جدید اورآزاد افغانستان کے بانی،غازی امان اللہ خان

تحریر: سنگین ولی

غازی امان اللہ خان نے افغانستان کو برطانوی تسلط سے آزادی دلائی اور سیاسی، معاشی اور سماجی اصلاحات سے افغانستان کو ایک قبائلی ریاست سے جدید اور مترقی ریاست میں بدل دیا

اگر ان کی اصلاحات اور اقدامات زیادہ عرصے تک جاری رہتے تو آج افغانستان ایک ترقی یافتہ ملک ہوتا مگر بدقسمتی سے ان کو زیادہ وقت نہیں ملا اور اندرونی و بیرونی سازشوں کے ذریعے ان کے خلاف بغاوت ہوئی اور وہ جلاوطنی پر مجبور ہوئے


گو کہ موجودہ افغانستان کو1747 میں احمد شاہ ابدالی نے بنایا تھا۔ انہوں نے افغانستان کو ایک خودمختار ریاست بنایا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ افغانستان پر بیرونی طاقتیں حملہ آور ہوتی رہیں اور انیسویں صدی میں انگریزوں نے افغانستان کی آزادی کو نیم خود مختاری میں بدل دیا اور ڈیورنڈ معاہدے سے افغانستان کا آدھا حصہ کاٹ کر برٹش انڈیا کے حصے میں دیا گیا اور یوں آزاد افغانستان کی خارجہ پالیسی انگریزوں کے کنٹرول میں آ گئی۔ پھر غازی امان اللہ خان نمودار ہوئے اور افغانستان کے بابائے قوم بن گئے۔
جن وجوہات کی بنا پر غازی امان اللہ خان کو جدید اور آزاد افغانستان کا بانی کہا جاتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے افغانستان کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرایا تھا۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہر شعبہ زندگی میں وسیع پیمانے پر اصلاحات متعارف کیں اور افغانستان کو ایک آزاد اور جدید ریاست بنایا تھا۔ ان کے دادا عبد الرحمن خان کے دور میں انگریزوں نے افغانستان کو یرغمال بنایا تھا اور انگریزوں کا تسلط ان کے والد حبیب اللہ خان کے دور تک جاری رہا۔ امان اللہ خان نے افغانستان کو برطانوی تسلط سے آزادی دلائی اور سیاسی، معاشی اور سماجی اصلاحات سے افغانستان کو ایک قبائلی ریاست سے جدید اور مترقی ریاست میں بدل دیا۔


امان اللہ خان کو غازی اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے1919 کو تیسری انگریز افغان جنگ میں انگریزوں کو شکست سے دو چار کیا اور افغانستان کی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ 1919 میں امیر امان اللہ خان نے اپنے والد امیر حبیب اللہ خان کے قتل کے بعد افغانستان کی بادشاہت سنبھالی تو صورت حال یہ تھی کہ اگرچہ افغانستان ایک آزاد ملک کہلاتا تھا مگر امیر حبیب اللہ خان اور ان کے والد امیر عبد الرحمن کے برطانوی حکومت کے ساتھ معاہدوں کی بدولت پالیسیوں پر انگریزوں کا ریموٹ کنٹرول قائم ہو چکا تھا۔ ان معاملات کے تحت نہ صرف چترال، وزیرستان، خیبر، چاغی، چمن، پشین، پاراچنار اور کرم کے علاقے انگریزوں کے حوالہ کر دیے گئے تھے بلکہ 1905 میں کیے جانے والے ایک معاہدہ کی رو سے امیر حبیب اللہ خان نے ایک لاکھ ساٹھ ہزار پونڈ کے عوض افغانستان کے خارجہ معاملات کا کنٹرول بھی انگریزوں کی تحویل میں دے رکھا تھا۔


امیر امان اللہ خان نے بادشاہت سنبھالتے ہی افغانستان کی مکمل آزادی کا اعلان کرتے ہوئے انگریزوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا جس میں افغان قوم نے اپنے حکمران کا بھرپور ساتھ دیا اور بالآخر مختلف جھڑپوں اور محاذ آرائی کے بعد برطانوی حکومت نے 8 اگست 1919 کو افغانستان کی آزادی کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کامیابی کے بعد امیر امان اللہ خان نے ملک کے نظام کی اصلاح اور دستوری ماحول قائم کرنے کی طرف توجہ دی اور متعدد اصلاحات نافذ کیں جو افغان قوم کو ہضم نہ ہو سکیں اور جنوری 1929 میں ایک تاجک سردار بچہ سقا نے، جسے پنجاب یونیورسٹی کے دائرہ معارف اسلامیہ کے مقالہ نگار نے تاجک ڈاکو لکھا ہے، کابل پر قبضہ کر کے امان اللہ خان کو اقتدار سے محروم کر دیا اور وہ اقتدار کے دوبارہ حصول کی ایک کوشش میں ناکامی کے بعد اٹلی چلے گئے۔
غازی امان اللہ خان کا دور حکومت 1919 سے لے کر1929 تک جاری رہا۔ ان کا دور حکومت شاندار اور بے مثال رہا ہے ۔ ماسوائے انقلابی صدر نور محمد ترکی کے کسی نے ایسے جامع اور دور رس اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔


غازی امان اللہ خان یکم جون1892 کو حبیب اللہ خان کے ہاں پغمان میں پیدا ہوئے۔ والدہ سرور سلطان تھیں۔ اگر غازی امان اللہ خان کی اصلاحات اور کارناموں کی بات کی جائے تو وہ بیشمار ہیں اور اس پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں جن کا مختصراً ذکر کرتے ہیں۔ ان کی اصلاحات کسی ایک شعبے تک محدود نہیں تھیں بلکہ انہوں نے سیاسی، سماجی، معاشی اور تعلیمی میدان میں زبردست اور جامع تبدیلیوں کی بنیاد ڈالی تھی۔ اگر ان کی اصلاحات اور اقدامات زیادہ عرصے تک جاری رہتے تو آج افغانستان ایک ترقی یافتہ ملک ہوتا مگر بدقسمتی سے ان کو زیادہ وقت نہیں ملا اور اندرونی و بیرونی سازشوں کے ذریعے ان کے خلاف بغاوت ہوئی اور وہ جلاوطنی پر مجبور ہوئے۔


امان اللہ خان نے سب سے اہم تبدیلی تعلیمی میدان میں متعارف کی۔ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے انہوں نے بنیادی تعلیم کو لازمی قرار دیا۔ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لئے سینکڑوں سکولز بنائے۔ پہلی دفعہ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے سینکڑوں الگ سکولز قائم کئے۔ ریسرچ سینٹرز اور دوسرے دوسرے تعلیمی ادارے بنائے تاکہ افغان عوام دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔
اس کے علاہ معاشرے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کئی سماجی اصلاحات نافذ کیں۔ خواتین کے حقوق اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے۔ خاص کر ان کی بیگم ملکہ ثریا نے خواتین کے حقوق کے لیے ذاتی دلچسپی دکھائی۔ عورتوں کے حجاب اور یونیفارم کے قوانین کو نرم کیا۔ ان کے حقوق کی پامالیوں کو روکا اور پہلی دفعہ لڑکیوں کی تعلیم کیلئے سکولوں کا قیام اور تعلیم کا حصول آسان بنایا گیا۔


اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے افغانستان کو جدید ریاست بنانے کے لیے صنعتی میدان میں بھی نیا انقلاب برپا کیا۔ سینکڑوں نئے صنعتی یونٹس اور کارخانے قائم کئے۔ سیمنٹ فیکٹریوں کا قیام، شیشہ سازی، تیل اور گھی بنانے کی صنعت، صابن سازی، دوا سازی، چھاپہ خانے کاغذ بنانے کی صنعت اور سینکڑوں دیگر صنعتیں شامل تھیں۔


میڈیا کے میدان میں بھی ترقی لائی گئی۔ کئی نئے جریدے جیسے طلوع افغان، ستارہ افغان اور سینکڑوں دیگر اخبارات کا اجرا شامل ہے۔ مواصلات کے نظام کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ اندرونِ ملک اور بیرونی دنیا سے ٹیلیگراف سسٹم قائم کیا۔ ملک کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے نئی سڑکیں تعمیر کرائیں پرانے سڑکوں کی مرمت کی گئی اور صوبوں کو ملانے کے لیے نئے پل تعمیر کئے۔ پہلی دفعہ افغانستان کے فضائی اور ہوائی نظام کا قیام بھی ان کے اقدامات میں شامل ہے۔
امان اللہ خان نے ملک کی خارجہ پالیسی کو انگریزوں کی خواہشات سے آزاد کر کے افغان عوام کی امنگوں کے مطابق تشکیل دیا۔ اس وقت دنیا دو گروپوں میں تقسیم تھی مگر انہوں نے افغانستان کو عالمی محاذ پر غیر جانبدار رکھا۔ یورپ اور روس کے کئی دورے کئے اور ان ممالک سے تجارتی تعلقات بحال کئے۔ ملک کے برآمدات کو خاطر خواہ طور پر بڑھایا۔


غرض افغانستان کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے افغانستان کو ایک عظیم ملک بنانے کے راہ پر گامزن کیا مگر دشمنوں نے ان کے خواب اور خدمات کو ناکام بنانے کی بھرپور کوششیں کیں اور کسی حد تک اپنے اس مقصد میں کامیاب بھی ہوئے۔
افغانستان کے اس عظیم الشان بادشاہ کو آخر میں اپنے وطن سے نکلنا پڑا اور باقی زندگی دور دیار غیر میں گزاری۔1928-29 کو بچہ سقاو جو کہ ایک لٹیرا تھا کی سربراہی میں امان اللہ خان کے خلاف بغاوت شروع ہوئی اور اس کے نتیجے میں پہلے ان کو انڈیا جانا پڑا اور پھر اٹلی منتقل ہوئے۔ انہوں نے تیس سال جلاوطنی میں گزارے اور 1960 سوئٹزر لینڈ میں وفات پائی اور اپنی وصیت کے مطابق افغانستان کے صوبہ جلال آباد میں دفن ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں

بیرون ممالک میں پاکستانیوں کو یتیم کیوں سمجھا جاتا ہے؟

تحریر: امان علی شینواری ”ہر ملک اپنے شہری کے لئے وکیل فراہم کر لیتا، کیسز …

%d bloggers like this: