کورونا وائرس نے ملک بھر میں پنجے گاڑ لئے، ہلاکتیں 180 ،غیر ملکیوں کا چین سے انخلاء شروع

کورونا وائرس نے ملک بھر میں پنجے گاڑ لئے، ہلاکتیں 180 ،غیر ملکیوں کا چین سے انخلاء شروع

بیجنگ،جنیوا،اسلام آباد، کراچی،لاہور، گلگت،نئی دہلی (ایجنسیاں ) کورونا وائرس نے چین کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس وقت موذی مرض سے ہلاک افراد کی تعداد 180 تک پہنچ گئی ہے۔غیر ملکی خبر رسا ں ادارے مطابق تبت میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے اور خطرناک مرض امریکا، جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت دنیا کے دیگر 16 ممالک میں بھی پہنچ چکا ہے۔

چینی حکام کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 7 ہزار 700 سے تجاوز کر چکی ہے۔چین میں پْراسرار کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے دو روز میں تیار ہونے والا پہلا ہسپتال کھول دیا گیا ۔کورونا وائرس کا پہلا ہسپتال چین کے شہر ووہان کے قریب تعمیر کیا گیا ہے جہاں سے وائرس کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ہسپتال مسلسل دو دن میں 5 سو سے زائد مزدور اور متعدد بھاری مشینری کی مدد سے تیار کیا گیا ۔ادھر متعدد ممالک نے چینی شہر ووہان سے اپنے شہریوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ امریکا اور جاپان کے لیے پروازیں روانہ ہوئیں جبکہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا اس پر غور کر رہے ہیں۔ جرمنی نے بھی ایک فوجی طیارہ روانہ کیا ہے، جس کے ذریعے نوے جرمن شہریوں کو واپس لایا جائے گا۔ انڈونیشیا کے لائن ایئر گروپ نے بھی ہفتے سے چین کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ناول کورونا وائرس کی وبا کے صحت عامہ کی عالمی ہنگامی صورتحال کے تعین کے لیے ایمرجنسی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس آڈھانوم غی بریسوس نے جنیوا سے آن لائن نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہر لمحے صورتحال کی نگرانی کررہے ہیں۔ایمرجنسی کمیٹی اس بحران سے نمٹنے کے طریقوں پر سفارشات بھی پیش کرے گی۔ بھارتی ریاست کیرالہ میں کورونا وائر س کے پہلے کیس کی تصدیق ہو گئی ۔

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت صحت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کیرالہ کے ہسپتال میں ووہان یونیورسٹی کی ایک طالبہ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے جسے ہسپتال کے علیحدہ وارڈ میں رکھا گیا ہے ۔ چین میں کورونا وائرس سے بچاو کے لئے حفاظتی ماسک کی قلت ہوگئی ہے۔چین کے سٹورز پر ماسک کی فروخت معمول سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہو گئی ہے،جس کے باعث اکثر میڈیکل سٹورز پر ماسک دستیاب نہیں ہے۔

ادھر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کررونا وائرس سے متعلق اقدامات کررہی ہیں ، چین میں موجود پاکستانیوںکو سہولیات فراہم کرنے پر انکے مشکور ہیں۔ مشکل وقت میں پاکستان چین کے ساتھ کھڑ اہے ۔ چین میں پھنسے پاکستانیوںکو نکالنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ عائشہ فاروقی نے کہا کہ چین میں ارومچی میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو نکالنے کے لیے چینی حکومت کے ساتھ ملکر اقدامات کر رہے ہیں ۔

اس سے قبل چین سے پاکستانی طلباء کی دیکھ بھال کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ چین میں پھنسے پاکستانی طالبعلموں کو وہاں سے نکالنے سے متعلق حکومتی اقدامات پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین میں پاکستانی طلبہ کو کہا ہے جلد از جلد خود کو سفارت خانے میں رجسٹرڈ کرائیں۔ عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے بچائو کے لیے پرسنل پروٹیکٹیو ایکوپمنٹ جناح ہسپتال کراچی ، ڈاو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اوجھا کیمپس، ائیر پورٹ اور سی پورٹ کے حوالے کر دیئے ہیں۔ادھرپاکستان میں کرونا وائرس کے ممکنہ خدشات کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کو ہدایات جاری کر دی گئیں۔ ماسک پہن کر فرائض سر انجام نہ دینے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

اب پنجاب پولیس کے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) کے اہلکار ماسک پہن کر فرائض سر انجام دیں گے۔چائنیز کے ساتھ فرائض سر انجام دینے والے اہلکار کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں گے اور ماسک پہن کر فرائض سر انجام نہ دینے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔کرونا وائرس ملک میں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا، پاکستان کے تمام ائیرپورٹس پر تھرمل اسکینرز کم پڑ گئے، ملک کے بین الاقوامی ائیرپورٹس پر تھرمل سکینر گنز کم پڑگئیں، عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کی مزید 100 گنز کی فراہمی کی درخواست منظور کرلی ۔کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر پاک چین بارڈر خنجراب پاس کو عارضی طور پر کھولنے کا فیصلہ موخر کردیا گیا ہے۔

دریں اثناء وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز زلفی بخاری نے کہا ہے کہ چین میں موجود تمام پاکستانیوں سے رابطہ ہے، ابھی تک کسی پاکستانی طالبعلم کوچین سے نہیں نکالا۔

ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ کروناوائرس کی وجہ سے لوگ خوفزدہ ہیں۔زلفی بخاری نے کہا کہ چین میں موجود تمام پاکستانیوں سے رابطہ ہے، ابھی تک کسی پاکستانی طالبعلم کو چین سے نہیں نکالا گیا۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*