”زما وینہ د ہر گل پہ رگ کے زغلی”

اے این پی پشاور سٹی کے سابق صدر سرتاج خان شہید جیسے انسان تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور جب بھی پختون قوم پرست سیاست کا ذکر آئے گا اس میں ان کو نظر انداز کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن کام ہو گا

پشتو عوامی شاعری میں جس طرح پشتو ٹپہ عوام میں بہت زیادہ مقبول اور پسند کیا جاتا ہے اسی طرح ایک اور عوامی صنف ”کاکڑئی غاڑہ” بھی انتہائی مقبول صنف ہے، دونوں اصناف کی اہم صفت یہ کہ ان تین مصرعوں میں ایک پورا مضمون سمایا جاتا ہے۔ ایک جانب اگر ٹپہ میں جوانی کی موت کو بم کے وار سے تعبیر کیا گیا ہے۔

د زوانے مرگ د بم گزار دے

بم چی گوزار شی ٹولہ زمکہ خوازوینہ

یعنی جوانی کی موت بم کا  وار ہے۔ اور جہاں بم کا وار ہوتا ہے اور جہاں بم پھٹتا ہے تو پوری زمین ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ اسی طرح ایک مشہور کاکڑئی غاڑہ میں بھی جوانی کی موت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ

د خونہ سختہ لرگیہ

پڑک بہ وچوے کہ خبر شوے

د زوانانو د مرگیہ

مفہوم اس کا یہ ہے کہ اے زیتون کے سخت درخت! ٹکڑے ٹکڑے ہو جاو  گے اگر  جوانوں کی موت کے غم اور درد کا تمہیں پتہ چلے۔ اور ان دونوں اصناف میں جوانی اور جوانوں کی موت کے حوالے سے جس دکھ اور غم کا اظہار کیا گیا ہے اس غم دکھ درد کو اگر آج کوئی حقیقی معنوںمیں محسوس کرتا ہوگا تو وہ گزشتہ سال پشاور کے مصروف ترین علاقہ گلبہار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شہید ہونے والے اے این پی پشاور سٹی کے نوجوان صدر سرتاج خان کے پس ماندگان اور ان کی جماعت اے این پی کے مرکزی صوبائی اور ضلعی قائدین سمیت پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ انہیں قریب سے جاننے والے ہی اس بھاری غم، درد اور تکلیف کو محسوس کرتے ہوں گے۔

پشتو کی ایک کہاوت کے مطابق کہ ”زمکہ  ھغہ سوزی چی چرتہ اور بلیگی” یعنی زمین وہی جلتی ہے جہاں آگ لگی ہو۔ سرتاج خان، جو اس وقت عوامی نیشنل پارٹی سٹی پشاور کے صدر تھے اور اس سے قبل وہ جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے تھے، پشاور میں اے این پی کے چابک دست، متحرک اور فعال کارکن سمجھے جاتے تھے۔ جب بھی پارٹی کا کوئی پروگرام جلسہ، جلوس مظاہرہ ہوتا سرتاج خان اس میں ساتھوں اور کارکنوں سمیت آگے آگے رہتے۔ وہ ایک اچھے فرض شناس کارکن اور منتظم بھی تھے۔ پشاور میں پارٹی کے ہر پروگرام کے انتظات بڑے سلیقے سے کیا کرتے تھے۔ سرتاج خان سے میری شناسائی اس وقت ہوئی تھی جب وہ سکول کے طالب علم تھے۔ ان کے والد اور ہمارے گاؤں کے خدائی خدمتگار پردل خان المعروف پیجی کاکا دونوں سعودی عرب میں حج کی سعادت حاصل کرنے کے موقع پر دوست بن گئے تھے۔ اس  کے ساتھ ہماری شناسائی اور پہچان بعد میں اچھے تعلق اور دوستی میں بدل گئی۔

اپنی شہادت سے چند دن قبل پشاور پریس کلب کے سامنے میڈیا کی آزادی کے حق میں اے این پی کے احتجاجی مظاہرہ میں ان سے ملاقات ہوئی تو  حسب سابق میں نے ان سے ازراہ مذاق کہا ”سرتاجہ خرچہ نہ کے یرہ” سرتاج خرچہ نہیں کرتے ہو اور وہ حسب عادت ہنس دیئے اور سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا ”لالا جس وقت آپ حکم کرو گے میں ہر وقت تابعدار ہوں” اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ہوئیں کیا پتہ تھا کہ میری اور سرتاج کی یہ ملاقات آخری ملاقات ہو گی۔ خدا جانے کہ مجھے آج بھی یقین نہیں آرہا کہ سرتاج خان اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ ایک یارباش قسم کے انسان اور ایک روایتی تربیت یافتہ پختون تھے۔ بقول غالب کہ ”موت کا ایک دن معین ہے” کیونکہ اس سے قبل وہ تین خودکش حملوں میں بال بال بچ گئے تھے۔

اے این پی کے سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور پر ہونے والے خودکش حملے (جس میں انہیں شہید کیا گیا تھا)  میں بھی سرتاج خان معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔ اس کے بعد حاجی غلام احمد بلور پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی انہیں خدا نے محفوظ رکھا۔ پھر اے این پی کے اس وقت کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اور بشیر احمد بلور کے فرزند ہارون بشیر بلور پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی سرتاج خان بال بال بچ گئے تھے۔ اور جو دن ان کی موت کے لئے مقرر کیا گیا تھا اسی دن شہادت کا رتبہ پا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلے گئے۔

سرتاج باچا خان اور ولی خان کے اس قدر پیروکار اور عقیدت مند تھے کہ برملا کہتے تھے کہ اگر کوئی میرے یا میرے آباواجداد کے بارے میں کوئی الٹی سیدھی بات کہے تو میں برداشت کر  لوں گا  مگر اپنے ان قائدین کے بارے میں ایک لفظ بھی سننے کے لے تیار نہیں۔ سرتاج خان جنہیں میں اب بھی مرحوم نہیں کہتا کیوں کہ ان کی باتیں، یادیں اور خدمات اب بھی ہمارے ساتھ ہیں اور بقول صاحب سیف و قلم خوش حال خان خٹک کے،

مڑہ ھغہ چہ نہ یی نام نہ یی نشان وی

تل تر تلہ پہ خہ نام پائی خاغلی

(فوت وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا کوئی نام و نشان نہیں۔ جب کہ صاحب کردار لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے)

سرتاج خان بھی ان صاحب کردار لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی مٹی اور اپنی قوم کے حقوق کے لئے جنگ لڑی بل کہ ہر فورم پر اس کے حق میں بھر پور آواز بھی اٹھائی کیوں کہ وہ ایک مخلص قوم پرست اور انسان دوست کارکن تھے۔ اور اس سلسلے میں بننے والی تاریخ میں اپنے حصے کا کردار کسی لالچ، ستائش اور صلے کی پرواہ کئے بغیر ادا کیا۔ اس لئے سرتاج جیسے انسان تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور جب بھی پختون قوم پرست سیاست کا ذکر آئے گا اس میں ان کو کوئی  کیسے نظر انداز کر سکے گا کہ

زما وینہ د ہر گل پہ رگ کے زغلی

پہ چمن باندے احسان زما د وینو

(میرا خون ہر پھول کی رگ میں دوڑ رہا ہے اس چمن پر میرے خون کا احسان رہے گا)

یہ بھی پڑھیں

باجوڑ اور مہمند کا تنازعہ اور تاریخی حقیقت

تحریر: شیخ جہان زادہ نواب صفدر خان اپنے اردگرد لوگوں سے اچھا برتاؤ رکھتے تھے، …