گائیکی بھی ایک طرح کی نفی ذات کا نام ہے

تحریر: روخان یوسفزے

امن کے قیام میں فنون لطیفہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے
پختون ایک امن پسند اور فن سے پیارکرنے والے لوگ ہیں
خواہش ہے کہ پشتو میں موجود صوفیانہ کلام پر زیادہ کام کروں
پشتو کے ابھرتے ہوئے سرُیلی آواز کے نوجوان گلوکار گل ورین سے مکالمہ


مثبت کام کے لئے جہاں محنت اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے وہیں اپنے کام سے محبت بھی ہر شعبے میں معیاری اور بہترین کام کی اولین ضمانت قرار دی جا سکتی ہے۔ شوبز کی دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں پرچی اور سفارش کام چلانے کے لئے تو استعمال کی جا سکتی ہیں، تاہم کامیابی کے لئے اس شعبہ میں مہارت اور اپنے کام سے اخلاص بہت ضروری ہے۔ ہر شعبے کی طرح اس شعبے سے بھی بے شمار ایسے لوگ وابستہ ہیں جو صرف چل چلاؤ سے کام نمٹا کر وقت گزاری کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے کام میں معیار کا شائبہ تک نہیں ملتا لیکن اسی شعبے میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اپنے کام سے جنون کی حد تک محبت ہی نہیں عشق بھی کرتے ہیں اور یہی عشق اور جنون جب محنت اور لگن کی بھٹی میں تپ کر ان کے کام میں دکھائی دیتے ہیں تو اس کو کندن قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی پشتو زبان میں نو وارد اور نوجوان کلاکاروں میں ایک نام پشتو کے ابھرتے ہوئے نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ گلوکار کا بھی ہے جن کا تعلق صوابی کے زرخیز اور مردم خیز گاؤں موضع پنج پیر سے ہے۔

یہ نام آتے ہی ذہن کے پردے پر مذہبی حوالے سے جید عالم مولانا محمد طاہر، سیاست کے حوالے سے معروف قانون دان سلیم خان ایڈوکیٹ اور موسیقی کے حوالے سے پشتو کے نامور گلوکار ہارون باچا کا نام جلوہ آفروز ہو جاتا ہے۔ پشتو کی کہاوت ہے کہ ”د خو غوخو خوروہ ہم خوگہ وی” یعنی اچھے گوشت کا شوربا بھی لذیذ ہوتا ہے۔ اور اس کہاوت کی روشنی میں جو بندہ ہمایون باچا جیسے میٹھی آواز، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ پختون کا فرزند ہو، پشتو زبان کے معروف، محبوب اور مقبول گلوکار ہارون باچا کا بھتیجا ہو اور ایسے ہی گھر، خاندان اور ماحول میں پلا بڑھا ہو جہاں عام طور پر قوم پرستی، علم دوستی، کتاب دوستی اور بشردوستی کے تذکرے اور بحث مباحثے چل رہے ہوں، ایسے گھر، خاندان اور ماحول سے وابستہ ہر فرد اسی ماحول کا عکاس اور ترجمان ہو گا۔ میرا اشارہ پشتو کے ابھرتے ہوئے سریلی آواز کے نوجوان گلوکار گل ورین کی جانب ہے جو بالکل اسمم بامسمیٰ ہیں کیونکہ ان کے نام کا معنی اور مفہوم ہی ”گل پاش” ہے اور حقیقت میں جب وہ کوئی نغمہ گاتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے ان کی زبان سے الفاظ کے بجائے پھول جھڑتے ہوں۔

گل ورین باچا نے ابتدائی تعلیم سمیت میٹرک پاکستان انٹر نیشنل پبلک سکول صوابی سے کیا۔ اس کے بعد ایڈورڈکالج پشاور سے ایف اے سی انجینئرنگ، یو ای ٹی سے بیچلر سول انجینئرنگ اور ایم ایس کنسٹرکشن منیجمنٹ میں کیا ہے۔ فن گائیکی میں ان کا باقاعدہ کوئی رسمی استاد نہیں تاہم اس کے بدلے قدرت نے ان کے گھر اور خاندان میں سر و ساز کا ایک سرسبز و تناور درخت ہارون باچا کی شکل میں پیدا کیا ہے جس کا سایہ گل ورین باچا کے سر پر رہتا ہے۔ گل ورین باچا کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے بہت کم عرصے میں اپنے لیے ایک منفرد نام، پہچان اور مقام حاصل کیا ہوا ہے۔ اب تک ان کی سریلی آواز میں آٹھ گیت مارکیٹ میں آ چکے ہیں جنہیں شائقین موسیقی نے بے حد پذیرائی بخشی ہے۔ گل ورین باچا کا زیادہ تر میلان پشتو کے صوفیانہ کلام کی جانب ہے۔ ان کے بقول پشتو میں صوفیانہ کلام کی کمی ہے کیونکہ صوفیانہ شاعری میں امن، محبت، بشردوستی اور باہمی اتحاد و بھائی چارے کا درس موجود ہے اور آج پوری دنیا خصوصاً ہماری قوم اور خطے کو امن، محبت اور انسان دوستی پر مبنی کلام اور موسیقی کی بہت زیادہ ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فن گلوکاری میں آنے کا مقصد اپنی قوم اور زبان کی خدمت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج ملک میں جوصورت حال بنی ہوئی ہے ایسے حالات میں فنون لطیفہ سے وابستہ افراد پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور امن کے قیام میں فنون لطیفہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں صلاحیتوں کی کمی نہیں تاہم مواقع کی کمی ہے، پختون ایک امن پسند اور فنون لطیفہ سے پیارکرنے والے لوگ ہیں۔ گل ورین کا کہنا ہے کہ شوبز کی دنیا میں قسمت کا عمل دخل ضرور ہوتا ہے لیکن باوجود اس کے جو محنت کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے محنت کا پھل ضرور دیتا ہے، یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ فن کی دنیا میں نام اور مقام بنانا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے تاہم اگر انسان خلوص نیت سے محنت کرے تو ضرورکامیاب ہوتا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں گل ورین سکول وکالج کی تفریحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج میں جوکچھ بھی ہوں، اس کا سہرا میرے والد اور چچا ہارون باچا کے سر جاتا ہے۔ ماضی اور حال کی پشتو موسیقی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ دورکی پشتو موسیقی میں ماضی کی موسیقی جیسا معیار نظر نہیں آتا جس کی ایک وجہ مقابلے کی تیز دوڑ بھی ہے اور آج کی بعض گلوکاری میں جو شاعری اور کلچر پیش کیا جاتا ہے اس کا اکثر اصل پختون کلچر سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا کیوں کہ ہمارا کلچر کلاشنکوف، فرقہ واریت، شدت پسندی اور جنگ وجدل پر مبنی شاعری اور موسیقی نہیں بلکہ امن، محبت، انسانیت اور علم سے پیار ہماری ثقافت کی خصوصیات ہیں، ”اگر موجودہ موسیقی کا قبلہ درست کیا گیا تو یہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔” انہوں نے بتایا کہ گلوکاری بھی ایک طرح کی نفی ذات کا نام ہے اور بعض اوقات گائیک کو شاعری اور موسیقی میں ڈوبنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فن کی دنیا میں یا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ہمیں نئی چیزوں اور نئے آلات موسیقی سے ڈرنا نہیں چاہیے اور پھر فن کی تو کوئی سرحد ہی نہیں ہوتی، ”اگر ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو اپنی موسیقی میں ”نیاپن” لانا ہو گا اور ”آئین نو” کے تقاضوں کے مطابق نئے آلات موسیقی کے ذریعے اپنی زبان اور موسیقی کو فروغ دینا ہو گا تاہم ایسا ”نیاپن” جس سے ہماری قومی، تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی روح مجروح نہ ہو۔” انہوں نے کہا کہ یہ نظریہ غلط ہے کہ سیکنڈل بنوانے سے کسی فن کار کو شہرت مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شوبز ایسا میدان ہے کہ جس میں صرف اور صرف محنت کے بل بوتے پر ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا بالخصوص ٹی وی چینلز، جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اب تو سوشل میڈیا نے بہت ترقی کر لی ہے تاہم ریڈیو اور اخبارات کی اہمیت کبھی کم نہیں ہو گی اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ چیزیں مزید آگے بڑھیں گیں۔ گل ورین فن گائیکی کی جانب آنے والے نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اگر اس میدان میں نام کمانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے وسیع مطالعہ، سیکھنے کا جنون، علم کی روشنی اور فن موسیقی کے تمام رموز و اشاروں سے واقفیت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بونیر۔۔ پاکستان کی معاشی ترقی میں حصہ ڈال سکتا ہے

تحریر: شوکت حیات بونیری بونیر سنسکرت کے لفظ ”بن“ کی ایک شکل ہے جس کا …