”ٹرمپ انسانیت کیلئے ہٹلر سے بھی بڑا خطرہ” تھے!

تحریر: ماخام خٹک

فی الوقت دنیا اور انسانیت اس بڑے خطرے سے چھٹکارہ پا چکی ہے، تین نومبر کو ہونے والے الیکشن کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق جوبائیڈن الیکٹورل کالج میں اکثریت کے ساتھ امریکہ کے چھیالیسویں صدر منتخب ہو چکے ہیں اور اب یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور دنیا کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیسے کرتے ہیں

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے انکار کو معروف ادیب نوم چومسکی نے انسانیت کے لئے ہٹلر سے بڑا خطرہ قرار دے دیا تھا اور وہ بھی اس وقت جب ان کے الیکشن کا پیک تھا۔ اب پتہ نہیں یہ ٹرمپ کے خلاف انتخابی مہم تھی یا نوم چومسکی کا واقعی کہنا یہی تھا کہ امریکی ری پبلکن پارٹی دنیا کی سب سے بڑی کنزرویٹیو جماعت ہے جو کہ موسمیاتی تبدیلی کی حقیقت کا انکار کر رہی ہے۔ نوم چومسکی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیرس معاہدہ گلوبل وارمنگ کو کنٹرول کرنے کی ایک کوشش تھی جو کہ سابق امریکی صدر بارک اوباما کی مدد سے کیا گیا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو اس سے علیحدہ کر لیا یعنی انھوں نے یہ معاہدہ نہیں کیا تھا البتہ اس کی تباہی کا سہرا ضرور ان کے سر ہے۔ فی الوقت دنیا اور انسانیت اس بڑے خطرے سے چھٹکارہ پا چکی ہے، تین نومبر کو ہونے والے الیکشن کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق جوبائیڈن الیکٹورل کالج میں اکثریت کے ساتھ امریکہ کے چھیالیسویں صدر منتخب ہو چکے ہیں اور اب یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور دنیا کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیسے کرتے ہیں۔ فی الوقت ان سے کافی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں تاہم وہ ماحولیات سمیت بعض پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھیں گے یا وہ ٹرمپ انتظامیہ کے بیشتر فیصلوں پر یوٹرن لیں گے، اس حوالے سے کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہی ہو گا۔

اس لئے اس بحث کو یہیں چھوڑتے ہوئے اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔نوم چومسکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کیوں انسانیت کے لئے ہٹلر سے بڑا خطرہ قرار دیا اور وہ بھی گلوبل وارمنگ معاہدہ سے انکار پر تو نوم چومسکی کی اس دھمکی آمیز حقیقت کو جاننے کے لئے گلوبل وارمنگ کو جاننا پہلے ضروری ہے اور ساتھ ساتھ گلوبل وارمنگ کو کنٹرول کرنے کے معاہدہ پیرس سے متعلق واقفیت بھی لازمی امر ہے۔ گلوبل وارمنگ کیا ہے؟ یہ سوال ہم میں سے بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ اس کی تعریف کچھ اس طرح سے ہے کہ فضا میں مختلف گیسز موجود ہوتی ہیں، ان گیسز کی زیادتی کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے، فضا میں مختلف گیسیں موجود ہیں، ان گیسوں کی زیادتی کی وجہ سے سورج کی کرنیں زمین سے ٹکرانے کے بعد خلا میں نہیں جا سکتیں جس کی وجہ سے فضا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور نتیجتاً زمین کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے۔ اس عمل کو گلوبل وارمنگ یا ”زمینی تپش میں اضافہ” کہتے ہیں۔

اچھا ماحول انسانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ اسی ماحول میں انسان زندگی کے مراحل طے کرتا ہے۔ اب ایک نظر اپنے ارد گرد کے ماحول پر ڈالیں تو یہ بات فکر سے خالی نہیں کہ انسان اپنے ہی ہاتھ سے اپنی بیماریوں کا سامان کر رہا ہے۔ اپنے ذاتی مفاد کیلئے اپنے ہی ہاتھ سے خود کو نقصان پہنچانے کیلئے تیار کھڑا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت موسم میں رونما ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ آج کل گرمی اتنی بڑھ گئی ہے کہ پہاڑوں سے برف تیزی کے ساتھ پگھل رہی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے کہیں پر بھی سیلاب آ جاتا ہے جبکہ اس سے پہلے سیلاب بارشوں کی زیادتی کی وجہ سے آتا تھا مگر موجودہ دور کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے اس معاملے کو بدل ڈالا ہے۔ گلوبل وارمنگ ایسی صورتحال ہے جس میں زمین کا درجہ حرارت بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق آنے والے تیس سالوں میں دنیا شدید گرمی سے متاثر ہو گی جس میں خلیج فارس کا نام قابل ذکر ہے۔ گیسوں کی موجودگی سے گرمی بڑھ جائے گی اور زمین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ ایران، دبئی، عراق، سعودی عرب اور اس کے علاوہ ہمارے ہمسایہ ممالک میں اس قدر شدید گرمی ہو گی کہ درجہ حرارت60 سے74 سنیٹی گریڈ تک جا پہنچے گا اس لئے جتنا ہو سکے درخت لگائیں۔ گلوبل وارمنگ سے مراد انسانی تجربات کے باعث قدرتی ماحول میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ چین سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کوئلے کو توانائی حاصل کرنے کے لئے جلایا جاتا ہے اور یہ گلوبل وارمنگ اور دیگر ماحولیاتی مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے۔

کوئلے اور تیل سے بجلی پیدا کرنے کے باعث بھی گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کوئلہ جلنے کے بعد کاربن گیس کا اخراج کرتا ہے جو ماحول میں حد درجہ آلودگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فضا میں پہلے سے موجود کاربن کی مقدار میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یوں درجہ حرارت میں اضافہ کے باعث کرہ ارض پر قائم حفاظتی غلاف جسے اوزون لیئر کا نام دیا جاتا ہے اس میں سوراخ پیدا ہوگیا ہے جس کے باعث سورج کی مضر ترین شعائیں زمین کی سطح تک پہنچ کر درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے باعث انسان کو مختلف مسائل کا سامنا ہے مثلاً زمین کے درجہ حرارت کے باعث برفانی تودوں کے تیزی سے پگھلنے سے سیلاب کے خطرات پیدا ہو رہے ہیں، زیر زمین ایٹمی تجربات کے باعث زلزلے آ رہے ہیں۔

ماہرین مغربی ہمالیہ کی قراقرم رینج میں بیس ہزار سکوائر کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے برفانی تودوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ یہ برفانی تودے چین، پاکستان اور بھارت کے حصوں پر مشتمل ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق گلوبل وارمنگ کے باعث عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے سمندروں کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے اور سیلابی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔گزشتہ100 سال کے دوران دنیا کے درجہ حرارت میں0.6 درجے سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر ماحول خراب کرنے کی سرگرمیاں اسی طرح جاری رہیں تو رواں صدی کے اختتام تک6 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے نہ صرف دنیا کا نقشہ تبدیل ہو جائے گا بلکہ انسانی زندگی بھی داؤ پر لگ جائے گی۔ زہریلی گیس فضا میں آکسیجن کی مقدار کم کر دے گی جس کے نتیجے میں لوگ بڑے پیمانے پر دماغی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہو جائیں گے، خطرناک بیماریوں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے۔ اس وقت جنگوں سے زیادہ انسان کو درجہ حرارت میں اضافے سے خطرہ ہے اور اس ضمن میں نوم چومسکی نے ٹرمپ کو گلوبل وارمنگ سے انکار کرنے والوں کی جانب دار ی کے سبب انسانی جان کے لئے جنگ کی علامت کے طور پر بدنام ہٹلر سے زیادہ خطرناک قرار دیا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق پچیس برس قبل پاکستان میں موسم گرما لگ بھگ ایک سو پچاس دنوں کا ہوا کرتا تھا لیکن موسمیاتی تبدیلوں کے باعث گرمیوں کی مدت بڑھ کر ایک سو پچیاسی دنوں تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح سردیوں کا موسم ایک سو دس دنوں سے سکڑ کر اسی پچیاسی دنوں تک محدود ہو گیا ہے۔

موسم بہا ر صرف بیس برس قبل چالیس سے پچاس دنوں کا ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ موسم پندرہ سے بیس دنوں کا ہو چکا ہے۔ اگر گرمیوں کا دورانیہ اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو ایک عشرے کے بعد پاکستان میں موسم بہار ہی نہیں موسم سرما بھی ناپید ہو جائے گا بلکہ زراعت، معیشت اور طرز زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔ گلیشیئرز پگھلنے سے ان کا سارا پانی سمندروں میں آجائے گا، جو شہر سطح سمندر سے نیچے ہیں وہ ڈوب جائیں گے۔ اس فہرست میں کراچی کا نام بھی شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ2050 تک کراچی کے مکمل طور پر ڈوبنے کا خدشہ ہے۔ اس کی تازہ مثال ٹھٹھہ اور بدین کے کچھ ساحلی علاقوں میں دیکھی جا سکتی ہے جو اب سمندر برد ہو چکے ہیں۔ پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور واقعات سے گزر رہا ہے جن میں سیلاب، خشک سالی، طوفان، شدید بارشیں اور گرم درجہ حرارت شامل ہیں۔ گذشتہ کئی برسوں سے اوسط عالمی درجہ حرارت میں جاری اضافے کی وجہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ اور دیگر زہریلی گیسز کی بڑھتی ہوئی مقدار کو قرار دیا جا رہا ہے جس کے باعث موسموں میں غیر معمولی تبدیلیاں واقع پذیر ہوئی ہیں۔

موسمیاتی اور ماحولیاتی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے سے فضا میں موجود گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے جو زمین کی سطح کا درجہ حرارت بڑھنے کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ انسانوں کی جانب سے فضا میں بھیجی جانے والی کاربن کا صرف چالیس فی صد حصہ فضا میں رہتا ہے،60 فیصد میں سے تقریباً آدھی کاربن سمندر جذب کر لیتے ہیں جبکہ باقی کی تقریباً30 فیصد کاربن کو کہیں نہ کہیں زمین جذب کر لیتی ہے۔ ابھی تک سائنسدان اس بات کا پتہ نہیں چلا پائے کہ زمین پر وہ کون سے مقامات ہیں جوکاربن کو جذب کرتے ہیں اور کون سی وجوہات زمین کی اس صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ سائنسدان ان مقامات کو کاربن جذب کرنے کے نامعلوم مقام یا مسنگ کاربن سنک کہتے ہیں۔ فضا میں کاربن کی مقدار جانچنے کے لئے پاساڈیناPasadena کیلیفورنیا میں قائم کی جانے والی ناسا کی مشاہدہ گاہ کے پرنسپل انویسٹی گیٹرDavid Crisp کا کہنا ہے کہ آج وہ عوامل جانچنا انتہائی ضروری ہے جو ہماری فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہیں تاکہ ہم نہ صرف مستقبل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی خطرناک حد کا اندازہ لگا سکیں بلکہ اس سے بچاؤ کے لئے تدابیر بھی اختیار کی جا سکیں۔ ناسا کی جانب سے بھیجی جانے والی خلائی مشاہدہ گاہ پوری دنیا کے گرد فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار جانچنے کی صلاحیت میں ایک حیرت انگیز تبدیلی لائے گی۔

ایک اندازے کے مطابق ہر16 دنوں میں یہ مشاہدہ گاہ دنیا کے گرد80 لاکھ مقامات سے کاربن کی مقدار کی پیمائش کرے گی اور کم از کم دو سال تک حاصل ہونے والے اس ڈیٹا کے ذریعے فضا میں مختلف مقامات پر کاربن کی مقدار کی درست جانچ کی جا سکے گی جس سے سائنسدانوں کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے درست اندازے قائم کرنا ممکن ہو سکے گا۔ لیکن اس کے باوجود کلائیمٹولوجسٹس کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ موجودہ دہائیوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے عالمی حرارت بڑھ رہی ہے۔پیڑ پودے انسان کی بنائی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے پرورش پاتے ہیں اور دنیا کو گرم ہونے سے بچاتے ہیں۔ 1930 کی دہائی سے گلوبل وارمنگ کا رونا رویا جا رہا ہے، پھر1970 کی دہائی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب ”دا بگ فریز” کا شوشہ چھوڑا گیا۔ انسان کی وجہ سے ہونے والی موسمی تبدیلیوں کا شوشہ حکومت کو ٹیکس بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔

کینیڈا نے فی گھر ہزار ڈالر کا ٹیکس اسی طرح نافذ کیا۔ دوسرے الفاظ میں عالمی حرارت کے بہانے عالمی حکمرانی حاصل کرنا ہے۔ موسمی پالیسیاں بنا کر دنیا کی دولت ہتھیا لینا ہے۔ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ضرورت سے زیادہ ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں کہ (جنگلوں کی افزائیش کے لیے) کاربن ڈائی آکسائیڈ فائدہ مند ہے۔2050 تک اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو صفر کرنا ہے تو دنیا کو مسلسل ہر دو دنوں میں تین نئے نیوکلیئر ری ایکٹر مکمل کرنے پڑیں گے اور دنیا میں اتنایورینیئم شائد نہیں ہے۔ حکومت کے نامزد کردہ اعلی نیشنل کنزرویشن کمیشن نے متحدہ امریکا کی کانگریس کے سامنے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ملک بھر میں معدنی تیل کے ذخائر30 سالوں میں ختم ہو جائیں گے۔ یہ 1909 کی بات ہے۔ امریکا میں اکتوبر(2019) کے مہینے میں اتنی سردی پہلے کبھی نہیں رہی۔ اس وہم سے نکلنا ضروری ہے کہ بین الاقوامی موسمیاتی پالیسی ماحول سے متعلق ہے۔ موسمی تبدیلی کی پالیسی درحقیقت طے کرے گی کہ عالمی دولت کس طرح بانٹی جائے گی۔ موسمیاتی تبدیلیاں روکنے کی آڑ میں نیا مالیاتی نظام آئے گا۔ ایک ایسے دشمن کی تلاش ہے جس کے خلاف سب کو متحد کیا جا سکے۔ آلودگی، عالمی حرارت کا خطرہ، پانی کی کمی، قحط اور ایسی آفات کا خیال مناسب رہے گا۔ عالمی حرارت ایک ٹروجن ہارس ہے تاکہ عالمی حکومت بنائی جا سکے۔ گرین ہاؤس کے لیے کرہ ہوائی میں طاقتور ترین گیس آبی بخارات ہیں۔ عالمی حرارت کے دھوکے اور منافقت کا سردار یورپی یونین ہے۔


اس وہم سے نکلنا ضروری ہے کہ بین الاقوامی موسمیاتی پالیسی ماحول سے متعلق ہے۔ موسمی تبدیلی کی پالیسی درحقیقت طے کرے گی کہ عالمی دولت کس طرح بانٹی جائے گی۔ موسمیاتی تبدیلیاں روکنے کی آڑ میں نیا مالیاتی نظام آئے گا۔ ایک ایسے دشمن کی تلاش ہے جس کے خلاف سب کو متحد کیا جا سکے۔ آلودگی، عالمی حرارت کا خطرہ، پانی کی کمی، قحط اور ایسی آفات کا خیال مناسب رہے گا۔ عالمی حرارت ایک ٹروجن ہارس ہے تاکہ عالمی حکومت بنائی جا سکے۔ گرین ہاؤس کے لیے کرہ ہوائی میں طاقتور ترین گیس آبی بخارات ہیں۔ عالمی حرارت کے دھوکے اور منافقت کا سردار یورپی یونین ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بے شرم انسان کے شرم کو ڈھانپنے والے مسیحا کا پیغام

تحریر: محمد عثمان پوری دنیا میں جہاں ہمیں انسانیت سے محبت کے جذبے کے تحت …