سرتاج خان شہید، دشمن کی آنکھ کا کانٹا

شمیم شاہد

بشیر احمد بلور کی شہادت کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کو سرتاج خان کی صورت میں ایک ایسا نوجوان ملا تھا جس نے پارٹی کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا

سال گذشتہ کو اسی روز عوامی نیشنل پارٹی کے ایک اور نواجوان رہنماء سرتاج خان کو پشاور کے انتہائی گنجان آباد علاقے گلبہار میں نامعلوم حملہ آوروں نے گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔29  جون کو دن دیہاڑے ٹارگٹ کلنگ کی اس واردات نے شہر بھر کے لوگوں کو حیران و پریشان کر دیا تھا۔ نہ صرف عوامی نیشنل پارٹی بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی سرتاج خان کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔ وزیر اعلی محمود خان نے فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام کو قتل میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ ابھی تک پولیس حکام نے اس واقعے میں کسی قسم کی پیش رفت کے بارے میں کسی قسم کی تفیصلات فراہم نہیں کی ہیں جبکہ وزیر اعلی محمود خان کے اخباری بیان پر مشتمل نوٹس کے علاوہ حکمران جماعت کی جانب سے مسلسل خاموشی پر کئی قسم کے سوالات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

ویسے تو پچھلے پانچ چھ سالوں سے جب سے حکمران طبقے نے شمالی وزیر ستان اور ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں کا قلع قمع کیا ہے، گھات لگا کر اور دہشت گردی کے اکا دکا واقعات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اور اسی بنیاد پر نہ صرف مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماء بلکہ تجزیہ کار بھی حکمران طبقے کے عسکریت پسندی کے خاتمے کے دعوؤں سے متفق نہیں ہیں مگر سرتاج خان کے قتل کے واقعے نے تو حکمران طبقے کے تمام تر دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا تھا۔ کوئی مانے  یا نہ مانے مگر یہ ایک حقیقیت ہے کہ حکومت نے2006  سے لے کر2019  تک جن جن عسکریت پسندوں کے گروہوں کے خلاف کامیاب فوجی کارروائیاں کرنے اور انہیں ختم کرنے کے دعوے کئے ہیں وہ ابھی تک زندہ اور تابندہ ہیں۔

ان عسکریت پسندوں کے گروہوں کو زندہ اور تابندہ رکھنے میں اگر بعض بین الاقوامی جاسوسی اداروں کا ہاتھ ہے تو ساتھ ساتھ ان لوگوں کی پرورش اور قائم و دائم رکھنے میں ڈیورنڈ لائن کے آرپار رہنے اور حکمرانی کرنے والوں کا بھی ایک بہت بڑا کردار بنتا ہے۔

2009  میں وادی سوات اور ملاکنڈ ڈویژ ن کے دیگر اضلاع میں فوجی کارروائی کے بعد عسکریت پسند کمانڈر ملا فضل اللہ بعض اہم ساتھیوں سمیت سرحد پار افغانستان فرار ہوا۔ جبکہ بعد میں کالعدم لشکر اسلام کے منگل باغ آفریدی، کالعدم تحریک طالبان جماعت الاحرار کے عبدالولی مہمند اور نومبر2013  میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد کالعدم تحریک طالبان کے جنگجوؤں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی سرحد پار افغانستان چلی گئی۔ جون2014  کو شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی ضرب عضب کے شروع ہوتے ہی حافظ گل بہادر بھی اہم ساتھیوں اور جنگجوں سمیت خوست پہنچ گئے۔ ان تمام عسکریت پسندوں کا ایک ہی دعوی ہے کہ وہ اس خطے میں امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں کے خلاف لڑتے ہیں مگر افغانستان جانے کے بعد نہ تو انہوں نے امریکی افواج پر حملہ کیا اور نہ امریکی افواج کے نکلنے کا مطالبہ۔

عرصہ دراز سے عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین اور کارکن حقیقی معنوں میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر ملک ہی کے ریاستی اداروں کے اکابرین عوامی نیشنل پارٹی اور کارکنوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سرحد پار افغانستان بھاگنے والے عسکریت پسند بھی عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں۔

عجیب اتفاق ہے کہ سرحد پار افغانستان میں حکمران اور سیاسی عمل کی حمایت میں عوامی نیشنل پارٹی پیش پیش ہے مگر افغانستان میں حکمران جماعت اور رہنماء بھی ان عسکریت پسندوں کو پناہ دینے میں سرفہرست ہیں۔ افغانستان کے سیاسی رہنماؤں اور سرکاری عہدیداروں نے ابھی تک پاکستان سے فرار ہونے والے عسکریت پسندوں کے اصل اہداف کو بھانپ نہیں لیا ہے۔

سرتاج خان پشاور اور عوامی نیشنل پارٹی کے پہلا رہنما نہیں ہیں جن کو گھات لگا کر شہید کر دیا گیا۔ سر تاج خان سے پہلے اس قوم پرست سیاسی جماعت کے پشاور ہی سے تعلق رکھنے والے درجنوں کارکنوں اور عہدیداروں کو ناحق قتل کرایا جا چکا ہے۔ ان میں سے بشیر احمد بلور، بیرسٹر ہارون بلور، عالمزیب خان، میاں مشتاق، ابرار خلیل اور دیگر شامل ہیں۔ یہ تمام وہ لوگ ہیں جنہوں نے نہ صرف پشاور شہر اور نواحی علاقوں میں عوامی نیشنل پارٹی کو  متحرک رکھا بلکہ حکومت، حکومتی اداروں اور مخالف سیاسی جماعتوں کی راہ میں ایک اہم اور موثر رکاوٹ بھی ثابت ہوئے۔

پچھلے برس سرتاج خان کی شہادت سے قبل لگ بھگ ایک مہینے کے دوران موجودہ حکومت کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی نے خیبر پختونخوا بالخصوص پشاور میں ایسے مظاہرے کئے جس سے حکومت اور حکومتی اداروں میں افراتفری پھیلنا قدرتی عمل تھا۔ سب سے پہلے9  جون کو صوبے بھر میں مہنگائی کے خلاف تمام ضلعی ہیڈکوارٹر اور اہم شہروں میں مظاہرے کئے گئے۔ 18 جون کو ذرائع ابلاع کے خلاف پابندیوں کی  مذمت کے لئے پشاور پریس کلب کے سامنے اور24  جون کو نیب ہیڈکوارٹر پشاور کے سامنے مظاہرے کرنے میں سرتاج خان نے نہایت متحرک کردار ادا کیا تھا۔

یہ حقیقت ہے کہ بشیر احمد بلور کی شہادت کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کو سرتاج خان کی صورت میں ایک ایسا نوجوان ملا تھا جس نے پارٹی کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور جس کی وجہ سے وہ قوم پرست سیاست اور جمہوریت دشمن قوتوں کی آنکھوں کا کانٹا ثابت ہوئے تھے۔ ایک بات بلکل واضح ہے کہ جمہوریت دشمن قوتوں کے سامنے عوامی نیشنل پارٹی ایک بہت بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور اے این پی کے بعد کوئی بھی ان قوتوں کو روکنے والا نہیں ہو گا جو حقیقت میں ملک اور قوم کے بہتر مستقبل کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مذہبی رواداری

کسی بھی ملک یا معاشرے میں مذہبی رواداری کو نظر انداز کر کے امن و …