بابڑہ کے زخم آج بھی تازہ ہیں

تحریر:ایمل ولی خان

ہر قوم کی زندگی میں عروج و زوال آتے رہتے ہیں۔ زندہ قومیں اپنی پستی اور زوال کو جانچ کر اس سے خود کو بچانے اور اس کے سد باب کیلئے کوششیں کرتی ہیں۔ اسی طرح زندہ قومیں جب بھی اپنی ماضی کو دیکھتی ہیں تو وہ دو جہتوں کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کرتیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی کوتاہیاں ضرور دیکھتی ہیں اور اسی طرح ایسی بیدار قومیں اپنے شاندار ماضی کے صرف ترانے ہی نہیں گاتیں بلکہ اسے اور بھی روشن کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دنیا کی ہر قوم پر اونچ نیچ آتی رہی ہے، آتی رہتی ہے اور آتی رہے گی تاہم پشتون ایک ایسی قوم ہے جس کی مجموعی اور عمومی تاریخ پر جب نظر دوڑائی جائے تو ایسے لگتا ہے کہ یہ قوم دنیا میں مصیبتیں جھیلنے اور تکالیف برداشت کرنے کے لئے ہی آئی ہے۔


پشتونوں کی تاریخ ایسے سینکڑوں واقعات اور حادثات سے بھری پڑی ہے جن کو دیکھ کر انسان کی آنکھ بھر آتی ہے۔ تاہم ان میں پھر ایس واقعات بھی ہیں جن کو دیکھ کر انسان کو گمان ہی نہیں ہوتا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے یا ایسا بھی ہوا ہو گا۔ ہم اگر دور نہیں جاتے اور ماضی قریب میں فرنگیوں کے ہاتھوں پشتونوں پر مظالم کا باب کھولتے ہیں تو قصہ خوانی، ہاتھی خیل اور ٹکر جیسے المناک، دردناک اور سفاک واقعات امن کی شیدائی اس قوم پر ظلم و جبر اور بربریت کی داستانیں سناتی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ یہاں آ کر رکتا نہیں بلکہ آزادی کے بعد بھی ایسے واقعات تاریخ کا حصہ بنتے ہیں جن کو سن اور دیکھ کر کانوں اور آنکھوں کو یقین ہی نہیں آتا۔ بابڑہ کا واقعہ پشتونوں کی مجموعی تاریخ کا وہ سیاہ، المناک اور دردناک واقعہ ہے جس کی مثال ہمیں تاریخ عالم میں بھی بہت کم کم دیکھنے کو ملتی ہے۔


آج اس بدنصیب واقعے کے بہتر سال پورے ہو گئے ہیں۔ آج سے پورے72 سال پہلے 12 اگست 1948 کو چارسدہ کے مقام بابڑہ پر نہتے پشتونوں اور فخر افغان باچا خان کے ساتھیوں اور عدم تشدد کے پیروکاروں کے ساتھ وہ کچھ ہوا جو اس سے پہلے آسمان کو دیکھنے کو نصیب نہیں ہوا تھا۔ ظلم کی ایک ایسی داستان مرتب کی گئی کہ خود ظلم کو بھی شرم آ گئی۔ لوگوں کا ناحق خون بہایا گیا اور ظلم کی اس داستان میں بوڑھوں کا خیال رکھا گیا، عورتوں کا اور نہ بچوں کا۔ بس گولیاں برسائی گئیں، لاشیں گرائی گئیں اور صف ماتم بچھایا گیا۔ ایسا بھی نہیں کہ اس دن خدائی خدمتگار کوئی بہت ہی ناجائز مطالبہ لے کر میدان میں اترے تھے۔ ان کا مطالبہ اگر جائز تھا تو احتجاج کا طریقہ بھی عین آئین اور قانون کے مطابق بلکہ اس سے بھی ایک درجہ بالا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں خدائی خدمتگار مکمل نہتے اور صرف باچا خان کے عدم تشدد کے اسلحے سے لیس تھے۔ کسی کے پاس ہتھیار تو کیا چاقو بھی نہیں تھا۔


لیکن مخالف فریق خدائی خدمتگاروں کے نظم و نسق، لوگوں کی خدمت اور خدائی خدمتگار حکومت کی کارکردگی سے اس قدر خائف اور ڈرا ہوا تھا کہ ان کو کچھ دکھائی اور سجھائی نہیں دے رہا تھا، ان کی آنکھیں بند تھیں تو دل بھی احساس سے عاری تھے۔ ان کو بس ایک ہی چیز نظر آرہی تھی اور وہ تھی ان کی حکومت کا دوام، چاہے اس کے لئے انہیں لوگوں کی سر ہی کیوں نا اتارنا پڑیں اور یہی ان لوگوں نے کیا۔ تاریخی پس منظر کے مطابق پاکستان بننے کے آٹھویں روز اس وقت کے صوبہ سرحد میں خدائی خدمتگاروں کی حکومت کو انتہائی ڈھٹائی بلکہ بہت ہی غیر آئینی، غیر قانونی اور غیراخلاقی طریقے سے ختم کر دیا گیا۔ اس وقت اس صوبے میں ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت تھی جو لوگوں کی خدمت میں لگی تھی اور لوگوں کو بھی خدمت صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اب مسلم لیگیوں اور خاص کر قیوم خان کو تو خدائی خدمتگاروں کی حکومت کی کامیابی بلکہ اس صوبے میں ان کا وجود بھی گنوارا نہیں تھا۔ صوبے میں اپنی حکومت اور خدائی خدمتگاروں کی حکومت ختم کرنے کے لئے قیوم خان نے نہ صرف ڈاکٹر خان صاحب کی جائز اور آئینی حکومت پر شب خون مارا بلکہ اگلے ہی روز یعنی23 اگست کو صوبے کے نئے وزیراعلی کی حیثیت سے حلف بھی اٹھا لیا۔
اب ایک طرف اگر صوبے میں پاکستان بننے کے ایک ہفتے کے بعد ہی ایک آئینی حکومت ختم کر دی گئی تو دوسری جانب حکومت کے پاس تین راستوں یعنی گورنر راج لگانے، نگران حکومت کے ساتھ نئے انتخابات کا اعلان اور یا پھر ہاؤس کے اندر سے کوئی نیا وزیراعلیٰ لانے جسے ہاؤس کا اعتماد حاصل ہو، میں سے کسی پر بھی عمل نہیں کیا گیا اور براہ راست قیوم خان کو لایا گیا جسے اسمبلی کی تو کیا اپنی پارٹی کی بھی حمایت حاصل نہیں تھی۔ اسی طرح ایسے اقدام سے صرف بابڑہ جیسے سانحے کا ہی سامان نہیں کیا گیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں ہارس ٹریڈنگ، طاقت کے استعمال اور غیر آئینی کاموں کی بنیاد بھی رکھ دی گئی۔ اگر اس دن ایسا نہ ہوتا، قیوم خان کا راستہ روکا جاتا تو آج ہم بابڑہ کو لے کر نہ رو رہے ہوتے، ایسا ظلم ہوتا اور نہ سینکڑوں بے گناہ خدائی خدمتگار شہید کئے جاتے۔


لیکن ایسا ہوا اور تاریخ کے صفحات پر ایک ایسا نقش چھوڑا گیا جس کی ہر لکیر سے آج بھی خون رس رہا ہے۔ اس دن یعنی 12 اگست1948 کو اپنے حق اور جائز مطالبے کے لیے نکلنے والوں پر قیوم خان کے حکم پر گولیاں چلائی گئیں۔ کوئی سات سو کے قریب بے گناہ خدائی خدمتگار شہید کر دیئے گئے۔ ظلم کے اوپر ظلم یہ ہوا کہ گولیاں تو حکومت نے چلائیں لیکن ان گولیوں کا تاوان شہیدوں کے ورثا سے وصول کیا گیا۔ ظلم خدائی خدمتگاروں پر ہوا لیکن غداری کے فتوے بھی انہی پر لگے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس وقت کے میڈیا کو بھی دباؤ میں لا کر اس واقعے کی اصل تصویر کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ حکومت نے اپنے تئیں اس واقعہ کو ایک الگ رنگ دینے اور حقائق کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی لیکن دنیا کا ایک اٹل اصول ہے کہ سچائی کو آپ کچھ مدت یا کچھ عرصے کے لیے دبا تو سکتے ہیں لیکن اسے مکمل طور پر جھٹلا یا ختم نہیں کر سکتے۔


آج بہتر سال گزرنے کے باوجود نہ صرف بابڑہ کے زخم تازہ ہیں بلکہ اس حوالے سے حقائق اگر منظر عام پر آرہے ہیں تو اس کی حقیقت بھی لوگوں پر آشکار ہو رہی ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ کسی بھی عوامی تحریک کو اوچھے ہتھکنڈوں اور فریبی چالوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ آج بھی باچا خان کے سپاہی اور خدائی خدمتگار اسی جذبے کے ساتھ میدان میں موجود ہیں اور فخر افغان کا کاروان آج بھی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ٹرک آرٹ سے گھریلو اشیاء کی پینٹنگ تک کا سفر – تحریر: فیاض الدین

پشاور میں ٹرکوں پر اپنے برش سے رنگ بکھیرنے والے سیار خان کو جب کورونا …

%d bloggers like this: