کوئٹہ کے جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلیاں

تحریر: محمد آصف خان

بلوچستان کا دارلحکومت کوئٹہ بلوچستان کا سب بڑا شہر بھی ہے جو ہر لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں جونیپر کے وسیع وعریض جنگلات بھی پائے جاتے ہیں، کوئٹہ کے جونیپر جنگلات رقبہ کے لحاظ سے ضلع زیارت کے بعد دوسرے نمبر سب اچھے معیار اور گھنے جنگلات تھے اور جونیپر کے جنگلات کی یہ خاص قسم پوری دنیا خصوصاً ایشیاء میں سب سے بڑے اور اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔
جنگلات ماحولیات کی بہتری اور موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے میں کافی اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر ان جنگلات کو بے تحاشہ کاٹنے اور ایندھن کے طور پر جلانے کی وجہ سے جونیپر کے جنگلات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ ضلع کوئٹہ میں جنگلات رقبہ کے لحاظ سے790,45 ایکڑ زمین پر مشتمل ہیں جن میں زرغون، مسلاخ، خوڑ، تور، تاگہ، سپین کاریز، تکتو، چلتن، دھوبی گھاٹ کے پہاڑی علاقے شامل ہیں۔ رقبہ کے لحاظ ان میں ہمیشہ فرق محسوس کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ کوئٹہ شہر کی آبادی بڑھنے اور ہمسایہ ضلعوں کے ساتھ انتظامی تبدیلیوں کی وجہ سے ٹوٹل رقبہ اعداد اور شمار میں اونچ نیچ کا فرق پایا جاتا ہے جیسا کہ ضلع مستونگ کا علاقہ زارخور علاقہ کو کوئٹہ میں شامل کیا گیا۔ دوسری طرف جنگلات کی زمینوں پر شہری آبادی کو آباد کیا گیا۔


اعداد وشمار کے مطابق4872.3 ایکڑ جنگلات کی زمینیں کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں مختلف اداروں کو دی گئیں جن میں ایس او ایس، لیبر ڈیپارٹمنٹ اور یونیورسٹی بلوچستان کے ساتھ منسلک مختلف اداریں شامل ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ جنگلات کی زمین کو غیر جنگلاتی مقاصد کے لیے فراہم کیا گیا جو موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب بن رہا ہے۔ محکمہ جنگلات اور ماحولیات کو چاہیے کہ اس طرح زمین کی منتقلی پر پابندی لگائیں اور جونیپر کے جنگلات کو بچائیں اور ان کی روک تھام کے لیے سخت قانون سازی کریں جس کا سالانہ حساب کتاب اور باقاعدہ آڈٹ ہونا چاہیے۔


ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لئے حکومت کو چاہیے نئے جنگلات کے لئے مزید زمینں فراہم کر کے جنگلات کو جدید طرز پر لگا کر خصوصی بجٹ فراہم کرے، ان کی دیکھ بھال ہونی چاہیے مگر چند دھائیوں سے کسی حکومت نے بھی اس اہم کام پر توجہ نہیں دی اور جنگلات کا مستقبل ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی زد میں ہے، شہری آبادی کے بے تحاشہ بڑھنے سے کوئٹہ جونیپر کے جنگلات کافی متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری طرف حکومت نے نے سائنسی طریقہ کار کو نہیں اپنایا اور نہ جدید طرز کے معیاری پارک اور جنگلات بنائے گئے اور نہ ہی پہلے سے موجود جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے گئے۔


اب وقت ہے کہ ان جنگلات کو مزید تباھی سے بچایا جائے اور ایمرجنسی بنیادوں پر فیصلے اور اقدامات کئے جائیں تاکہ کوئٹہ کی خوبصورتی کو بچا کر موسمیاتی تبدلیوں کی راہ روکی جا سکے، متبادل اور جدید سائنسی اصولوں کو اپنا کر نئے جنگلات کو کم وقت میں لگایا جا سکتا ہے جس سے ماحولیاتی تبدلیوں کو روکا اور اس کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ جنگلات کے تحفظ کے لئے عام لوگوں میں شعور پیدا کرنے، چھوٹے ڈیمز بنانے کے ساتھ ساتھ جنگلات کی کٹائی پر سخت پابندی لگانی ہوگی جس کے لئے ادارہ امور جنگلات کو مضبوط کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ ادارے کو مزید بجٹ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ادارہ کی افرادی قوت بھی بڑھانا ہو گی۔


کوئٹہ کے جنگلات اور ماحولیاتی تبدلیوں پر بین الاقوامی اداروں آئی سی یو این جیسے اداروں کی خدمات بھی لی جا سکتی ہیں جو پہلے بھی بلوچستان میں کافی تجربہ رکھتے ہیں اور ان کی خاصی خدمات بھی ہیں۔ ان سے سیکھ کر حکومت بلوچستان کو سنجیدہ اقدامات لینے کی ضرورت ہے تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے بہتر طریقے سے نمٹا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس کے اثرات: شادیوں سے متعلق کاروبار بھی سخت مندی سے دوچار – تحریر: انیس ٹکر

شادی بیاہ سے متعلقہ کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ باقی کاروباروں کی نسبت ان …