سیلاب نے الہ ڈھنڈ نالے کا حلیہ بگاڑ دیا، حکومتی اقدامات نہ ہونے کے برابر

حمد نواز

ملاکنڈ کے علاقہ تھانہ سے تعلق رکھنے والے محمد علی پریشانی کی حالت میں شولگرہ میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے کہ پچھلے دنوں سیلاب نے آبی نالے کو خراب کر دیا ہے جس سے پانی کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا، اب چاولوں کی فصل کو پانی کی سخت ضرورت ہے لیکن پانی دستیاب نہیں۔اب ساری فصل دن بہ دن خراب ہو رہی ہے۔ فصل تیار ہونے میں کچھ دن باقی ہیں، فصل کیلئے اب صرف دو دفعہ پانی درکار ہے جس کے بعد پانی کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس آبی نالے کو واپس صحیح کرنے کیلئے گاؤں الہ ڈھنڈ ڈھیری کے مشران نے اعلان کیا کہ جمعرات کو آبی نالہ صحیح کیا جائے گاجس کو گزشتہ روز کرنل (ر) ابرار کی سربراہی میں صحیح کردیا گیا ہے۔

الہ ڈھنڈ ڈھیری سے تعلق رکھنے واکے کرنل (ر) ابرار کا کہنا تھا کہ آبی نالہ کچھ گھنٹوں میں گاؤں کے مشران سمیت کسان بھائیوں نے واپس اپنی حالت میں بحال کردیا ہے جس سے تقریباً 12 ہزار مربع فٹ سے زائد زمین کو پانی ملے گا۔

کرنل(ر) ابرار کا کہنا تھا کہ جب بھی یہ نالہ خراب ہوتا ہے تو میں اس کا خرچہ برداشت کرنے کیلئے تیار ہوتا ہوں لیکن کسان بھائی اور گاؤں کے لوگ یہ ماننے کیلئے تیار نہیں۔اس دفعہ اتفاق سے یہ نالہ کچھ گھنٹوں میں واپس اپنی حالات میں آگیا ہے۔ شولگرا میں کسان بھائیوں نے زمینیں اجارے پر لی ہیں جو مالک کو وہی دے گا جو پہلے سے طے ہے لیکن مالکان کسان بھائیوں کو اکیلے نہیں چھوڑتے اور یہاں خود آگئے نز لے کو ٹھیک کرنے کیلئے۔

الہ ڈھنڈ ڈھیری سے تعلق رکھنے والے مرسلین کا کہنا تھا کہ معمولی سے سیلاب سے یہ نالہ خراب ہوجاتاہیے اب حکومت کو چاہیے کہ اس کیلئے مستقل بنیادوں پر اقدامات اٹھائے۔ایم این اے یا ایم پی اے فنڈ سے اگر کچھ ممکن ہو تو جلد سے جلد کیا جائے۔گائوں کے لوگوں نے بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیا اب پی ٹی آئی کو چاہئے کہ فنڈ نکالے اس نالے کیلئے۔

طاہر یوسف زئی کہتے ہیں کہ پورا گاؤں اتقاق سے یہ کام بہت عرصے سے کررہا ہے اور انشاللہ اس طرح کرتا رہے گالیکن حکومت کب تک سوئی رہے گی؟حکومت کو چاہئے کہ عملی اقدامات کریں۔ ہر دفعہ گاؤں کے مشران مل کر پیسے اکٹھے کرتے ہیں اور یہ کام کرتے ہیں۔

طاہر یوسف زئی کہتے ہیں کہ سالوں سے یہ سلسلہ چلتا آرہا ہے ، گاوں میں اعلان ہوتا ہے اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اس نالے کو صحیح کرنے کیلئے آجاتے ہیں۔ پہلے مشنری نہیں تھی تو ہاتھوں سے یہ کام کیا جاتا تھا لیکن اب زیادہ کام مشین سے کیا جاتا اور تھوڑا سا کام ہاتھوں کے زریعے۔پہلے یہ کام دنوں میں ہوتا تھا اوراب کچھ گھنٹوں میں یہ مکمل ہوجاتا ہے۔

یاد رہے کہ اس نالے سے سینکڑوں لوگوں کی زمینیں اور باغات سیراب ہوتی ہے جو دریائے سوات میں معمولی سیلاب اس کے شکل کو بگاڑ کے رکھ دیتا ہے۔صوبائی حکومت اور زراعت دفتر ملاکنڈ اس میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور تھانہ،الہ اڈھنڈ ڈھیری کے مسائل حل کریں نہ کہ تماشا کریں۔

یہ بھی پڑھیں

تحصیل تخت بھائی مسائل سے دوچار‘ہسپتالوں کی حالت ابتر‘سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل

موجودہ حکومت نے جو وعدے کئے تھے وہ بھول چکی ‘ نیا پاکستان تو نہ …

%d bloggers like this: