حکومت اور راولپنڈی والے غداری کے سرٹیفیکیٹ دینا بند کر دیں‘مشتاق احمد

بنوں(نمائند ہ شہباز)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے ملک میں غدار بنانے کی فیکٹری بند کی جائے‘ پاکستان میں کوئی غدار نہیں ہے، ہم سب پاکستانی اور محب وطن ہیں۔ حکومت اور راولپنڈی والے غداری کے سرٹیفیکیٹ دینا بند کر دیں‘ سابق وزیراعظم موجودہ جرنیلوں اور موجودہ وزیراعظم سابق جرنیلوں پر الزامات لگا رہے ہیں۔

چیف جسٹس سے مطالبہ کرتا ہوں کہ عمران خان اور نواز شریف اور دو موجودہ اور سابقہ جرنیلوں کو بلا کر ان سے پوچھ گچھ کی جائے الزامات کی تحقیقات کی جائیں اور جو مجرم ہیں انہیں سزا دی جائے‘ انہوں نے اسے میوزیکل چیئر اور شیطانی چکر بنا دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور جرنیلوں کو سیاست میں دخل اندازی کا کوئی حق نہیں ۔ پاکستان عوام کا ہے اور یہ دستور کے مطابق چلے گا‘سیاستدانوں کو سرے محل، لندن فلیٹس، اور پانامہ کے اکاؤنٹس کا حساب دینا ہوگا سابق حکمرانوں کو چوری کے حساب سے بچنے کیلئے جمہوریت اور پارلیمنٹ کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے‘ پاک فوج کے شہداء ہمارے دل کے ٹکڑے ہیں لیکن جرنیلوں کو بھی شہداء کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے‘ پرویز مشرف اور عاصم سلیم باجوہ کو اپنی کرپشن کا حساب دینا ہوگا‘جماعت اسلامی سابق سیاستدانوں اور سابقہ جرنیلوں کا احتساب کرے گی‘ جنوبی اضلاع کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں‘ حکومت جنوبی اضلاع میں سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے اقدامات اٹھائے۔‘ پیک اور اکنامک زون جنوبی اضلاع کا حق ہے، انہیں اس حق سے محروم نہ کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے تاجی کلی بازار بنوں میں شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا جلسہ عام سے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، امیر ضلع پروفیسر اجمل خان اور سابقہ امیدوار پی کے 88 اختر علی شاہ نے بھی خطاب کیا اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع لکی مروت کے امیر عزیز اللہ خان، سابقہ ناظم طیب شاہ عباسی بھی موجود تھے۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ جنوبی اضلاع مسائلستان بن چکا ہے ۔ سابق اور موجودہ حکومتوں نے جنوبی اضلاع کی ترقی، خوشحالی اور انہیں ملک کے باقی شہروں کے برابر لانے کے لئے کسی قسم کے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے۔ حکومت گیس اور پٹرول پیدا کرنے والے اضلاع میں آئل ریفائنری یونٹس کا قیام عمل میں لائے اور انہیں رائلٹی دے‘جنوبی اضلاع کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دلانے کے لئے انڈسٹریل زونز قائم کئے جائیں تاکہ بیروزگاری میں کمی ہو‘ انڈس ہائی وے کو دو رویہ کرنے کا کام تیز کیا جائے اور اسے بروقت مکمل کیا جائے۔ جنوبی اضلاع کو تمام منسلک سہولیات کے ساتھ سی پیک موٹروے دی جائے اور سپیشل اکنامک زون قائم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 7 کروڑ بچے غیر محفوظ ہیں، حکومت نے زینب الرٹ بل میں جرم ثابت ہونے پر سر عام پھانسی کی سزا دینے کی میری تجویز مان لی ہوتی تو آج بچے اس طرح نہ مر رہے ہوتے۔ شرم کی بات ہے کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ یورپی یونین کی ناراضگی کی وجہ سے سر عام پھانسیاں نہیں دے سکتے۔

حکومت سے کہتا ہوں کہ ہمیں فاٹا میں امن چاہئے، گھروں پر چھاپے اور نوجوانوں کو غائب کرنے کا عمل کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے‘ ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بند کیا جائے اور امن و امان کی فضا بحال کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں

PDM Nowshera protest

عمرانی کورونا کو ایک پل بھی ماننے کو تیار نہیں، میاں افتخار حسین

نوشہرہ : عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری و پاکستان ڈیوکریٹک موومنٹ (پی ڈی …