ڈاکٹر حنیف مرحوم، گفتار کے ہی نہیں کردار کے بھی غازی تھے

تحریر:مولانا خانزیب

باجوڑ میں ان کے نام سے منسوب پبلک لائبریری کا قیام ان کی علمی خدمات کا اعتراف ہے، مرحوم ہر قومی ایشو پر بڑے دلیری کے ساتھ بولتے تھے اور ساتھ ہی یہ بات اکثر کرتے تھے کہ ہمیں اگر پختون قوم کو مسائل کے گرداب سے نکالنا ہے تو ہمیں من حیث القوم شف شف کرنے کے بجائے کھل کر بولنا ہو گا

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
زندہ قومیں ہمیشہ اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں اور انہیں کبھی نہیں بھولتیں۔ قوم کا ہیرو کون ہوتا ہے؟ یہ بڑا بنیادی سوال ہے۔ اس کو ہم تاریخ کے زاویے سے حل کرتے ہیں کہ تاریخ میں کن کو یاد رکھا جاتا ہے۔ تاریخ میں وہ لوگ عظیم ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی قوم کے بہتر مستقبل کی خاطر اپنا آج اپنی قوم کی کل کے لئے قربان کیا ہو۔


تاریخ بڑی سلطنتوں، سرمائے، محلات کے رہنے والوں اور بورژوا کی بڑی بڑی علامتوں کے حامل فرد کو عظیم اور بڑا آدمی نہیں کہتی بلکہ بیداغ کردار کے اس انسان کو بڑا سمجھتی ہے جو اپنی ذات سے زیادہ قوم کے خیروفائدے کے حوالے سے احساس رکھتا ہو، قومی مشکلات کا ادراک رکھتا ہو اور اپنی قوم و مٹی سے محبوبیت کی بنیاد پر قومی حقوق کے مقدمہ کیلئے تن من دھن کی بازی لگاتا ہو۔


زندگی تو ہر انسان جیتا ہے مگر کچھ لوگ اپنی زندگی سے زیادہ عظیم، عمدہ اور بڑے لوگ ہوتے ہیں، یہ لوگ تاریخ پڑھنے والے نہیں تاریخ رقم کرنے والی عظیم ہستیاں ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی ذات سے آگاہ ہوتے ہیں جبکہ عام لوگ اپنی ذات کے بارے میں سنجیدہ ہوتے ہیں مگر یہ لوگ اگلی نسلوں اور اگلے زمانوں کا سوچتے ہیں اور سچ بھی یہی ہے ”کچھ کنویں انسان کو کھودنے چاہئیں جن کا پانی انسان نے خود نہیں پینا، کچھ درخت انسان کو ایسے لگانے چاہئیں جن کی چھاؤں میں انسان نے خود نہیں بیٹھنا” جن سے اگلی نسلوں نے مستفید ہونا ہوتا ہے۔ اگر آپ نے قومی مشکلات کو کم کرنا ہے تو یہ محض ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر لمبی لمبی تقاریر سنانے سے نہیں ہو گا، ایک صدی کی نسل کو قربانی دینی ہو گی تب قومی شعور اور حقوق کی آبیاری ہو گی۔
بہت سے ایسے بڑے انسانوں نے کئی مثالیں تاریخ میں پیش کی ہیں اور تاریخ کا رخ بدلا ہے۔ محمد مصطفیۖ، سقراط، حسین ابن منصور، کارل مارکس، ماوزے تنگ، باچا خان، نیلسن منڈیلا، عبدالستار ایدھی اور ہزاروں دوسرے قومی ہیروز جو اپنی زندگی سے بڑے انسان تھے۔ یہ عظیم ہستیاں اوسط تعداد میں بہت کم ہوتی ہیں۔ یہ زمانے کی سوچ سے آگے کا سوچتی ہیں اسی لیے تو یہ اپنی زندگی سے بڑے لوگ ہوتے ہیں۔


ایک مغربی دانشور کا کہنا ہے کہ دنیا میں عام آدمی کھاتا ہے، پیتا ہے، پہنتا ہے، سوتا ہے، کچھ کما لیتا ہے اور بس زندگی گزار کر مر جاتا ہے اور کچھ وقت کے بعد اس کے گھر والے بھی اس کو بھول جاتے ہیں کیونکہ صرف اپنے فائدے کی سوچ ہی اس کی کل کائنات ہوتی ہے لیکن جو بندہ اس ترازو پر پورا نہ اترے یا اس تصور زندگی سے بالاتر ہو تو وہ تو یا دیوانہ ہو گا یا جینئس!
اس حقیقت کی رو سے ڈاکٹر حنیف خان مرحوم ایک نابغہ تھے کچھ تین سال پہلے پہلی مرتبہ باجوڑ میں ایک سٹڈی سرکل میں حنیف خان کو پہلی مرتبہ سنا، وہ پختونوں کی قومی تاریخ کے نشیب و فراز پر کچھ دو گھنٹے تک بولے۔ میں بہت خوش بھی ہوا اور مطمئن بھی کہ کم ازکم ہمارے علاقے میں ایک ایسا پی ایچ ڈی ہولڈر دانشور ساتھی مل گیا ہے جو اپنی تاریخ پر بڑی مضبوط گرفت رکھتا ہے اور سامعین کو قوت استدلال کے زور پر مطمئن بھی کر سکتا ہے۔ اسی دن کے بعد حنیف خان کے ساتھ وہ عارضی ملاقات ایک مستقل قریبی دوستی میں بدل گئی۔ اگر کچھ دن تک نہ ملتے تو فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے پوچھتے۔ ایک دن مجھے کہنے لگے کہ تم مجھے کیوں اتنے اچھے لگتے ہو، پتہ ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ کہنے لگے کہ پختون مولانا ہو اس لئے!
ڈاکٹر حنیف خان میں کچھ ایسی خصوصیات تھیں جن کی بنیاد پر وہ ایک عام پروفیسر ہی نہیں بلکہ ایک خاص الخاص انسان بھی تھے۔ ان کے تخصص کا گراؤنڈ بین الاقوامی تاریخ تھا مگر دنیا کی عمومی تاریخی حقائق کے ساتھ، ان کا اپنی قومی تاریخ کا مطالعہ بھی بڑا زبردست تھا۔ وہ تاریخ کو مروجہ نصابی روایتی خول کے بجائے غیرروایتی انداز سے دیکھتے تھے۔ تاریخی مغالطوں کی زبردست اصلاح کرتے تھے۔ جب بھی ان سے بیٹھک ہوتی تو کچھ نہ کچھ ضرور نیا ان سے تاریخ کے حوالے سے سیکھتے۔ ان کا کسی علمی نظریے پر استدلال کی قوت بڑی زبردست ہوتی تھی۔ تاریخ کے روایتی حوالے کے ساتھ وہ اپنی علمی قابلیت کی بنیاد پر ہر کسی کو بڑے معتدل انداز سے مطمئن کراتے تھے ساتھ ہی ان کا حافظہ بڑا زبردست تھا۔ ہر علمی بحث کے دوران وہ دلیل کی قوت سے بات کرتے تھے۔


ڈاکٹر حنیف خان ایک سروس مین ہو کر بھی اپنے قومی مسائل سے بالکل لاتعلق نہیں تھے۔ وہ انتھائی دلیر تھے۔ ہر قومی ایشو پر بڑے دلیری کے ساتھ بولتے تھے اور ساتھ ہی یہ بات اکثر کرتے تھے کہ ہمیں اگر پختون قوم کو مسائل کے گرداب سے نکالنا ہے تو ہمیں من حیث القوم شف شف کرنے کے بجائے کھل کر بولنا ہو گا۔ ڈاکٹر حنیف خان قومی اجتماعی شعور کو عام کرنے کیلئے بہت زیادہ متحرک تھے۔ کچھ سالوں سے پختونخوا میں معاشرتی شعور عام کرنے کیلئے جگہ جگہ پر جو سٹڈیز سرکلز منعقد ہوتے ہیں وہ اس آئیڈیا کے بانی تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ عوام سے پہلے ہمیں اپنے ان نوجوانوں کی شعوری ذہنیت کو درست کرنا ہے جو کئی کئی ڈگریاں لے کر بھی اپنی حقیقی قومی تاریخ اور قومی حافظہ سے بہت دور ہیں۔ ڈاکٹر حنیف خان انتھائی ملنسار، منکسر المزاج اور متواضع انسان تھے۔ غریبوں کے انتھائی ہمدرد تھے۔ قدرتی حسن اور اپنے پختون کلچر کے سچے شیدائی تھے۔ ڈاکٹر حنیف خان کی نوجوانی میں اچانک موت نے باجوڑ سمیت پختونخوا کے ان ہزاروں لوگوں کو سوگوار کیا جو ان کی علمی صلاحیتوں سے واقف تھے۔


ڈاکٹر حنیف کا تعلق پختونخوا کے ایک دور دراز پسماندہ علاقے باجوڑ سے تھا اور اگر وہ اپنا تعارف نہ کراتے تو کسی کیلئے یہ یقین کرنا بھی مشکل ہوتا کہ جنگ وجدل تشدد اور قتل و خون کے نام سے پاکستانی میڈیا میں مشہور کئے گئے ایک پسماندہ علاقے میں علم و شعور سے جڑے ایسے ھیرے بھی موجود ہیں جہاں1974 سے پہلے کوئی تعلیمی ادارہ بھی نہیں تھا۔ ڈاکٹر حنیف نے ایک عام پختون گھرانے میں1975 کو آنکھ کھولی۔ پڑھنے سے دلچسپی تھی اور یہی وجہ تھی کہ باجوڑ کی تاریخ میں ڈاکٹر حنیف وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے عالمی تاریخ میں پہلی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں بطور استاد بھرتی ہوئے تھے۔ انتہائی کم گو انسان تھے مگر جب بولتے تو اپنی علمی شان کی وجہ سے پورے محفل پر چھا جاتے تھے۔ ڈاکٹر حنیف کی ایک خصوصیت ایسی تھی جو ان کو دوسرے ھزاروں پی ایچ ڈی ہولڈرز سے ممتاز کرتی تھی وہ ان کی قومی فکر کے ساتھ انتہائی درجے کی کمٹمنٹ تھی۔ وہ پختونوں کی بدبختیوں و بربادیوں پر انتہائی پریشان تھے اور پختونوں کو ان کی قومی بدبختیوں سے نکالنے کیلئے علم اور قومی اجتماعی شعور کو نسخہ اکسیر سمجھتے تھے۔


ڈاکٹر حنیف صرف گفتار کے غازی نہیں تھے بلکہ کردار و عمل کے بھی غازی تھے۔ انہوں نے کچھ تین سال پہلے باجوڑ میں ‘رنڑا ملگری’ (روشنی کے ساتھی) کے نام سے ایک علمی انجمن کی بنیاد رکھی جو تواتر سے مختلف جگہوں پر مختلف قومی موضوعات پر نوجوانوں کو قومی فکر کے ساتھ جوڑنے کے حوالے سے علمی مجالس منعقد کر رہی ہے جس سے باجوڑ کے تعلیم یافتہ نوجوان مستفید ہو رہے ہیں اور ان عملی مجالس کی طرف پڑھے لکھے نوجوان بہت زیادہ راغب ہو رہے ہیں۔ باجوڑ میں جنگی حالات اور بدامنی کی وجہ سے پبلک لائبریری کچھ دس سال سے بند تھی۔ باجوڑ کے نوجوانوں نے اس لائبریری کو دوبارہ فعال کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی اور کچھ ایک سال قبل یہ لائبریری کھول دی گئی مگر اس میں ابھی تک کتابوں کی کمی ہے جو امید ہے بہت جلد پوری ہو جائے گی۔


اس لائبریری کو ڈاکٹر حنیف کی علمی خدمات کے اعتراف اور مستقبل میں علم و قومی شعور سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے باجوڑ کے سول ایڈمنسٹریشن سے باجوڑ کے علمی انجمن ‘رنڑا ملگری’ کے ساتھیوں کی طرف سے ڈاکٹر حنیف کے نام موسوم کرنے کی درخواست کی گئی جس میں ملک جاوید علی اور عبدالواجد نے بہت زیادہ کردار ادا کیا۔ وہ درخواست منظور کی گئی اور پھر ڈی سی باجوڑ فیاض شیرپاؤ اور اے ڈی سی زمین خان مومند نے باقاعدہ طور پر اس لائبریری کو ڈاکٹر حنیف کے نام ، ڈاکٹر حنیف الرحمن میموریل لائبریری، سے موسوم کیا اور باجوڑ کی تاریخ میں پہلی بار کسی علمی شخصیت کی خدمات کے اعتراف میں ایک ادارے کو ان کے نام سے موسوم کیا گیا۔


اس موقع پر ایک تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں ڈاکٹر حنیف کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی جبکہ انور نگار اور میں نے اپنے خطاب میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے دیگر پختون قومی ہیروز اور علمی شخصیات جن میں تحریک آزادی کے نامور غازی بابڑے مولا صاحب، مولانا فضل محمود مخفی، قاضی عبد الحلیم اثر، مولانا عبدالمجید افغانی اور دیگر مشاہیر کے ناموں سے علمی اداروں کو منسوب کرنے کا مطالبہ کیا جو کہ ان شااللہ امید ہے مستقبل میں ضرور پورا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

ڈاکٹر نجیب اللہ، نہ کوئی شمع نہ کوئی آنسو

تحریر: روخان یوسفزئی افغانستان کے صدر شہید ڈاکٹر نجیب اللہ کی اپنی موت سے چند …

%d bloggers like this: