100 سال تک بھی ملک سے پولیو ختم نہیں ہوسکتا،ایل ایچ ڈبلیو ایسوسی ایشن

100 سال تک بھی ملک سے پولیو ختم نہیں ہوسکتا،ایل ایچ ڈبلیو ایسوسی ایشن

اپنی جان پر کھیل کر مہم میں کام کرنے والی غریب خواتین کو محض 500، 500 روپے جبکہ پروگرام سے منسلک افسران لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں، مہم سے پیسہ ختم کریں، دیکھیں وائرس ختم ہوتا ہے کہ نہیں

خطرناک علاقوں میں ڈیوٹی نہ کرنیوالی خواتین کو نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی جاتی ہے،صوابی میں قتل کی گئی دونوں خواتین ورکرزکے 4، 4 بچے ہیں جو اپنی ماں کو یاد کررہے تھے، ورثاء کو شہداء پیکیج دیا جائے،صوبائی صدرعائشہ حسن

اسلام آباد (این این آئی)لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کی صوبائی صدر عائشہ حسن نے خیبرپختونخوا کے علاقے صوابی میں پولیو مہم کے دوران 2 خواتین ورکرز کے قتل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح پولیو مہم کیلئے پیسہ دیا جاتا ہے ملک سے 100 سال میں بھی پولیو ختم نہیں ہوسکتا۔

ایک انٹرویو میں لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کی صوبائی صدر عائشہ حسن نے بتایا کہ دونوں خواتین ہیلتھ ورکرز کی ملازمت مستقل تھی تاہم اس کے باجود اگر کسی کو پولیو مہم کے دوران قتل کردیا جاتا ہے تو ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ تشویش کی بات یہ ہے کہ حکام دفتروں میں بیٹھ کر کچھ نہیں کرتے اور پولیو مہم کے دوران غریب ہیلتھ ورکر یا پولیس والے مارے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح پولیو مہم کیلئے پاکستان کو پیسہ دیا جاتا ہے اور اس سے بد عنوان لوگ فائدہ اٹھا تے ہیں۔ 100 سال تک بھی ملک سے پولیو ختم نہیں ہوسکتا

انہوں نے کہا کہ خواتین ہیلتھ ورکز کے قتل پر اسے ذاتی دشمنی قرار دیا جاتا ہے، تاہم جن علاقوں میں ان خواتین کو بغیر کسی سیکیورٹی کے بھیجا گیا وہ انتہائی خطرناک ہیں جہاں سیکیورٹی ہونے کے باجود مرد حضرات بھی کام کرنے سے گھبراتے ہیں۔

عائشہ حسن نے کہا کہ جب انہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز سے پوچھا کہ آپ ایسے خطرناک علاقوں میں جانے پر رضا مند کیوں ہوجاتی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں نوکریوں سے نکالنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کی صوبائی صدر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ قتل کی گئی دونوں خواتین کے 4، 4 بچے تھے جو اپنی ماں کو یاد کررہے تھے۔

عائشہ حسن نے کہا کہ اپنی جان پر کھیل کر پولیو مہم میں کام کرنے والی غریب خواتین کو محض 500، 500 روپے دے دیے جاتے ہیں جبکہ اس پروگرام سے منسلک افسران لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہی ڈاکٹرز پولیو ختم نہیں ہونے دیتے کیوں کہ اگر پولیو ختم ہوگیا تو ڈالرز کہاں سے آئیں گے اور یہ لاکھوں روپے کہاں سے حاصل کرسکیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں پولیو مہم سے پیسے کو ختم کردیا جائے تو دیکھیے گا کہ پولیو ختم ہوتا ہے کہ نہیں لیکن حکومت اسے خود ختم نہیں کرتی۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پولیو مہم کے دوران قتل کیے جانے والے ہیلتھ ورکرز کو معاوضے کی ادائیگی بہت مشکل سے کی جاتی ہے اور اپنا ہر حق مانگنے کے لیے ہمیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہیلتھ ورکرز کو بھی شہدا پیکیج دیا جائے، انہوں نے کہا کہ شہید ہونے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی میں برسوں لگ جاتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اپنے فرائض کی انجام دہی کی راہ میں قتل ہونے والے ہیلتھ ورکرز کو بھی اسی طرح شہدا پیکیج دیا جائے جس طرح سیکیورٹی اداروں کو دیا جاتا ہے۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*