پشتو کا پہلا ترقی پسند افسانہ

تحریر:پروفیسر عظمت ہما

یہ افسانہ ایک ایسے ترقی پسند شاعر کا فن پارہ ہے جن کا پشتو ادب میں ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے بہت ہی دبے الفاظ میں تعارف ہوا ہے

پشتو ادب میں جب افسانے کی صنف بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں متعارف ہوئی تو سال انیس سو باون تک اس کی رفتار بڑی سست رہی۔35 سالوں میں 35 افسانہ نگار بھی سامنے نہیں آئے اور اگر کسی نے اپنے آپ کو بحیثیت افسانہ نگار کے متعارف کرنے کی کوشش کی بھی ہے تو اس مدت میں اتنے کم افسانے تحریر ہوئے ہیں کہ سال میں ایک افسانہ بھی ان کے حصے میں نہیں آتا۔ اور پشتو افسانے کے اس دور میں فنی اصولوں کی کسوٹی پر پورا اترنے والے افسانے کی تلاش بھی بے سود ہو گی۔

Advertisements

پشتو ادب میں جدیدیت کی ابتداء بیسویں صدی میں ہوئی۔ فکر، سوچ، اسلوب، مواد اور زندگی کی طرف روایتی رویے میں تغیر کو جدیدیت کہا جاتا ہے۔ پھر اس جدیدیت کے نتیجے میں حقیقت نگاری کا رجحان متعارف ہونے کے ساتھ ادب کی نئی اصناف خصوصاً افسانے میں موضوع فکر اور امن کے حوالے سے جدت اور تازگی محسوس ہوتی ہے۔ اردو افسانے میں حقیقت نگاری کے رجحان پر مبنی افسانے پریم چند کے افسانوں کے تتبع میں لکھے گئے ہیں لیکن یہ صرف معاشرتی اور اصلاحی افسانے ہیں جن پر پریم چند کے افسانوں کے اثرات مرتسم ہیں لیکن ان کی حقیقت نگاری سے پشتو افسانہ نگاروں نے براہ راست اثرات قبول نہیں کیے تاہم جب اردو میں ترقی پسند تحریک متعارف ہوئی تو اس کی بازگشت خیبر پختونخوا میں بھی سنی گئی اور جس طرح ترقی پسند تحریک کے پلیٹ فارم پر اردو کے شعراء اور ادباء جمع ہو گئے تو اسی طرح پشتو کے روشن خیال ادباء اور شعراء بھی اس تحریک سے وابستہ ہو گئے اور اپنی تحریروں میں ترقی پسند خیالات، افکار اور سوچ کی عکاسی کرنے لگے۔


پشتو کے ادباء اور شعراء میں ترقی پسندانہ شعور کی بیداری اور پروان چڑھانے کا کردار سال1951 میں وجود میں آنے والے اولسی ادبی جرگہ نے ادا کیا۔ اس جرگے کا منشور اور مقاصد تو تحریری شکل میں ہمارے سامنے نہیں آئے لیکن اس جرگے کے ساتھ جو معتبر شعراء اور ادباء منسلک رہے ہیں ان کے نظریہ، سوچ اور فکر میں ترقی پسند تحریک کے منشور اور مقاصد کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ بقول ڈاکٹر انور سدید ترقی پسند تحریک کے اولین منشور میں بھوک افلاس اور سماجی بستی کے ساتھ غلامی کے استحصال کی کوشش ترقی پسند تحریک کے مقاصد میں شامل تھی۔ ترقی پسند تحریک کے اس منشور کی روشنی میں اگر ہم اولسی ادبی جرگہ کے بانی صنوبر حسین کاکاجی کی نگرانی میں شائع ہونے والے رسالے اسلم کا جائزہ لیں تو یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اس رسالے میں شائع ہونے والے تخلیقی فن پاروں میں ترقی پسند تحریک کے مقاصد کی عکاسی ہوئی ہے اور بالخصوص اس رسالے میں شائع ہونے والے افسانے ”ادب زندگی کے لیے” کے نظریے پر مبنی ہیں۔ ان افسانوں میں ایک افسانہ ایسا بھی شائع ہوا ہے جو ترقی پسند تحریک کے مقاصد کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے اور یہ ترقی پسند افسانہ اس زمانے میں شائع ہونے والے افسانوں میں ایک کامیاب کاوش سمجھی جاتی ہے۔


یہ افسانہ ایک ایسے ترقی پسند شاعر کا فن پارہ ہے جن کا پشتو ادب میں ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے بہت ہی دبے الفاظ میں تعارف ہوا ہے۔ پشتو کے ایک محقق اور شاعر دوست محمد خان کامل اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں، ہمارے نئے قلم کاروں میں افسانوں کے ضمن میں میر مہدی شاہ مہدی، صاحبزادہ حبیب الرحمن، قلندر مومند، محمد اجمل خان اجمل خٹک اور محمد یوسف خان یوسف اورکزئی کے نام بالخصوص قابل ذکر ہیں۔ اگرچہ اجمل خٹک اور یوسف اورکزئی پشتو ادب میں بطور شاعر مشہور ہیں۔ انہوں نے ادب کی صنف افسانہ میں بہت کم لکھا ہے۔

پشتو کے بہترین افسانوں میں یوسف اورکزئی کا افسانہ روٹی بھی شامل ہے جو مجلہ اسلم کے اکتوبر1952 کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ پشتو ادب میں یوسف اورکزئی شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں لیکن ان کا یہ شاہکار افسانہ انہیں نہ صرف افسانہ نگاروں کی صف میں نمایاں مقام دیتا ہے بلکہ انہیں اس اعزاز کا حقدار بھی ٹھہراتا ہے کہ اس افسانے کو پشتو کا پہلا ترقی پسند افسانہ تسلیم کیا جائے کیونکہ یہ افسانہ ترقی پسند نظریات کے وہ سارے تقاضے پورے کرتا ہے جو اس تحریک کے منشور میں درج ہیں۔ یہ افسانہ پہلی بار26 ستمبر انیس سو باون کو اولسی ادبی جرگہ کے اجلاس میں تنقید کے لیے پیش کیا گیا اور ایک بھرپور تنقید کے بعد اسلم کے شمارے میں شائع ہوا۔

افسانے کا بنیادی موضوع بھوک ہے اور پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس موضوع پر روٹی سے پہلے کوئی افسانہ سامنے نہیں آیا۔ اس افسانے میں گل کاکا کا کردار معاشرے کے کچلے ہوئے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر شہر کی سڑکوں پر مزدوری کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے اور اسے ایک کتے، جو افسانے میں بطور کردار آیا ہے، سے بھی زیادہ حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور لوگوں کا یہ رویہ انسانیت کے حقوق کی پاسداری کا دعوی کرنے والے ان غداروں کی نشاندہی کرتا ہے جو معاشرے میں اس قسم کے کرداروں کی ذلت اور رسوائی کا سبب بنتے ہیں۔


بھوک کے احساس اور پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر روٹی حاصل کرنے کی بے سود کوشش کے نتیجے میں انسانیت کی تذلیل اس افسانے کا بنیادی موضوع ہے اور فنی حوالے سے اس افسانے کی بنت کاری بھی قابل تحسین ہے۔ اس افسانے میں ایک واضح ترقی پسندانہ شعور کی موجودگی کی وجہ سے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اکتوبر1952 کے مجلہ اسلم کے شمارے میں شائع ہونے والا یوسف اور کزئی کا افسانہ روٹی پشتو کا پہلا ترقی پسند افسانہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اے این پی، قومی تحریک کا تسلسل

تحریر:مولانا خانزیب دنیا کی معلوم تاریخ میں پختونوں کی پہلی قومی تحریک جس نے اس …

%d bloggers like this: