لاکھوں نفوس پر مشتمل دیر کا صدر مقام تیمرگرہ بنیادی انسانی سہولیات سے محروم – تحریر: طاہر شاہ

ضلع دیر پائین ڈسٹر کٹ ہیڈ کوارٹر تیمر گرہ ملا کنڈ ڈویژن کا مشہور و معروف علاقہ جبکہ قدیم تاریخ، تہذیب او ر تمدن کے حوالے سے بھی خاص شہرت کا حامل ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور دوسرے علاقوں سے نقل مکانی کرکے یہاں دھڑا دھڑا آباد ہونے سے تیمر گرہ ایک گنجان آبا د شہر بننے سے علاقے میں زندگی کے بنیادی سہولیات کا فقدان پیدا ہو گیا ہے۔ تعلیم ہی خوشحال اور ترقیافتہ معاشرے کی ضامن لیکن موجودہ آبادی کے لحاظ سے تیمر گرہ میں مردانہ و زنانہ تعلیمی سہولیات آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور جو سر کاری تعلیمی ادارے موجود ہیں۔

اس میں بنیادی ضروریات برا ئے نام ہیں، ضلعی صدر مقام تیمر گرہ، تیمر گرہ خاص ، خو نگیان سدو، شیوگئی، ڈبر، تنگی درہ، شیخان میاں بانڈہ اور تحصیل بلا مبٹ کے بعض دیہات پر مشتمل ہیڈ کوار ٹر اہریا جو تحصیل میونسپل کمیٹی بھی ہے کی آبادی لاکھوں پر مشتمل لیکن اس قدر بڑی آبادی کیلئے صرف ایک پو سٹ گریجویٹ کالج ہے جس میں مقررہ داخلوں سے زائد گنجائش نہ ہونے سے بہت سے طلبا کا لج میں داخلوں سے محروم رہ جاتے ہیں لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ تیمر گرہ میں دوہرے بوائزکالج، کیڈٹ کالج، اسلامیہ کالج اور جناح کالج کیمپس قائم کیئے جائیں۔


ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر ہسپتال تیمر گرہ صوبے کی ایک مثالی علاج گاہ ہے ،ایک ضلع دیر لوئر کے عوام کی علاج کیلئے قائم ہسپتال پر بیک وقت 5 اضلاع ، ضلع دیر، دو اضلاع چترال اور ضلع باجوڑ سمیت ان گنت افغان مہا جرین کو بھی میڈیکل سروسز فراہم کر رہا ہے۔ڈسٹرکٹ ہیڈ کورٹر ہسپتال تیمر گرہ کو متعد بار ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن حا لا ت جوں کہ توں اور ٹیچنگ ہسپتال کے اعلانا ت پر اب تک عملددر آمد نہ کیا جا سکا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت ڈی ایچ کیو ہسپتال تیمر گرہ کو تدریسی ہسپتال کے اعلانات کو عملی بناتے ہوئے میڈ یکل سٹاف اور طبی سازوساما ن فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر ہسپتال تیمر گرہ کے شعبہ گیسٹر انٹرا لوجی وارڈ بندش سے مریضوں کیلئے سنگین مشکلات پیدا ہوئے ہیں جبکہ شعبہ کیسٹر ومیں وحدہ جگر اور آنتوں کے علاج کیلئے متعلقہ طبی آلات عدم دستیابی سے مریضوں کو پشاور جانا پڑتا ہے اور گیسٹرو شعبہ کیساتھ ایمر جنسی ڈرگ نہ ہونے سے بعض اہم اور جان بچانے والے قیمتی انجیکشن با زار سے خریدنا ہوتا ہے جو غریب اور نادار مریضوں کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر ہسپتال تیمرگرہ کے شعبہ گیسٹر و انٹرالوجی کودرکار تمام تر طبی سازو سامان اور ایمر جنسی ڈرگز فراہم کیئے جائیں تا کہ گیسٹرو انٹرا ئی ٹسٹ کے غریب اور نادار مریضوں کو درپیش مشکلات اور مصائب کا خاتمہ ہو جائیں اور انہیں تما م تر طبی سہولیات ہسپتال میں دستیاب ہو اور وہ پشاور جانے سے نجات پا سکیں۔


ٹی بی چونکہ ایک خطر ناک اور جان لیوا مرض ہے جو متا ثرہ مریض کے تھو ک، چھینکنے اور کھانسے سے دوسرے صحت مند شخص کو بھی لگ سکتا ہے لیکن بد قسمتی ہے محکمہ صحت دیر لوئر نے ٹی بی لیبارٹری اور او پی ڈی ہسپتال کے مین بلاک با چا خان میڈیکل او پی ڈی عمارت کے بیچوں بیچ قائم کیا ہے جہاں ہسپتال کے اکثر ڈاکٹرو ں کی او پی ڈی کے علاوہ کلینکل لیبارٹری، الٹرا ساونڈ، سی ٹی سکین، مردانہ و زنانہ انتظار گا ہیں جبکہ خصو صا ًای پی ٹی سنٹر بھی قائم ہے جہاں روزانہ درجنوں نوزائدہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کیلئے ای پی ٹی یونٹ لائے جاتے ہیں جو ٹی بی یونٹ سے ملحقہ اور ٹی بی کے بے شمار مریض ہر روز گھومتے پھرتے، کھانستے اور تھوکتے جبکہ دیگر مریضوں کے ساتھ انتظار گاہوں میں بیٹھنے سے ٹی بی مرض پھیلنے کا ہر وقت خطرہ لاحق ہو تا ہے۔


بتا یا جاتا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال بار اختیار اور خو دمختار سر کاری طبی ادارہ ہوتا ہے جبکہ شعبہ ٹی بی کاتعلق ضلعی محکمہ صحت کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ ہسپتال کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت حکام نوٹس لے کر ڈی ایچ کیوں ہسپتال تیمر گرہ کے بلاک باچا خان میڈیکل او پی ڈی کی عمارت سے ٹی بی یونٹ ہسپتال کے پشت پرواقع عمارات میں یا کسی اور مناسب اور محفوظ مقام منتقل کر کے ٹی بی یونٹ سے عوام میں پائی جانیوالی تشویش اور بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔
تیمرگرہ ڈاکخانہ کے حالات زار کے بارے میں بار بار لکھا گیا ہے جبکہ ان عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے اے این پی کے سابق سینیٹر زاہد خا ن نے اپنی کو ششوں سے تیمر گرہ ڈاکخانہ کو جی پی او کا درجہ دینے کی منطوری حاصل کرکے محکمہ ڈاکخانہ جات افسران کے ہمراہ اس کا باقاعدہ جی پی او کھولنے کا افتتاح بھی کر چکے ہیں جس کا کتبہ اب بھی تیمر گرہ کی خستہ حال ڈاکخانہ کی دیوار پر نصب کیا ہوا ہے لیکن 60سال سے قائم تیمر گرہ ڈاکخانہ نہ بدستور زبوں حالی کا شکار اور عوام علاقہ کو ڈاکخانہ میں بنیادی سہو لیات کا فقدان اور سٹاف کی کمی سے گو نا گوں مشکلات کا سامنا ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور محکمہ ڈاک حکام نوٹس لے کر تیمر گرہ ڈاکخانہ کی حالت زار بہتر بنا کر اسے حقیقی معنوں میں جنرل پوسٹ آفس (GPO)کا درجہ دے کر انہیں دور جدید ڈاک کے متعلق تما م سہولیات فراہم کئے جائیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے تقریباًتمام چھوٹے بڑے شہروں میں عوام کو تفریحی سہولیات فراہمی کے غرض سے پبلک پارک قائم ہیں لیکن تیمر گرہ میں نہیں۔ تیمرگرہ چاروں اطراف بلند و بالا سر سبز پہاڑوں کے دامن میں واقع شہر ہے جس کے بیچوں بیچ بہنے والی دریائے پنجگوڑہ نے تیمر گرہ کے قدرتی حسن کو چارچاند لگائے ہیں یہاں ایک تاریخی اور قابل دید پبلک پارک یا تفریح گاہ بن سکتا ہے لہٰذا اگر حکومت توجہ دے کر دریائے پنجکوڑہ کے آر پار اور قریبی پہاڑوں پر سیر گا ہیں اور تفریح گا ہیں بنوا کر دریائے پنجکوڑہ میں خزانہ سے لے کر بلامبٹ پل تک کشتی رانی کا انتظام کریں تو تیمر گرہ میں صوبہ بھر میں ایک منفرد خوبصورت تفریح گاہ بن جائیگا جسکی فطرتی حسن اور حسین نظاروں اور جھمیلوں کو دیکھنے کیلئے بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح آئیں گے۔


تیمر گرہ ہیڈ کوار ٹر سے دیہات میں پینے کے صاف پانی کی کمی جبکہ بڑھتے ہوئے ٹریفک کے باعث سڑکیں تنگ اور تجاوزات کی بھر مار سے ٹریفک مسلے نے گھمبیر شکل اختیار کر لی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ تیمر گرہ میں ٹریفک پر قابو پانے کیلئے سڑکوں کے اطراف فٹ پاتھوں کو کشادہ اور بازاروںسے تجاوزات کاخاتمہ کرے۔


تیمرگرہ میں ہر وقت ٹریفک جام رہنے سے جان بلب مریضوں کو طبی امداد کیلئے ہسپتال پہنچانے والے ایمبولنس گاڑیوں کو آنے جانے میں سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا مناسب ہے کہ ایمر جنسی نوعیت ٹریفک کیلئے تیمر گرہ میں ایک ایک پریس روٹ بنا یا جائے۔ تیمر گرہ بازاروں اور جنرل بس سٹینڈ میں لوگوں کیلئے پینے کے پانی کا سر کاری طور پر کوئی انتظام نہیں حالا نکہ جنرل بس سٹیڈ سے حکومت کو سالانہ کروڑوں روپے کی آمدن ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بیرون ممالک میں پاکستانیوں کو یتیم کیوں سمجھا جاتا ہے؟

تحریر: امان علی شینواری ”ہر ملک اپنے شہری کے لئے وکیل فراہم کر لیتا، کیسز …

%d bloggers like this: