،چوکی درب میں جگہ جگہ گندگی کےڈھیر صفائی کا ذمہ دار کون؟،تحریر:لِز مہمند

’’ضلع نوشہرہ کے علاقے چوکی درب میں صفائی کا کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ہر جگہ گندگی کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ چوکی درب کی رہائشی دلشاد بی بی نے کہا کہ ان کے گاؤں کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، جس نے جہاں بھی کوڑا کرکٹ پھینک دیا وہیں پر پڑا رہتا ہے، صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں، ندی نالوں کی صفائی نا ہونے کی وجہ سے اس میں گندہ پانی کھڑا رہتا ہے جو مچھر اور مکھیوں کے مسکن بن گئے ہیں، جب بارش ہوتی ہے تو گندے پانی سے گھر اور گلی محلے بھر جاتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ ادارے سے اپیل کی کہ جلد از جلد ندی نالوں اور کچرے کے ڈھیر کی صفائی کا بندوبست کیا جائے۔


دوسری جانب نئی روشنی تنظیم کی صدر الفت نے بتایا کہ چوکی درب کے مقامی لوگ بھی احتیاط نہیں کرتے اور جگہ جگہ گند پھینک دیتے ہیں۔ انہوں نے خود کئی مرتبہ گھر گھر جا کر لوگوں کو سمجھایا کہ اپنے گلی و محلوں میں کوڑا کرکٹ نہ پھینکیں بلکہ کسی بوری میں ڈال کرعلاقے سے دور پھینکا کریں لیکن پھر بھی اس علاقے کے ہر گھر کے سامنے گند کے ڈھیر بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے لوگ مکھیوں اور مچھروں سے تنگ آ گئے ہیں۔


انہوں نے اس مسئلے کے حوالے سے کہا کہ ڈینگی بیماری کے دنوں میں ویلج ناظم سے درخواست کی گئی تھی کہ سپرے کیا جائے تو ایک ہی دفعہ سپرے کیا گیا اس کے بعد کوئی سپرے نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس علاقے میں کوئی بھی ٹی ایم اے کا اہلکار صفائی کے لئے آیا ہے۔ الفت نے بتایا کہ عمر اصغر خان فاؤنڈیشن کی جانب سے میڈم عطیہ اور میڈم نگہت ان سے ملی تھیں اور ان کے گھر میں پورے محلے کے خواتین کو اکٹھا کر کے صفائی مہم کی تربیت دی گئی تھی۔


الفت کے مطابق عمر اصغر خان فاؤنڈیشن کی مدد سے انہوں نے خواتین پر مشتمل نئی روشنی کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس کی وہ صدر ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی روشنی تنظیم کی وہ ہر مہینے ایک میٹنگ کرتی ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت اور سابقہ ناظم کی مدد کی مدد سے چوکی درب کی صفائی کے لئے بندوبست کیا جاتا ہے۔


چوکی درب کے ویلج ناظم ارشد علی شاہ نے کہا کہ اس علاقے کا کافی عرصے سے یہ مسئلہ ہے کہ یہاں کوئی بھی ٹی ایم اے کا اہلکار نہیں آتا اور تمام گلی محلے اور نالے گند سے بھرے پڑے رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ ڈی سی اور اے سی کے دفتر بھی گیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی اور کافی منت سماجت کے بعد ٹی ایم اے سے ایک یا دو اہلکار بھیج دیتے ہیں وہ بھی ایک دن میں سرسری کام کرکے چلے جاتے ہیں، کچھ مہینوں کے بعد پھر بار بار کی درخواستوں پر ٹی ایم اے سے کوئی آ جاتا ہے۔ ارشد علی نے کہا کہ ٹی ایم اے کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ ہمارے پاس نہیں ہے اس لئے کوئی روزانہ کی بنیاد پر چوکی درب کی صفائی کے لئے نہیں آتا۔


دوسری جانب نوشہرہ کے ٹی ایم اے کے ایک عہدیدار غنی اکبر نے بتایا کہ نیبر ھوڈ کی صفائی کا کام ٹی ایم اے کا نہیں لوکل گورنمنٹ کا کام ہے۔ لوکل گورنمنٹ دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک آر ڈی ڈی جبکہ دوسرا لوکل کونسل بورڈ۔ ٹی ایم اے لوکل کونسل بورڈ کے تحت آتا ہے جبکہ آر ڈی ڈی میں تمام ویلج کونسل آتے ہیں۔ اے ڈی لوکل گورنمنٹ پورے نوشہرہ کی سطح پر اس میں تمام ویلج کونسل آتے ہیں جہاں سیکرٹریز ہوتے ہیں تو تمام ندی نالوں اور صفائی کا کام گورنمنٹ کے اس ادارے کے حوالے ہے کیونکہ فنڈ بھی انہی کو ملتا ہے۔


غنی اکبر نے کہا کہ ٹی ایم اے کے ذمہ تمام اربن ایریا ہے جس کی صفائی کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ لوکل گورنمنٹ تمام ندی نالو اور علاقے کی صفائی کر کے ایک پوائنٹ پر جمع کرتی ہے پھر ٹی ایم اے کی ذمہ داری ہے کہ اس پوائنٹ سے کوڑا کرکٹ گاڑیوں میں اٹھا کر ڈمپنگ سائٹ پر ٹھکانے لگائے۔
لوکل گورنمنٹ رورل ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فضل اللہ نے چوکی درب کی صفائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ نا صرف چوکی درب بلکہ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں صفائی کا نظام خراب ہو چکا ہے، پہلے لوکل گورنمنٹ سسٹم میں فنڈ ملتا تھا اور ان علاقوں کی مسلسل صفائی ہوتی تھی لیکن جب سے ناظم نظام ختم ہوا ہے اب فنڈ نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی فنانشل محکمے کی جانب سے یہ فنڈ دیا جاتا ہے، ناظموں کے دور میں یہ فنڈ آبادی کے تناسب سے دیا جاتا تھا جو علاقے کے تمام ترقیاتی کاموں کے لئے دیئے جاتے تھے، بعد میں گلیوں کو پختہ کرنا، سٹریٹ لائٹ اور ندی نالوں کی صفائی وغیرہ کے لیے فنڈ ریلیز کیا جاتا تھا لیکن بعد میں حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ اس میں20 فیصد نکاسی آب کے نظام کے لیے مختص کر دیں لیکن اب چونکہ مناسب بجٹ نہیں آتا تو جہاں ضرورت ہوتی ہے صفائی کی جاتی ہے لیکن روزانہ کی بنیاد پر نہیں کی جاتی کیونکہ 19-2018 کے بعد سے ان کو کوئی فنڈ نہیں ملا جو 14 لاکھ55 ہزار تھا۔انہوں نے چوکی درب کی صفائی کے مسئلے پر کہا کہ اس علاقے کے لوگ درخواست دے سکتے ہیں جس کے بعد ان کی ہرممکن مدد کی جائے گی اور ان کی کوشش ہوگی کہ اس علاقے کی صفائی کو جلد از جلد ممکن بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

بیرون ممالک میں پاکستانیوں کو یتیم کیوں سمجھا جاتا ہے؟

تحریر: امان علی شینواری ”ہر ملک اپنے شہری کے لئے وکیل فراہم کر لیتا، کیسز …

%d bloggers like this: