مسلمانوں کا ترقی نہ کرنے کا راز – تحرير:اسامہ غازی

مسلمانوں کی ترقی کا زینہ دین اسلام ہے اور بغیر دین کے مسلمان ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ حقیقی ترقی کے لئے جس ایثار اور قربانی کی ضرورت ہے اس کا سنگ بنیاد دو ہی چیزیں ہو سکتی ہیں، یا تو مذہب یا وطن کی محبت، اور مذہب سے متاثر ہو کر ہی مسلمان حقیقی ترقی کی شاہراہ پر گام زن ہو سکتے ہیں

ایک وقت تھا جب علم کی دنیا پر مسلمانوں کا راج تھا، ثمرقند اور بخارا کے علمی مراکز پوری دنیا میں مشہور تھے جبکہ مسلمان سائنسدان ایجادات کے ذریعے انسانی زندگی کو آسان سے آسان تر بنا رہے تھے لیکن آج کے مسلمانوں کو تیسرے درجے کی قوم خیال کیا جاتا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کیونکہ سوائے چند لوگوں کے مسلمان قوم آج جہالت کے اندھیروں میں ڈوب چکی ہے۔

مسلمانوں کے ان حالات پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو کر سامنے آ جاتی ہے کہ اس پستی کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ قرآن کے زریں احکامات سے دوری ہے۔ یہ قرآن مجید کی تعلیم ہی کا اثر تھا کہ چند سال کے عرصے میں عرب کے  بت پرست اور جاہل لوگ سب سے ذیادہ متمدن، مہذب، خدا پرست اور طاقتور بن گئے۔ دنیا میں وہی حکومت کرتے ہیں جن کے اخلاق بہتر ہوتے ہیں۔ قرآن کی تعلیم نے ان جاہل عربوں کو نہایت جلد ایسے اخلاق سے نوازا کہ آدھی سے زائد دنیا کے مالک بن گئے۔

قرآن کی تعلیم تو ایسی ہے کہ غیر بھی اس کے ظاہری نتائج نکلنے سے پیشتر یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ اس تعلیم سے جو متاثر ہوں گے وہ دنیا میں سب سے زیادہ مہذب، متمدن، کامیاب اور قوی ہوں گے۔ خود قرآن مجید بھی ایسا ہی دعوی کرتی ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ  قرآن شریف ذریعہ شفا اور رحمت ہے، مگر باجود اس کے ہم آج بھی مریض ہیں، ہم پست ہیں، ہم کمزور ہیں، تو پھر ہم شفایاب کیوں نہیں ہوتے؟

جب سے ہم قرآن کی تعلیم سے دور ہو گئے ہیں، ہم برابر سے تنزل کر رہے ہیں، ہماری اخلاقی حالت نہایت پست ہو چکی، جھوٹ و فریب ہمارے معاشرے میں سرایت کرتے جا رہے ہیں، فرقہ بازی، باجود اس کے کہ مسلمانوں کو اس سے منع کیا گیا ہے، ہمارے اندر روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ جیسی قوم ویسے اس کے اخلاقی حالات، اگر قوم زندہ ہے تو اس کے افراد میں جرات، ہمت، استقلال، ترقی کی امنگ، قربانی اور عمدہ اخلاق ہوتے ہیں اور اگر قوم مردہ ہے تو اس کے افراد سست، پست بزدل اور ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھنے والے ہوتے ہیں۔ قومی تنزل کا مردہ اقوام پر اس قدر اثر ہوتا ہے کہ عمدہ الفاظ کے مفہوم بھی بگڑ کر خراب ہو جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر توکل اور صبر کو ہی لیجئے۔ آج کل ہمارے ہاں توکل کے معنی کچھ نہ کرنا اور ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ جانا ہے اور اس وجہ سے نکموں کی تعریف کی جاتی ہے کہ فلاں صاحب تو کچھ کام نہیں کرتے، گھر سے باہر نہیں نکلتے اور بڑے متوکل ہیں حالانکہ قرآن مجید میں توکل کا مفہوم یہ ہے کہ نہایت مشکل حالات میں پوری ہمت سے کام لینا اور نتیجہ سے خائف ہو کر کام نہ چھوڑنا بلکہ نتیجہ کے بارے میں اللہ پر بھروسہ رکھنا اور خدا تعالی سے کامیابی کا بھروسہ رکھنا۔ صبر کے معنی آج کل فقط یہ لیے جاتے ہیں کہ اگر کوئی مصیبت آن پڑے تو غم کا اظہار نہ کریں، نیز یہ کہ ذلتیں برداشت کریں اور چپ بیٹھے رہیں، پٹتے جائیں اور اف نہ کریں حالانکہ قرآن مجید میں صبر کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ صحیح اصول پر کام کرنے میں جو دقتیں پیش آئیں ان کو برداشت کیا جائے اور ان سے گبھراکر کام کو نہ چھوڑا جائے۔

دنیاوی زندگی کو کامیاب بنانے اور وسائل اختیار کرنے کے بارے میں قرآن مجید میں جو تعلیم ہے اس کی طرف سے بالکل غفلت برتی جاتی ہے حالانکہ دشمنوں سے محفوظ رہنے کیلئے اور اپنی حالت بہتر بنانے کیلئے تمام امکانی قوتوں سے فائدہ اٹھانا اسلامی فرائض میں داخل ہے اور اس پر قرآن مجید میں بہت زور دیا گیا ہے۔ سورة انفال میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں،

ترجمہ:- اور تیاری کرو ان کے واسطے جو کچھ تم کر سکو، قوت سے اور گھوڑوں کے باندھے رکھنے سے کہ ایسا کرنے سے اللہ کے دشمنوں پر اپنی دھاک بٹھائے رکھو گے (اپنی حالت کو ایسے مضبوط رکھو)۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلمان دنیا میں مسکین زندگی بسر کرنے کیلے پیدا ہوئے ہیں حالانکہ قرآن مجید کی تعلیمات بالکل اس کے برخلاف ہیں۔ قرآن مجید میں ذلت اور مسکنت کو خدا کے غضب اور عذاب کی نشانی بتایا گیا ہے۔ سورہ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے کہ؛

ترجمہ:- تو تم کتاب الہی کی بعض باتوں کو مانتے ہو اور بعض کو نہیں مانتے تو جو لوگ تم میں سے ایسا کریں گے، اس کے سوا ان کا کیا اور بدلہ ہو سکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان کی ذلت ہو اور آخرکار قیامت کے دن بڑے ہی سخت عذاب کی طرف لوٹائے جائیں۔ یعنی دنیا کی ذلت بداعمالیوں کی سزا ہے۔

مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا ہے کہ مریض موجود ہو اور اکسیر بھی موجود ہو، مسموم موجود ہو اور تریاق بھی موجود ہو اور مرض نہ جاتا ہو تو اس کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ یا تو اکسیر اور تریاق کا استعمال نہیں کیا جاتا اور یا اگر استعمال کیا جاتا ہے تو غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی کلام مجید کو صحیح طریقے سے پڑھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا جو طریقے بتاتے ہیں جو خود قرآن مجید میں بھی درج ہے، اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے،

1) قرآن مجید نہایت غوروخوض سے پڑھو اور سمجھو، پوری طرح سے اس میں فکر کرو اور تدبر کرو

2) جو کچھ پڑھو اس کے مطابق صحیح عمل کرو کیونکہ انسانی پیدائش کا مقصد عمل ہے

3) قرآن مجید کی تعلیم پر عمل کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور نمونہ پیش رکھو، کسی تعلیم پر عمل کرنے میں آسانی اسی وقت ہو سکتی ہے کہ جب اس پر عمل کا مجسم نمونہ پیش نظر رہے تاکہ مختلف لوگ مختلف طریقہ سے عمل نہ کریں اور افراط تفریط سے محفوظ رہیں۔ خود قرآن میں قرآن کی تعلیم کا طریقہ بالکل صاف طور سے بتایا گیا ہے اور جناب رسول اللہ اور صحابہ اسی طریقہ پر کاربند ہوئے اور پوری طرح کامیاب ہوئے۔

مسلمانوں کی ترقی کا زینہ دین اسلام ہے اور بغیر دین کے مسلمان ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ حقیقی ترقی کے لئے جس ایثار اور قربانی کی ضرورت ہے اس کا سنگ بنیاد دو ہی چیزیں ہو سکتی ہیں، یا تو مذہب یا وطن کی محبت، اور مذہب سے متاثر ہو کر ہی مسلمان حقیقی ترقی کی شاہراہ پر گام زن ہو سکتے ہیں۔ تاریخ اور تجربہ بھی اس بات کا شاہد ہے کہ ہماری قوم مذہب ہی سے متاثر ہو کر پوری طرح کام کر سکتی ہے اور جب یہ حالت ہے تو بات بدیہی ہے کہ قومی ترقی کے پروگرام میں سب سے اہم جز مذہبی تعلیم ہونی چاہئے۔ نہایت ضروری ہے کہ کم از کم قومی سکولوں اور کالجوں میں قرآن مجید کی صحیح تعلیم کا انتظام کیا جائے۔

اللہ تعالی ہم سب کو صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے!

یہ بھی پڑھیں

عبدالقیوم بلالہ، سوات تا کراچی سائیکل پر سفر کرنے والے سوات کے 83 سالہ بزرگ – تحریر:عصمت علی اخون

”میری عمر کے لوگ اکثر بیمار ہوتے ہیں لیکن میرے خیال میں میری سائیکل نے …