صحت مند معاشرے کے قیام میں شجرکاری کی اہمیت

تحریر: ڈاکٹر وقار ربانی

اگر درختوں کو کٹنے سے روکا جائے اور نئے درخت لگائے جائیں تو بہت حد تک ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے، ہمیں اس وقت آلودگی اور خاص طور پر فضائی آلودگی کا خطرناک حد تک کا سامنا ہے جس کیلئے بہت ہی ضروری ہے کہ ہم حفظان صحت و ماحولیاتی تحفظ کیلئے شجر کاری کریں، درخت لگانے سے پوری انسانیت کے ساتھ ساتھ تمام ذی روح کو فائدہ پہنچے گا

پودے انسانوں اور جانوروں کی غذائی ضرورت اور صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور زمین سرسبز وشاداب اور ماحول کو صاف اور خوشگوار بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ دور جدید میں جہاں اک طرف فیکٹریوں اور رہائشی اپارٹمنٹس کے سبب جنگلات میں کمی آرہی ہے وہیں پر دوسری طرف ڈیزل، پٹرول بجلی اور ایٹمی توانائی کے بے جا استعمال سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن اور آکسیجن کا توازن بگڑ کر رہ گیا ہے جو کہ مختلف قسم کی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے جس میں پھیپھڑوں کی بیماریاں سرفہرست ہیں۔
ماحولیاتی خرابی کی بہت بڑی وجہ درختوں کی تیزی سے کٹائی اور دنیا سے ہریالی کا خاتمہ ہے۔ اگر درختوں کو کٹنے سے روکا جائے اور نئے درخت لگائے جائیں تو بہت حد تک ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہمیں اس وقت آلودگی اور خاص طور پر فضائی آلودگی کا خطرناک حد تک کا سامنا ہے جس کیلئے بہت ہی ضروری ہے کہ ہم حفظان صحت و ماحولیاتی تحفظ کیلئے شجر کاری کریں۔ درخت لگانے سے پوری انسانیت کے ساتھ ساتھ تمام ذی روح کو فائدہ پہنچے گا۔ موجودہ سائنس شجرکاری کی جس اہمیت وافادیت کی تحقیق کر رہی ہے قرآن و احادیث نے چودہ سو سال قبل ہی بتا دیا تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں اگر ہم آج اپنے ماحول کو صاف ستھرا اور فضاکو پاکیزہ نہیں کرتے تو موجودہ دور میں بھی ہمیں صحت کے حوالے سے بہت اہم مشکلات کا سامنا کرنے پڑے گا اور آنے والے وقت میں بھی ہمیں بہت ساری پیچیدگیوں کا سامنا کرنے پڑے گا کیونکہ آلودگی چاہے فضائی ہو یا میدانی، صحتِ انسانی کیلئے انتہائی مضر ہے۔
ماحولیاتی آلودگی کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟


ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ کا ایک ہی ذریعہ شجرکاری کا ہے جو کہ نہ صرف سنت رسول ﷺ ہے بلکہ قرآن کریم میں بھی مختلف حوالوں سے شجر (درخت) کا ذکر آیا ہے۔ ایک جگہ اللہ تعالی نے اپنی رحمت قرار دیتے ہوئے اس کا ذکر اس طرح کیا ہے، (مفہوم) وہی ہے جس نے آسمان سے تمھارے لئے پانی برسایا جس سے تم سیراب ہوتے ہو اور تمھارے جانوروں کیلئے بھی چارہ پیدا ہوتا ہے وہ اس پانی کے ذریعے کھیتیاں اگاتا ہے، زیتون، کھجور، انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل پیدا کرتا ہے اس میں ایک بڑی نشانی ہے ان لوگوں کیلئے جو غور وفکر کرتے ہیں (سورالنحل)۔ اس کے علاوہ ماحول کو خوبصورت اور خوشگوار بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ قدرت کا نظام ہے کہ اس کائنات میں جہاں ماحول کو آلودہ کرنے والے قدرتی وسائل پائے جاتے ہیں وہیں رب کائنات نے ماحولیاتی کثافت کو جذب کرنے والے ذرائع بھی پیدا کئے ہیں۔ اس کی بہترین مثال درخت ہیں۔ ہمارے لئے بہت ہی اچھا موقع ہے اپنے ماحول کو خوشگوار بنانے کا، آگے بڑھیے، قومی فریضہ نبھائیے، خود پودے لگائیے اور دوسروں کو پودے لگانے کی ترغیب کریں اور بقدر استطاعت اپنا تعاون صحت مند معاشرے کے قیام کیلئے کیجئے۔
عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کم کرنے سے سالانہ 10 لاکھ جانیں بچائی جا سکتی ہیں، سالانہ 70لاکھ افراد کسی نہ کسی وجہ سے فضائی آلودگی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔


ماحولیاتی تبدیلیوں کے صحت پر منفی اثرات


عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ عالمی سطع پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کم کرنے سے نہ صرف سالانہ 10 لاکھ افراد کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ ہم موسم گرما کی شدت اور مچھر سے پیدا شدہ بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں جو کہ پوری دنیا میں بہت ساری بیماریوں کی وجہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر برائے ماحولیاتی تبدیلیاں ماریہ نیرا کا کہنا ہے کہ فضامیں پائی جانے والی آلودگی سے ہمارے پھیپھڑے، گردے اور دل براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے صحت پر پڑنے والے اثرات کی روک تھام کیلئے عالمی سطع پر صرف ایک فیصد رقم خرچ کی جاتی ہے جو کہ ناکافی ہے، فضائی آلودگی کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسز کے ریکارڈ اخراج کی وجہ سے موجودہ صدی میں عالمی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے صحت پر پڑنے والے اثرات 21ویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے ماہر کیمبل لینڈرم کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج سے ہمیں غذاء اور پانی کی کمی جبکہ ہوا میں آلودگی جیسے مسائل کا سامنا رہے گا۔ کیمبل کے مطابق فصلوں کی باقیات کو جلانا فضائی آلودگی میں اضافے کاسب سے بڑا سبب ہے۔ ان کے مطابق سالانہ 70 لاکھ افراد کسی نہ کسی وجہ سے فضائی آلودگی کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔


عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ عالمی سطع پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کم کرنے سے نہ صرف سالانہ 10 لاکھ افراد کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ ہم موسم گرما کی شدت اور مچھر سے پیدا شدہ بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں جو کہ پوری دنیا میں بہت ساری بیماریوں کی وجہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر برائے ماحولیاتی تبدیلیاں ماریہ نیرا کا کہنا ہے کہ فضامیں پائی جانے والی آلودگی سے ہمارے پھیپھڑے، گردے اور دل براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے صحت پر پڑنے والے اثرات کی روک تھام کیلئے عالمی سطع پر صرف ایک فیصد رقم خرچ کی جاتی ہے جو کہ ناکافی ہے، فضائی آلودگی کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسز کے ریکارڈ اخراج کی وجہ سے موجودہ صدی میں عالمی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے صحت پر پڑنے والے اثرات 21ویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہیں۔


ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ کا ایک ہی ذریعہ شجرکاری کا ہے جو کہ نہ صرف سنت رسول ﷺ ہے بلکہ قرآن کریم میں بھی مختلف حوالوں سے شجر (درخت) کا ذکر آیا ہے۔ ایک جگہ اللہ تعالی نے اپنی رحمت قرار دیتے ہوئے اس کا ذکر اس طرح کیا ہے، (مفہوم) وہی ہے جس نے آسمان سے تمھارے لئے پانی برسایا جس سے تم سیراب ہوتے ہو اور تمھارے جانوروں کیلئے بھی چارہ پیدا ہوتا ہے وہ اس پانی کے ذریعے کھیتیاں اگاتا ہے، زیتون، کھجور، انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل پیدا کرتا ہے اس میں ایک بڑی نشانی ہے ان لوگوں کیلئے جو غور وفکر کرتے ہیں (سورالنحل)۔ اس کے علاوہ ماحول کو خوبصورت اور خوشگوار بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ قدرت کا نظام ہے کہ اس کائنات میں جہاں ماحول کو آلودہ کرنے والے قدرتی وسائل پائے جاتے ہیں وہیں رب کائنات نے ماحولیاتی کثافت کو جذب کرنے والے ذرائع بھی پیدا کئے ہیں۔ اس کی بہترین مثال درخت ہیں۔ ہمارے لئے بہت ہی اچھا موقع ہے اپنے ماحول کو خوشگوار بنانے کا، آگے بڑھیے، قومی فریضہ نبھائیے، خود پودے لگائیے اور دوسروں کو پودے لگانے کی ترغیب کریں اور بقدر استطاعت اپنا تعاون صحت مند معاشرے کے قیام کیلئے کیجئے۔

یہ بھی پڑھیں

باچا خان اور موجودہ ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی فضاء

تحریر:شمیم شاہد فخرِ افغان، بابائے امن نے جن جن واقعات اور حالات کے پیدا ہونے …