کورونا وائرس، چین میں 24گھنٹوں کے دوران مزید 43افراد ہلاک، تعداد 213ہوگئی

کورونا وائرس، چین میں 24گھنٹوں کے دوران مزید 43افراد ہلاک، تعداد 213ہوگئی

امریکا نے اپنے شہریوں کے لیے انتباہ مزید سخت کردیا، حالیہ ہفتوں میں جس طرح وائرس پھیلا ہے اس کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی، ڈبلیو ایچ او
ہمیں سب سے زیادہ تشویش ممکنہ طور پر وائرس کے ایسے ممالک میں پھیلنے کے حوالے سے ہے جن کا نظام صحت کمزور ہے، ٹیڈروس ایدھانوم گیبریسس

جنیوا ؍بیجنگ (این این آئی )چین میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 213 ہوگئی جبکہ وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ساتھ ہی عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایدھانوم گیبریسس نے یہ اعلان مذکورہ وائرس کے 18 ممالک تک پھیل جانے پر عالمی ادارہ صحت کی ہنگامی کمیٹی اجلاس کے بعد کیا جو آزاد ماہرین کے پینل پر مشتمل ہے۔

جنیوا میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں جس طرح وائرس پھیلا ہے اس کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی، لہٰذا اس پر ردِ عمل بھی مثالی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں واضح کردوں کہ اس اعلان کا مقصد چین پر عدم اعتماد ظاہر کرنا نہیں ہے اور چین کی جانب اور چین سے سفر کرنے پر پابندی عائد کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سب سے زیادہ تشویش ممکنہ طور پر وائرس کے ایسے ممالک میں پھیلنے کے حوالے سے ہے جن کا نظام صحت کمزور ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی کمیٹی کی سربراہی فرانس کے ڈیڈیر حسین کے پاس ہے جبکہ اس میں 16 آزاد ماہرین بھی شامل ہیں۔جمعہ کے روز چینی حکومت نے 24 گھنٹوں کے دوران مزید 43 ہلاکتیں ہونے کی تصدیق کی اور گزشتہ 10 روز سے اموات میں اضافے کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

چین کے قومی کمیشن برائے صحت نے جمعہ کو ایک ہزار 983 نئے کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ گئی۔

اس کے علاوہ سانس کے حوالے سے تکلیف کی ممکنہ علامات پر ایک لاکھ 2 ہزار افراد طبی طور پر زیر نگرانی ہیں۔گزشتہ ہفتے ووہان کو مکمل طور پر بند کیے جانے کے باعث ہزاروں غیر ملکی بھی وہاں پھنس گئے تھے۔

فرانس نے جمعہ کو اپنے 200 شہریوں کو ووہان سے نکالا جنہیں گھر جانے سے قبل 2 ہفتوں تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*