ترک پاکستان تعلقات سب کے لئے قابل رشک ہیں،طیب اردوان کا پارلیمنٹ سے خطاب

ترک پاکستان تعلقات سب کے لئے قابل رشک ہیں،طیب اردوان کا پارلیمنٹ سے خطاب

اسلام آباد (ویب ڈسک) ترک صدر رجب طیب اردوان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا ہے کہ ترک پاکستان تعلقات سب کے لئے قابل رشک ہیں، پاکستان آکرلگتا ہے اپنےگھرمیں ہی ہوں۔

رطیب اردوان نے کہا کہ مشترکہ اجلاس سے خطاب باعث فخر ہے، خطاب کا موقع فراہم کرنے پر شکر گزار ہوں، خود کو اپنے گھر میں محسوس کرتے ہیں۔

ترک صدر نے کہا کہ پاکستان میرے لیے دوسرے گھر کا درجہ رکھتا ہے، کشمیر ہمارے لئے وہی ہے جو آپ کیلئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترک تحریک آزادی میں پاکستانی خواتین نے اپنے کنگن دیے ، پاکستانی عوام نے پیٹ کاٹ کر ترکی کی مدد کی ہم اسے کبھی نہیں بھول سکتے ،سڑکوں پر گڑ گڑا کر دعائیں کرنے والوں کو ہم کیسے بھو ل سکتے ہیں ،ترک قوم کی جدو جہدکے وقت لاہورمیں حماتیوں جلسوں کو نہیں بھول سکتے ، دھمکیوں کے باوجود ہمیں نہ چھوڑنے والوں کو کس طرح بھول سکتے ہیں ، پاکستانی بہن بھائیوں آپ سے محبت نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کی آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں کے جذبہ اور کردار کوفراموش نہیں کرسکتے۔

طیب اردوان نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان کا ساتھ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے ، ایف اے ٹی ایف پر بھی پاکستان کی بھر پور حمایت کا یقین دلاتے ہیں ،ہماری دوستی مفادات پر مبنی نہیں ہے ، اے اللہ ہمارا یہ اشتراک قائم رہے ۔

معزز مہمان جن پارلیمنٹ پہنچےتو وزیراعظم عمران خان نے ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا۔ اس موقع پر پارلیمنٹ کو پاکستان اور ترکی کے جھنڈوں سے سجایا گیا جبکہ گیلریز کو گلدستوں سے مزین کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان، مسلح افواج کے سربراہان، غیر ملکی سفراء، حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی، سینیٹرز، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک ہیں۔

رجب طیب اردوان کا یہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے چوتھا خطاب ہے۔ اس سے پہلے وہ بطور وزیراعظم دوبار اور بطورصدر ایک بار پاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کرچکے ہیں۔

ترک صدر اور وزیراعظم پاکستان پاک ترک بزنس و سرمایہ کاری فورم سےبھی خطاب کریں گے، وزیر اعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*