دنیا ایک اور تباہ کن سرد جنگ کے دہانے پر

تحریر: سلطان خان ٹکر

ایک بار پھر دنیا کے دو بڑے دفاعی اور معاشی لحاظ سے طاقتور ممالک آمنے سامنے ہیں، لیکن اس وقت روس کی بجائے امریکہ کا حریف چین ہے جو کہ ہر محاذ پر امریکہ کا صرف مقابلہ ہی نہیں کر رہا ہے بلکہ اسے مات پے مات بھی دیئے جا رہا ہے

ویتنام، جنوبی کوریا، شمالی کوریا، لاطینی امریکہ اور افغانستان میں لاکھوں گھر تباہ ہو گئے ہیں، لاکھوں مارے گئے اور لاکھوں متاثر ہوئے ہیں اور آج تک ہم اس پراکسی جنگ کے اثرات سے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں جو امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان لڑی گئی تھی

بمشکل 30 سال گزرنے کے بعد دنیا پہلے سے زیادہ تباہ کن سرد جنگ کی طرف مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایک بار پھر دنیا کے دو بڑے دفاعی اور معاشی لحاظ سے طاقت ور ممالک آمنے سامنے ہیں۔ لیکن اس وقت روس کی بجائے امریکہ کا حریف چین ہے جو کہ ہر محاذ پر امریکہ کا صرف مقابلہ ہی نہیں کر رہا ہے بلکہ اسے مات پے مات بھی دیئے جا رہا ہے۔ یوں تو دونوں ممالک کے درمیان کافی عرصے سے معاشی اختلافات کا اتار چڑھاؤ جا ری ہے مگر اب سرد جنگ کے امکانات نے جنم لیا ہے۔


چین اور امریکہ کے درمیان حالیہ اٹھنے والا تنازعہ سفارتی محاذ پر سامنے آیا ہے۔ امریکہ نے اپنے ملک میں موجود چینی سفارت کاروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیںاور واضح کیا ہے کہ چینی سفارت کاروں کو 50 لوگوں سے زائد اجلاس کرنے کے لئے سرکار سے اجازت لینا پڑے گی۔ بلااجازت چینی سفارت کار کسی بھی لوکل گورنمنٹ کے اہلکار سے نہیں مل سکتا ہے اور نہ ہی کوئی چینی سفارت کار امریکہ کی کسی یونیورسٹی کا دورہ کر سکتا ہے۔ امریکہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جو آزادیاں چینی سفارت کار امریکہ میں مانگتے ہیں وہی آزادیاں امریکہ کے سفارت کاروں کو بھی چین میں چینی حکومت کو دینا پڑیں گی۔ اس سفارتی تنازعے تک پہنچنے کے لئے کئی حالیہ واقعات نے اہم کردار ادا کیا مگر اس میں شدت کرونا کے واقعات کے دوران دیکھی گئی۔


گذشتہ سال کے اواخر میں چین کے علاقے ووہان سے اٹھنے والے کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس پر چین نے تو قابو پا لیا لیکن اس وائرس نے امریکہ میں تباہی مچا دی۔ ٹرمپ پر جب دباؤ بڑھا تو ٹرمپ نے یہ الزام لگایا کہ یہ وائرس چین کی بے احتیاطی کی وجہ سے پھیلا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس نے یہ تک الزام لگایا کہ یہ وائرس ووہان کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے۔ ایسے بیانات کے ذریعے چین کے خلاف ایک بھرپور مہم بھی چلائی گئی۔ دونوں ممالک کے سربراہان اس وائرس کے پھیلاؤ کا ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے لگے۔ مگر اختلافات نے اس وقت جنم لیا جب امریکہ نے اس وائرس کو روکنے کے لئے تائیوان کو مدد کی پیشکش کی اور 40 سال کے بعد امریکہ کے ہیلتھ سیکرٹری نے تائیوان کا دورہ کیا۔ چین نے اس دورے کو تائیوان کو ایک آزاد ملک کے اعلان کے مترادف سمجھا۔ چین نے اس کی مذمت کی۔ کیونکہ چین تائیوان کو ایک باغی خطہ سمجھتا ہے اور جلد یا بدیر طاقت کے ذریعے اس کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کا عزم رکھتا ہے۔


چین اور امریکہ اس وقت ہانگ کانگ میں بھی آمنے سامنے ہیں۔ اس معاملے نے اس وقت شدت اختیار کی جب چین نے ہانگ کانگ میں سیکورٹی کا ایک نیا قانون نافذ کیا اور امریکہ نے اس قانون کو ہانگ کانگ کے جمہوری سیٹ اپ کے لئے خطرناک قرار دیا۔ اس قانون کی رو سے ہانگ کانگ کا مخصوص سٹیٹس ختم کر کے ہانگ کانگ کو دفاعی ساز و سامان اور ہائی ٹیکنالوجی پراڈکٹس کی برآمدات روک دی گئیں جس سے ہانگ کانگ کی معیشت کو شدید دھچکا لگا اور ہانگ کانگ کے عوام جو پہلے ہی سے چین کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے انہیں چین کی طرف سے مزید خدشات نے گھیر لیا مگر معاملہ یہاں تک بھی محدود نہیں ہے۔


ساؤتھ چائنہ سی (Sea) میں چین کی ملٹری طاقت اور جنگی مشقوں کو دیکھ کر امریکہ نے اس خطے میں اپنی ملٹری حیثیت برقرار اور آگے بڑھانے کے لئے جنگی مشقیں شروع کیں۔ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی چین کا یہ تنازعہ ہے۔ سفارتی سطح پر تنازعے نے اس وقت شدت اختیار کی جب ہوسٹن میں جاسوسی اور امریکی ٹیکنالوجی چوری کرنے کے الزام میں چینی سفارت خانے کو بند کیا گیا۔ بلکہ اس سفارت خانے کو جاسوسی کا گڑھ بھی قرار دیا گیا۔ جوابی کارروائی کرتے ہوئے چین نے امریکہ کے چین میں موجود ایک سفارت خانے کو بند کر دیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ کی باتیں ہونے لگیں۔ امریکہ کے اخبارات میں ماہرین اور تجزیہ نگاروں نے آرٹیکل لکھے کہ کس طرح یہ واقعات سرد جنگ کے اشارے دینے لگے ہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بار سرد جنگ ہوئی تو یہ پہلی سرد جنگ سے خاصی مختلف ہو گی۔ ان دونوں ممالک کے حالات ماضی کے مقابلے میں بہت مختلف ہیں۔ ان 30 برسوں میں چین کا فوکس اپنی معیشت پر رہا۔ برآمدات میں اضافے سے چین کی معیشت ترقی کرتی رہی۔ برآمدات سے حاصل ہونے والے ہزاروں ارب ڈالرز سے چین باہر کے ممالک میں سرمایہ کاری کرتا رہا۔ یہ سب کچھ کرنے کے ساتھ چین نے اپنے سرحداتی تنازعات کو بھی کنٹرول میں رکھا۔ مگر فوکس معاشی ترقی، برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری پر رہا جس کی وجہ سے چین خطے میں ایک خاص مقام بنانے میں کامیاب ہو گیا بلکہ اب چین ایک عالمی Player کے طور پر ابھرنے لگا کیا ابھر چکا ہے۔ جس کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ کے کان کھڑے کر دیئے ہیں۔


مگر دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ٹرمپ نے کئی بار چین کی تعریفیں بھی کی ہیں۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا تو صدر ٹرمپ پر دباؤ بڑھتا گیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی اور ممکنہ طور پر بپا ہونے والی سرد جنگ کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ حالانکہ دنیا ابھی تک امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے اثرات سے 30 برس بعد بھی نہیں نکل سکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بار ممکنہ سرد جنگ پہلی سرد جنگ کے مقابلے میں بہت تباہ کن ہو گی۔ سوویت یونین اور امریکہ 45 سال تک یہ جنگ لڑتے رہے۔ دونوں دفاعی اور معاشی طور پر طاقتور تھے لیکن اس پراکسی جنگ سے سوویت یونین تباہ ہو کر 15 ممالک میں تقسیم ہو گیا اور سوویت یونین کی نظریاتی شکست کے بعد دنیا پر کیپیٹلزم کا راج قائم ہو گیا اور دنیا نے معاشی ترقی کا سفر شروع کیا۔ لیکن اس بار سرد جنگ کا منظرنامہ اس لئے بھی مختلف ہو گا کہ مغربی ممالک اور سوویت یونین کا ایک دوسرے پر وہ انحصار نہیں تھا جو اس وقت مغربی ممالک اور چین کا ایک دوسرے پر ہے۔ چین کی دنیا بھر میں سرمایہ کاری ہے۔ چین مغربی ممالک کی بڑی بڑی کمپنیوں کو خام مال سپلائی کرتا ہے جن میں امریکہ کی بھی بڑی کمپنیاں شامل ہیں اور ان ممالک اور کمپنیوں سے مال درآمد کرتا ہے۔ خود چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور برآمدات کے حوالے سے مغربی ممالک کے معاشی نظام کا بہت بڑا حصہ ہے اور دنیا کے کئی ممالک اس پر انحصار کرتے ہیں۔ چین کی معاشی بدحالی نہ صرف باقی مغربی ممالک بلکہ خود امریکہ کو بھی بری طرح متا ثر کرے گی۔


چین پر معاشی انحصار کی وجہ سے دنیا کے بے شمار ممالک کو امریکہ اور سوویت یونین کی سرد جنگ کی طرح نیوٹرل اور غیر جانبدار رہنا مشکل ہو گا۔ اگر سرد جنگ نے شدت اختیار کی تو نتیجہ لازماً براہ راست جنگ کی صورت میں نکلے گا۔ گذشتہ سرد جنگ کے دوران بھارت نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کر کے سوویت یونین کی طرف جھکاؤ کے باوجود سرد جنگ کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھا لیکن اس بار بھارت کے لئے خود کو نیوٹرل رکھنا مشکل ہو گا۔ جیسے جیسے بھارت اور چین کا اختلاف بڑھے گا ویسے ویسے بھارت اور امریکہ ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ بھارت چین سے دور ہوتا جائے گا مگر یہ دوری بھارت کے لئے آسان نہیں ہوگی کیونکہ بھارت کی صنعت کے زیادہ تر خام مال کا انحصار چین پر ہے جبکہ دوسرے ذرائع سے درآمد کرنا بھارت کو بہت مہنگا پڑے گا۔ برطانیہ کے اخبار دی گارڈین کے مطابق بہت سے ممالک اس ممکنہ سرد جنگ میں خود کو نیوٹرل رکھنے کی بہت کوشش کر رہے ہیں مگر ایسا کرنا ان کے لئے بہت مشکل ہے۔ ایک دوسرے پر معاشی انحصار کی وجہ سے تمام ممالک کو دوسری سرد جنگ کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔


ایشیاء ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکی صدر نے اس لڑائی کا آغاز بہت جلدی سے کیا ہے۔ لڑائی شروع کرنے سے پہلے جامع منصوبہ بندی نہیں کی۔ اسے دنیا کی قدیم ترین تہذیب سے یہ لڑائی لڑنی کیسے ہے کیونکہ یہ کوریا اور جاپان جیسے اتحادیوں کے لئے کوئی آسان بات نہیں ہے جنہیں امریکہ چین سے الگ کرنا چاہتا ہے مگر ایسا کرنا ان دونوں ممالک کے لئے معاشی خود کشی کے برابر ہے۔ سنگاپور کے وزیر اعظم کے مطابق ایشیائی ممالک امریکہ کو ایسی طاقت کے طور پر دیکھتے ہیں جو کہ اس خطے میں رہنے والی ہے۔ امریکہ کے ایشیاء میں وسیع مفادات ہیں مگر اس کے ساتھ چین خطے کی ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے دروازے پر موجود ہے۔ ایشیائی ممالک نہیں چاہتے ہیں کہ انہیں چین اور امریکہ میں سے کسی کو چننے پر مجبور کیا جائے۔ اگر امریکہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا چاہتا ہے یا پھر چین خطہ میں اپنا اثر رسوخ بڑھانا چاہتا ہے تو یہ دونوں ممالک اس خطے میں ایسی کشیدگی کا باعث بنیں گے جو دہائیوں تک چلے گی اور اس طرح اس خطے کی ترقی کو خطرے میں ڈالے گی۔

امریکہ کو چاہئے کہ چین کو سوویت یونین کے آخری سالوں کی طرح نہ دیکھے جب سوویت یونین کی معیشت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی کیونکہ چین خود ایک بڑی طاقتور معیشت ہے اور بڑی معاشی طاقتوں کی لڑائی کا انجام پہلے کی طرح نہیں ہو گا۔ ایشیائی ممالک کی طرح اس سرد جنگ سے یورپ بھی خطرے میں پڑ جائے گا مگر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیف جوزف بورئیل کے مطابق یورپ امریکہ کے ساتھ چین کے خلاف ایسی ممکنہ جنگ میں ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہے اور نہ یورپ چین کی معاشی طاقت اپنے لئے کوئی ملٹری خطرہ سمجھتا ہے۔ یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی اور چین کے لئے یہ لفظوں کا کھیل نہیں ہے۔ چین نے جرمنی سے 2019 میں 96 ارب یوروز کی درآمدات کی ہیں جوکہ پورے یورپ میں جرمنی کی درآمدات کا آدھا حصہ ہے جس سے جرمن انڈسٹری کا چینی معیشت پر انحصار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ صرف یہی نہیں جرمنی کی کار بنانے والی ایک کمپنی نے 2017 میں 42 لاکھ گاڑیاں چین بھیج دی تھیں۔ اگر جرمنی اس کمپنی سے کہہ دے کہ چین سے کاروبار بند کرو تو ایساکرنے میں بھی اس کو پانچ سال کا عرصہ لگے گا اور اربوں یورو کا نقصان الگ ہو گا۔ اس لئے چین سے لڑائی یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے مفاد میں بھی نہیں ہے اور نہ جرمنی کے عوام ایسا چاہتے ہیں کیونکہ وہاں پر کئے گئے ایک سروے کے مطابق جرمنی کے عوام چین کے مقابلے میں ٹرمپ کو زیادہ بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔


دی گارڈین اخبار کے مطابق صرف یورپ میں نہیں بلکہ لاطینی امریکہ کے کئی ممالک کا جھکاؤ بھی حیران کن طور پر چین کی طرف ہی ہے۔ چلی جوکہ لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی فری اکانومی ہے وہ چین کو اپنا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر، درآمدات میں بھی اور برآمدات میں بھی، سمجھتا ہے۔ اسی طرح چین نے اپنے ون بیلٹ ون روڈ کا دائرہ کار لاطینی امریکہ تک پھیلا رکھا ہے جس میں 20 میں سے 16ممالک شامل ہو گئے ہیں۔ ارجنٹینا کا پہلے سب سے بڑا پارٹنر برازیل تھا مگر اب چین ہے۔ ارجنٹینا کے صدر کے مطابق تجارتی تعلق کو نظریات سے ہٹ کر دیکھنا چاہئے۔ برازیلی صدر چین کے خلاف ہونے کے باوجود چین پر اپنا انحصار ختم نہیں کر سکتے ہیں۔ اس سال کے 5 ماہ میں برازیل کی چین سے درآمدات میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے جوکہ چین پر اس کے معاشی انحصار کا واضح ثبوت ہے۔ لاطینی امریکہ کے ملک ایکواڈورکے قرض کا ایک تہائی حصہ یعنی 18 ارب ڈالرز چینی بینکوں سے لیا گیا ہے۔ خطے کے دیگر ممالک میکسیکو، وینزویلا وغیرہ کے بھی چین سے مضبوط تعلقات ہیں۔ لاطینی امریکہ جو کبھی امریکہ کے قریب تھا اب اس کا انحصار چین پر بڑھ گیا ہے جس کی مثال تائیوان کے مسئلے پر پاناما، ڈومینین ری پبلک اور ایل سلواڈور کا چین کی طرفداری کرنا ہے۔ جواب میں چین نے ان ممالک کو قرضے دیئے اور سرمایہ کاریاں کیں۔


اس کے ساتھ افریقہ میں بھی چین کے اثر رسوخ میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ افریقی ممالک نے چین سے 150 ارب ڈالرز قرضہ لیا ہے جو کہ ان ممالک کے لئے گئے قرضے کا 20 فیصد ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور پیرس کلب کے مجموعی قرضوں سے بھی زائد دیا ہے۔ یہ اس چینی قرضے کے علاوہ ہے جو ان قرض لینے والے ممالک نے اپنے سرکاری اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا ہے۔ یعنی اس وقت دنیا کے ممالک میں سب سے زائد قرضہ دینے والا ملک چین ہے۔ چین نے بین الاقوامی اداروں میں بھی اپنا اثر رسوخ دکھانا شروع کیا ہے۔ یعنی امریکہ پیچھے جا رہا ہے اور چین آگے بڑھ رہا ہے۔ مغربی ممالک کو چین کی وارننگ اس وقت محسوس ہوئی جب 2017 میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی قیادت کے لئے ایتھوپیا کے امیدوار نے چین کی پشت پناہی سے برطانیہ سے تعلق رکھننے والے میدوار کو شکست دی۔ چین اس وقت خود اقوام متحدہ کے 15 اداروں میں سے 4 کی قیادت کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ چین نے اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹ کونسل میں بھی اپنا اثر رسوخ بڑھا دیا ہے اور اس کا ایک متحرک ممبر بن گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مغربی ممالک نے چین میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر جولائی 2019 قراردادکو ووٹنگ کے لئے پیش کیا تو صرف 22 ممالک نے اس قرارداد کا ساتھ دیا جس میں چین پر تنقید کی گئی تھی جبکہ 50 سے زائد مغربی ممالک نے اس کی مخالف قرارداد پر دستخط کر دیئے تھے۔


اسی صورت حال کو مدنظر رکھ کر ماہرین کا خیال ہے کہ یہ امریکہ کی خام خیالی ہے کہ دنیا سرد جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے گی۔ دنیا کی 20 فیصد آبادی رکھنے والے ممالک تو امریکہ کے اتحادی بن جائیں گے مگر باقی 80 فیصد آبادی والے ممالک ایسا نہیں کریں گے۔ ماہرین کے مطابق چین خوش قسمت ہے کہ اسے ٹرمپ جیسا دشمن ملا ہے جو اپنے اتحادیوں کو بے عزت کر رہا ہے اور چین مزید اتحادی بنا رہا ہے۔ معروف مصنف میرا ریپ ہاپر اپنی کتاب SHIELDS of the REPUBLIC میں لکھتی ہیں کہ ٹرمپ نے کیسے امریکہ کے اتحادیوں کو برباد کر دیا ہے جس کی قیمت امریکہ ادا کر رہا ہے۔ اب مغرب کو یہ امید ہے کہ چین بھی ٹرمپ کی طرح احمقانہ حرکتیں شروع کرے۔ اس لئے ماہرین کی نظر میں یہ سرد جنگ بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔


ویتنام، جنوبی کوریا، شمالی کوریا، لاطینی امریکہ اور افغانستان میں لاکھوں گھر تباہ ہو گئے ہیں، لاکھوں مارے گئے اور لاکھوں متاثر ہوئے ہیں اور آج تک ہم اس پراکسی جنگ کے اثرات سے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں جو امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان لڑی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

لاکھوں نفوس پر مشتمل دیر کا صدر مقام تیمرگرہ بنیادی انسانی سہولیات سے محروم – تحریر: طاہر شاہ

ضلع دیر پائین ڈسٹر کٹ ہیڈ کوارٹر تیمر گرہ ملا کنڈ ڈویژن کا مشہور و …

%d bloggers like this: