پشتو زبان کے شاعر، ادیب اور افسانہ نگار قلندر مومند کو بچھڑے 16برس ہوگئے

نواب علی یوسفزئی

قلندر مومند باچا خان اور خان عبدالولی خان کے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے

خان عبدالولی خان نے قلندر مومند کو 1972ء میں سینیٹ کا ٹکٹ بھی دیا تھا لیکن قلندر مومند نے ٹکٹ لینے سے انکار کیا جو ان کی عظمت کی نشانی ہے

4 فروری 2004ء کو ہم سے ایک عظیم انسان قلندر مومند جدا ہوگئے۔ آج انکی 16ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ قلندر مومند نے پشتو ادب اور زبان کو چار چاند لگائے۔ وہ نہ صرف پشتو زبان کے شاعر ،ادیب اور افسانہ نگار تھے بلکہ انہوں نے انگریزی، اردو، فارسی، عربی اور دوسری زبان و ادب کے ماہر تھے۔قلندر مومند نے پشتو کے دریاب ڈکشنری بھی لکھی ہے۔انھوں نے اپنے اشعار میں قوم کے ساتھ دلی لگائو کا جذبہ ظاہر کیا۔ وہ بلند پائے کے سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ وکیل بھی تھے

قلندر مومند صاحب گومل یونیورسٹی لاء کالج کے پرنسپل اور پشاور یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد تھے۔ وہ بلند پائے کے سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ وکیل بھی تھے۔

قلندر مومند کا اپنا نام صاحبزادہ حبیب الرحمان تھا۔جب بھٹو نے نیپ پر پابندی لگائی اور خان عبد الولی خان کے ساتھ 72 دیگر لیڈروں پر نام نہاد و غداری کا الزام لگا کر اپنے صوبے سے دور حیدر آباد جیل میں پابند سلاسل کیا تو ان کا مقدمہ بیرسٹر ظہور خان اور قلندر مومند نے دلائل سے مقدمہ لڑا۔

اس سے پہلے 1960ء میں جب باچا خان نے جنرل ایوب خان کی غاصبانہ و آمرانہ حکومت کو نیشنل عوامی پارٹی (موجودہ عوامی نیشنل پارٹی) کے پلیٹ فارم سے چیلنج کیا تو ایوب خان کی بیوروکریسی نے قلندر مومند صاحب کو گرفتار کرکے6 مہینے شاہی قلعہ کے عقوبت خانہ میں قید تنہائی میں رکھا۔ جنرل ایوب خان کے حواریوں کا خیال تھا کہ شاہی قلعہ کی اذیتوں اور جان سے مارنے کی دھمکیوں سے قلندر مومند کا سر تسلیم خم ہوجائے گا۔

مگر 6 ماہ کے اذیت ناک تشدد ،شب بیداری کے باوجود وہ اپنے ہوش و ہواس میں تھے۔قلندر مومند صاحب ترقی پسند، لبرل،قوم پرست لیڈر تھے۔ وہ باچا خان اور خان عبد الولی خان کے بہت قریبی اور بااعتماد ساتھیوں کے صف اول میں تھے۔ اُن کو خان عبد اولی خان نے 1972ء میں سینیٹ کا ٹکٹ بھی دیا تھا لیکن قلندر مومند صاحب نے ٹکٹ لینے سے انکار کیا جو اسکی عظمت کی نشانی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ہسپتالوں کو عام مریضوں کیلئے بند کرنا نا مناسب ہے، سردار حسین بابک

پشاور(جنرل رپورٹر)اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار حسین بابک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔