواب میں اسی وزیرستان کا ایک ایم پی اے اٹھتا ہے، جس کا تعلق حکومتی جماعت سے بھی ہے اور آج سے پہلے اس نے اپنے علاقے کی بربادی پر ایک لفظ تک نہیں بولا ہے مگر جب سردار گرجے تو ان کو جواب دینے کے لئے وہ کس کے کہنے پر لب کشائی پر کمربستہ ہوئے یہ اب کوئی راز نہیں ہے۔ بجائے اس کے کہ سردار بابک کی باتوں کی تائید کرتے، اپنے تباہ و برباد علاقے کے لئے دو چار الفاظ بولتے اور اس واقعہ پر کھل کر بات کرتے الٹا بیچارہ ڈر کے مارے اپنی وفاداری ثابت کرنے کیلئے کہتا ہے کہ وزیرستان میں کچھ بھی نہیں ہوا ہے، وہاں سب اچھا چل رہا ہے اور وزیرستان کے ہزاروں لوگوں سمیت سردار بابک بھی غلطی پر ہیں وغیرہ وغیرہ۔


اس ایم پی اے کی باتیں سن کر مجھے اپنے وزیرستانی بھائیوں سے بھی گلہ ہوا کہ کس طرح کہ لوگ ہم آج بھی اپنے علاقوں سے اسمبلی میں بھیج رہے ہیں۔ اگر آپ سیاسی جدوجھد کے ساتھ پارلیمانی طرز سیاست پر یقین نہیں رکھیں گے تو اسی طرح کے لوگ پھر آپ کی نمائندگی کریں گے اور پورے علاقے کی بدنامی کا سبب بنیں گے۔ اپنے لوگوں کی نمائندگی کے بجائے وہ الٹا ان لوگوں کو بھی روک رہا ہے جو پختون وجود اور احساس کے درد سے آپ سے سینکڑوں میل دور ہو کے بھی آپ کیلئے تڑپ رہے ہیں مگر ہماری تقدیر ہے کہ ہم اب بھی ایف سی آر اور روایتی مراعات یافتہ طبقے کے اثر سے نہیں نکلنا چاہتے۔ مجھے اس شخص کی باتیں سن کر پچیس سال پہلے قومی اسمبلی کے فلور کا ایک واقعہ یاد آیا کہ قبائلی علاقوں کے کسی مسئلے پر حاجی غلام احمد بلور بات کر رہے تھے تو اس وقت ایک سرمایہ دار ایم این اے جس کا تعلق بھی وزیرستان سے تھا اس کا نام ملک سخی جان تھا اٹھا اور کہا کہ حاجی صاحب آپ ہمارے علاقوں کے مسئلوں پر بات نہ کریں وہاں سب کچھ ٹھیک ہے۔ مجھے پندرہ سال پہلے خیبر باڑہ کا حمید اللہ جان آفریدی یاد آیا جس نے سردار بابک کو ڈیوہ ریڈیو کے ایک پروگرام میں کہا کہ آپ ہمارے مسائل پر مت بولیں وہاں سب کچھ ٹھیک ہے۔
سردار بابک آپ دلیر ہیں، آپ اپنی ہزاروں سالہ تاریخ کے حقیقی وارث و امین ہیں، آپ کے پیچھے ستر ملین پختونوں کی آواز ہے۔ کوئی آپ کو کچھ کہے یا نا کہے مگر اپنی قوم کی تاریخ آپ سے کہہ رہی ہے کہ آپ نے اسی طرح اپنی محکوم و مجبور قوم کے لئے بولتے رہنا ہے۔ آپ اپنی مٹی کے حقیقی فرزندوں میں سے ایک ہیں، آپ غریب سیاسی کارکن ضرور ہیں مگر نظریہ و قومی سیاسی تاریخ کے حوالے سے فکر و شعورکی دولت سے آپ مالا مال اور امیر ہیں۔ آپ قوم کی حقیقی آواز کی بنیاد پر ایک کامیاب سیاسی وسماجی لیڈر ہیں۔ آپ پختون نوجوانوں کے مستقبل کے آئیڈیل ہیں۔ پوری پختون قوم کو آپ کی بھادری اور جرات پر فخر ہے۔ سلام و سلامتی تجھ پر،
کندھارہ بدخشانہ
ستا د ننگ شملہ یوہ دہ!
د ہراتہ تر ننگرہارہ
د پختون نارہ یوہ دہ!

یہ بھی پڑھیں

تحصیل تخت بھائی مسائل سے دوچار‘ہسپتالوں کی حالت ابتر‘سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل

موجودہ حکومت نے جو وعدے کئے تھے وہ بھول چکی ‘ نیا پاکستان تو نہ …

%d bloggers like this: