سید الانبیاء ایک انگریز مفکر کی نظر میں

sadar Jamal

”حضرت محمدۖ میرے خیال میں یقیناً پیغمبر صادق ہیں اور میں آپۖ کے وہ اوصاف بیان کر دینا چاہتا ہوں جو انصاف کے ساتھ بیان کر دینا ضروری ہیں۔” تھامس کارلائل

تھامس کار لائل انیسویں صدی کا ایک نامور انگریز مصنف، مورخ اور مفکر تھا۔ اس کے لیکچروں کا مجموعہ ”ہیرو اینڈ ہیرو ورشپ” بہت مشہور ہے  جس میں ایک لیکچر حضور رسالت مابۖ کے متعلق بھی ہے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ عیسائی اہل قلم اور اہل کلیسا اسلام اور بانی اسلام پر طرح طرح کے الزامات عائد کر کے اپنے مذہبی تعصب اور تنگ نظری کا ثبوت دیتے تھے کار لائل نے پیغمبرۖ کی عظمت کا اعتراف جس خلوص و دیانت کے ساتھ کیا ہے وہ خود اس کی بالغ نظری اور روشن ضمیری کی دلیل ہے۔ پیش نظر مضمون کار لائل کے اسی لیکچر سے ماخوذ ہے۔

ہمارے پیش نظر ہیرو (محمدۖ ) کو اپنے ابنائے جنس میں خدا نہیں مانا گیا بلکہ ایسا انسان سمجھا گیا ہے جسے خدا کی طرف سے وحی ہوئی یعنی پیغمبر۔ کسی بڑے انسان کو خدا سمجھ لینا لوگوں کی نہایت فاش اور ابلہانہ غلطی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہمیشہ یہ مشکل سوال پیش رہا ہے کہ دراصل انہیں کیا سمجھنا چاہئے اور کس طرح ان کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ کسی عہد کی تاریخ میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس زمانہ کے لوگوں نے کسی جلیل القدر انسان کا استقبال کس طرح کیا۔

لوگوں کو ہمیشہ ایسے انسان میں صفات ایزدی کا کچھ نہ کچھ پرتو نظر آیا ہے۔ اور یہ نہایت اہم سوال رہا ہے کہ لوگ ایسے شخص کو خدا سمجھیں یا پیغمبر یا کچھ اور۔ حضرت محمدۖ میرے خیال میں یقیناً پیغمبر صادق ہیں اور میں آپۖ کے وہ اوصاف بیان کر دینا چاہتا ہوں جو انصاف کے ساتھ بیان کر دینا ضروری ہیں۔ حضرت محمدۖ کے متعلق ہم عیسائیوں کا یہ قیاس بالکل بے بنیاد ہے کہ آپۖ (نعوذباللہ) دغا باز اور کذب مجسم تھے اور آپۖ کا مذہب محض فریب و نادانی کا ایک مجموعہ ہے۔ کذب کا وہ انبار عظیم جو ہم نے اپنے مذہب کی حمایت میں اس ہستی کے خلاف کھڑا کیا ہے خود ہمارے لیے شرمناک ہے۔ اس شخص کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ بارہ سو برس سے اٹھارہ کروڑ انسانوں کے حق میں شمع ہدایت کا کام دے رہے ہیں۔ یہ اٹھارہ کروڑ انسان بھی ہماری طرح خدائے تعالیٰ کے دست ِ قدرت کا نمونہ ہیں۔ بندگان ِ خدا کی بیشتر تعداد آج بھی کسی اور شخص کی بہ نسبت محمدۖ کے اقوال پر ایمان رکھتی ہے۔

کیا ہم کسی طرح اسے تسلیم کر سکتے ہیں کہ یہ سب روخانی بازی گری کا ایک ادنیٰ کرشمہ تھا جس پر اتنے بندگانِ خدا ایمان لائے؟ کیا ایک جھوٹا آدمی کسی مذہب کا بانی ہو سکتا ہے؟ جھوٹا آدمی تو اینٹ اور چونے کا ایک مکان تک نہیں بنا سکتا۔ اگر کسی شخص کو مٹی، چونے اور ان اشیاء کے خواص کا صحیح علم نہ ہو جو مکان کی تعمیر میں استعمال ہوتے ہیں تو اس کا بنایا ہوا مکان، مکان نہ کہلا سکے گا بلکہ مٹی کا ایک ڈھیر ہو گا۔ ایسا مکان بارہ صدی تک نہیں قائم رہ سکتا اور نہ اس میں اٹھارہ کروڑ انسان سما سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ خلوص بڑا گہرا خلوص اور سچا خلوص ہر بڑے انسان کی پہلی خصوصیت ہے اور ایسے شخص کو ہم ”اوریجنل انسان” کہتے ہیں۔

اس کی فطرت کسی پہلے مرقع کی نقل نہیں ہوتی۔ وہ ایک ایسا قاصد ہے جو پردہ غیب سے پیغام دے کر ہمارے پاس بھیجا گیا۔ خواہ ہم انہیں شاعر کہیں یا پیغمبر یا دیوتا۔ بہر صورت ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ساری نوع انسان کے الفاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہ حقیقت اشیاء کی روح رواں سے نکلتا ہے اور رات دن اسی میں بسر کرتا ہے۔ اوہام ان سے اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتے۔ وہ اندھا ہو، بے خانماں ہو، مصیبت زدہ ہو، روزمرہ کی گفتگو میں منہمک ہو لیکن یہ حقیقت روز روشن کی طرح ہر وقت اس کے پیش نظر رہتی ہے ۔ کیا ان کے الفاظ فی الحقیقت ایک طرح کی وحی نہیں ہیں۔ جب اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی اور لفظ ہی نہ ہو تو پھر ہم وحی کے سوا اسے کس نام سے تعبیر کریں؟ ایسے انسان کی ہستی قلبِ کائنات سے ابھرتی ہے اور وہ اشیاء کی بنیادی حقیقت کا جزو ہوتا ہے۔

خدائے تعالیٰ نے اس دنیا میں بہت سے الہام بھیجے ہیں لیکن کیا یہ شخص اس کا آخری اور تازہ ترین مظہر نہیں ہے۔ ان کی عقل وحی کی پروردہ ہوتی ہے۔ ہم کسی طرح حضرت محمدۖ کو (نعوذباللہ) حریص و منصوبہ باز اور ان کی تعلیمات کو جہل و نادانی نہیں سمجھ سکتے۔ وہ پیغام جو آپ لے کر آئے تھے بالکل سچا تھا۔ وہ ایک آواز تھی جو پردہ غیب سے بلند ہوئی۔ اس شخص کے نہ اقوال جھوٹے تھے نہ افعال۔ ان میں تنگ نظری اور نمائش کا شائبہ تک نہ تھا۔ وہ زندگی کا ایک تابان تھے جو خاص سینہء فطرت سے ہویدا ہوئے اور جسے خالق عالم نے کائنات کو منور کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

یہ امر کہ آپۖ نے جوشِِ شباب کے ختم ہونے تک بالکل معمولی طریقہ پر اور نہایت سادگی و خاموشی کے ساتھ اپنی زندگی کے دن گزارے بجائے خود اس خیال کی تکذیب کرتا ہے کہ آپۖ کی نیت میں (خدانخواستہ) کسی طرح کا مکرو ہ فریب تھا۔ چالیس سال کی عمر میں آپۖ نے نبوت کا دعوٰی کیا اور اس وقت تک بھی آپۖ کی ساری کوشش پاک زندگی بسر کرنے کے لیے تھی اور آپ کی شہرت بہت اچھی تھی اور ہمسائے آپ کے متعلق بہت نیک خیالات رکھتے تھے۔ مخالفوں کا یہ کہنا جب بڑھاپا آ پہنچا اور ساری گرمی شباب ختم ہوگئی اور آپ کے لیے اس دنیا میں صرف اطمینان و عافیت ہی ایک چیز باقی رہی تو اس وقت آپ کو ہوس پرستی کی سوجھی اور اپنے سارے گزشتہ خصائل و فضائل پر پانی پھیر کر ایک ایسے شے کے لیے مکرو فریب اختیار کیا۔ آپۖ سیر چشم، پاک طبیعت اور صاف باطن انسان ہیں جنہیں مادر ِ صحرا نے اپنی آغوشِِ شفقت میں پالا تھا۔ (ٹامس کار لائل کے مضمون سے اقتباس)

یہ بھی پڑھیں

باجوڑ اور مہمند کا تنازعہ اور تاریخی حقیقت

تحریر: شیخ جہان زادہ نواب صفدر خان اپنے اردگرد لوگوں سے اچھا برتاؤ رکھتے تھے، …