”خصوصی افراد” ہمارے وجود کا مضبوط حصہ – تحریر: ابو حاشر

3دسمبر پاکستان سمیت پوری دنیا میں یوم معذوری کے طور پر منا یا جا تا ہے

چند وھیل چیئر کی تقسیم  اور تقریب حکومت اور متعلقہ اداروں کے منہ پر طمانچہ ہے

 معاشرے میں موجود 2کروڑ 80لاکھ معذور افراد کیلئے تعلیم صحت اور نگہداشت کیلئے کوئی انتظام نہیں

یوں تو یہ دن پاکستان سمیت پوری دنیا میں یوم معذوری کے طور پر منا یا جا تا ہے پھر ہمارے ہاں تو صرف منا کر بگھتایا جاتا ہے جبکہ مہذب معاشروں میں اس دن اْن معا شروں میں موجود معذور افراد کی زندگیوں میں پہلے سے فراہم کی گئی آسانیو ں کو مزید آسانیوں کیلئے جانچا وپر کھا جا تا ہے نئی نئی تجاویز و آرائیں سامنے لائی جاتی ہیں پہلے سے موجود تجا ویز و امکانات کو عملی جامہ پہنا نے کی حکمت عملیوں کو ختمی شکل دی جا رہی ہو تی ہے کیو نکہ معاشرے میں موجو د معذور افراد اْس معاشرہ کا حصہ سمجھا جاتا ہے نا کہ بوجھ کیونکہ ہر ہر معذور فرد دسے ہر ہر صحت مند فرد کا خونی و جذ باتی رشتہ ہوتا ہے مہذب معاشرے میں سارے کے سارے ادارے بشمول عوام اور ان کی بہترین ذہنی و فکری معروضی وعملی صلاحیتیں وہا ں کے کمزور طبقے کو بہتر سے بہتر طور پر سنبھا لنے کی حکمت عملی میں لگی رہتی ہیں چونکہ کسی بھی انسانی معاشرے کے ریاستی اداروں کا ادارتی و جودنیز اْنکے ذمے لگے ہوئے فرائض کی ادائیگی میں کسی بھی کو تاہی و کاہلی سے فکری و نظری و عملی طور پر احتراز ہی اْس معاشرے کے افراد کے مزاج و عادات و اطوار پر براہراست اثر اندا ہوتے ہیں کہ خو بیوں اور کما لات کی افزائش و نگرانی اور جرائم و نقائص کی روک تھام بھی کسی معاشرے میں بہتر طر ز حکمرانی اورقانون کی مکمل پیروی ہی میں ہے اس لئے اْن معاشروں میں حکومت کے گْل ادارے معاشرے کے ہرہر فرد کے نگہبان و نگران ہوتے ہیں۔

اوراْس معاشرے کے زیر اثر پلنے والے ہر ہر فرد کا دوسرے ہرہر فرد کی نگہبانی و نگرانی کا مزاج و خوُبنتا ہے اسکے مقابلے میں ہمارے وطن عزیز معاشرے  میں کل ریاستی ادارے بشمول عوام اپنے معاشرے میں موجود معذور افراد کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں عوام میں اس طبقے کیساتھ مایوس کن سلوک کی وجہ خود ریاستی اداروں کا نہایت قبیح و قابل نفرت کردار و برتاوہے جس کے زیر اثر ہمارے معاشرے میں موجود معذور خود کو ایک ایسی قبر جاں کر یہ سمجھوتا کر چکا ہے کہ میں ایک ایسی زندہ قبر ہوں جسکے کوئی جذبات و احساسات اور نہ ہی اسکی کوئی پسند و ناپسند ہوتی ہے اْسکی کوئی ضرورت اور حاجت پوری ہونے کی قطی قابل نہیں رہتی اْسکی زندہ رہنے کی اْمیدواْمنگ کا موضوع ہی یکسر ختم کر دیا جاتا ہے اور یوں ایک زندہ اور مردہ وجود کی غیر فطری وعادت شکن معاشرے وجود میں آتا ہے جس میں تو انا زندگی بھر پور اْمنگوں کیساتھ تو زندہ درگورکی گئی زندگی کو صرف پامال ہی کرسکتی ہے اس سے بھی زیادہ قابل رحم معاشرہ کونسا ہوسکتا ہے جس میں2کروڑ 80لاکھ افراد کیلئے خوانگی  کی خیراتی فنڈ نگ میں ہی لگایاNGOsتعلیم صحت و نگہداشت اور روزگار سے متعلق شعبوں میں حکومتی بجٹ کی  بنیا د پر کوئی منصوبہ بندی کا کبھی سوچا ہی نہ گیا ہو  بلکہ معذوروں کیلئے محتص فنڈ ان شعبوںکوجاتا ہو اور دسمبر کی اس تاریخ پر عوام کے خون پسینے پر لگے ٹیکس کی رقم نے پیش بہادولت خر چ کرکے معدوے چند وھیل چیئر ز کیساتھ فوٹو سٹیشن کروا کر یہ تسلی کر لی جاتی ہے کہ حق اداء  ہوچکا اور آخرت کی جنت بھی پکی ہوچکی۔

پاکستان بھر میں صنعتی و دفتری و تجارتی وکاروباری افراد براہ راست سیاسی پارٹیوں کے تعلق اور رکنیت کی بناء  اور بین الاقوامی دباو پر مزدور عدالتوں کا قیام تو عمل میں لایا جا سکتا ہے مگر ہر انسانی سہولت اور آسانی سے کوسوں دور معذور طبقے کیلئے خصوصی عدالت کے قیام کے خالص انسانی مسئلے پر کبھی غور و خوص کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔پورے ملک کی بندوبستی شہرو ں قصبوں میں حکومتی بجٹ پر قائم پہلے سے موجود مضبوط عدالتی نظام کے باوجود بھی جرائم کی روک تھام کیلئے خصوصی حالات میں فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے تو جمہو ریت کے دعوادار چند نشستوں کی مجلسوں میں ہی حامی بھر لیتے ہیں مگر ننگ انسانی صفت حامل سیاسی و مذہبی پارٹیو ں کو 70سالوں میں بھی مجرموں اور ملز موں کی کل تعداد سے 100فیصد زیادہ معذ ور اور مفلوک الحال معذور عوام کیلئے کبھی خصوصی عدالتوں کے قیام کی تو فیق نہیں ہوئی یہی حال بنکنگ کو رٹ کا بھی ہے کیا دولت اور کاروبار کے تیز ترین تصیفیے کیلئے مروجہ عدالتی نظام بیک جنبش قلم سائیڈ کیا سکتا ہے تو پھر دولت وزر سے اہم سْلکتی انسانیت کیلئے معذور عدالت کے قیام سے موت کیو ں پڑ تی ہے اس بد بودار نظام کو ؟

معذور طبقے کے حساس پہلو کے رو سے جتنا احساس و توجہ اور التفات اس مظلوم و مقہور طبقے کو دینا تھا اتنا ہی ظلم وجبر اور کوتاہی اس طبقے کے ساتھ روا رکھا گیا معذور طبقے کی کسمپرسی اور انسانی لکیر سے نچلی سطح پر رکھنے کا سب سے بڑا اور واشگاف کر دار مذہبی طبقے کا ہے اسکی زندہ مثال ہمارے معاشرے میں ہرہر 10سالہ بچے اور ان سے بڑی عمر کے مرد انہ آبادی کیلئے ہر سو بنائی ہوئی مساجدوں مدارس خانقا ہوں اور درباروں کے تعمیر ڈھانچوں اور نقشوں اور اس میں رائج نظم و نسق میں کسی بھی درجے کے معذور کیلئے کسی بھی ادنی درجے کی سہولت کا فقداں اسکی واضح و زندہ مثال ہے ظاہر ہے کہ اس وصف و نقش کے ماحول میں معذور طبقے کی آسانی و سہولت رسانی کی کیا فکری و ذہنی تربیت کی جاتی ہوگی حالانکہ نیکو کار صحت مند افراد کے مقابلے میں معذور افراد روحانی سکون کے زیادہ متلاشی ہوتے ہیں کہ نیکو کار صحت مند کے پاس روحانی سکون کی تلاشی کیلئے بے شمار امکانات و معر وضات ہوسکتے ہیں اسکے باوجود معذور افراد کی اکثریت پر شکوہ تر عمارت کی حامل مساجدومدارس وخانقاہ اور درباروں میں جانے سے محروم رہتی ہے یا ہرہر با ر کسی کے سہارے ہی حاضری ممکن بناتے ہیں ایسا کیو ں ہے ؟جبکہ ہمارے دین میں تا قیامت آنے والے انسانوں کیلئے اس خالص انسانی معاملے میں گائیڈ لائن بھی دی گئی ہے کہ کسی بھی انسانی معاشرے میں کسی بھی معذور فرد کے کسی بھی معاملے کو قطعاً صرف اپنی ہی فہم و فراست کے عمیق و گہرائی سے نہ دیکھا و پر کھا نہ جائے بلکہ کسی بھی معذور کے کسی بھی خالص انسانی معاملے کو خود معذور فرد کے دردو تڑپ کے احساس و ادراک کی روشنی میں ہی حل کیا جائے۔ پاکستانی ریاست کی بالادستی اور مقتدرقوت پارلیمنٹ ہے پھر عوام کے ہاتھوں منتخب ہونے پر مقننّہ کی 70سالہ کارگزاری بھی معذور طبقے کے حق میں انتہائی افسوسناک حد تک  غیر انسانی نفرت انگیز ظلم و جبر پر مبنی رہی ہے حیرت کی بات ہے کہ معذور طبقے کیلئے برسوں پہلے اگر کچھ قانون سازی ہوبھی گئی تو وہ بھی ایک فوجی آمر کے دور میں ہوگئی ہے جس کے بعد اگرچہ ساری سیا سی لیڈران کے اپنے بے شمار وو ٹرز بلکہ بے شمار لیڈران کے اپنے اپنے گھر وں میں موجود معذور افراد کے ہوتے ہوئے بھی کوئی مزید سہولت اور آسانی دینے کیلئے مزید قانون سازی کیلئے آواز نہ اْٹھانے کی مجرمانہ اور بہیمانہ حد تک کوتاہی اور نا انصافی کے مرتکب ہوتے رہے ہیں حتیٰ کہ اپنی اپنی پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے معذور افراد کے حقوق کیلئے صوبائی اور قومی سطح پر نمائندگی کیلئے بھی سنجید گی سے نہیں سوچا گیا۔

پوری دنیا میں کسی ایسی ریاست کا بھی تصور کیا جا سکتا ہے جس پر قابض چند خاندان اور انکے بے شمار خادم ہی پارلیمنٹ و مقننّہ سے بالادست ہو اور  جہاں عوام کو صرف ووٹ کیلئے ہی استعمال کر کے منتخب ہو جانے کے بعد قانون سازی اور آئین سازی میں معاشرے کے بنیادی اور خالص انسانی مطالبات اور ضروریات کو پس پش ڈال کر اپنے ہی مفادات کے لیے انسانی حقوق،سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ ،وزارت زکوت اور بیت المال جیسے خالص انسانی بنیادوں پر قائم اداروں کو اپنی ہی کرپشن سے تباہ و برباد کر کے زمین بوس کیا ،کیا یہ ادارے اب اپنی وجہ وجود پر قائم ہیں؟ یہ ادارے اپنے مقاصد میں کس حد تک کا میاب ہیں اور کیا مذکورہ ادارے سالانہ اربوں کھر بوں بجٹ کھا کر 3دسمبر کو چند ویل چیئر کی تقسیم کے فو ٹو سیشن کی یہ تقریب خودان معذور دشمن کردار رکھنے والے اداروں کے منہ پر طمانچہ نہیں اگر پاکستانی ریاست کے معاشرے میں موجود 2کروڑ 80لاکھ معذور افراد کیلئے تعلیم صحت اور نگہداشت کیلئے کی ہیں تو پھر ان اداروں پر سا لانہ اربوں کھربوں کی لاگت گئی تو کدھر گئی ان اداروں میں سیاسی خد متوں پر مامور بڑے بڑے افسران کی بڑی بڑی NGOاونٹ کے منہ میں زیر ہ برابر کاویشیں بھی تنخواہیں اور مراعات کیا یہ سب کچھ زیر زمین ہے یا احساس کی دولت سے محروم معاشرے کی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں انتہائی مشکل زندگی گزارنے والے معذور طبقے کو مقدس عدالتوں سے بھی کبھی شنوائی نہ مل سکی اور نہ ہی کبھی خالص انسانی حقوق کی بنیاد پر ملک بھر میں قائم مقدس عدالتوں کے سربراہوں کو خود سے نظرآئی ؟حتیٰ کہ ان مقدس عدالتوں سے وابستہ بارزکی سطح پر سیا سی و مذہبی رواداری قانونی وآئینی اور خالص انسانی حقوق کے نام پر منعقدہ جلسوں جلوسوں اور ہڑتا لوں کی طویل ترین لسٹ میں بھی یہ بد نصیب طبقہ کبھی مقام نہ بنا سکا عدل و انصاف کی متلاشی ہر آواز تو سنا ئی دی گئی مگر وطن عزیز کے معذور طبقے کی چیختی چلاتی بے بسی کبھی دستک نہ بن سکی اور یہاں بھی بالادست پارلیمنٹ سے جڑے بے شمار بے حس اور حقائق سے طوطا چشم سیاستدانوں کی طرح خود بے شمار ادارتی جاہ وجلال اور قانونی طاقت رکھنے والے ججوں اور نہایت ہی قابل ترین وکلاء  قانونی فہم و فراست سے مالا مال ہوکر بھی اپنے ہی گھروں میں خونی و جذ باتی رشتوں اور پرانے گھروں میں موجود وطنی اور دینی رشتوں میں بند ہے 2کروڑ80لاکھ معذور افراد کیلئے کچھ بھی نہ سو چ سکے حالانکہ عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی اخبارات و جرائد کے صفحات پر چھپنے والی شہ سرخیوں پر ذرہ بھر بھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ مقدس عدالتوں کے یہ طاقتور ناخداء  معذور افراد کی سلکتی اور بلکتی ہوئی زندگیوں سے بے خبر بھی رہ سکتے ہیں۔

ریاستِ پاکستان میں اپنی معذوری ومحتاجی اور امتحان وازمائش سے بھر پور زندگی سے لڑتے لڑ تے  معدودے چند تعلیم یا فتہ اور ہْنر مند معذور افراد جو سرکاری اور نیم سرکاری ملازمتوں سے وابستہ ہیں انکے اپنے محکمے اور ادارے اور انکے کر تا دھر تا بڑے بڑے افسران کی اپنی اور اپنے ہی مفادات سے وابستہ صحت مند ملازمین کیلئے بڑی سے بڑی سہولیات و مراعات دی اور دلائی جاتی ہیں مگر  کونسا محکمہ وادارہ ایسا ہے کہ جس کا کل ملازمتی ڈھانچہ 2فیصد معذور پر مشتمل ہے ؟ معذور افراد کیلیے معذوری الاونس سالانہ خصوصی انکریمنٹ پر موشن پالیسی میں خصوصی سہولت و رعایت علاج و معالجے کی بالائی حد میں خصوصی رعایت ریٹائرمنٹ میں خصوصی پیکج کا اجراء  اور ریٹائرمنٹ پر سن کو ٹہ لا زمی سہولت جیسی خالص انسانی وسائل سے ظالمانہ اقدامات اور طوطہ چشمی کا مظاہرہ کیا جا تا ہے کس قدر افسوس کی بات ہے کہ واحد گورنمنٹ بنک اور مالی لحاظ سے نہا یت ہی مضبوط و مستحکم قومی ادارہ میں معذور ملازمین کی معذوری میں استعمال ہونے والے مصنوعی اعضا ء  کی تیا ری اور ان کی ضروری مر مت کے بلوں کی ادائیگی یہ کہہ کر مسترد کی جاتی ہے کہ دارے  کی میڈیکل پالیسی میں نہیں تو کیا کسی ریاست اور اسکے ریا ستی ادارے کیلئے ڈوب مرنے کا مقام نہیں جو ادارہ اربوں کا منا فع کما تا ہو اور کھر بوں کے اثاثے رکھتا ہو اگر معذور ملا زمین کے مصنوعی اعضائ کی تیاری و مرمت کا بل اداء  نہ کر سکتا ہو وہ سالانہ معذوری الاونس سالانہ انکریمنٹ میں معذور ملا زمین کو خصوصی رعایت اور معذور ملا زمین کیلئے پروموشن پالیسی میں خصوصی سہولت ورعایت علاج معالجے کی بالائی حد میں خصوصی رعایت ریٹائرمنٹ پر خصوصی پیکج اور ریٹائرمنٹ سن کوٹہ کی لازمی سہولت کو اپنی پالیسی بنا کر صنعتی میدان میں قائم اپنا رعب و دبدبہ کیوں  رائج کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں

باچا خان اور موجودہ ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی فضاء

تحریر:شمیم شاہد فخرِ افغان، بابائے امن نے جن جن واقعات اور حالات کے پیدا ہونے …