بیرون ممالک میں پاکستانیوں کو یتیم کیوں سمجھا جاتا ہے؟

تحریر: امان علی شینواری

”ہر ملک اپنے شہری کے لئے وکیل فراہم کر لیتا، کیسز کے اخراجات کا ذمہ ان کے متعلقہ حکومتوں نے اٹھایا تھا مگر صرف وہ تھے کہ پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے ایک جنبش قدرے نہیں کی گئی۔” لوئے شلمان کے رہائشی طارق خان کی کہانی ملک کے حکمرانوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے

”ہم جیل میں بے یارومددگار زندگی گزار رہے تھے، ہم بالکل یتیم تھے، ہمارا کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، ہمیں جو کھانا دیا جا رہا تھا وہ ہماری نہیں بلکہ انسانیت کی تضحیک اور تذلیل تھی۔” یہ ہے کہانی ان چھ بندوں کی ہے جن کا تعلق ضلع خیبر کی تحصیل کے دورافتادہ اور پسماندہ علاقہ لوئے شلمان سے ہے۔
لوئے شلمان کے رہائشی طارق خان نامی شخص نے کہا کہ وہ 2010 سے ملائیشیا میں مقیم تھے اور محنت مزدوری کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے علاقہ کے 5 افراد اور بھی تھے۔ طارق کا کہنا ہے کہ وہ سب کئی بار اپنے وطن آ چکے تھے، اچھی خاصی مزدوری چل رہی تھی ،وہاں ٹیکسی کار خرید کر روزی کمانے کا بہترین ذریعہ ملا تھا، خاندان والے سب خوش تھے مگر ہمیں کیا معلوم تھا کہ پل دو پل میں کایا پلٹے گی، ہماری خوشی دکھ و درد میں تبدیل ہو جائے گی، پتہ نہیں کہ کسی کی بد نظر لگی یا ہم سے کوئی گناہ سرزد ہوا تھا۔


انہوں نے کہا کہ وہ جنوری 2018 میں ملائیشیا کے چیراس شہر سے کاجع آ گئے۔ انہوں نے مبینہ طورپر الزام لگایا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد علی نے انہیں بھاری معاوضہ کا جھانسہ دے کر چیراس میں کام چھوڑنے اور موٹر کار سمیت کاجع آنے کیلئے تیار کیا تھا۔ پہلی فرصت میں اس پنجابی نے انہیں کام پر لگایا۔ طارق نے کہا کہ محمد علی اور ان کے دوسرے ساتھی نے نمک سے بھرا کینٹینر خالی کرانے کی بھاری دیہاڑی کا بتایا اور وہ کا م پر لگ گئے۔ تھوڑی دیر بعد پولیس کی نفری نے چھاپہ مارا۔ چھاپہ کے دوران محمد علی اور اس کا ساتھی دونوں فرار ہو گئے اور ان پر ہیروئین کا مقدمہ بنا کر انہیں جیل بھیج دیا گیا، ریمانڈ اور دیگر قانونی تقاضوں کے بعد عدالت کا معاملہ شروع ہوا۔


طارق شلمانی نے کہا کہ ان کے ساتھ جیل میں جتنے بھی دیگر ممالک کے قیدی تھے مثال کے طور پر انڈونیشیا، فلپائن اورکمبوڈیا وغیرہ وغیرہ کے، ان کے لئے اپنے اپنے سفارتخانوں نے وکیل کا بندوبست کر لیا تھا کیونکہ کینٹینر خالی کرانے میں اس وقت ان کے ساتھ انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے لوگ بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طورپر یہی صورتحال تھی کہ ہر ملک اپنے شہری کے لئے وکیل فراہم کر لیتا، کیسز کے اخراجات کا ذمہ ان کے متعلقہ حکومتوں نے اٹھایا تھا مگر صرف وہ تھے کہ پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے ایک جنبش قدرے نہیں کی گئی۔ طارق نے مزید بتایا کہ وکیل اور کیسز کے تمام اخراجات انہوں نے خود برداشت کئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک وکیل سے بات ہوئی اور فی کس سے 15 لاکھ پاکستانی روپے فیس لی، 14 ماہ بعد عدالت نے انہیں بے گناہ قرار دے کر باعزت بری کیا۔ طارق نے کہا کہ 14ماہ کا دورانیہ جو جیل میں رہا انتہائی تکلیف دہ اور مشکلات سے بھرا تھا، جیل میں ان کے ساتھ سلوک اور رویہ غیر انسانی تھا کیونکہ جیل کے عملہ کو یہ معلوم تھا کہ یہ یتیم ہیں ان کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، باقی ممالک کے قیدیوں کی باقاعدہ طور پر ہر ہفتہ پرسشش احوال ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے کہ اسی بنا پر دیگر قیدیوں کی نسبت ان کے کھانے کی صورتحال بھی بہت کمزور تھی، دیگر قیدیوں کا رویہ بھی سخت تھا، ایک دن ملائیشیا کے ایک قیدی نے نشے کی حالت میں طارق کو ناگہانہ ان کے سر پر ڈنڈا دے مارا جس سے وہ بے ہو ش گئے اور اسپتال منتقل کیا گیا مگر اسپتال لے جانا بھی ان کے لئے عذاب سے کم نہیں تھا کیونکہ جیل سے باہر اسپتال کو دیگر قیدیوں کا لے جانا ایک معمول سی بات تھی مگر پاکستانیوں کے لئے یہ عمل ایک دردناک اور تکلیف دہ سلسلہ تھا۔

انہیں جیل میں ملاقات اور رابطہ کرنے کی اجازت نہیں تھی اور یوں ایک اندھی سی زندگی گزر رہی تھی۔ طارق نے بتایا کہ اپنے ساتھیوں سمیت انہوں نے پاکستانی سفارتخانہ کو ایک لیٹر بھی بھیجا تھا تاکہ ایمبیسی ان کا پوچھے۔ اس سلسلے میں وکیل سے جب بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ملائیشیا حکومت نے آپ کے کیسز کے حوالے سے پاکستانی سفارتخانہ کو آگا ہ کیا ہے۔ ملائیشیا کے اس وکیل نے بھی بہت حیرت دکھائی کہ کیسے ممکن ہے پاکستانی سفارتخانہ نے ابھی تک انکا پوچھا تک نہیں ۔
اس سلسلے میں جب اوور سیز پاکستانی فاؤنڈیشن ریجنل آفس پشاور سے رابطہ کیا گیا تو گوہر امان آفریدی نے بتایا کہ فاؤنڈیشن ایک طرح کی سہولت کار ہے، جن پاکستانی شہریوں کو دنیا کے جس ملک میں بھی کوئی مشکل اور تکلیف ہو تو اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ پاکستان میں ان کے خاندان والے فاؤنڈیشن میں ایک درخواست جمع کریں گے، اس درخواست میں تمام معلومات پر پالیسی کے مطابق کارروائی ہو تی ہے، جب کاروائی کے عمل کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں کہا کہ فاؤنڈیشن متعلقہ سفارتخانہ یا قونصلیٹ کو یہ معلومات ارسال کرتی ہے۔


یہ بات بھی سامنے آئی کہ فاؤنڈیشن قونصلیٹ یا سفارتخانہ کو مجبور نہیں کر سکتی اور نہ ڈکٹیشن دے سکتی ہے تاہم سفارتخانہ بھی قانونی دائرے کے اندرکام کرنے کا پابند ہے۔
ملائیشیا میں قید ہونے والے طارق شلمانی نے مزید کہا کہ وہ ستم بالائے ستم کے شکار ہو ئے تھے کیونکہ 29 مارچ 2019 کو وہ جب وطن عزیز پاکستان واپس آ رہے تھے تو اعلیٰ سطح پر سفارتکاری کے رابطوں کے پیش نظر وزیر اعظم عمران نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ ملائیشیا میں پھنسے پاکستانیوں کو خصوصی طیارے کے ذریعے لایا جائے۔ طارق نے کہا کہ اس میں بھی ان سے 50,50 ہزار روپے ہتھیا لئے گئے جن کا بعد میں انہیں پتہ چلا کہ وزیر اعظم عمران کے اعلان کے مطابق پھنسے پاکستانیوں کو روپے لئے بغیر لایا جائے مگر ان سے پیسے بٹور لئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں وہ موٹر کار چھوڑ کر آئے ہیں، انہیں اتنی مہلت بھی نہیں دی جا رہی تھی کہ وہ اپنی موٹر کار فروخت کر کے واپس آتے کیونکہ ان پیسوں سے ان کے مسائل اگر ختم نہیں ہو سکتے تھے ان میں کمی ضرور آ سکتی تھی۔ روزگار چھننا، جیل جانا، وکیل کی فیس کی ادائیگی اور موٹر کار ہاتھ سے نکل جانے سے وہ مکمل طورپر کنگال ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی سفارتخانہ یا قونصلیٹ نے تھوڑا بھی کردار ادا کیا ہوتا تو وہ اتنے ذلیل نہ ہوتے کیونکہ باہر ممالک سے آنے والے مسافروں کے لئے گاوں میں جشن منایا جاتا ہے، تقریبات منعقد ہوتی ہیں دور دور سے لوگ ملنے آتے ہیں مگر ہم گاؤں ایسی حالت میں پہنچے جیسے گاؤں میں کوئی بھی نہ ہو یا بہت ڈھیر ساری لاشیں پڑی ہوں۔


طارق خان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور پسماندگی کے باعث پرائم منسٹرسٹیزن پورٹل پر کرایہ کے نام پر 50 ہزار روپے وصولی کے حوالے سے شکایت درج نہیں کی البتہ تین چار بار سفارتخانے میں اپنا ریکارڈ جمع کرایا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی تاہم ملایشیاء میں ہمیں یقین دھانی کرائی گئی کہ آپ کو پاکستان میں کرایہ کی رقم واپس کر دی جائے گی لیکن تاحال ہمیں نہیں ملی۔
پاکستانی ما ئیگرینٹس ورکرز کے مسائل کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی ایک تقریر میں وثوق سے کہا کہ اوورسیز پاکستانی شہریوںکے مشکلات حل کرانے میں حکومت سنجیدہ ہے اور انہیں تمام بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں گی اور ہر پاکستانی کا مسئلہ خواہ وہ کسی بھی ملک میں ہو ترجیحی بنیاد پر حل کیا جائے گا۔
آخر میں طارق نے کہا کہ موٹر کار کے سلسلے میں انہوں نے ملایئشیا میں موجود پاکستانی سفارتخانہ اور قونصلیٹ کو کئی لیٹرز لکھے کہ اس سلسلے میں وہ ہماری مدد کرے مگر ہمارے خطوط کا ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے اور معلوم یوں ہوتا ہے کہ موٹر کار اب سکریپ کا حصہ بن چکا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس کے اثرات: شادیوں سے متعلق کاروبار بھی سخت مندی سے دوچار – تحریر: انیس ٹکر

شادی بیاہ سے متعلقہ کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ باقی کاروباروں کی نسبت ان …