سردار حسین بابک، صاف گوئی جن کی سب سے بڑی ”خامی” ہے

تحریر: روخان یوسفزئی

غیرجانب دار احتساب کے قائل ہیں، ملک کے خلاف کسی بھی سازش کا ڈٹ کرمقابلہ کریں گے، ملکی سلامتی اور ترقی سب سے زیادہ عزیز ہے

دریاکے کنارے کا منظر سب سے بڑی کمزوری ہے، ہارمونیم سیکھنے کے بڑے خواہش مند اور اپنے آپ کو روایتی اور دیہاتی پختون کہتے ہیں، گھاس، لکڑیاں نہ لانے پر خوب مارکھاتے رہے، خدوخال سے” بونیروال”جب کہ باتوں سے” صوابی وال” لگتے ہیں، کسی جان دارکی جان لینا پسند نہیں کرتے

ہرکام میں چابک دستی اور تیزرفتاری ان کی ایک ایسی عادت بن چکی ہے جس سے وہ اب اپنی جان نہیں چھڑا سکتے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک لطیف مزاج اور ہنس مکھ انسان بھی ہیں، سیاست نے انہیں یہ حوصلہ بھی بخشا ہے کہ انہیں بعض اوقات کسی کی غیرضروری اور بے جا تفصیلی بات بھی بڑے خندہ پیشانی کے ساتھ سننا پڑتی ہے، یارباش اتنے ہیں کہ ہر وقت ان کے پاس دو چار دوست موجود پائیں گے، نفسیات سے تھوڑی بہت واقفیت رکھنے والا ان کے پاس چند لمحے بیٹھ کر خود ہی محسوس کر لے گا کہ اس بندے کی فطرت میں اضطراب کی مقدار کچھ زیادہ ہی ہے، ان کے دل و دماغ میں ہر وقت کچھ کرنے ساتھ ساتھ اپنی قوم اور اپنی مٹی سے بے پایاں پیارکا جذبہ موجزن رہتا ہے، اپنی قوم سے یہ لگاؤ اور زیست کے بارے میں ترقی پسندانہ اور صحت مندانہ سوچ ان کے رجائی طرزعمل اور فکر کے بین ثبوت ہیں۔

وہ زندگی کے تمام تر پہلوؤں اور اس کی رعنائیوں کے خوگر بھی ہیں اور قدردان بھی، کیوں کہ وہ ایک ایسے گاؤں (طوطالئی) میں پیدا ہوئے ہیں جس میں علاقہ بونیر اور صوابی دونوں کے قدرتی حسین رنگ اور مناظرموجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جسمانی خدوخال سے ” صوابی وال” جبکہ باتوں سے” بونیر وال” لگتے ہیں۔ وہ ایک حسن پرست فطرت لے کر پیدا ہوئے ہیں، ان کی سب سے بڑی خوبی جو موجودہ زمانے میں سیاست کے نصاب میں خامی سمجھی جاتی ہے وہ ہے ان کی صاف گوئی، وہ ضرورت سے زیادہ سنجیدہ نہیں رہتے ہیں بلکہ موقع محل کی مناسبت سے محفل کے رنگ میں رنگنے کا سلیقہ بھی خوب جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جہاں بھی احباب کے درمیان موجود ہوں تو مرکز نگاہ ہی نہیں بلکہ جان محفل بھی ہوتے ہیں۔ اپنی تیزدماغی، جملہ بازی اور لطیف مزاجی کے باعث محفل کی بے زارکن سنجیدگی اور بوجھل پن کو ایک چْٹکی ہی میں کشت زعفران بنا لیتے ہیں۔ انہیں جہاں بھی حقیقت کا معمولی سا ذرہ ہاتھ آتا ہے اسے اپنی پلکوں سے اٹھاتے ہیں۔ فطرت پسند طبیعت کے مالک ہیں۔


ندیوں، چشموں، دریاؤں کے جلال سے پیار کرنے والے سردار حسین بابک یکم جون1972ء کو بونیر کے علاقہ طوطالئی میں مستقیم خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نے دو شادیاں کی تھیں۔ وہ سگے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ معروف سینئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے سابق صدر شمیم شاہد کے چھوٹے بھائی ہیں۔ پانچ سال کی عمر میں ان کو علاقے کے ہی ایک پرائمری سکول میں داخل کروا دیا گیا جس کے بعد اپنے ہی علاقے سے مڈل کیا جب کہ میٹرک 1988ء میں کیا۔ اسی طرح سائنس سپیرئیر کالج پشاور سے 1990ء میں ایف ایس سی کیا اور 1994ء میں اسلامیہ کالج سے بی ایس سی کیا۔ پشاور یونیورسٹی سے ایم اے جرنلزم اور بعد میں انگریزی روزنامہ ” فرنٹیئر پوسٹ” اور ”فرنٹیئرسٹار” میں سب ایڈیٹر اور رپورٹر بھی رہے۔ کالج کے زمانے میں ایک دفعہ جمعیت اور پختون سٹوڈنس فیڈریشن کے درمیان فائرنگ میں معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔


تعلیم مکمل کرنے کے بعد عرب امارات چلے گئے اورگلف نیوز اور ریڈیوایشیاء کی پشتو سروس کے نمائندہ بھی رہے اور وہاں قائم تنظیم ”پختون ورورولئی” کے جنرل سیکرٹری بھی منتخب ہوئے تھے۔ دوسال تک وہاں زندگی گزاری اوراس کے بعدگاؤں واپس آئے اور سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا اور علاقے کے مسائل کو مختلف فورم پر اجاگر کرنا شروع کر دیا۔


گاؤں کے تمام روایتی کھیلوں میں حصہ لیا کرتے تھے، زمانہ طالب علمی میں فٹ بال کے بہترین کھلاڑی رہے۔ پہلے روزانہ واک ورزش کیا کرتے تھے تاہم سیاسی مصروفیات کے باعث اب وقت نہیں پاتے۔ اسلحہ چلانا جانتے ہیں مگر اس کی نمائش کو انسان کے اندر کا خوف قرار دیتے ہیں۔ شکار اس لیے نہیں کھیلا کہ وہ کسی جان دارکی جان لینا پسند نہیں کرتے۔ لطیفے سنتے بھی ہیں اور سناتے بھی ہیں۔ بچپن میں ان کے گھر کا ماحول بہت سادہ اور دیہاتی تھا، وہ زیادہ شرارتی نہیں تھے تاہم گھاس، لکڑیاں وغیرہ نہ لانے پر اپنے چچا اے این پی کے موجودہ ضلع بونیر کے صدر اور سابق صوبائی وزیر کریم بابک کے ہاتھوں بہت مار کھائی۔ وہ آج بھی اپنے چچا کی سختی کو تربیت کا ایک اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چچا کریم بابک نے ہر لحاظ سے ان کی مثالی تربیت کی ہے، اور آج میں جو کچھ بھی ہوں اس میں سب سے اہم کردار انہی کا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب سیاسی جماعتوں کے کارکنوں پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا تو ان کے چچا کریم بابک بھی زیر عتاب آئے اور جب ایک چھاپے کے بعد ان کو پکڑ کر لے جایا جانے لگا تو چھوٹے سردار حسین بابک نے آگے بڑھ کر پولیس اہل کاروں سے کہا کہ میرے چچا کو چھوڑ دو اور ان کے بدلے مجھے پکڑ کر لے جاؤ۔ وہ ابھی ساتویں جماعت میں ہی تھے کہ ایک دفعہ خان عبدالوالی خان کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا جس میں انہوں نے افغانستان میں جاری جنگ کو جہاد نہیں فساد قرار دیا تھا۔ اس بات کا ان پر اتنا اثر ہوا کہ افغان جنگ کے خلاف انہوں نے وال چاکنگ کرنا شروع کر دی۔


موسیقی کے بڑے دل دادہ ہیں اورآلات موسیقی میں ہارمونیم سیکھنے کے بڑے خواہش مند ہیں تاہم ابھی تک اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے ہیں۔ اردو میں جگجیت سنگھ اور پشتو میں گلزارعالم، سردارعلی ٹکر کی آواز ہمہ تن گوش ہو کر سنتے ہیں۔ ان کے مطابق پشتوکے ان گلوکاروں نے پشتو موسیقی کو ایک نیا رخ دیا ہے اور دور جدید کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں نئے گلوکاروں کا بڑا ہاتھ ہے۔ وہ موسیقی کو روح کی مٹھاس کا نام دیتے ہیں۔ وہ شعروشاعری سے بھی گہرا لگاؤ رکھتے ہیں مگرکوشش کے باوجود انہیں شعر یاد نہیں رہتے جس کا وہ بہت افسوس بھی کرتے ہیں۔ شاعروں میں غنی خان کو اس لیے زیادہ پسندکرتے ہیں کہ وہ پہلی بار پشتو میں زندگی، موت، انسان اور کائنات کے بارے میں نئے نئے سوالات سامنے لائے اور ہم عصر شعراء میں اپنے لیے ایک الگ راستہ اپنایا ہے۔


حسن چاہے جس شکل، رنگ اور آواز میں بھی ہو اس کے معترف ہیں۔ عشق کو زندگی کی حرارت قرار دیتے ہیں۔ سیروسیاحت کے بہت شوقین ہیں اور دریا کنارے کا منظر ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ہر کام میں تیزی کو اپنی خراب عادت گردانتے ہیں مگر یہ تیزی ان کی فطرت میں رچی بسی ہوئی ہے جس سے وہ گلوخلاصی نہیں کر سکتے۔


سیاسی شخصیات میں خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی سیاسی بصیرت اور خان عبدالولی خان کی دوراندیشی اور اصول پرستی سے بہت متاثر ہیں اور دونوں قائدین کو دنیا کے مثالی قائدین قرار دیتے ہیں۔ پھلوں میں کیلا شوق سے کھا لیتے ہیں۔ گرمی اور سردی دونوں موسموں میں چارسدہ وال چپل استعمال کرتے ہیں، خوب صورت لباس ان کی کمزوری ہے، شلوار قمیص کے ساتھ واسکٹ ضرور پہنتے ہیں۔ شاپنگ خود کرتے ہیں اور کسی چیز کی قیمت کے بارے میں دکاندار سے خوب بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔ خوراک کے معاملے میں اپنے آپ کو سبزی خور کہتے ہیں۔ فلموں کے شوقین نہیں رہے یہی وجہ ہے کہ انہیں صرف پہلی دیکھی ہوئی فلم ”باز او شھباز” کا نام یادہے جب کہ کسی دوسری فلم یا کسی اداکار اور اداکارہ کے نام تک سے واقف نہیں۔ سرکاری خزانے سے منظورکیے جانے والے منصوبوں کو افراد کے ذاتی ناموں سے منسوب کرنے کے سخت خلاف ہیں اور ان کو کسی معتبر اور معروف شخصیات کے نام دینے کے قائل ہیں کیوں کہ وہ فرد اور شخصیت کے معنیٰ اور مفہوم سے خوب جانکاری رکھتے ہیں۔


مذہبی جبر کے نقاد اور مذہبی آزادی کے خواہاں ہیں، ان کے خیال میں عوامی نیشنل پارٹی پختونوں کے حقوق کی ترجمان اور ضامن جماعت ہے اور ساتھ پختونوں کا سب سے بڑا قومی جرگہ بھی ہے۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ جب تک تخلیق کار اور قلم کار کو آزادی نہیں دی جائے گی اس وقت تک معاشرے میں روشن خیالی، اعتدال پسندی اور جمہوریت کی فضاء قائم نہیں ہو سکتی۔ وہ مضبوط مرکز کے خلاف جب کہ مضبوط پاکستان کے حامی ہیں اور اس کے لیے حقیقی معنوں میں مکمل صوبائی خودمختاری ضروری سمجھتے ہیں جس کے بغیر وہ پاکستان کے مستقبل کو انتہائی مخدوش اور خطرناک قرار دیتے ہیں۔ بقول سردارحسین بابک کے پختون سب سے بڑھ کر روشن خیال، ترقی پسند اور انسانیت سے پیارکرنے والے اور دہشت گردی، تنگ نظری اور جنگ و جدل سے نفرت کرنے والے لوگ ہیں۔ وہ صوبے میں امن کے قیام کو سب سے پہلی ترجیح اور ذمہ داری قراردیتے ہیں۔ وہ کسی بھی ادبی اور ثقافتی جبر کو پورے معاشرے کے لیے موت کا نام دیتے ہیں اور بطور مثال غالب کا شعر پیش کرتے ہیں کہ
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
وہ ملک سے باہر اور ملک کے اندر تمام صاحب ثروت پختونوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی موجودہ پس ماندگی کو ختم کرنے کے لیے اور اپنی قوم کو انتہاپسندی اور دہشت گردی سے نجات دلانے میں عوامی نیشنل پارٹی کا بھرپور ساتھ دیں۔ وہ پختونوں کے تمام مسائل کا حل تعلیم اور صنعت کے فروغ کو گردانتے ہیں۔


سردار حسین بابک نے پہلی مرتبہ 2002ء کے انتخابات میں قسمت آزمائی کی تھی مگر علاقے کی تمام سیاسی جماعتیں ان کے مقابلے میں متحد ہوئیں جس کی وجہ سے چند ووٹوں سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ ہار گئے تھے تاہم 2008ء کے انتخابات میں جیت گئے اور پہلے وزیر اطلاعات و نشریات اور بعد میں وزیر تعیلم مقرر کر دیئے گئے۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ 2013ء اور بعد میں 2018ء کے عام انتخابات میں ان کی جماعت کے بڑے بڑے برج الٹ گئے یا الٹ دیئے گئے تاہم سردار حسین بابک ان مخدوش حالات میں بھی علاقے کے عوام کی بھرپور خدمت کے عوض اپنی نشست برقرار رکھ سکے اور اب نہ صرف اپنی پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ہیں بلکہ صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کی ذمہ داری بھی احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔

وہ اپنے آپ کو روایتی اور دیہاتی پختون کہتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عہدے ہماری روایات اور عوام کے ساتھ راہ ورسم کو نہیں بدل سکتے، ہم جیسے پہلے تھے ویسے اب بھی ہیں اور آئندہ بھی ایسے ہی رہیں گے، ہمارے دروازے عوام کے لیے ہر وقت کھلے ہیں اور بغیر کسی سیاسی امتیاز کے ہم عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے انہوں نے بطور صوبائی جنرل سیکرٹری کی ذمہ داری سنبھالی ہے پارٹی کے مرکزی دفتر باچا خان مرکز پشاور میں کارکنوں کا تانتا بندھا رہتا ہے اور وہ تمام کارکنوں کے ساتھ ایسے پیش آتے ہیں جیسے وہ ان کارکنوں کو پہلے سے ہی خوب جانتے ہیں۔شادی شدہ ہیں، اور ایک بیٹی ”گلونہ” کے باپ ہیں اور اس سے بے پناہ پیار بھی کرتے ہیں تاہم پارٹی سرگرمیوں اور مرکز کے کاموں میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ اپنی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی کو بھی وقت نہیں دے پاتے ہیں جس کا وہ ہر وقت افسوس بھی کرتے ہیں مگر قوم اور پارٹی کی خدمت کو اس سے زیادہ اہم قرار دیتے ہیں۔


سردار حسین بابک پر چند سال قبل قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا مگر بال بال بچ گئے تھے۔ ان کے خیال میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کی مکمل بیخ کنی کے لیے ” نیشنل ایکشن پلان” کے تمام نکات پر فوری عمل درآمد ضروری ہے اور ملک کے جس حصے میں بھی انتہاپسندی، فرقہ واریت اور شدت پسندی کی نظریاتی تعلیم دی جاتی ہے ان تمام سرچشموں کو بند کرنا ہو گا۔ ہمارے اکابرین نے آج سے پچاس سال قبل جن باتوں کی نشاندہی کی تھی وہ آج ایک ایک سچ ثابت ہو رہی ہے۔ سردار حسین بابک کے بقول صوبائی حکومت کی اب تک کارکردگی انتہائی ناقص ہے، تبدیلی اور انصاف کے نام پر پختونوں کو سبزباغ دکھائے گئے مگر اب اس کی اصلیت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔

سردارحسین بابک پرامید ہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کے نوجوان اور متحرک صوبائی صدر ایمل ولی خان کی قیادت میں ان کی جماعت حیران کن نتائج دے گی کیوں کہ صوبے کے عوام کو ہماری جماعت کی سابقہ حکومتی کارکردگی اچھی طرح معلوم ہے، گذشتہ عام انتخابات میں ہماری جماعت کو کھل کر کھیلنے ہی نہیں دیا گیا، ہمیں جلسے جلوس نہیں کرنے دیئے گئے اور انتخابات کے نتائج بھی راتوں رات تبدیل کیے گئے مگر پھر بھی ہماری جماعت نے جمہوریت کی خاطر ان نتائج کو تسلیم کیا تاکہ اس ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوں اور آئندہ حالات جیسے بھی ہوں ہم کسی کے لئے بھی میدان چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ پختون اپنے دوست اور دشمن کو اچھی طرح جان چکے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا امن افغانستان کے امن اور نیشنل ایکش پلان کے تمام نکات پر فوری عمل درآمد سے جڑا ہوا ہے اور دونوں برادر ممالک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ طور پرکارروائی کرنی چاہیے اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختون خوا کو ہر معاملے میں نظرانداز کیا جا رہا ہے جو کہ موجودہ صوبائی حکومت کی نااہلی اور مرکز کی پختون دشمنی کا بین ثبوت ہے، چائنا پاک اقتصادی راہداری میں اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو اس کے تمام تر نتائج کی ذمہ دار مرکزی حکومت پر ہو گی اور ہم کسی طور بھی صوبے کے جائز حقوق پر کسی کو سودے بازی اور سمجھوتہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔


انہوں نے بتایا کہ ہماری جماعت غیرجانبدار احتساب کی قائل ہے اور کوئی بھی ملک کے آئین اور قانون سے مبرا نہیں ہے، احتساب بلا امتیاز ہرکسی کا ہونا چاہئے تاہم جمہوریت کے خلاف کسی بھی سازش کی ہماری جماعت بھرپور مخالفت کرے گی۔ ان کے بقول ہمیں اپنے ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی عزیز ہے، پاکستان کو صوبوں نے بنایا ہے نہ کہ پاکستان نے صوبے بنائے ہیں اس لیے تمام اکائیوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے تاکہ ملک میں قومی یکجتی اور اتفاق کی فضاء آگے بڑھ سکے۔

یہ بھی پڑھیں

تحصیل تخت بھائی مسائل سے دوچار‘ہسپتالوں کی حالت ابتر‘سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل

موجودہ حکومت نے جو وعدے کئے تھے وہ بھول چکی ‘ نیا پاکستان تو نہ …

%d bloggers like this: