16دسمبر 2014ء ،آرمی پبلک سکول حادثہ کئی زندگیاں اُجاڑ گیا

پشاور(مختار عالم) آرمی پبلک سکول واقعہ کے پانچ سال پورے ہونے کے باوجود بھی عینی شاہدین چارسدہ ترنگزئی سے تعلق رکھنے والے دو بھائی طالب علم طفیل طارق اور سہیل طارق ذہنی دباؤ سے نہ نکل سکے۔

روزنامہ شہباز سے بات چیت کرتے ہوئے طفیل طارق اور سہیل طارق جو سانحہ اے پی ایس کے عینی شاہدین کے ساتھ ساتھ دو شہداء کے بھائی بھی ہیں نے کہا کہ وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو چکے ہیں۔ واقعہ کے بعد ایک سال تک تعلیم جاری رکھی مگر بعد میں یہ سفر جاری نہ رکھ سکے ۔

طفیل طارق کا کہنا تھا کہ 16 دسمبر 2014 ء سے آج تک وہ اور اس کا خاندان جس تکلیف دہ زندگی سے گزر رہاہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔

شہداء کا ایک بھائی سہیل جو دو سال سے ذہنی جھٹکوں کی بیماری میں مبتلا ہے نے روزنامہ شہباز کو بتایا کہ 16 دسمبر 2014 ء سے دو تین دن پہلے ان کے سکول میں آرمی کی موک ٹریننگ ہورہی تھی اور بچوں کو آرمی کی طرف سے یہ بتایا جارہا تھا کہ اگر دہشتگرد حملہ کر دیں تو آپ لوگ اپنے آپ کو کیسے بچائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سانحے کے دن پہلے فائرنگ شروع ہوئی تو ان کا خیال تھا کہ آرمی والے ٹریننگ دے رہے ہیں ،بعد میں پتہ چلا جب بچے خون میں لت پت پڑے تھے اور آوازیں دے رہے تھے کہ دہشتگردوں نے حملہ کیا ہے۔

طفیل طارق نے کہا کہ میں نے فوراً اپنے دو بھائیوں کو بچانے کیلئے ہال کی طرف دوڑنا شروع کیا تو سکول سیکورٹی گارڈ نے روک لیا اور زبردستی بس میں بٹھاکر گھر لے آیا ۔

طفیل طارق کا مزید کہنا تھا کہ میں گھر سے فوراً نکلا تو راستے میں ایک پڑوسی دوست نے کہا کہ اس کے بڑے بھائی شمویل کو میں نے ٹی وی پر ہسپتال میں زخمی دیکھا ۔طفیل کا کہنا تھا کہ وہ اور اس کا دوست فوراً ایل آر ایچ پہنچے تو ایک ایک زخمی کو تلاش کیا مگر ہمیں دونوں بھائی نہ مل سکے۔

طفیل کا کہنا تھا کہ میں غم میں کھڑا تھا کہ میرے سکول ٹیچر نے مجھ سے کہا کہ طفیل طارق یہاں کیا کررہے ہو تو میں نے جواب دیا کہ اپنے دو بھائی شمویل اور نگیال کو زخمیوں میں تلاش کیا مگر نہیں ملے ۔ اس بات پر ٹیچر نے مجھ سے کہا کہ آپ نے شہدا میں تلاش کیا ہے کہ نہیں ۔یہ بات مجھے ٹھیک نہیں لگی تو استاد نے مجھے حوصلہ دیا کہ شہید ہونا کوئی غم کی بات نہیں ۔اللہ کے ہاں شہید کا بڑا رتبہ ہے، جاؤ شہیدوں میں تلاش کر ۔

طفیل طارق نے مزید کہا کہ جب میں شہدا کے پاس گیا تو اس وقت تک میرا حوصلہ تھا مگر جب میں نے پہلے شہید سے کپڑا اٹھایا تو دیکھا ،میرا دوست تھا ۔دوسرے سے اٹھایا تو وہ دوست نکلا جب تیسرے سے کپڑا اٹھایا تو وہ میرا بھائی ننگیال نکلا تو اس وقت میرے پاؤں سے زمین نکل گئی اور میں بالکل ساکن ہوگیا ۔اس وقت سارے دوست اور استاد مجھے تسلیاں دے رہے تھے اور میں دل میں اللہ سے یہی سوال کر رہا تھا کہ یا اللہ میرا دوسرا بھائی شمویل مجھے اس حالت میں دکھائی نہ دے مگر اللہ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی اور میرا دوسرا بھائی بھی مجھے شہید ہی مل گیا ۔

طفیل کا کہنا تھا کہ اب میری زندگی میں کوئی خوشی نہیں ہے۔ میں اُسی دن سے ذہنی دباؤ کا شکار ہوا جب سے میرے بھائی بچھڑ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا بڑا بھائی ننگیال شہید جو میرے بہت قریب تھا ،سارے رشتہ دار یہی بتاتے تھے کہ یہ تمہارا پیر ہے اور تم اس کے مرید ہو ۔

طفیل کا کہنا تھا کہ پیر کے بچھڑنے کے بعد بھی کوئی زندگی ہوتی ہے اسلئے میں اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور ساتویں کلاس ہی میں چھوڑ دی ۔

ننگیال اور شمویل شہید کے والد طارق جان کا کہنا تھا کہ مجھے دو صدمے ہوئے ہیں، ایک تو دو بچے شہید ہوئے اور باقی دو جو بچے ہیں دونوں ذہنی دبائو کا شکار ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمی پبلک سکول میں میرے پانچ بچے زیر تعلیم تھے جس میں دو شہید ہوئے اور دو ذہنی طور پر مفلوج ہوئے جبکہ ایک بچہ جو ابھی بھی آرمی پبلک سکول میں چھٹی جماعت میں پڑ رہا ہے وہ اس لئے ٹھیک ہے کہ سانحے کے وقت اس کی عمر بہت کم تھی اس لئے اس کو یاد نہیں ہے۔

شہید شمویل ،شہید ننگیال اور دو ذہنی مفلوج طالب علموں کے باپ طارق جان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ساتھ کئے گئے وعدے اب تک پورے نہ ہوسکے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو جلد ازجلد اوپن کیا جائے تاکہ ہم مطمئن ہو جائیں کہ ہمارے بچوں کو کس نے اور کیوں قتل کیا۔

روزنامہ شہباز سے بات کرتے ہوئے معروف قانون دان اور اے پی ایس میں شہید عمر کے والد فضل ایڈوکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 9 مئی 2018 ء کو جوڈیشل کمیشن بنایاجس کو سختی سے ہدایت کی گئی تھی کہ 2 مہینے کے اندر اندر تحقیقات مکمل کرے مگر آج اس حکمنامے کو بھی ایک سال پورا ہو چکا لیکن ابھی تک تحقیقات مکمل نہیں کی جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں

لاکھوں نفوس پر مشتمل دیر کا صدر مقام تیمرگرہ بنیادی انسانی سہولیات سے محروم – تحریر: طاہر شاہ

ضلع دیر پائین ڈسٹر کٹ ہیڈ کوارٹر تیمر گرہ ملا کنڈ ڈویژن کا مشہور و …

ایک تبصرہ

  1. The punch is easy, consistent and always and constantly attempt to and try to try to and also and ready to perform to do carry out .

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: