کرونا وائرس باجوڑ پہنچ گیا، مبینہ مریض ہسپتال داخل

کرونا وائرس باجوڑ پہنچ گیا، مبینہ مریض ہسپتال داخل

سینیٹ میں اپوزیشن نے چین میں موجود
پاکستانیوں کی وطن واپسی کا مطالبہ کر دیا

گلاب خان نامی شخص میں وائرس کی علامات، ٹیسٹ اسلام آباد ارسال، ووہان سے آنیوالا پاکستانی طالب علم آغا خان ہسپتال منتقل،کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے پاک افغان طورخم بارڈر پر 7رکنی میڈیکل ٹیم تعینات

باجوڑ +لنڈیکوتل+اسلام آباد +کراچی(نمائندگان+ ایجنسیاں)چین میں کرونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں جس سے ہمسایہ ممالک کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک میں بھی اس وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے ضم ضلع باجوڑ میں بھی کرونا وائرس کے شبے میں ایک مریض کو ہسپتال داخل کیا گیا ہے۔

ڈی ایچ او باجوڑ ڈاکٹر وزیر صافی کے مطابق گلاب خان نامی شخص میں وائرس کی علامات موجود ہیں تاہم مریض کے ٹیسٹ اسلام آباد ارسال کر دیئے گئے ہیں حتمی رپورٹ تک کلیئر نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر وزیر صافی کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ٹیسٹ کی رپورٹس موصول نہیں ہوتیں تب تک ہم مریض میں وائرس کی موجودگی کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔

مریض میں اس وائرس کی علامات موجود ہیں البتہ ٹیسٹ کے آنے سے قبل ہم کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔ دریں اثناء سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے سینیٹرز نے حکومت سے چین میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کا مطالبہ کردیا۔

سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عثمان کاکڑ نے کہا کہ چین میں اس وقت 10 ہزار کے قریب طلبہ سمیت 28 ہزار پاکستانی ہیں۔عثمان کاکڑ نے کہا کہ عجیب حکمران ہیں اور عجیب پالیسی ہے، چین سے آنے والوں کو بے شک آپ کسی جگہ ہفتے 10 دن اکیلا رکھ دیں لیکن اس آفت سے چین میں مقیم پاکستانیوں کو بچایا جائے، حکومت پاکستان 28 ہزار پاکستانیوں کا اقدام قتل کررہی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق وزارت خارجہ اور صحت کو اقدامات کرنے چاہیئں

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا کیا جواز ہے کہ ہم نے چین سے اپنے لوگوں کا انخلا نہیں کرانا، پاکستانی طلبہ کی مائیں پاکستان میں رو رہی ہیں۔(ن) لیگ کے سینئر رہنما راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک چارٹرڈ طیارے کرکے لوگوں کو چین سے نکال رہے ہیں، چین میں پاکستانی طلبہ کہہ رہے ہیں وہ تکلیف میں ہیں، حکومت اپنا رویہ درست کرے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک نے مطالبہ کیا کہ جو پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں انہیں سی ون تھرٹی بھیج کر لائیں، پاکستانی بچوں کے پاس پیسے نہیں ہیں، حکومت اس لیے بچوں کو واپس نہیں لا رہی کہ وائرس پاکستان آنے کا ڈر ہے۔

دریں اثناء چینی شہر ووہان آنیوالے پاکستانی طالب علم ارسلان کو آغاخان اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، ارسلان کے سیمپل لے کر قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد پہنچا دیے گئے ،ٹیسٹ نیگیٹو آنے کی صورت میں اسے ریلیز کر دیا جائیگا۔ ارسلان 14دن تک آغاخان اسپتال میں آئسولیشن وارڈ میں رہے گا۔محکمہ صحت سندھ نے کہا ہے کہ ارسلان کے سیمپل لیکرقومی ادارہ برائے صحت اسلام آبادپہنچادیے گئے ہیں ۔

ادھر پاک افغان طورخم بارڈر پر کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 7 رکنی میڈیکل ٹیم کو تعینات کردیا گیا ہے ، جس نے افغانستان جانے اور وہاں سے آنے والے افراد کی سکریننگ کا عمل شروع کردیا ہے۔

میڈیکل ٹیم میں ڈسپنسر اور ٹیکنیشنز شامل ہیں جن کے پاس 7تھرم گنز ہیں، اس دوران اگر کسی مسافر کو بخار لاحق ہو تو اس سے سفری معلومات طلب کی جاتی ہیں۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*