ایل آر ایچ کے نئے بلاک کو کورونا مریضوں کیلئے مختص کرنے کا فیصلہ

پشاور(وقائع نگار)وزیرصحت خیبرپختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ صوبہ میں کورونا مریضوں کے لئے ہسپتالوں کی استعداد کو دگنا کر رہے ہیں، صوبے کے وسطی علاقوں میں کورونا کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے،صحت کارڈ پلس کے ذریعے کورونا مریضوں کے علاج کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں تاکہ غریب عوام کو مزید ریلیف ملے، صوبے میں مکمل لاک ڈائون کا کوئی ارادہ نہیں، کوشش ہے کہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے تاہم کورونا کی تیسری لہر کو قابو کرنے کے لیے عوام کورونا ایس او پیز سمیت بچائو کے تمام اقدامات پر عمل کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ اور اعلی تعلیم کامران خان بنگش کے ہمراہ سول سیکرٹریٹ پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت و خزانہ کا کہنا تھا کہ ملک کے شمال مشرقی حصے جس میں خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے علاقے شامل ہیں جہاں کورونا کی لہر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو کہ اس سے پہلے کی لہروں سے مختلف ہے۔ خیبرپختونخوا میں پشاور، چارسدہ، مردان صوابی اور سوات میں کورونا وائرس کا پھیلائو زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 500 بستروں پر مشتمل نئے جدید میڈیکل بلاک کو کورونا مریضوں کے لیے مختص کر رہے ہیں جس سے کورونا مریضوں کے لیے آئی سی یو اور ایچ ڈی یو بستروں کی گنجائش دگنا ہو جائے گی۔ اسی طرح حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں 200 سے زائد کورونا بستر جبکہ نشتر آباد کورونا ہسپتال کی استعداد میں بھی دگنا اضافہ ہو جائے گا۔ چارسدہ سے کورونا کے پیچیدہ کیسز پشاور آتے تھے جن کی سہولت کے لئے نو تعمیر شدہ وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال جس میں پہلے بھی کووڈ وارڈ بنایا گیا کو دوبارہ کورونا مریضوں کے لیے مختص کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال چارسدہ میں آئندہ 3 دن میں 32 بستروں پر مشتمل آئی سی یو اور ایچ ڈی یو بنا دیا جائے گا جبکہ آئندہ 2 ہفتے کے دوران مزید 200 آکسیجن بستروں پر مشتمل وارڈز کا قیام عمل لایا جائے گا۔ ہسپتال میں پہلے سے سنٹرل آکسیجن سپلائی سسٹم نصب ہے۔ اس اقدام سے چارسدہ کے کورونا مریضوں کو پشاور کا رخ نہیں کرنا پڑے گا جبکہ وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال کے مریضوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

تیمور جھگڑا نے بتایا کہ آئندہ 2 ہفتوں میں مردان کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ کوارٹر ہسپتال میں نوتعمیر شدہ بلاک میں 200 بستروں پر مشتمل کورونا وارڈ بنایا جا رہا ہے جبکہ مردان میڈیکل کمپلیکس میں پہلے سے ہی 150 سے زائد کورونا بستر موجود ہیں۔ صوابی میں کورونا مریضوں کے لیے علاج کی استعداد کے حوالے صوبائی وزیر نے کہا کہ باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں کورونا بستر کی تعداد بھی دگنا کی جائے گی جبکہ ٹوپی کے کیٹیگری ڈی ہسپتال میں بستروں کی تعداد 40 سے بڑھا کر 120 تک کی جا رہی ہے۔ اسی طرح سوات اور نوشہرہ میں بھی ایم ٹی آئی ہسپتالوں کی استعداد بڑھائی جا رہا ہے۔

تیمور جھگڑا نے کہا کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں کے دوران صوبے میں مجموعی طور پر 1 ہزار کورونا بستروں کا اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کر رہی ہے اور صحت کارڈ پلس کے ذریعے بھی کورونا کے مریضوں کا علاج کیا جائے گا جس کے وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی طرف سے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ساتھ کل بات ہوئی اور آج پھر ان سے اس حوالے سے بات چیت ہونی ہے۔ صحت کارڈ پلس پر کورونا مریضوں کے علاج سے نجی طبقہ بھی اس طرف راغب ہو گا اور کورونا مریضوں کے علاج کے لیے اپنی استعداد میں اضافہ کرے گا۔

تیمور جھگڑا نے کورونا وبا کے دوران مثبت کردار ادا کرنے پر صحافیوں اور صحافتی اداروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عوام کا اس وبا کی طرف رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ماسک پہننے کی عادت اپنانی ہوگی اور ہر جگہ ایس او پیز کو اپنانا ہوگا۔

دریں اثنا وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلی تعلیم کامران بنگش کا کہنا تھا کہ مکمل لاک ڈان کا کوئی ارادہ نہیں۔ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے تاہم عوام کو کورونا ایس او پیز اور حکومتی اقدامات پر عمل درآمد کرنا ہو گا تاکہ ہم خود کو، اپنے عزیز و اقارب اور معاشرے کو اس وبا سے محفوظ رکھ سکیں۔

کامران بنگش نے کہا کہ صوبے کے کئی علاقوں میں مثبت کیسز کی شرح 24 سے 29 فیصد ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ وبا پر قابو پانے کے لیے تاجر برادری اور عوام کا تعاون درکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پختونوں کا قتل عام روکنا ہوگا، ریاست اپنی ذمہ داری نبھائے،ایمل ولی

پشاور(سٹاف رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ شہریوں …