باجوڑکی زرعی زمینوں پر تعمیرات کی بھرمار، زرعی پیداوار اور ماحول کیلئے بڑا چیلنج

تحریر: شاہ خالد شاہ جی


ماحولیات کو آلودہ کرنے میں دوسرے عوامل کے ساتھ ایک چیز بے ہنگم یعنی بے ترتیب تعمیرات بھی ہیں جس سے ماحول پر بہت برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر ایک طرف انسانی آبادی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف اس کے ساتھ ساتھ تعمیرات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور پچھلے دس سالوں سے اس میں بہت تیزی دیکھی گئی ہے۔ یہ اضافہ صرف ایک خطے میں نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں ہے لیکن جو ممالک ترقی یافتہ ہیں تو وہاں پر اس کے لئے ایک خاص نظام موجود ہے اور اس نظام کے تحت نئی تعمیرات بن رہی ہیں جس سے زرعی زمین اور ماحولیات متاثر ہونے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے لیکن ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس سے بہت سے زرعی اور ماحولیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

ہمارے ملک پاکستان میں تعمیرات بہت تیزی سے بن رہی ہیں اور اس میں سالوں اور مہینوں میں نہیں بلکہ ہفتوں اور دنوں میں تبدیلی ہو رہی ہے۔ میں تو یہاں پر پورے پاکستان کی بات اب نہیں کروں گا اور نہ صوبہ خیبر پختون خواہ کی بات کروں گا بلکہ میں اپنے علاقے ضلع باجوڑ کا ذکر کروں گا کہ جس کی موجود وقت میں کیا صورتحال ہے۔

باجوڑ میں جس رفتار سے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اسی رفتار سے گھروں اور دوسری تعمیرات میں اضافے کا سلسلہ بھی جاری ہے، بیس سال پہلے باجوڑ کے لوگ زیادہ تر دیہاتوں میں رہنے کو ترجیح دیتے تھے اور گاؤں میں اکٹھے رہنے کی جو پختونوں کی صدیوں سے پرانی روایت ہے وہ پہلے بہت مضبوط تھی لیکن اب یہ روایت بھی ختم ہو رہی ہے

باجوڑ کا شمار رقبے کے لحاظ سے قبائلی اضلاع میں چھوٹے یعنی کم رقبے والے اضلاع میں ہوتا ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔ اس کی آبادی حالیہ مردم شماری کے مطابق بارہ لاکھ کے قریب ہے۔ باجوڑ میں جس طرح آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اسی طرح گھروں اور دوسری تعمیرات میں بھی بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ بیس سال پہلے باجوڑ کے لوگ زیادہ تر دیہاتوں میں رہنے کو ترجیح دیتے تھے اور گاؤں میں اکٹھے رہنے کی جو پختونوں کی صدیوں سے پرانی روایت ہے وہ پہلے بہت مضبوط تھی لیکن اب یہ روایت بھی ختم ہو رہی ہے۔ پہلے تمام بھائی ایک گھر میں رہتے تھے لیکن اب ہر ایک الگ الگ گھر میں رہنے کو ترجیح دے رہا ہے اور اس کی وجہ سے گاؤں سے لوگوں باہر زرعی زمینوں میں آ گئے ہیں۔ ہر ایک اپنی مرضی سے اپنے لئے گھر تعمیر کر رہا ہے، جس کا دل زمین میں جس جگہ چاہتا ہے وہاں پر گھر کی عمارت کھڑی کر دیتا ہے۔ کسی کو زراعت اور ماحول کے اصولوں سے کوئی سروکار نہیں۔ اگرکسی بندے کا پانچ مرلے کا گھر میں گزارا ممکن ہو تو اس نے دو کنال زمین میں گھر بنایا ہوا ہے۔

یہ صورتحال باجوڑ کے ہر علاقے میں عام دکھائی دیتا ہے جس کی وجہ سے ایک طرف زرعی زمین میں بہت حد تک کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ لوگوں نے گھر ایسی زمینوں پر بنائے ہیں جو زرعی پیداوار کے لحاظ سے بہت اچھی اور زرخیز تھیں۔ دوسرا یہ کہ جتنے بھی گھر اب بنے ہیں تو وہ سیمنٹ کے پختہ بلاکوں اور اینٹوں سے بنے ہیں جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ پختہ تعمیرات کے اندر سورج کی شعائیں جذب ہو کر پھر اس سے واپس منعکس ہوتی ہیں اور پختہ عمارتوں میں جذب ہونے کی صلاحیت اس طرح نہیں ہوتی جس طرح کچے یعنی مٹی سے بنی عمارتوں میں ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اردگرد ماحول دن بدن گرم ہو تا جا رہا ہے۔ اور پختہ عمارتوں میں گرمیوں کے موسم میں مکینوں کا جینا محال ہوتا ہے کیونکہ وہ اتنے گرم ہو جاتی ہیں کہ وہ ا یک گرم بھٹی کے مانند ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف کچی عمارتوں میں گرمی جذب کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور وہ اس طرح گرمی کو منعکس بھی نہیں کرتیں جس سے اردگرد کا ماحول بھی معتدل ہوتا ہے اور عمارت خود بھی گرمیوں میں ٹھنڈی ہوتی ہے۔ ہم نے جتنے لوگوں سے بات کی ہے، جن کے مکانات پختہ ہیں، تو ان کے مطابق ان گھروں میں کے کمرے نہ سردیوں میں استعمال کے قابل ہوتے ہیں اور نہ گرمیوں میں کیونکہ گرمیوں میں زیادہ گرم اور سردیوں میں زیادہ سرد ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بے ترتیب تعمیرات سے ایک اور بہت بڑا نقصان جو ماحولیات کو ہو رہا ہے وہ عمارتوں کے تعمیر کے لئے درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے۔

محکمہ جنگلات باجوڑ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ضلع باجوڑ کا کل رقبہ 340000 ایکڑ ہے جس میں 45000 ایکڑ پر محکمہ جنگلات باجوڑ نے پچھلے20 سالوں کے دوران جنگلات لگائے ہیں۔ اسی طرح 40000 ایکڑ رقبے پر پہاڑ اور قدرتی جنگلات ہیں۔ پورے ملاکنڈ ڈویژن اور ضلع باجوڑ میں عمارتوں اور سڑکوں کی تعمیر کے لئے درختوں کی بے دریغ کٹائی کا عمل جاری ہے۔ ایک طرف عمارتوں میں مختلف مقاصد کے لئے لکڑی کا استعمال ہو رہا ہے تو دوسری طرف اس کو کاٹ کر اس کی جگہ پر عمارتیں بنائی جاتی ہیں۔ پہلے لوگ گرمی سے بچنے کے لئے درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں چارپائی ڈال کر بیٹھتے تھے اور دوپہر کے وقت اکثر گاؤں کے لوگ وہاں پر سو جاتے تھے لیکن اب عمارتوں کی بہتات اور درختوں کی کٹائی کی وجہ سے وہ بھی ممکن نہیں رہا۔ برسوں سے اپنی جگہ پر کھڑے بڑے بڑے درخت جو آکسیجن فراہم کرنے والے کارخانے ہوتے تھے اور جو ہمارے اسلاف کی نشانیاں ہوتے تھے، اس کو بھی ہمارے لوگوں نے اپنی دنیاوی خواہش کی تکمیل کے لئے زمین سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جو نہ صرف ایک دردناک عمل ہے بلکہ ماحول دشمنی کے مترادف بھی ہے۔

اگر ایک طرف محکمہ جنگلات دن رات اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح جنگلا ت کا رقبہ بڑھایا جائے تو دوسری طرف عام لوگ ان کی کوششوں پر پانی پھیر رہے ہیں۔ درختوں کی اس بے رحمانہ کٹائی سے جنگلات کے رقبے میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ کسی کو یہ احساس بھی نہیں ہے کہ اس نے اگر ایک درخت کاٹ دیا ہے تو اس کو دوسرا لگانا چاہئے لیکن اس سے یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ جتنے زیادہ گھر یا عمارتیں ایک جگہ پر ہوں تو اس کو ماحولیات کے لحاظ سے ہر چیز ایک نظام کے تحت مہیا کی جا سکتی ہے۔ اگر ایک جگہ پر ایک گاؤں ہو اور دوسری جگہ پر دو گھر تو دو گھروں کو سہولتیں پہنچانے پر اتنا ہی خرچ آتا ہے جتنا کہ ایک گاؤں کو فراہمی پر کیونکہ ان دو گھروں تک اگر سڑک بنانا ہو تو اس کے لئے زرعی زمین میں اس کو گزارنا پڑتا ہے۔ اسی طرح اس کے لئے درختوں کو کاٹنا پڑتا ہے، نکاسی آب کے لئے اگر بندوبست کرنا ہوتا ہے یہ ساری چیزیں بنانا براہ راست ماحولیات پر اثر کرتا ہے اور اس سے ماحولیات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال صرف گھروں کی عمارت و تعمیرات میں نہیں ہے بلکہ بازاروں میں اور مارکیٹوں کے بنانے میں بھی اسی طرح بے ترتیبی ہو رہی ہے جہاں پر نہ پارکنگ کی جگہ ہوتی ہے اور نہ نکاسی آب کا انتظام جس سے ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ لیکن اس مسئلے کی طرف کسی نے بھی توجہ نہیں دی کہ وہ جو کر رہا ہے اس سے ماحولیات کو کتنا نقصان ہو رہا ہے۔

پہلے تمام بھائی ایک گھر میں رہتے تھے لیکن اب ہر ایک الگ الگ گھر میں رہنے کو ترجیح دے رہا ہے اور اس کی وجہ سے گاؤں سے لوگوں باہر زرعی زمینوں میں آ گئے ہیں، ہر ایک اپنی مرضی سے اپنے لئے گھر تعمیر کر رہا ہے، جس کا دل زمین میں جس جگہ چاہتا ہے وہاں پر گھر کی عمارت کھڑی کر دیتا ہے، کسی کو زراعت اور ماحول کے اصولوں سے کوئی سروکار نہیں، اگرکسی بندے کا پانچ مرلے کا گھر میں گزارا ممکن ہو تو اس نے دو کنال زمین میں گھر بنایا ہوا ہے

یقیناً بے ترتیب عمارتیں ماحولیات کے ساتھ ساتھ زراعت پر بھی بہت برے اثرات ڈال رہی ہیں جس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ محکمہ زراعت باجوڑ کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق باجوڑ میں کل رپورٹڈ شدہ زرعی زمین 129036 ہیکٹرز پر مشتمل ہے جس میں 77062 ہیکٹرز قابل کاشت جبکہ با قی بنجر ہے۔ 77062 ہیکٹرز زمین میں سے 15970 ہیکٹرز کے لئے پانی دستیاب ہے اور باقی بارانی ہے۔ محکمہ زراعت ضلع باجوڑ کے ایک ذمہ دار ضیاء الاسلام داوڑ نے بتایا کہ ضلع باجوڑ کی زرعی زمینوں پر بہت تیزی کے ساتھ تعمیرات ہو رہی ہیں جو بہت تشویشناک بات ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو چند سالوں میں باجوڑ ایک اہم زرعی اراضی سے محروم ہگا جس کا پھر کوئی ازالہ نہیں ہو سکے گا کیونکہ باجوڑ میں پہلے سے زرعی زمین کی کمی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اس سلسلے میں انہوں نے وقتاً فوقتاً ضلعی انتظامیہ کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ زرعی زمینوں پر تعمیرات کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی موثر اقدامات نہیں اٹھائے گئے کیونکہ پہلے تو یہاں پر ایف سی آر کا قانون تھا اور زرعی قوانین اس طرح نہیں تھے جس طرح صوبے کے دوسرے اضلاع میں لیکن اب چونکہ قبائلی اضلاع کا انضمام ہوا ہے صوبے کے ساتھ تو اب یہاں پر جو زرعی قوانین صوبے میں موجود تھے تو ان کا اطلاق یہاں پر بھی ہو گا اور اب اس میں بہتری کی امید ہے، اب جس زمین پر بھی کوئی عمارت تعمیر ہو گی تو اس کے لئے پہلے سے محکمہ زراعت سےNOC لینا ہو گا۔ اس کے علاوہ محکمہ زراعت نے بھی جگہ جگہ پورے باجوڑ میں لوگوں کی آگاہی کے لئے فلیکس لگائے ہیں اور دیواروں پر وال چاکنگ بھی کی گئی ہے جس پر زرعی زمینوں پر ہر قسم تعمیرات سے اجتناب کرنے اور بنجر زمینوں پر تعمیرات بنانے کے نعرے (پیغامات) درج کئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زمینداروں اور عام لوگوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً آگاہی سیشنز بھی منعقد کئے جاتے ہیں اور اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ اپنی قیمتی زرعی زمینوں کو تعمیرات کی نذر نہ کیا جائے کیونکہ باجوڑ کی زمینیں انتہائی زرخیز ہیں اور ہر قسم کی فصلیں، سبزیاں اور میوہ جات کی اچھی پیداوار دیتی ہیں اس لئے اس سے زراعت کی مد میں فوائد حاصل کریں۔

ماحولیات کے تحفظ کے صوبائی ایجنسی کے کلائمیٹ چینج سیل نے چند سال پہلے زرعی زمینوں پر تعمیرات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لئے ایک پالیسی پر کام شروع کیا تھا جس کو صوبے کے دوسرے اضلاع میں نافذ کیا گیا ہے لیکن ضم شدہ اضلاع میں اس کا نفاذ نہیں ہوا ہے جس کے لئے اب کوشش کی جارہی ہے کہ اس کو ضم شدہ اضلا ع میں بھی نافذ کیا جائے۔دوسری طرف ماہنامہ فروزاں نے جب ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس باجوڑ سہیل عز یز کی توجہ اس اہم مسئلے کے طرف مبذول کرائی تو انہوں نے کہا کہ واقعی یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور وہ عنقریب باجوڑ کے عوام کے اگاہی کے لئے محکمہ زراعت توسیع باجوڑ کے مشورے سے ایک سمینار منعقد کریں گے تاکہ اس مسئلے سے عوام کو باخبر کیا جائے اور ان میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ زرعی زمینوں پر تعمیرات سے گریز کیا جائے اور بنجر زمینوں پر تعمیرات کریں۔

برسوں سے اپنی جگہ پر کھڑے بڑے بڑے درخت جو آکسیجن فراہم کرنے والے کارخانے ہوتے تھے اور جو ہمارے اسلاف کی نشانیاں ہوتے تھے، اس کو بھی ہمارے لوگوں نے اپنی دنیاوی خواہش کی تکمیل کے لئے زمین سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جو نہ صرف ایک دردناک عمل ہے بلکہ ماحول دشمنی کے مترادف بھی ہے

ماحولیات کے تحفظ کی صوبائی ایجنسی اور محکمہ زراعت باجوڑ کے اقدامات اپنی جگہ قابل ستائش ہیں لیکن اس میں مزید تیزی لانا چاہئے کیونکہ باجوڑ کی زرعی زمینوں پر جس تیزی کے ساتھ تعمیرات ہو رہی ہیں، یہ قابل تشویش ہے۔ پاکستان میں عمارتوں کی تعمیر کے لئے موثر قوانین موجود ہیں، اگرچہ ان پر اسی طرح عمل نہیں ہو رہا جس طرح ہونا چاہئے لیکن پھر بھی لوگوں کو کچھ نہ کچھ احساس تو ہے شہری علاقوں میں لیکن ہمارے جیسے دیہاتی علاقوں میں جہاں پر ان کا نفاذ نہیں ہے اور نہ کوئی قانون ہے تو اس کے لئے بھی ایک پالیسی حکومتی سطح پر جلد سے جلد بنانی چاہئے تاکہ زرعی زمینوں پر تعمیرات اور ماحولیات کی تباہی کا راستہ روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ لوگ اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی نہ کریں اور زرعی زمینوں پر تعمیرات نہ کریں۔ دوسری طرف عام لوگوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ زرعی زمینوں پر تعمیرات سے مکمل اجتناب کریں اور بنجر زمینوں پر تعمیرات کریں۔ اور ان کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ اب وقت بدل چکا ہے ان کو گھر یا دوسری عمارت بنانے سے پہلے ماہر تعمیرات سے ضرور مشورہ کرنا چاہئے اور ان کے مشورے اور عمارتی نقشے کے بغیر ہرگز کوئی بھی عمارت تعمیر نہ کریں۔ اگر اس سے ایک طرف زرعی

زمینوں کی کمی کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے تو دوسری طرف ماحول دوست عمارتیں بھی بنائی جا سکتی ہیں۔ ان اقدامات سے ہم زرعی زمینوں پر تعمیرات کا راستہ روک سکتے ہیں اور اپنے گھر اور اردگرد کے ماحول کو خوشگوار بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

زرعی پیداوار میں جمود کے اسباب اور ان کا حل

تحریر: محمد سعید خان کیمیاوی کھادوں کے استعمال میں بتدریج اضافے کے باوجود زرعی پیداوار …